skip to Main Content
حضرت مسیح موعود علیہ السلام
Gallery

 

1835ء تا1908ء

ابتدائی زندگی

بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام 14؍ شوال 1250ھ مطابق 13؍فروری 1835ء بروز جمعہ قادیان ضلع گورداسپور ۔ پنجاب (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ آپ مغل قوم کے ایک نہایت معزز خاندان کے چشم و چراغ تھے ۔ آپ کے مورثِ اعلیٰ حضرت مرزا ہادی بیگ صاحب سمرقند سے ہندوستان تشریف لائے تھے۔ آپ کے والد کا نام حضرت مرزا غلام مرتضیٰ اور والدہ کا نام چراغ بی بی تھا۔ بچپن سے ہی آپ کی طبیعت میں نیکی و پاکیزگی اور متانت و سنجیدگی پائی جاتی تھی۔ دوسرے بچوں کی طرح کھیل کود کی طرف ذرا بھی راغب نہ تھے۔ تنہائی کو پسند کرتے اور گہرے غور و خوض کے عادی تھے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ پھر والدکے مقرر کردہ اساتذہ سے آپ نے فارسی پڑھی اور کچھ صرف و نحونیز منطق و فلسفہ اور حکمت کا علم حاصل کیا۔ جوانی میں بھی خلوت نشینی پسند رہی۔ قرآن کریم و احادیث نبوی ؐ نیز دوسرے مذاہب کی کتب کا مطالعہ آپ کا محبوب مشغلہ تھا اور بیشتر وقت ذکر الٰہی میں یا قرآن کریم پر غور و فکر میں گذرتا تھا۔
آپ کے مذہب کی طرف لگاؤاورخلوت نشینی کی عادت کی وجہ سے آپ کے والد بزرگوار کو یہ فکر دامن گیر رہتا کہ آپ کی آئندہ زندگی کیسے بسر ہوگی۔ اگرچہ آپ کی طبیعت کا میلان دنیاداری کے کاموں کی طرف قطعاً نہ تھا تاہم آپ نے والد ماجد کی اطاعت کے جذبہ سے اِن کے اصرار پر کچھ عرصہ سیالکوٹ میں ملازمت کی او ر جدی جائیداد کے حصول کے سلسلہ میں مقدمات کی پیروی بھی کی ۔ لیکن بہت جلد والد کی اجازت سے ان امور سے دستکش ہوگئے اور تبلیغ حق کی مہم میں بدل و جان مصروف ہوئے۔آپ ؑ کے والد ماجد 1876میں وفات پاگئے ۔اس حادثہ کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماً دی نیز الیس اللہ بکاف عبدہ کے الفاظ میں ڈھارس بندھائی کہ وہ خودآپ کا کفیل ہوگا۔اس کے بعد مکالمات ومخاطبات الٰہیہ کا سلسلہ بڑے زوروشور سے شروع ہوگیا۔

وہ زمانہ روحانی لحاظ سے انتہائی ظلمت و تاریکی کا تھا۔ دنیا کا بیشتر حصہ مشرکانہ عقائد و رسوم میں مبتلا تھا اور باقی ماندہ اپنے خالق حقیقی کو بھلابیٹھے تھے اور اسلام کسمپرسی کی حالت میں تھا۔ ایک طرف عیسائی مناد اسلام پر حملے کر رہے تھے۔ تو دوسری طرف آریہ سماج و برہمو سماج والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کے خلاف گندہ دہنی اور الزام تراشی میں مصروف تھے ۔ علماء اسلام فروعی مسائل اور ایک دوسرے کے خلاف تکفیر بازی میں اس قدر اُلجھے ہوئے تھے کہ انہیں خدمت دین کا ذرا بھی ہوش نہ تھا ۔ جو حالات کی نزاکت کا احساس رکھتے تھے ان میں استطاعت نہ تھی کہ مخالفین کے حملوں کا جواب دیتے۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب ؑ کے دل میں یہ جوش ڈالا کہ آپ ؑ اسلام کی حقانیت کو دنیا پر واضح کریں۔ چنانچہ آپ نے ایک کتاب براہین احمدیہ نامی تصنیف فرمائی اور تمام مذاہب کے پیروں کو چیلنج کیا کہ وہ حسن و خوبی اور براہین و دلائل میں قرآن کریم کا مقابلہ کرکے دس ہزار روپیہ کا انعام حاصل کریں لیکن کسی کو اس مقابلہ کی جرأت نہ ہوئی۔ اس کتاب کی اشاعت نے مذہبی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا۔

دعویٰ ماموریت و مسیحیت

1882ء میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ماموریت کا پہلا الہام ہوا اور آپ کو یہ علم دیا گیا کہ اس زمانہ میں تجدید دین اور احیائے اسلام کی خدمت آپ کے سپرد کی گئی ہے چنانچہ آپ نے 1885ء میں مجددوقت ہونے کادعویٰ کیا۔حالانکہ جو الہامات 1883ء میں اوراس کے بعد ہوئے ان میں آپ کو اللہ تعالیٰ نے صریح طور پر مسیح ‘ نبی اور نذیر کے ناموں سے یاد کیا تھا بات دراصل یہ ہے کہ آپ فدائیت کے نہایت اعلیٰ مقام پر تھے اور طبیعت میں اس درجہ انکسار پایا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان بزرگ خطابات کی یہی توجیہ کرتے کہ ان سے مقصود محض کثرت مکالمہ و مخاطبہ ہے۔ اور زیادہ وضاحت ہوئی تو ایک عرصہ تک اپنے مقام کو جزوی یاناقص نبوت سے تعبیر کرتے رہے۔ لیکن پھر 1890ء اور 1900ء کے درمیانی عرصہ میں آپ پر اس امر کاکامل انکشاف ہوگیا کہ آپ نبوت کے مقام پر ہی فائز ہیں۔ اس رنگ میں کہ ایک پہلو سے آنحضرت ؐکے امتی ہیں اور کثرت مکالمہ الٰہیہ کے لحاظ سے نبوت کے مقام پر فائز ہیں۔

23؍ مارچ 1889ء کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی بنیاد ڈالی اور لدھیانہ میں پہلی بیعت لی۔ اس روز چالیس افراد بیعت کرکے اس سلسلہ میں داخل ہوئے۔ بیعت کرنے والوں میں اوّلیت کا شرف حضرت حاجی الحرمین حکیم مولوی نور الدین صاحب کو حاصل ہوا ۔
1890ء میں آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس دعویٰ کے ساتھ ہی آپ کے خلاف ایک طوفان بے تمیزی اُمڑ آیا۔ بڑے بڑے علماء نے آپ کے خلاف کفر کے فتوے دیئے لیکن خدائے تعالیٰ کی نصرت و تائید کے نشانات پے درپے ظاہر ہو رہے تھے آپ نے تمام سجادہ نشینوں ، پیروں ،فقیروں کو مقابلہ کی دعوت دی۔ مباحثات و مناظرات کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ اور لوگوں پر آپ کی صداقت منکشف ہوتی چلی گئی۔ پھر آپ نے مکفر علماء کو دعوت مباہلہ بھی دی کہ اگر چاہیں تو اس رنگ میں خدائے تعالیٰ کے فیصلہ کو دیکھ لیں ۔علماء کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لیڈروں اور نمائندوں کو بھی مقابلہ کے لئے للکارا۔ ہندوؤں میں سے پنڈت لیکھرام۔ عیسائیوں میں سے پادری عبد اللہ آتھم اور امریکہ کا جھوٹا مدعی نبوت ڈاکٹر الیگزینڈر ڈوئی اور مسلمانوں میں سے رسل بابا امرتسری،چراغ دین جمونی،رشیداحمدگنگوہی،عبدالرحمن محی الدین لکھوکے والا،مولوی غلام دستگیر قصوری وغیرہم مقابلہ کرکے حسب پیشگوئی ہلاک ہوئے اور آپ ؑ کے منجانب اللہ ہونے پر مہر تصدیق ثبت کرگئے۔ پھر آپ ؑ نے قبولیت دُعا کا حربہ استعمال کیا اور تمام مذاہب کے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ اگر ان کا مذہب سچا ہے تو مقبولیت کا نشان مقابلہ میں دکھائیں مگر کسی کو اس مقابلہ کی ہمت نہ ہوئی۔ غرض قبولیت دُعا ، علمی مقابلوں، تائیدات سمادی اور بکثرت امور غیبیہ کے اظہار کے ذریعہ ثابت کیا کہ زندہ نبی ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور زندہ مذہب صرف اسلام ہے۔

اسلام کی حقانیت اور اپنے دعویٰ کی صداقت کو ظاہر کرنے کیلئے آپ نے کم و بیش 80 کتب اُردو اور عربی میں تصنیف فرمائیں۔ ہزارہا اشتہارات مختلف ممالک میں شائع فرمائے اور سینکڑوں تقاریر اسلام کی تائید میں کیں۔ بادشاہوں اور امراء کو خطوط لکھے اور انہیں دعوتِ حق دی ۔ پھر آپ نے مسلمانوں کے غلط عقائد کی اصلاح کی اور تجدید دین کا کام اس رنگ میں کیا جس رنگ میں مسیح و مہدی کیلئے کرنا مقدر تھا۔

اولاد
آپؑ کی پہلی شادی اپنی ماموں زادحرمت بی بی صاحبہ سے ہوئی جس سے دو لڑکے مرزافضل احمد اور مرزا سلطان احمد پیدا ہوئے۔آپ کی دوسری شادی 1884ء میں دہلی کے ایک مشہور سادات خاندان (خاندان میر درد) میں ہوئی۔ آپ کی دوسری اہلیہ کا نام حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہ تھا جو بعد میں اماں جان ؓ کہلائیں۔ آپ کے بطن سے پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں پیدا ہوئیں جن کے نام درج ذیل ہیں۔
1۔ صاحبزادی عصمت صاحبہ2۔بشیر اوّل 3۔ حضرت مصلح موعود صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمد احمد خلیفۃ المسیح الثانی ؓ 4۔ صاحبزادی شوکت صاحبہ
5۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ؓ ایم اے 6۔ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ؓ 7۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ؓ 8۔ حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب ؓ 9۔ صاحبزادی امۃ النصیر بیگم صاحبہ ؓ 10۔ حضرت صاحبزادی امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ ؓ۔
وفات
حضرت مرزاغلام احمدصاحب مہدی ومسیح موعودؑ نے 26مئی1908ء کو لاہور میں وفات پائی۔ آپ کا جنازہ قادیان لایا گیا۔ اگلے روز حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ ٔ اوّل منتخب ہوئے اور انہوں نے ہی آپ ؑ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اور بہشتی مقبرہ میں سپرد خاک کردیاگیا۔

کتب و مضامین :

مسیح موعود نمبرز :

 

 

2) حضرت مسیح موعود علیہ السلام

2) حضرت مسیح موعود علیہ السلام

1835
فروری 13

تاریخ پیدائش حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام

تاریخ پیدائش حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ولادت 13 فروری بمطابق 14شوال1250ھ بروز جمعہ طلوع فجر کے بعد قادیان میں ہوئی۔ آپ کے ساتھ پیشگوئی کے مطابق ایک لڑکی ’’جنت‘‘ نامی توام پیدا ہوئی جو جلد ہی فوت ہو گئی۔ آپ کے والد کا نام حضرت غلام مرتضیٰ صاحب اور والدہ کا نام حضرت چراغ بی بی صاحبہ تھا۔

1841
جنوری 01

ابتدائی تعلیم

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر قریباً 7،6سال تھی جب ایک فارسی خواں معلم فضل الہٰی صاحب نے آپ کو قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں پڑھائیں۔

1845
جنوری 01

عربی تعلیم

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر تقریباً دس برس تھی جب ایک عربی خواں معلم فضل احمد صاحب نے آپ کو عربی کی ابتدائی تعلیم دی۔

1852
جنوری 01

نحو، منطق اور حکمت کی تعلیم

قریباً 18،17برس کی عمر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک معلم گل علی شاہ صاحب سے نحو، منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کی تعلیم حاصل کی۔

1854
جنوری 01

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی شادی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی شادی آپ کے ماموں مرزا جمعیت بیگ صاحب کی بیٹی حرمت بی بی صاحبہ سے ہوئی ۔

1856
جنوری 01

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے بیٹے کی پیدائش

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے بیٹے مرزا سلطان احمد صاحب کی پیدائش ہوئی۔

1858
جنوری 01

دوسرے بیٹے کی پیدائش

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوسرے بیٹے مرزا فضل احمد صاحب کی پیدائش ہوئی۔

1860
جنوری 01

قیام سیالکوٹ

1860-61 میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سیالکوٹ میں ملازمت کا آغاز کیا ۔ متعدد بار خدائی حفاظت کے معجزات کا ظہور ہوا۔قیامِ سیالکوٹ کے دوران دعوت حق کی مہم کا آغاز ، عیسائی پادریوں سے مناظرات، متعدد مشاہیر نے اس دور میں ا ٓپ کی پاکیزہ زندگی سے متعلق گواہی دی ہے۔

1867
اپریل 18

وفات حضرت چراغ بی بی صاحبہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیالکوٹ سے واپسی اور  حضور کی والدہ حضرت چراغ بی بی صاحبہ کا انتقال ہوا۔

1868
جنوری 01

قبولیت دعا کا نشان

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قادیان کے آریہ سماج کے سیکرٹری لالہ شرمپت کو قبولیت دعا کا نشان دکھایا جو ایک مقدمہ کے انجام سے تعلق رکھتا تھا۔

1872
ستمبر 06

مسئلہ حیات النبی پر مذاکرہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لودھی ننگل کے مولوی اللہ دتہ صاحب سے مسئلہ حیات النبی پر مذاکرہ کرتے ہوئے فارسی نظم تحریر کرکے بھجوائی۔

1873
جنوری 01

مقدمہ میں پیشگی فتح کی بشارت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام زمینداروں کے خلاف ایک مقدمہ کی پیروی کے لئے امرتسر تشریف لے گئے جس کے بارہ میں آپ کو پیشگی فتح کی بشارت دی گئی تھی۔

1874
جنوری 01

مستقبل سے متعلق ایک عظیم الشان خبر

رؤیا میں ایک فرشتہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نان دیتے ہوئے کہا

’’یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے‘‘۔

1875
جنوری 01

9،8 ماہ کے متواتر روزے

اس سال کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوخدا تعالیٰ کی طرف سےسنت انبیاء کی پیروی کرتے ہوئے روزے رکھنے کی طرف اشارہ کیا گیا۔ چنانچہ آپ نے 8، 9 ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ ان ایام میں آپ پر بہت سے انوار کے دروازے کھولے گئے ۔

جنوری 01

مسجد اقصیٰ قادیان کی بنیاد

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد ماجد نے مسجد اقصیٰ قادیان کی بنیاد رکھی۔ قطعہ زمین 700روپے میں خریدا گیا۔

1876
جنوری 01

حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ کی قادیان آمد

حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ  کی قادیان آمد

حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ  کی قادیان میں پہلی بار آمد ہوئی اور محبانہ تعلقات کا آغاز ہوا۔

تعارف حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ 

جون 01

مسجداقصیٰ قادیان کی تعمیر مکمل

مسجداقصیٰ قادیان کی تعمیر مکمل ہوئی۔ اس کے پہلے خادم اور امام میاں جان محمد صاحب مقرر ہوئے۔

جون 01

والد صاحب کی وفات اور الہام الیس اللہ بکاف عبدہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد صاحب کی وفات ہوئی اور خدا تعالٰی کی طرف سے الہام الیس اللہ بکاف عبدہ ہوا۔یہ الہام  امرتسر سے ایک انگوٹھی پر کندہ کرایا گیا ۔ اس پر پانچ روپے خرچ ہوئے۔

والد صاحب کی وفات کے بعد بڑے زور سے آپ کے ساتھ سلسلہ مکالمات الہٰیہ شروع ہوگیا۔

والد صاحب کے انتقال کے بعد آپ کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کی جانشینی اور اقتصادی لحاظ سے حضور کا ایک شدید دور ابتلا شروع ہوا۔

1877
جنوری 01

سفر سیالکوٹ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت میر حسام الدین صاحب کی دعوت پر سیالکوٹ کا سفر اختیار کیا اور اپنے مخلص دوست لالہ بھیم سین صاحب کے ہاں قیام فرمایا۔

دسمبر 01

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنے نام سے پہلا مضمون

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا اپنے نام سے پہلا مضمون بنگلور کے اخبار ’’ منشور محمدی‘‘ میں شائع ہوا۔ اس میں یہ اعلان فرمایا کہ آپ ہر اس غیر مسلم کو پانچ سو روپیہ کی رقم بطو رانعام پیش کرنے کے لئے تیار ہیں جو اپنی مسلّمہ مذہبی کتابوں سے ان تعلیمات کے مقابل آدھی بلکہ تہائی تعلیمات بھی پیش کر دے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام، اسلام کی مسلّمہ اور مستند مذہبی کتب سے سچائی کے موضوع پر نکال کر دکھائیں گے۔

1878
جنوری 01

کھڑک سنگھ کو تناسخ پر مناظرہ کا چیلنج

آریہ سماج امرتسر کے ایک ممبر کھڑک سنگھ قادیان آئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے تناسخ پر مناظرہ کیا۔ حضور نے ان کو 500 روپے کا انعامی چیلنج دیا مگر وہ فرار ہوگئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مذکورہ بالا 500 روپے کا انعامی چیلنج آریہ سماج کے چوٹی کے لیڈروں تک وسیع کرنے کا اعلان کیا۔

جنوری 01

مقدمہ ڈاکخانہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف پہلا مقدمہ ایک عیسائی رلیا رام کی طرف سے ہوا جو مقدمہ ڈاکخانہ کے نام سے مشہور ہوا۔ حضور کی راست گفتاری کا زبردست نمونہ سامنے آیا ۔ آپ نے مخالف حالات اور وکلاء کی ترغیب کے باوجود جھوٹ بولنے سے انکار کردیا اور مقدمہ کا فیصلہ آپ کے حق میں ہوا۔

فروری 09

سوامی دیانند کے خلاف سلسلہ مضامین

اخبار سفیر ہند میں آریہ سماج کے لیڈر سوامی دیانند کے خلاف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سلسلہ مضامین شائع ہوا جس کی انعامی رقم 500 روپے تھی۔(9 فروری تا 9 مارچ)

1879
جنوری 01

براہین احمدیہ کی تصنیف

براہین احمدیہ کی تصنیف

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام براہین احمدیہ تصنیف فرما رہے تھےاور اپریل 1879 تک کافی حد تک تصنیف فرما چکے تھے ۔

مئی 21

پنڈت شونرائن اگنی ہوتری کے ساتھ ضرورت الہام پر مباحثہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے برہمو سماج کے لیڈر پنڈت شونرائن اگنی ہوتری کے ساتھ ضرورت الہام کے متعلق تحریری مباحثہ کیا ۔ بعد میں وہ برہمو سماج سے علیحدہ ہوگئے۔ (21 مئی تا 17 جون 1879 )

1880
جنوری 01

مخالفین کو دس ہزار روپے کا انعامی چیلنج

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی کتاب براہین احمدیہ کے پہلے دو حصے شائع ہوئے مخالفین کو دس ہزار روپے کا انعامی چیلنج دیا گیا ۔ مولوی محمد حسین بٹالوی اور حضرت صوفی احمد جان صاحب نے زبردست تبصرے کئے۔ امرتسر اور لدھیانہ کے بعض علماء نے شدید مخالفت کی ۔

جنوری 01

دوسری شادی اور مبارک نسل کی بشارات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دوسری شادی اور مبارک نسل کی بشارات دی گئیں۔ مشہور الہام انی مہین من اراد اھانتک اسی دور میں ہوا۔

جنوری 11

الہامی دعا

ماحول قادیان میں قولنج زحیری کی وبا پھوٹ پڑی ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس کا شکار ہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہامی دعا سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم اللھم صل علیٰ محمد و آل محمد آپ کو سکھائی گئی اور معجزانہ شفا ہوئی۔

1881
فروری 15

حضرت عبد اللہ غزنوی کی وفات کی الہامی خبر

حضرت مولوی عبد اللہ غزنوی صاحب کی وفات ہوئی۔ اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیشگی خبر دی گئی تھی  اور بعد وفات بھی ان سے کشفی عالم میں ملاقات ہوئی۔

1883
جولائی 09

مرزا غلام قادر صاحب کی وفات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کی وفات ہوئی۔

1884
نومبر 17

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دوسرا نکاح

حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہؓ سے شادی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بارات لے کر دلی پہنچے۔ خواجہ میر درد صاحب کی مسجد میں عصر و مغرب کے درمیان مولوی سید نذیر حسین صاحب نے 1100 روپے حق مہر پر نکاح پڑھا۔ (بمطابق 27 محرم 1302ھ بروز سوموار)

1885
مارچ 01

دعویٰ ماموریت

دعویٰ ماموریت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےایک اشتہار کے ذریعہ ماموریت کے دعویٰ کا عام اعلان فرمایا اور نشان نمائی کی عالمگیر دعوت دی۔ یہ اشتہار 20 ہزار کی تعداد میں اردو اور انگریزی میں شائع کیا گیا۔ اور ایشیا ، یورپ اور امریکہ کے تمام بڑے بڑے مذہبی لیڈروں اور سیاسی مدبروں اور دانشوروں کو بھیجا گیا۔ اس زمانہ کی کوئی نامور اور معزز شخصیت ایسی نہ تھی جس کو یہ آواز نہ پہنچائی گئی ہو۔ اشتہار پڑھ کر حضرت مولاناحکیم نور الدین صاحب بھیروی(خلیفۃالمسیح الاولؓ) جو ریاست جموں کے شاہی طبیب تھے حضور سے پہلی ملاقات کے لئے قادیان حاضر ہوئے۔

جولائی 10

سرخی کے چھینٹوں کا کشفی نشان

Hazarat Munshi Abdullah Sanori (RA)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑوں پر سرخی کے چھینٹے پڑنے کا کشفی نشان ظاہر ہوا۔ (بمطابق 27 رمضان 1302ھ)

اگست 01

ہندوؤں کا نشان نمائی کی درخواست

قادیان کے 10 ہندوؤں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نشان نمائی کی درخواست کی۔ چنانچہ آپ کوالہاماً بتایا گیا کہ آپ کے اشد مخالف مرزا امام الدین اورمرزا نظام الدین 31 ماہ تک ایک بڑی مصیبت میں مبتلا ہوں گے۔ اس کے مطابق فروری 1888ء میں نظام الدین کی بیٹی اور امام الدین کی بھتیجی ایک چھوٹا بچہ چھوڑ کر فوت ہوگئی۔ اس کے علاوہ حضور نے اللہ تعالیٰ سے نشان نمائی کے لئے چلہ کشی کا ارداہ بھی فرمایا۔

نومبر 28

ستارے ٹوٹنے کا نشان

آسمان پر شہب ثاقبہ کا غیرمعمولی نظارہ نمودار ہوا۔

دسمبر 27

حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ کی وفات

حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ کی وفات ہوئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تعزیت کے لئے لدھیانہ ان کے گھر تشریف لے گئے۔ قادیان میں ان کی نماز جنازہ غائب پڑھی گئی۔

1886
جنوری 22

چلہ کشی کے لئے سفر ہوشیار پور

حضرت مسیح موعود علیہ السلام چلہ کشی کے لئے حکم الہٰی کے تحت ہوشیارپور تشریف لے گئے۔اس چلہ کشی کے دوران مصلح موعود کی عظیم الشان پیشگوئی عطا کی گئی۔

فروری 20

اشتہار دربارہ پیشگوئی مصلح موعود

اشتہار دربارہ پیشگوئی مصلح موعود

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اشتہار دربارہ پیشگوئی مصلح موعود تحریر فرمایا جو یکم مارچ کو اخبارریاض ہند امرتسر میں بطور ضمیمہ شائع ہوا۔

مارچ 11

ماسٹر مرلی دھر سےتحریری مباحثہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کاہوشیارپور میں آریہ سماج کے ممتاز رکن ماسٹر مرلی دھر سے تحریری مباحثہ ہوا۔

مارچ 17

ہوشیار پور سے قادیان واپسی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہوشیار پور چلہ کرنے کے بعد قادیان واپسی ہوئی۔

مارچ 18

لیکھرام کا جوابی اشتہار

پیشگوئی مصلح موعود کے مقابل پر لیکھرام نے جوابی اشتہار شائع کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نیست و نابود ہونے کی جھوٹی پیشگوئی کی ۔

اپریل 15

صاحبزادی عصمت صاحبہؓ کی پیدائش

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صاحبزادی عصمت صاحبہ کی پیدائش ہوئی۔

ستمبر 01

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مباحثہ سرمہ چشم آریہ کی اشاعت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مباحثہ سرمہ چشم آریہ کی اشاعت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کاماسٹر مرلی دھر سےمباحثہ سرمہ چشم آریہ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کتاب میں حضور نے آریوں کو انعامی چیلنج دیا اور ان کے تمام مشہور لیڈروں کو مباہلہ کی دعوت دی۔

نومبر 01

سفر انبالہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام بغرض ملاقات حضرت میر ناصر نواب صاحب انبالہ تشریف لے گئے۔ایک ماہ انبالہ میں رہنےکے بعد 25 نومبر کو قادیان تشریف لائے۔

دسمبر 17

ماسٹر الیگزینڈر رسل وب کا قبول حق

ماسٹر الیگزینڈر رسل وب کا قبول حق

امریکہ سے ماسٹر الیگزینڈر رسل وب کے خط کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مؤرخہ 17 دسمبر کو خط لکھا، جس کے بعد خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہوا اور اس کےنتیجہ میں انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔

1887
جنوری 01

کتاب’’شحنہ حق‘‘ تصنیف فرمائی

کتاب’’شحنہ حق‘‘ تصنیف فرمائی

پنڈت لیکھرام نے تکذیب براہین احمدیہ نامی کتاب لکھی اور ملک میں مخالفت کی آگ لگادی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آریوں نے کثرت سے گمنام خطوط اور گالیوں بھرے اشتہارات میں قتل کی دھمکیاں دینی شروع کردیں۔

آریہ سماج کے عقائد کا قلع قمع کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’’شحنہ حق‘‘ تصنیف فرمائی۔ آریوں کی شورش کی وجہ سے حضور نے قادیان سے ہجرت کا ارادہ بھی ظاہر فرمایا۔

جولائی 26

’’تصدیق براہین احمدیہ ‘‘ کی تحریک

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب (خلیفۃ المسیح الاول ؓ)کو دین کی قلمی خدمات کی تحریک فرمائی جس کے نتیجہ میں آپ نے ’’تصدیق براہین احمدیہ‘‘ تصنیف فرمانا شروع کی۔یہ کتاب 1890میں شائع ہوئی۔

اگست 07

ولادت بشیر اولؓ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاں بشیر اولؓ کی ولادت ہوئی۔

1888
جنوری 07

سفر جموں بغرض عیادت

حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب (خلیفۃ المسیح الاول ؓ)کی عیادت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام جموں تشریف لے گئے۔

مئی 01

سفر بٹالہ

بشیر اول کے علاج کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بٹالہ تشریف لے گئے۔

مئی 18

پادری فتح مسیح کی طرف سے روحانی مقابلہ کی دعوت

بٹالہ میں پادری فتح مسیح  نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو علم غیب میں مقابلہ کا چیلنج دیا۔

مئی 21

پادری فتح مسیح کا اعتراف شکست

پادری فتح مسیح کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا  بٹالہ میں مقابلہ ہوا۔ بعد ازاں پادری فتح مسیح نے شکست کا اعتراف کیا۔

جون 01

سفر پٹیالہ

وزیر اعظم پٹیالہ خلیفہ محمد حسن خان صاحب کی دعوت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پٹیالہ تشریف لے گئے۔

جون 13

قصبہ سنور

حضرت مسیح موعود علیہ السلام پٹیالہ سے حضرت مولوی عبد اللہ سنوری کے قصبہ سنور تشریف لے گئے۔

نومبر 04

بشیر اول کی وفات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے بشیر اول کی وفات ہوئی۔

دسمبر 01

رسالہ ’’سبز اشتہار‘‘کی اشاعت

رسالہ ’’سبز اشتہار‘‘کی اشاعت

رسالہ ’’سبز اشتہار‘‘ کے ذریعہ بشیر اول کی وفات اورپیشگوئی مصلح موعود پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دیا۔

دسمبر 01

بیعت لینے کا اعلان

بیعت لینے کا اعلان

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت لینے کا عام اعلان فرمایا۔

1889
جنوری 12

اشتہار ” تکمیل تبلیغ “

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اشتہار تکمیل تبلیغ شائع فرمایا جس میں دس شرائط بیعت تحریر فرمائیں۔

جنوری 12

ولادت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (المصلح الموعودؓ)

ولادت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (المصلح الموعودؓ)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (المصلح الموعودؓ) کی ولادت ہوئی۔(بمطابق 9 جمادی الاول 1306ھ)

جنوری 12

پیدائش حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓاور آپ کے والد ماجد اور والدہ ماجدہ کا نام

حضرت مرزابشیرالدین محموداحمدصاحب خلیفۃ المسیح الثانی   12جنوری 1889ءکو قادیان میں حضرت مرزاغلام احمدصاحب قادیانی مسیح  موعود علیہ السلام و حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ ؓ(حضرت اماں جانؓ) کے ہاں پیدا ہوئے۔

 

جنوری 18

عقیقہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (المصلح الموعودؓ)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمدصاحب (المصلح الموعودؓ) کا عقیقہ ہوا۔

مارچ 04

بیعت کے اغراض و مقاصد پرمشتمل اشتہار

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت کے اغراض و مقاصد پرمشتمل اشتہار شائع کیا اور ہدایت فرمائی کہ بیعت کرنے والے اصحاب 20 مارچ کے بعد لدھیانہ پہنچ جائیں۔

مارچ 23

جماعت احمدیہ کی بنیاد اور پہلی بیعت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لدھیانہ میں حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ کے مکان واقع محلہ جدید میں جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی۔ (بمطابق 20 رجب 1306ھ بروز ہفتہ) اس دن چالیس خوش نصیبوں نے بیعت کی۔ اول المبایعین حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب (خلیفۃ المسیح الاول ؓ)تھے۔

مردوں کے بعد عورتوں نے بیعت کی۔ سب سے پہلے حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب (خلیفۃ المسیح الاول ؓ)کی اہلیہ حضرت صغریٰ بیگم صاحبہؓ نے بیعت کی۔ بیعت کے بعد اجتماعی کھانا ہوا۔ 18 اپریل تک بیعت کا سلسلہ جاری رہا۔

اپریل 18

سفر علی گڑھ

حضرت سید محمد تفضل حسین صاحب کی دعوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک ہفتہ کے لئے علی گڑھ تشریف لے گئے۔

اپریل 29

تحریری بیعت کی اجازت

حضرت ابو الخیر عبد اللہ صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوسروں سے تحریری بیعت لینے کی اجازت دی آپ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے احمدی تھے۔

مئی 01

’’ایک عیسائی کے تین سوالوں کے جواب‘‘ کتاب تحریر فرمائی

ایک عیسائی عبد اللہ جیمز کے سوالوں کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلامنے کتاب ’’ایک عیسائی کے تین سوالوں کے جواب‘‘ تحریر فرمائی۔(مئی، جون1889)

1890
مارچ 01

شدید بیماری کا حملہ

مارچ کےآخری ہفتہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر شدید بیماری کا حملہ ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام علاج کے لئے لاہور تشریف لے گئے اور ڈاکٹر محمد حسین صاحب کے زیرِ علاج رہے۔

نومبر 19

بیعت حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ

بیعت حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ

حضرت نواب محمد علی خان صاحب ؓ کی بیعت ۔آپ بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے داماد بنے۔

نومبر 19

’’فتح اسلام ‘‘ اور توضیح مرام ‘‘ کی تصنیف و اشاعت اور دعویٰ مسیحیت

اس سال کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی طر ف سے یہ عظیم الشان انکشاف ہوا کہ حضرت مسیح ناصری وفات پا چکے ہیں اور ان کے مثیل کی شکل میں آپ کو دنیا کی ہدایت اور اسلام کی اشاعت کے لئے مبعوث فرمایا گیا ہے۔ اس انکشاف پر آپ نے ’’ فتح اسلام ‘‘ اور پھر ’’ توضیح مرام ‘‘ کے نام سے دو کتابیں شائع فرمائیں جن میں اپنے دعویٰ مسیحیت کا اعلان فرمایا ۔

1891
مارچ 03

سفر لدھیانہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لدھیانہ کا سفر اختیار فرمایا۔

مارچ 26

تحریری مباحثہ کی دعوت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مشہور علماء اور سجادہ نشینوں کو تحریری مباحثہ کی دعوت دی مگر کوئی آمادہ نہ ہوا۔

مئی 29

حضرت مولوی غلام نبی صاحب خوشابیؓ کی بیعت

حضرت مولوی غلام نبی صاحب خوشابی ؓ کی لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات۔ لفظ توفی کے متعلق چند منٹ کی گفتگو کے بعدانہوں نے بیعت کرلی۔

جولائی 01

تصنیف ’’ازالہ اوہام‘‘

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پادریوں کو وفات مسیح پر تبادلہ خیالات کی دعوت دی۔ ازالہ اوہام کی تصنیف و اشاعت، 30 آیات قرآنی سے وفات مسیح کا استدلال اور لفظ توفی اور الدجال کے بارہ میں ایک ہزار روپیہ کا انعامی چیلنج دیا۔

جولائی 10

مکہ معظمہ سے پہلی دستی بیعت

مکہ معظمہ کے پہلے فرد حضرت شیخ محمد بن شیخ احمد مکی نےدستی بیعت کی۔

ستمبر 23

حضرت مولوی مردان علی صاحبؓ کی بیعت

حیدرآباد جماعت کے بانی رکن حضرت مولوی مردان علی صاحب ؓ کی بیعت۔

ستمبر 29

سفر دہلی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دہلی کا سفر اختیار فرمایا۔

اکتوبر 02

مباحثہ کی دعوت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی اور مولوی عبد الحق صاحب کو مباحثہ کی دعوت دی مگر انہوں نے گریز کیا۔

اکتوبر 20

مولوی نذیر حسین صاحب کے ساتھ مباحثہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام مولوی نذیر حسین صاحب کے ساتھ مباحثہ کے لئے جامع مسجد دہلی تشریف لے گئے مگر مولوی صاحب  مسجد میں موجود ہونے کے باوجودمقابلہ پر نہ آئے۔

اکتوبر 23

مناظرہ الحق دہلی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کادہلی میں مولوی محمد بشیر بھوپالوی سے مناظرہ جو ’’الحق دہلی‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔

دسمبر 01

کتاب آسمانی فیصلہ کی تصنیف

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب’’آسمانی فیصلہ‘‘ کی تصنیف و اشاعت ہوئی۔اس کتاب میں آپ نے علماء کو روحانی مقابلہ کی پہلی عام دعوت دی۔

دسمبر 27

جماعت احمدیہ کا پہلا جلسہ سالانہ

جماعت احمدیہ کا پہلا جلسہ سالانہ مسجد اقصیٰ قادیان میں بعد نماز ظہر منعقد ہوا۔ اس جلسہ میں 75 افراد شریک ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تازہ تصنیف ’’آسمانی فیصلہ‘‘ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے پڑھ کر سنائی ۔اس جلسہ میں آسمانی فیصلہ میں مندرج مجوزہ انجمن کے متعلق غور و فکر ہوا۔

دسمبر 30

ہر سال جلسہ سالانہ کے انعقاد کا اعلان

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار کے ذریعہ ہر سال 27 تا 29 دسمبر جلسہ کے انعقاد کا اعلان فرمایا۔

1892
جنوری 31

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عظیم الشان لیکچر

لاہور میں منشی میراں بخش صاحب کی کوٹھی پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عظیم الشان لیکچر ہوا۔

مئی 26

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اشاعت دین کے لئے مالی قربانی کی تحریک

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ممالک ہند میں اشاعت دین کے لئے واعظین کا تقرر کرنے کی خاطر مالی قربانی کی تحریک فرمائی۔ اور حضرت سید محمد احسن صاحب امروہی کو پہلا واعظ تجویز فرمایا۔

دسمبر 10

مخالف علماء کو مباہلہ کی دعوت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےمخالف علماء کو مباہلہ کی پہلی دعوت دی۔ اولین مخاطب مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی تھے۔

1893
جنوری 11

کتاب آئینہ کمالات اسلام کے اردو حصہ کی تکمیل

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ کا اردو حصہ مکمل کرلیا۔ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کی کہ اس کے ساتھ مسلمان فقراء اور پیروں کے لئے ایک خط بھی لکھا جائے۔ بعض اشارات الہامی  میں یہ خط عربی میں لکھنے کی تحریک ہوئی اور دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نےحضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رات ہی رات میں عربی زبان کے 40 ہزار مادے سکھادئیے۔ چنانچہ آپ نے’’التبلیغ ‘‘ کے نام سے فصیح و بلیغ عربی میں خط لکھا جس کے آخر پر مشہور قصیدہ ہے۔یاعین فیض اللہ و العرفان۔

مارچ 30

مخالفین کو عربی تفسیر قرآن کے مقابلہ کی دعوت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مخالفین کو عربی زبان میں تفسیر قرآن کے مقابلہ کی دعوت دی۔کتاب کرامات الصادقین کی تصنیف ہوئی۔

اپریل 23

اہل جنڈیالہ کی طرف سے عیسائیوں کے مقابل پر امداد کی درخواست

اہل جنڈیالہ کی طرف سے عیسائیوں کے مقابل پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے امداد کی درخواست۔حضورؑ نے 23 اپریل کو خط لکھا کہ میں اس کے لئے تیار ہوں۔ اس کے نتیجہ میں عبد اللہ آتھم سے مباحثہ ہوا۔

مئی 22

پادری عبد اللہ آتھم کے ساتھ مباحثہ

امرتسر میں پادری عبد اللہ آتھم کے ساتھ مباحثہ ہواجو جنگ مقدس کے نام سے شائع ہوا۔ مباحثہ کے آخری دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آتھم کی ہلاکت کی پیشگوئی فرمائی۔ اس نے سنتے ہی توبہ کا پہلا عملی اظہا رکیا۔(22مئی تا 5 جون)

1894
ستمبر 09

پادری عبد اللہ آتھم کو انعامی چیلنج

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے پادری عبد اللہ آتھم کو ایک ہزار روپے کا انعامی چیلنج کہ وہ حق کی طرف رجوع نہ کرنے کی قسم کھائے۔ 20 ستمبر کو یہ رقم دو ہزار کردی گئی۔5 اکتوبر کو رقم تین ہزار اور 27 اکتوبر کو چار ہزار تک بڑھادی گئی۔

ستمبر 18

الہام ’’داغ ہجرت‘‘

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا ’’داغ ہجرت‘‘۔یہ الہام کئی رنگوں میں پورا ہوچکا ہے۔

ستمبر 29

سعد اللہ لدھیانوی کے مقطوع النسل مرنے کی پیشگوئی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوسعد اللہ لدھیانوی کے مقطوع النسل مرنے کی بابت  خداتعالی کی طرف سے الہام ہوا۔’’اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَالْاَبْتَرُ‘‘۔یہ پیشگوئی 1907 میں پوری ہوئی۔

1895
مئی 20

ضیاء الاسلام پریس کا قیام

ضیاء الاسلام  پریس کا قیام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی  پہلی کتاب ’’ضیاء الحق‘‘ کی اشاعت ہوئی۔

مئی 24

ولادت حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ کی ولادت ہوئی۔ (بمطابق27 ذی قعدہ 1312ھ )

ستمبر 22

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مباحثات میں قیام امن کے لئے تجاویز

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار کے ذریعہ حکومت کے سامنے مذہبی مباحثات میں قیام امن کے لئے دو تجاویز رکھیں۔

الف: کوئی فرقہ کوئی ایسا اعتراض کسی دوسرے فرقہ پر نہ کرے جو خود اس کی الہامی کتاب یا پیشوا پر وارد ہوتا ہو۔

ب: دوسرے فرقہ کی صرف انہی کتابوں پر اعتراض کیا جائے جو اس کے نزدیک مسلم ہوں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان تجاویز پر مختصر وقت میں ہزاروں افراد نے دستخط کئے۔

ستمبر 30

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ڈیرہ بابا نانک تشریف آوری

حضرت مسیح موعود علیہ السلام بابا نانک کا مقدس چولہ دیکھنے کے لئے ڈیرہ نانک تشریف لے گئے۔

آپ کے ساتھ 10 احباب تھے۔ حضور نے اس چولہ پر لکھی گئی آیات اپنی کتاب ست بچن میں شائع فرمائیں۔

اکتوبر 02

نواب محسن الملک کا خط

مسلمانوں کے معروف رہنمانواب محسن الملک نے بمبئی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تجاویز بابت مذہبی مباحثات میں قیام امن کو سراہتے ہوئے خط لکھا۔

1896
جنوری 01

تحریک تعطیل جمعہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار کے ذریعہ حکومت کو تحریک کی کہ وہ مسلمانوں کے لئے جمعہ کا دن تعطیل قرار دے۔ حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب (خلیفۃ المسیح الاولؓ)کے عہد میں حکومت نے یہ تجویز منظور کر لی۔

جولائی 27

عبد اللہ آتھم کی ہلاکت

جنگ مقدس کے اختتام پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باطل فریق کے لئے 15ماہ میں حاویہ میں گرائے جانے  کی پیشگوئی کے نتیجہ میں عبداللہ آتھم نے توبہ کر لی۔ تا ہم حضور کے بار بار توجہ دلانے کے باوجود اپنے دلی رجوع کو چھپانے کے نتیجہ میں ہلاک ہو گیا۔

دسمبر 26

جلسہ اعظم مذاہب عالم کا انعقاد

لاہور میں میں جلسہ اعظم مذاہب عالم منعقد ہوا جس میں مختلف مذاہب اور مکاتب فکر کے 17 نمائندوں نے شرکت کی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 21 دسمبر کو ایک اشتہار کے ذریعہ اپنے مضمون کے بالا رہنے کی پیشگوئی کی۔ 27 دسمبر کو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے آپ کا مضمون سنایا مگر مکمل نہ ہو سکا اور سامعین کے ذوق  شوق کی وجہ سے سے 29 دسمبر کا دن بڑھایا گیا اور سب نے مضمون کے بالا رہنے کا اقرار کیایہ مضمون ’اسلامی اصول کی فلاسفی‘ کے نام سے شائع ہوا۔ (26تا 29 دسمبر)

 

image_print