skip to Main Content
حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
Gallery

 

ابتدائی زندگی

حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقدس خاندان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو مبشر اولاد عطا فرمائی ان میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانیؓ  اور حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ بھی شامل تھے۔ ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے نواسے اور حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کے پوتے ہیں۔ یوں آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پڑپوتے ہیں۔ یہ وہ مقدس خاندان ہے جس کے بارہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ اگر ایمان ثریا ستارے پر بھی پہنچ گیا تو فارسی نسل کا ایک آدمی یا فارسی نسل کے لوگ اس کو واپس لے آئیں گے۔حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے والد ماجد حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب سابق ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ پاکستان تھے جو 13ـ؍ مارچ 1911ء کو حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ ایک لمبا عرصہ تک امیر مقامی ربوہ بھی رہے۔ آپ نے 10 دسمبر 1997ء کو وفات پائی۔ حضور ایدہ اللہ کی والدہ ماجدہ حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ تھیں جو ستمبر1911ء میں حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ہاں پیدا ہوئیں۔اور2011ء میں وفات پائی۔حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ کے والدین کی شادی 26 اگست 1934ء کو ہوئی جب کہ حضرت مصلح موعودنَوَّرَ اللّٰہُ مَرْقَدَہٗ نے ان کے نکاح کا اعلان 2 جولائی 1934ء کو فرمایا تھا۔

حضرت مرزا مسرور احمد صاحب مورخہ 15 ستمبر 1950ء  ربوہ میں پیدا ہوئے۔ عمر میں آپ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ آپ کے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ سایہ خلافت، نیک والدین اور پاکیزہ ماحول میں آپ کی تعلیم و تربیت ہوئی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ابتدائی تعلیم سے لے کر بی۔ اے تک کی تعلیم ربوہ سے حاصل کی۔ آپ نے میٹرک تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ اور بی اے تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے کیا پھر ایم ایس سی کے لئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں داخلہ لیا۔ اور 1976ء میں اسی یونیورسٹی سے ایگریکلچرل اکنامکس میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔

وقف زندگی اور افریقہ روانگی

آپ نے 1977ء میں زندگی وقف کی۔ نصرت جہاں سکیم کے تحت آپ کی تقرری غانا، مغربی افریقہ میں ہوئی۔ اگست 1977ء میں آپ غانا تشریف لے گئے۔ 1977ء سے 1985ء تک آپ غانا میں خدمات بجا لاتے رہے۔ پہلے دو سال بطور ہیڈماسٹر احمدیہ سیکنڈری سکول سلاگا، اگلے4 سال بطور پرنسپل اکمفی ٹی آئی احمدیہ سیکنڈری سکول ایسارچر اور پھر تقریباً دو سال احمدیہ زرعی فارم ٹمالے میں بطور مینیجر خدمات بجا لاتے رہے۔ زراعتی خدمات کرتے ہوئے آپ نے غانا میں پہلی بار گندم اُگانے کا کامیاب تجربہ کیا۔حالانکہ ملک میں یہ تصور تھا کہ غانا میں گندم کاشت  کی جاسکتی۔

1985ء میں آپ غانا سے پاکستان واپس تشریف لائے۔ یکم مارچ 1985ء سے آپ نے نائب وکیل المال ثانی کی حیثیت سے تحریک جدید میں خدمات کا آغاز کیا اور نوسال تک اس عہدہ پر کام کیا۔ 19 جون 1994ء کو آپ کا تقرر بطور ناظر تعلیم صدر انجمن احمدیہ ہوا اور آپ کو شعبہ تعلیم میں غیر معمولی خدمات کی توفیق ملی۔ 1994ء سے 1997ء تک آپ ناصر فاؤنڈیشن ربوہ کے چیئرمین رہے۔ اسی عرصہ میں آپ تزئین کمیٹی ربوہ کے صدر بھی تھے۔ اسی حوالہ سے آپ نے گلشن احمد نرسری ربوہ کی توسیع اور ربوہ کو خوبصورت بنانے کیلئے ذاتی کوشش اور نگرانی کی۔ آپ 1988ء سے 1995ء تک ممبر قضا بورڈ ربوہ رہے۔ یوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ’’ابھی تو اس نے قاضی بننا ہے‘‘ ظاہری طور پر بھی آپ کی ذات میں پورا ہوا۔آپ اپنے والد ماجد حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی وفات کے بعد 10 دسمبر 1997ء کو ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ پاکستان اور امیر مقامی ربوہ مقرر ہوئے اور تا انتخا ب خلافت اس منصب پر فائز رہے۔ اگست 1998ء میں آپ صدر مجلس کارپرداز مقرر ہوئے۔معاندین سلسلہ کی جانب سے آپ پر ایک جھوٹا مقدمہ بنایا گیا جس کی وجہ سے 30 اپریل 1999ء کوآپ کو گرفتار کیا گیا اور جھنگ جیل میں اسیر کر دیا گیا۔ 10 مئی 1999ء کو آپ کی رہائی ہوئی۔ یوں آپ نے اسیرِ راہ مولیٰ ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

حضور انور ایدہ اللہ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ و پاکستان اور مجلس انصار اللہ پاکستان میں بھی مختلف شعبوں میں خدمات بجا لاتے رہے۔ سال 1976-77ء میں آپ مہتمم صحت جسمانی خدام الاحمدیہ مرکزیہ تھے۔ 1984-85ء میں مہتمم تجنید،1985تا1989ء مہتمم مجالس بیرون رہے اور سال 1989-90ء میں آپ نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان تھے۔ مجلس انصار اللہ پاکستان میں 1995ء میں قائد ذہانت و صحت جسمانی اور1995تا 1997ء تک قائد تعلیم القرآن کے طور پر خدمات بجا لاتے رہے۔

دور خلافت

حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ 19 اپریل 2003ء کو لندن میں انتقال فرما گئے۔ 22 اپریل 2003ء کو بیت الفضل لندن میں انتخاب خلافت ہوا۔ لندن وقت کے مطابق 11:40بجے رات حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کا بطور خلیفۃ المسیح الخامس اعلان ہوا اور آپ قافلہ احمدیت کے سالار مقرر ہوئے۔آپ کے بابرکت دور خلافت میں جماعت کا پہلا جلسہ سالانہ 25 تا 27 جولائی 2003ء کو منعقدہوا۔جس میں قریبا25ہزار افراد نے شرکت کی۔26 جولائی کو جلسہ کے دوسرے روز حضور نے طاہرفاؤنڈیشن کے قیام کا اعلان فرمایا،جس کے سپرد حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے خطبات و خطابات کی اشاعت ہے۔

3 اکتوبر 2003ء کو حضور انور نے مسجد بیت الفتوح مورڈن کا خطبہ جمعہ کے ذریعہ افتتاح فرمایا۔حضور انور کے دورخلافت میں جامعہ احمدیہ کی شاخیں دنیا میں پھیلیں جرمنی،انگلستان،ملائیشیا،سیرالیون،سری لنکا،غاناوغیرہ۔حضور انورنے 10دسمبر 2005ء تا 17 جنوری 2006ء قادیان کا سفراختیارفرمایااور جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت فرمائی۔2006ء میں ڈنمارک اور بعض دوسرے یورپی ممالک میں حضور ﷺکے توہین آمیز کارٹونز کی اشاعت کی گئی جس کے جواب میں حضور انور نے 4 خطبات متواتر ارشاد فرمائے اور حضورﷺ کی ذات پاک پر معاندین اسلام کی طرف سے ہونے والے اعتراضات کے جوابات دئیے۔23 مارچ 2007ء کو حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے ایم ٹی اے الثالثہ کا افتتاح فرمایا۔2008ء میں خلافت احمدیہ کے سوسال پورے ہونے پر شکرانے کے طور پر جماعت احمدیہ عالمگیر نے صدسالہ خلافت جوبلی منائی۔ 27 مئی کو جلسہ خلافت میں حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے تمام احمدیوں سے خلافت کے سوسال پورے ہونے پرعظیم الشان عہد لیا۔

حضور انور کے دورخلافت میں دنیا میں دیرپا امن کے قیام کے لیے لندن میں Peace Symposium کے انعقاد کا ایک سلسلہ شروع ہواجو کہ 2003ء سے جاری ہے۔ان پروگرامز میں مختلف طبقہ ہائے فکرسیاسی،سماجی اور مذہبی شخصیات شامل ہوتی ہیں۔اس ذریعہ سے اسلام کا امن اور انصاف کا پیغام دنیا تک پہنچتاہے۔2011ء میں دنیا کے مخدوش حالات اور تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھتے ہوئے رحجانات  کے پیش نظر حضور انورنے دنیا کے سرکردہ ممالک کے سربراہان کو خطوط لکھے جن میں امریکہ،اسرائیل،روس،فرانس،برطانیہ،چین،ایران،سعودی عرب ومذہبی رہنماؤں میں پوپ بینیڈکٹ شامل ہیں۔ان خطوط میں حضور انور نے دنیا میں امن کے قیام کے لئے ان ممالک کے سربراہا ن کو اپنا کردار ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔

حضور انور نے اپنے دورخلافت میں اب تک کل 109 دورہ جات فرمائے جن میں 29 ممالک شامل ہیں۔ان دورہ جات میں حضور انور نے 103 مساجد کے افتتاح اور 42مساجدکے سنگ بنیاد رکھے اور ان ممالک کی بااثر سیاسی و مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں بھی فرمائیں۔

شادی اور اولاد

حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کی شادی حضرت سیدہ امۃ السبوح بیگم صاحبہ اَطَالَ اللّٰہُ عُمُرَھَابنت محترم سید داؤد مظفر شاہ صاحب و محترمہ صاحبزادی امۃ الحکیم صاحبہ مرحومہ کے ساتھ مورخہ 31 جنوری 1977ء کو ہوئی۔ 2 فروری 1977ء کو دعوت ولیمہ کا انعقاد ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بیٹی مکرمہ امۃ الوارث فاتح صاحبہ اہلیہ مکرم فاتح احمد ڈاہری صاحب اور ایک بیٹے محترم صاحبزادہ مرزا وقاص احمد صاحب مقیم لندن سے نوازا ہے۔

دیگر کتب ومضامین:

انٹرویوز:

 

image_print