skip to Main Content
حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی ؓ
Gallery

 

1889ء تا 1965ء

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے 20؍ فروری  1886ء کو ایک مسیحی نفس لڑکے کی پیدائش کی خبردی جو دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا اور بتلایا گیا کہ وہ  نو سال کے عرصہ میں ضرور پیدا ہو جائے گا۔ اس پیشگوئی کے مطابق سیدنا حضرت مرزا  بشیر الدین محمود احمد صاحب حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم ؓ کے بطن سے 12جنوری  1889ء بروز ہفتہ تولد ہوئے۔ الہام الٰہی میں آپ کا نام محمود ، بشیر ثانی، فضل عمر اور مصلح موعود بھی رکھا گیا۔ اور کلمۃ اللہ نیز فخر رسل کے خطابات سے نوازا گیا۔ آپ کے بارے میں الہاماً یہ بھی بتایا گیا کہ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا ۔ خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد پڑھے گا اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ بچپن سے آپ کی طبیعت میں دین سے رغبت تھی۔ دعا میں شغف تھا اور نمازیں بہت توجہ سے ادا کرتے تھے۔

آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ تعلیم الاسلام میں پائی۔ درسی تعلیم کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ نے اپنی خاص تربیت میں لیا۔ قرآن کریم کا ترجمہ تین ماہ میں پڑھا دیا پھر بخاری بھی دو تین ماہ میں پڑھا دی۔ کچھ طب بھی پڑھائی اور چند عربی کے رسالے پڑھائے۔

1906ء میں جبکہ آپ کی عمر ۱۷ سال تھی۔ صدر انجمن احمدیہ کا قیام عمل میں آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو مجلس معتمدین کارکن مقرر کیا۔ 26 ؍مئی 1908ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جب وصال ہوا تو غم کا ایک پہاڑ آپ پر ٹوٹ پڑا۔ غم اس بات کا تھا کہ سلسلہ کی مخالفت زور پکڑے گی اور لوگ طرح طرح کے اعتراضات کریں گے تب آپ نے حضور ؑ کے جسد اطہر کے سرہانے کھڑے ہوکر اپنے ربّ سے عہد کیا کہ:۔

’’ اگر سارے لوگ بھی آپ (یعنی مسیح موعود) کو چھوڑ دیں گے اور میں اکیلا رہ جائوں گا تو میں اکیلا ہی ساری دنیا کا مقابلہ کروںگا اور کسی مخالفت اور دشمنی کی پرواہ نہیں کروں گا ‘‘۔

یہ عہد آپ کی اولوالعزمی اور غیرت دینی کی ایک روشن دلیل ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ آپ نے اس عہد کو خوب نبھایا۔

15۔ 16 برس کی عمر میں پہلی مرتبہ آپ کو یہ الہام ہوا اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْک فَوْقََ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِلیٰ یَوْم الْقِیَامَۃِ۔ خلافت ِ اُولیٰ کے دور میں آپ نے ہندوستان کے مختلف علاقوں نیز بلادِ عرب و مصر کا سفر کیا۔ حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔   1911ء میں  آپ نے مجلس انصار اللہ قائم فرمائی اور  1913ء میں  اخبار الفضل جاری کیا اور اس کی ادارت کے فرائض اپنی خلافت کے دور تک نہایت عمدگی اور قابلیت سے سرانجام دیئے۔

عہدِ خلافت

حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات کے بعد 14؍ مارچ  1914ء کومسجد نور میں خلافت کا انتخاب ہوا۔ دو اڑھائی ہزار افراد نے جو اس وقت موجود تھے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے دست مبارک پر بیعتِ خلافت کی ۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا عہدِ خلافت اسلام کی ترقی اور بینظیر کامیابیوں کا درخشاں دور ہے اس باون سالہ دور میں خدائے تعالیٰ کی غیر معمولی نصرتوں کے ایسے عجیب درعجیب نشانات ظاہر ہوئے کہ ایک دنیا ورطہ ٔ حیرت میں پڑگئی او ردشمن سے دشمن کو بھی یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہ رہا کہ اس زمانہ میں سلسلہ عالیہ احمدیہ نے غیر معمولی ترقی کی ہے اور یہ کہ امام جماعت احمدیہ بے نظیر صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ آپ کے اس باون سالہ عہد خلافت میں مخالفتوں کے بہت سے طوفان اُٹھے ۔ اندرونی اور بیرونی فتنوں نے سر اٹھایا مگر آپ کے پائے استقلال کو ذرا جنبش نہ ہوئی اور یہ الٰہی قافلہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اپنی منزل کی جانب بدستور بڑھتا گیا۔ ہر فتنہ کے بعد جماعت  میں قربانی اور فدائیت کی روح میں نمایاں ترقی ہوئی اور قدم آگے ہی آگے بڑھتا گیا۔ جس وقت منکرین خلافت مرکز سلسلہ کو چھوڑ کر گئے اس وقت انجمن کے خزانے میں چند آنوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ لیکن جس وقت آپ کا وصال ہوا اس وقت صدر انجمن اور تحریک جدید کا بجٹ 71 لاکھ نواسی ہزار تک پہنچ چکا تھا۔ اختلاف کے وقت ایک کہنے والے نے مدرسہ تعلیم الاسلام کے متعلق کہا کہ یہاں اُلو بولیں گے ۔ لیکن خدا کی شان کہ وہ مدرسہ نہ صرف کالج بنا بلکہ اس کے نام پر بیسیوں تعلیمی ادارے مختلف ممالک میں قائم ہوئے۔

مصلح موعود کے بارے میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتلایا تھا۔ وہ لفظاً لفظاً پورا ہوا۔آپ کے بہت سے کارناموں میں سے چند کا ذکر اختصار سے درج ذیل ہے :۔

1۔ جماعتی کاموں میں تیزی اور مضبوطی پیدا کرنے کیلئے صدر انجمن احمدیہ کے کاموں کو مختلف شعبوں میں تقسیم کرکے نظارتوں کا نظام قائم کیا۔

2۔ بیرونی ممالک میں تبلیغ کے کام کو وسیع پیمانے پر چلانے کیلئے 1934ء میں تحریک جدید جاری فرمائی۔ اور صدر انجمن احمدیہ سے الگ ایک نئی انجمن یعنی تحریک جدید انجمن احمدیہ کی بنیاد رکھی۔ اس کے نتیجہ میں بفضلِ ایزدی یورپ ، ایشیاء، افریقہ اور امریکہ کے مختلف ممالک اور جزائر میں نئے تبلیغی مشن قائم ہوئے۔ سینکڑوں مساجد تعمیر ہوئیں۔ قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم ہوئے اورکثرت کے ساتھ اسلامی لٹریچر مختلف زبانوں میں شائع کیا گیا اور لاکھوں افراد اسلام کے نور سے منور ہوئے۔

3۔ اندرونِ ملک دیہاتی علاقوں میں تبلیغ کے کام کو مؤثر رنگ میں چلانے کیلئے  1957ء میں وقف جدید انجمن احمدیہ کے نام سے تیسری انجمن قائم کی۔

4۔ جماعت میں قوتِ عمل کو بیدار رکھنے کیلئے آپ نے جماعت میں ذیلی تنظیمیں یعنی انصار اللہ، خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ ، لجنہ اماء اللہ اور ناصرات الاحمدیہ قائم فرمائیں۔ تاکہ مرد اور عورتیں ، بچے اورجوان سب اپنے اپنے رنگ میں آزادانہ طور پر تعلیم و تربیت کا کام جاری رکھ سکیں۔ اور نئی نسل میں قیادت کی صلاحیتیں اُجاگر ہوں۔

5۔ جماعت میں مل جل کر اور منظم رنگ میں کام کو جاری رکھنے کے لئے مجلس شوریٰ کا قیام فرمایا۔

6۔ قرآنی علوم کی اشاعت اور ترویج کیلئے درسِ قرآن کا سلسلہ جماعت میں جاری رکھا۔ تفسیر کبیر کے نام سے کئی جلدوں میں ایک ضخیم  تفسیرلکھی جس میں قرآنی حقائق و معارف کو ایسے اچھوتے انداز میں پیش کیا کہ دل تسلی پاتے ہیں اور اسلام کی حقانیت خوب واضح ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر طبقہ کے لوگوں میں قرآنی علوم کا چسکا پیدا کرنے کیلئے قرآن کریم کی ایک نہایت مختصرمگر عام فہم تفسیر الگ تحریر فرمائی جس کا نام ’ تفسیر صغیر‘‘ ہے۔

7۔ بحیثیت امام اور خلیفہ ٔ وقت جماعتی ذمہ داریوں کو نبھانے کے علاوہ آپ نے ملک و ملت کی خدمت میں نمایاں اور قابل قدر حصہ لیا۔ آپ کی تنظیمی صلاحیتوں کے پیش نظر مسلمانانِ کشمیر کو آزادی دلانے کیلئے جب آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم ہوئی تو آپ کو اس کا صدر منتخب کیا گیا۔ ہر اہم سیاسی مسئلہ کے بارے میں آپ نے مسلمانانِ ہند کی رہنمائی کی۔ کئی مرتبہ اپنے سیاسی مشوروں کو کتابی شکل میں شائع کرکے ملک کے تمام سربرآور دہ اشخاص تک نیز ترجمہ کے ذریعہ ممبران برٹش پارلیمنٹ اور برٹش کیبنٹ تک پہنچایا۔

8۔ تقسیم ملک کے وقت جہاں آپ نے مسلمانوں کی حفاظت اور بہبود کیلئے مقدور بھر کوششیں کیں وہاں اپنی جماعت کے لئے 1948ء میں ربوہ جیسے بے آب و گیاہ علاقہ میں ایک فعال مرکز قائم کیا۔

9۔ آپ نے تاریخ اسلام کے واقعات کو بہتر رنگ میں سمجھنے اور یاد رکھنے کیلئے ہجری شمسی کیلنڈرجاری فرمایا۔

10۔ آپ نے متعدد والیان ریاست اور سربراہان مملکت کو تبلیغی خطوط ارسال کئے اور انہیں احمدیت یعنی حقیقی اسلام سے روشناس کرایا۔ ان میں امیر امان اللہ خاں والی ٔ افغانستان، نظام دکن۔ پرنس آف ویلز اور لارڈ ارون وائسرے ہند خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

1939ء میں خلافت کے پچیس سال پورے ہونے پر سلور جوبلی کی تقریب منعقد ہوئی اور جماعت نے تین لاکھ روپے کی رقم اپنے امام کے حضور تبلیغ اسلام کی توسیع کیلئے پیش کی۔ پھر 1964ء میں جب خلافتِ ثانیہ پر پچاس سال پورے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کے حضور اظہار تشکر کے طور پر خاص دعائیں کی گئیں اور اپنے پیارے امام کے مقاصد عالیہ کی تکمیل کے لئے جماعت نے پچیس لاکھ روپے سے زائد رقم بطور شکرانہ پیش کی۔

1944ء میں بذریعہ رؤیا و الہام آپ پر اس امر کا انکشاف ہوا کہ آپ ہی وہ مصلح موعود ہیں جس کی پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی تھی۔ اس انکشاف کے اعلان کے لئے آپ نے ہوشیارپور ، لدھیانہ، لاہور اور دہلی میں جلسے منعقد کرکے معرکۃ الآراء تقاریر کیں اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا ذکر کیا۔

آپ نے یورپ کا دو مرتبہ سفر کیا۔ پہلی مرتبہ آپ 1924ء میں ویمبلے کانفرنس میں شرکت کیلئے لندن تشریف لے گئے جہاں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے اپنے اپنے مذاہب کی خوبیاں بیان کیں۔ اس کانفرنس میں آپ کا مضمون ’’احمدیت یعنی حقیقی اسلام‘‘ انگریزی میں ترجمہ ہوکر پڑھا گیا۔ 1954ء میں  آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ علاج سے زخم تو بظاہر مندمل ہوگئے لیکن تکلیف جاری رہی۔ اس لئے 1955ء میں آپ دوسری مرتبہ بغرض علاج یورپ تشریف لے گئے۔

وفات

مندرجہ بالاسانحہ فاجعہ کے بعد آپ کی صحت برابر گرتی چلی گئی یہاں تک کہ وہ المناک گھڑی آپہنچی ۔ جب آپ تقدیر الٰہی کے ماتحت اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔اِنّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ یہ 7؍ او ر8؍ نومبر 1965ء کی  درمیانی شب تھی۔ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے 9؍ نومبر کو بہشتی مقبرہ ربوہ کے وسیع احاطہ میں نماز جنازہ پڑھائی اور پچاس ہزار افراد نے دلی دعاؤں اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ آپ کو سپرد خاک کیا۔

ازواج و اولاد

آپ نے سات شادیاں کیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو 23بیٹوں اور بیٹیوں سے نوازا۔

تصانیف

انوار العلوم26جلدیں(مجموعہ کتب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی)

خطبات محمود39جلدیں (مجموعہ خطابات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی)

تفسیر صغیر

تفسیر کبیر

 


 

کتب :


مضامین:


دورہ جات :


مصلح موعود نمبرز :


 

image_print