skip to Main Content

انگلستان کے ماہر ہیئت دان پروفیسر کلیمنٹ ریگ نےحضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کی۔18 مئی کو پروفیسر کلیمنٹ کی حضورسے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ بعد میں وہ احمدی ہوگئے۔

مسٹر مبارک احمد فرائی صاحب
وفات   15 جنوری 1943

 

سوئٹزرلینڈ کے سب سے پہلے احمدی تھے۔ باقاعدگی سے چندہ ادا کرتے تھے تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ حضرت مصلح موعود جب دوبارہ یورپ تشریف لے گئے تو آپ کو متعدد بار حضور کی معیت کا شرف حاصل ہوا۔15جنوری 1943ء کو وفات پائی۔[1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 9مارچ 1963ء صفحہ 1

(تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 316 )

وفات 2جنوری 1961ء[1]

آپ 20دسمبر 1914ء[2] کو اپنے ایک ساتھی کے ساتھ وارد قادیان ہوئے۔ اس وقت آپ کا شمار ملک کے مشہور پادریوں میں ہوتا تھا اور آپ عیسائی مذہب کے چوٹی کے عالم سمجھے جاتے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ان کو شرف بار یابی بخشا۔ ملاقات کا یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہا۔

حضرت چوہدری علی محمد صاحب بی اے بی ٹی پہلے دن کی ملاقات میں موجود تھے آپ بیان فرماتے ہیں کہ

’’عند الملاقات مکرم عبد الخالق صاحب نے تجویز پیش کی کہ میں اسلام پر اعتراض کروں گا۔ آپ اس کا جواب دیں پھر آپ عیسائیت پر اعتراض کریں تو میں اس کا جواب دوں گا مگر حضور نے یہ تجویز منظور نہ فرمائی اور فرمایا کہ جب تک وہ دیوار (عیسائیت کی) جو آپ کے دل میں ہے پہلے میں اس کو نہ گرا لوں اپنی (اسلام کی) دیوار کی بنیاد کیسے رکھ سکتا ہوں۔ شیخ صاحب نے اس کو تسلیم کر لیا پھر حضور نے عیسائیت پر اعتراضات کرنا شروع کئے۔ شیخ صاحب جواب دیتے۔ حضور ان کے جواب پر معترض ہوتے تو شیخ صاحب کہتے کہ حضرت ! ہم عیسائیوں کے پاس اس سے بڑھ کر اور کوئی جواب نہیں ‘‘۔ [3]

حضور روزانہ ان کو چار گھنٹے کے قریب وقت دیتے رہے۔ حضور نے ان کے مذہب کی کمزوری ان سے منوا کر ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور سب سے پہلے اس سوال کا جواب دیا کہ اسلام میں نجات کا کیا طریق ہے اور ذنب استغفار انبیاء کے کیا معنیٰ ہیں۔ 22دسمبر کو اس سوال کا جواب دیا کہ شریعت پر عمل ہو سکتا ہے یا نہیں۔ پھر حضور نے گناہ سے بچنے کے طریق بیان فرمائے۔[4]

شیخ عبد الخالق صاحب جو ابتداء ہی میں سمجھ چکے تھے کہ عیسائیت کی بنیاد اسلام کے مقابل با لکل کھوکھلی ہے ‘ حضور کے بیان فرمودہ حقائق کو سن کر دنگ رہ گئے اور اسلام قبول کر لیا۔

شیخ صاحب قبول حق کے بعد مستقل طور پر قادیان آ گئے اور دفتر تصنیف میں کام شروع کر دیا۔ ہر چند کہ یہاں انکی زندگی سخت تنگی سے گذری مگر ان کا قدم کبھی نہیں ڈگمگایا اور انہوں نے ساری زندگی قلمی و لسانی خدمت میں گذار دی۔ [5]

قادیان میں آپ واقفین کے استا د رہے پھر جامعہ احمدیہ میں بھی آپ کو عیسائیت کا مضمون پڑھانے کا موقعہ ملا۔ حضرت مصلح موعود بھی بعض دفعہ آپ سے بائبل کے حوالے دریافت فرما لیتے تھے۔ [6]

حوالہ جات:

[1] الفضل13جنوری1961ء صفحہ5۔

[2] الفضل24دسمبر1914ء صفحہ1الفضل میں مصلحتاََ آپ کانام درج نہیں کیا گیا۔

[3] الفضل4فروری1961ء صفحہ5۔

[4] الفضل 24دسمبر 1914ء۔ حضور کی بصیرت افروز تقریر کا ایک حصہ اخبار الفضل 14تا19جنوری 1914ء میں شائع شدہ ہے جو لفظ ذنب اور غفرکی حقیقت کے بارہ میں ہے۔

[5] سلسلہ کے رسائل و اخبارات میں ان کے مضامین شائع شدہ ہیں جو ان کی علمی قابلیت کا آئینہ دار ہیں۔

[6] الفضل4فروری1961ء صفحہ5۔

(تاریخ احمدیت جلد 21 صفحہ 345-346)

 

وفات 17جنوری 1961ء

آپ موصی تھے۔ بورنیو میں سب سے پہلے احمدی ہوئے۔ آپ کے عملی نمونہ اور تبلیغ سے بہت سے لوگوں کو قبول احمدیت کی توفیق ملی۔ جماعت کی ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ [1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 3 فروری 1961ء صفحہ:5

(تاریخ احمدیت جلد 21 صفحہ 346)

وفات 26 مارچ 1961ء

نہایت مخلص ‘ نڈر اور جانباز احمدی تھے۔ حق بات کہنے میں گویا شمشیر برہنہ تھے۔ جماعت احمدیہ پسرور کی تنظیم و ترقی میں ان کی خدمات کا بھی عمل دخل ہے۔ آپ 1952ء سے 1959ء تک پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ پسرور رہے اور اپنے فرائض نہایت فرض شناسی اور مستعدی سے ادا کرنے کی سعادت پائی۔[1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 8،18 اپریل 1961ء صفحہ5،4

(تاریخ احمدیت جلد 21 صفحہ 346)

(ولادت 31اکتوبر1927ء وفات 9جنوری 1962ء)

حضرت شیخ محمداسماعیل صاحب پانی پتی کے فرزند اکبر تھے۔ آپ کی ولادت کے زمانہ میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سونی پت میں متعین تھے اورحضرت اماں جان بھی چند یوم کے لئے تشریف رکھتی تھیں۔ آپ بچہ کی پیدائش کی اطلاع پر بنفس نفیس پانی پت تشریف لے گئیں اور نہ صرف دعاؤں سے برکت بخشی بلکہ کپڑوں کا ایک جوڑا بھی مرحمت فرمایا۔حضرت اما ں جان کی خاص توجہ اوردعاؤں کی بدولت شیخ محمد احمد صاحب میں بچپن ہی سے رشد واصلاح اور شرافت ونجابت کے غیر معمولی اثرات نمایاں تھے اور تاریخ اسلام کے واقعات تو چھوٹی عمر میں اس تفصیل اورصحت کے ساتھ یادتھے کہ ان کے اساتذہ بھی دنگ رہ جاتے تھے۔

آپ نے ابتدائی تعلیم پانی پت کے مسلم ہائی سکول میں حاصل کی پھر1942ء کے آخر میں مدرسہ احمدیہ میں داخل ہونے کی غرض سے قادیان پہنچے۔ کچھ عرصہ بعد حضرت اماں جان کو حضرت میرمحمد اسماعیل صاحب کی زبانی معلوم ہوا کہ محمد احمد مدرسہ احمدیہ میں پڑھتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس کی تعلیم کے اخراجات میں خود اداکروں گی اور یہ فرمانے کے ساتھ یکصد روپیہ کانوٹ حضرت ڈاکٹر صاحب کو دیا اور فرمایا کہ اس میں سے ماہ بماہ فیس اور اخراجات ادا کرتے رہیں اس کے بعد نہایت باقاعدگی کے ساتھ سال کے سال سوروپیہ یکمشت عنایت فرماتی رہیں حتیٰ کہ 1949ء میں بھی جبکہ آپ نے مولوی فاضل کاامتحان پاس کرلیا ایک سال تک یہ وظیفہ جاری رکھا۔[1]

1951ء سے 1954ء تک آپ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ اورروزنامہ ’’المصلح‘‘ کراچی کے ادارہ تحریر میں شامل رہے اور رپورٹنگ اور خبروں کی ایڈیٹنگ کے علاوہ بعض انگریزی تراجم اور نہایت قابل قدر مضامین سپرد قلم کئے۔ اس کے بعد آپ نے اسلامی تاریخ کی عربی کتب کے تراجم کی طرف توجہ دی اور نہایت مختصر عرصہ میں مشرق وسطی کے بلند پایہ اور نامور ادباء و فضلاء کی تصانیف کو ایسی عمدگی، سلاست، روانی اور نفاست کے ساتھ اردو زبان میں منتقل کیا کہ برصغیر میں دھوم مچ گئی اور اس میدان میں آپ نے اتنی شہرت حاصل کی کہ بہتوں سے آگے نکل گئے اور بڑے بڑے نقادوں سے خراج تحسین حاصل کیا۔ علامہ نیاز فتحپوری نے لکھا ’’ترجمہ شیخ محمداحمد پانی پتی کا ہے اورخوب ہے‘‘ (نگار لکھنؤ نومبر1955ء) مولانا رئیس احمد جعفری نے آپ کی ایک کتاب کی نسبت یہ رائے دی کہ۔

’’اس ترجمہ کے بعض مقامات پر تورشک کرنے کو جی چاہنے لگتا ہے واقعہ یہ ہے کہ ترجمہ اتنا شستہ اور رواں ہے کہ ترجمہ پن ذرا بھی محسوس نہیں ہوتا‘‘ (ثقافت ستمبر1957ء)

جماعت اسلامی کے ترجمان روزنامہ تسنیم یکم جون 1956ء نے لکھا-:

’’مصنف (عمرابوالنصر) کے اسلوب نگارش نے کتاب کو ایک دلکش ادبی جامہ پہنادیا ہے اور فاضل مترجم نے ترجمہ میں اس دلکشی کو قائم رکھنے کی پوری اور کامیاب کوشش کی ہے ترجمہ نہایت شستہ اور رواں ہے اور زبان بے حد شگفتہ اور دلفریب ہے۔‘‘

ہفت روزہ چٹان لاہور(24جون1957ء) نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا-:

’’مستند ہونے کے ثبوت میں یہی کہہ دینا کافی ہے کہ اس کے مصنف عالم اسلام کے عظیم المرتبت و نامور مورخ ڈاکٹر محمد حسین ھیکل مصری مرحوم ہیں شیخ محمد احمد صاحب پانی پتی نے اسے اردو کالباس پہنا کر ترجمہ میں تصنیف کارنگ بھر دیا ہے۔‘‘

ماہنامہ طلوع اسلام لاہور (جولائی 1957ء) نے ھدیۂ تبریک پیش کرتے ہوئے لکھا-:

’’ترجمہ شگفتہ ہے اورترجمہ معلوم نہیں ہوتا۔ ہم اس ترجمہ کی کامیابی پر محمد احمد صاحب کو قابل مبارکباد سمجھتے ہیں۔‘‘

ماہنامہ ’’چراغ راہ‘ (اپریل1958ء) نے لکھا-:

’’آزادی کے بعد ہماری ادبی دنیا میں عربی سوانح و تاریخ کی کتب کے تراجم شائع کرنے کا رجحان کافی مقبول ہوا ہے ان میں سے بیشتر کتب شیخ محمد احمد صاحب پانی پتی نے ترجمہ کی ہیں ان کی زبان رواں اور زوردار ہے ان کے تراجم کو دیکھ کر کوئی نہیں جان سکتا کہ یہ کسی دوسری زبان کا ترجمہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں عربی زبان پر کافی دسترس ہے۔‘‘

علاوہ ازیں اخبار امروز (22اگست1955ء نیز2اپریل1956ء) رسالہ ’’حمایت اسلام‘‘ (23ستمبر1955ء) رسالہ برھان دہلی(مارچ1956ء) ہلال پاکستان (4جون1956ء) تعمیرانسانیت (جولائی اگست1956ء) ’’نیادور‘‘ لاہور (شمارہ11،12) نے شاندار تبصرے کیے۔[2]

آپ نے مختصر سی عمر میں نصف صد کے قریب عربی کتب کے تراجم کئے جونامور اشاعتی اداروں کی طرف سے شائع ہوئے۔ مشہورتراجم کے نام یہ ہیں۔ نبی امی۔ خلفائے محمد ؐ۔ ابوبکر صدیق اکبرؓ۔ خدیجہ ؓ۔ عائشہؓ۔ الزاھراء ؓ۔ الحسین ؓ۔ خالد سیف اللہ۔ خالد اور ان کی شخصیت۔ عمروؓ بن عاص۔ معاویہ ؓ ۔ عہد نبوؐی کی اسلامی سیاست۔اسلام کا نظامِ عدل۔ آل محمدؐ کربلا میں۔ علی ؓ اور عائشہؓ۔ سید العرب۔ الشیخان۔ جغرافیہ تاریخ اسلام۔ اشک پیہم۔علاوہ ازیں آپ نے تعلیم القرآن۔ غلامان محمدؐ۔ سیرت النبی ؐ اور اساسِ اسلام کے نام سے تالیفات بھی کیں۔[3]الغرض آپ نے تنتیس سال کی عمر میں قوم و ملک کے لئے اتنا عظیم الشان لٹریچر یادگارچھوڑا کہ حیرت آتی ہے۔

ایک بلند پایہ ادیب۔ صحافی۔ مضمون نگار مترجم اورمولف ہونے کے باوجود نہایت منکسرالمزاج ملنسار، بے نفس اور بہت ہی مخلص اور فدائی قسم کے نوجوان تھے۔ جماعتی کاموں میں ہمیشہ بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مجلس خدام الاحمدیہ لاہورکے نہایت ہی سرگرم اور مستعد رکن اور عہدیدار کی حیثیت سے شاندار خدمات انجام دیں۔ آپ پوری زندگی اس اصول پر سختی سے کاربند رہے کہ انسان اس جہان ناپائیدار میں مظلوم ہوکر زندگی گزارے۔ قدرت نے اس معاملہ میں آپ کی استقامت اور صبر کو آزمانے کیلئے بعض امتحان اور ابتلا پیداکئے اور آپ ہر امتحان میں سے ہنسی خوشی کامیاب ہوکر گزرتے رہے اور کبھی حرف شکایت تک زبان پر نہ لائے آپ ہر ایسی بات کو خدا پر چھوڑ دینے کے قائل تھے اور اسی میں راحت محسوس کرتے تھے۔

شیخ محمد احمد صاحب پانی پتی کے سوانح اور اوصاف و عادات اور علمی خدمات کابہترین ماخذوہ مضامین ہیں جومولانا مسعود احمد خاں صاحب دہلوی نے انہی دنوں تحریر فرمائے اور الفضل میں شائع ہوئے[4]  مولانا صاحب کی چشم دید شہادت ہے کہ۔

’’خلوت وجلوت میں انہیں دیکھا اور ہر لحاظ سے انہیں ایک قابل رشک نوجوان پایا۔ میں اس امر کا عینی شاہد ہوں کہ پانچوں نمازیں نہایت باقاعدگی سے ادا کرتے اور اپنے اس معمول میں کبھی فرق نہ آنے دیتے اسی طرح راست گفتاری کا یہ عالم تھاکہ سچ بولنے میں انہیں کتنی ہی تکلیف کیوں نہ اٹھانی پڑے وہ سچ بات کہنے سے کبھی نہ ہچکچاتے تھے بچپن سے لیکر۔۔۔۔۔آخر دم تک انہوں نے اس خوبی کو پورے عزم و ہمت اور تعہدکے ساتھ نبھایا۔ پھر نہایت درجہ متواضع طبیعت پائی تھی اکرام ضیف کا ایسا شاندار مظاہرہ کرتے کہ نووارد مہمان بھی جذبات تشکر سے لبریز ہوکر پہلی ملاقات میں ہی ان کا گرویدہ اور دلی دوست بن جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت خاموش طبع اور کم گو ہونے کے باوجود ان کا حلقہ احباب وسیع تھا۔ احمدیت کی روح کو خوب سمجھتے تھے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی پوری کوشش کرتے تھے اور اپنی اس کوشش میں بہت حد تک کامیاب بھی تھے۔۔۔۔ الغرض بہت دیندار اور مخلص نوجوان تھے اور خدا نے انہیں بہت نافع اور مفید وجود بنایا تھا۔‘‘[5]

وفات میں صرف دو گھنٹے پیشتر خواب میں دیکھا کہ۔

’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی ایک کنیز کے ہاتھ ایک سفید چادر بھجوائی اور ارشاد فرمایا کہ اس چادر کے سایہ میں آجاؤ میرے پاس پہنچ جاؤگے۔‘‘[6]

آخر میں آپ کے والد ماجد حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی کے قلم سے آپ کی سوانح شمائل اور شاندار ادبی و علمی خاندان پر ایک جامع نوٹ سپرد قرطاس کیا جاتا ہے۔

شیخ محمد احمد پانی پتی(بیٹے کی سرگذشت باپ کی زبانی):

میں نے بڑے شوق، نہایت تلاش اور بے حد کاوش کے بعد اپنے محترم دوست طفیل صاحب مدیر نقوش کی فرمائش پر لاہور کے مرحوم ادیبوں اور انشاپردازوں کا تذکرہ لکھا۔ مگر مجھ بدبخت اور بد نصیب کو کیا پتہ تھا کہ مجھے اپنے لخت جگر اور نورِ بصر محمد احمد کو بھی اس تذکرہ کی بھینٹ چڑھانا ہو گا جو اس تذکرہ کی ترتیب کے وقت زندہ سلامت اور بالکل نوجوان تھا اور جس کے متعلق وہم بھی نہیں تھا کہ اس کی زندگی کا چراغ اس قدر جلد گل ہو جائے گا ۔ اس کی عمر صرف 32برس کی ہوئی مگر اس قلیل عرصہ میں اس نے ادب، علم اور اسلام کی اس قدر کثیر خدمت کی کہ میں نے اپنی 70برس کی عمر میں اس کا دسواں حصہ بھی نہیں کیا۔ وہ تقسیم ملک کے وقت25؍نومبر1947ء کو پانی پت سے لاہور پہنچا۔ اور 9؍جنوری 1962ء کی صبح کو میوہسپتال لاہور میں ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گیا۔ وہ عربی زبان کامشہور مترجم، بہترین ادیب اور بہت اعلیٰ درجہ کا انشا پرداز تھا۔ اس کے قلم میں بڑی سلاست اور روانی تھی۔ اس کے ترجمے نہایت فصیح و بلیغ ہوتے تھے۔ مترجمہ کتابوں پر عالمانہ اور محققانہ حواشی اور نوٹ لکھنے میں وہ اپنا نظیر نہ رکھتا تھا۔ ادبی، علمی، سوانحی اور تاریخی اسلامی لٹریچر کا جو پاکیزہ ذخیرہ اس نے یاد گارچھوڑا ہے وہ اردو ادب میں ایک شاندار اضافہ ہے۔ مصر و شام اور لبنان کے مشہورو معروف اور چوٹی کے ادیبوں اور انشا پردازوں کی جن بہترین کتابوں کا اس نے عربی سے اردو میں ترجمہ کیا ان کے نام یہ ہیں-:

1۔نبی امیؐ۔2۔سید العرؐب-3۔خلفائے محمدؐ۔4۔ابو بکر صدیق اکبرؓ۔5-خدیجہؓ۔6۔عائشہؓ۔ 7۔الزہرؓا۔8۔الحسینؑ۔9۔سوانح حیات حضرت بلالؓ۔10۔خالدؓ سیف اللہ۔11۔خالدؓ اور ان کی شخصیت۔ 12۔عمروؓ بن العاص۔13۔فاتح مصر۔14۔معاویہؓ۔ 15۔الشیخانؓ۔16۔آل محمدؐ کربلا میں۔ 17۔علیؓ اور عائشہؓ۔18۔الہارون۔19۔سلطان محمد فاتح۔20۔عہد نبوی کی اسلامی سیاست۔ 21۔اسلام کا نظام عدل۔22۔ جغرافیہ تاریخ اسلام۔23۔اشک پیہم۔24۔تاریخ ادب العربی۔25۔اس نے تمام قدیم سیرورجال کی عربی کتابوں سے اخذ و انتخاب کر کے آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے ایسے315صحابہ کا مبسوط تذکرہ’’غلامانِ محمد‘‘ کے نام سے لکھا جو دنیا کی ظاہری نظر میں غلام تھے۔ 26۔بچوں کے لئے جو ’’قاعدہ تعلیم القرآن ‘‘ اس نے لکھاوہ اپنی نظیر آپ ہے۔ 27۔طلبا کے لئے ’’سیرۃ النبی‘‘ نہایت آسان زبان میں لکھی۔28۔مولانا حالی کے عربی خطوط کا ترجمہ کیا۔29۔کتاب کلیلہ د منہ کی تاریخ عربی سے ترجمہ کی۔30۔محمد حضرمی کی مشہورعربی تاریخ سے ہارون الرشید کے سوانحی حالات ترجمہ کئے۔ 31۔عبد اللطیف شرارہ کی عربی کتاب حجاج بن یوسف کا ترجمہ شروع کیا۔ ان کے علاوہ بہت سے نفیس اور اعلیٰ پایہ کے ادبی، تحقیقی اور تاریخی و اسلامی مضامین مخزن، نقوش، صحیفہ، قندیل، لاہور، زیب النساء، تشحیذ الاذہان ، خالد، الفضل، امروز اور لیل و نہار میں لکھے۔ اس کی زندگی خالص طالبعلمانہ تھی اور اس نے اپنی ساری عمر نہایت خاموشی کے ساتھ ادب کی خدمت میں گذاردی۔ اور کسی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔ نہ کبھی کسی کھیل تماشے میں شریک ہوا۔ نہ لاہور میں رہتے ہوئے کبھی کوئی سینما دیکھا۔ دن رات لکھنے پڑھنے  اور تصنیف وتالیف سے کام تھا اورآخری وقت تک اس مشغلہ میں مشغول رہا۔ ذاتی طورپر نہایت نیک، صالح، کم گو، شریف طبیعت۔ مہمان نوازاور ہمدرد نوجوان تھا۔ دوستوں سے نہایت اخلاص سے ملتا اور ملنے والوں سے نہایت اخلاق سے پیش آتا۔ کبھی اس نے زبان یا ہاتھ یا قلم سے کسی کو تکلیف نہیں دی غرض خدابخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں‘‘[7]

حوالہ جات:

[1] الفضل17مارچ1962ء صفحہ5۔

[2] تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفضل2فروری1962ء صفحہ3،4۔

[3] خالد فروری 1962ء صفحہ37،38۔

[4] الفضل 11جنوری 1962ء صفحہ8-1۔ الفضل 2فروری 1962ء صفحہ 4-3۔الفضل 18-17مارچ1962ء

[5] الفضل 18مارچ 1962ء صفحہ5

[6] رسالہ’’خالد‘‘ ربوہ۔ فروری 1962ء صفحہ28

[7] رسالہ’’نقوش ‘‘ لاہور نمبر صفحہ954،955

(تاریخ احمدیت جلد 21 صفحہ593 تا 597 )

 

آپ وقف جدید کے آنریری معلم تھے جو 45 سال کی عمر میں 13جنوری1962ء کو کار کے ایک حادثہ میں شہید ہوگئے۔ سیدی حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ان دنوں وقف جدید کے ناظم ارشاد تھے۔ آپ نے الفضل17جنوری1962ء میں مرحوم کی بے لوث دینی خدمات کا نہایت دلکش انداز میں تذکرہ فرمایا اورآپ کو نہایت ہی مخلص اور سلسلہ کا فدائی کارکن قرار دیتے ہوئے لکھا-:

’’تقریباً دوسال کا عرصہ ہوا اپنا نام آنریری طورپر وقف جدید میں پیش کیا اور اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ اس ڈر سے کہ کہیں وقف نامنظور نہ ہوجائے پرُ زور سفارش کروائی اور باربار یہ امر واضح کرتے رہے کہ میرا نام معلّمین کی فہرست میں شامل کرلیاجائے میں سلسلہ پر بار نہیں بنوں گا۔ چنانچہ اس دن سے آج تک نہایت تندہی سے بغیر کسی وظیفہ کے معلم کے فرائض سرانجام دیتے رہے اورخود کوباقاعدہ سلسلہ کاملازم تصور کرتے رہے‘‘

’’اطاعت شعار محض فرض شناسی کے طورپر نہیں تھے بلکہ شوق تھا کہ اطاعت کا امتحان ہواور یہ اس پر پورے اتریں چنانچہ چھوٹے چھوٹے امور پر بھی جن میں دفتر ان کو پابند نہیں سمجھتا تھا یہ باقاعدہ اجازت لیاکرتے تھے اور باوجود اس کے کہ آنریری معلّمین کے لئے یہ کوئی پابندی نہیں کہ وہ اپنا مرکز چھوڑتے وقت دفتر سے رخصت طلب کریں یہ التزاماً رخصت لیاکرتے تھے‘‘

’’تبلیغ کاجنون تھا اور باوجوداس کے کہ علم واجبی ساتھا یہ وفور شوق سے اس کمی کو پورا کردیا کرتے تھے چنانچہ اپنے خرچ پر بھی سلسلہ کا لٹریچر خرید کر احباب تک پہنچاتے رہتے تھے۔ چنانچہ گزشتہ سال انہیں (تعلیمی کلاس میں) زیادہ حاضریوں میں اول آنے پر جوانعام دیاگیا وہ تمام کتب سلسلہ کی خرید پر خرچ کردیا۔‘‘

’’دینی غیرت اور جرأت ایمان بدرجہ وافر پائی جاتی تھی۔ 1953ء کے فتنہ میں اپنے  گاؤں میں انہوں نے جس جرأت ایمانی کا مظاہرہ کیاآج تک وہاں کے باشندے اسے یاد کرتے ہیں۔ ان دنوں اس علاقہ میں احمدیوں کو نہایت شدید اور حقیقی خطرات درپیش تھے مگر مرحوم ایسے اطمینان سے بے خوف و خطر اپنی احمدیت کا اعلان کرتے پھرتے تھے کہ غیر بھی انگشت بدنداں تھے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد 21 صفحہ598 )

سوانح:

سلسلہ احمدیہ کے بے مثال فدائی نہایت مخیر اور شہرہ آفاق بزرگ حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب [1]کی پیدائش12اکتوبر1877ء کوبمبئی میں ہوئی آپ کے والد ماجد اللہ دین صاحب ولد ماؤجی سرآغاخاں کے معتقد اور اسماعیلی خوجہ قوم کے چشم و چراغ تھے۔ جو 1882ء میں بغرض تجارت بمبئی سے حیدرآباد دکن کے شہر سکندر آباد میں آگئے اور یہیں بودوباش اختیار کرلی۔ 1903ء میں آپ کی شادی حضرت سکینہ بانو صاحبہ[2] سے ہوئی۔ 1904ء میں آپ کے والد انتقال کرگئے۔ اسوقت آپ کی عمر ستائیس سال اور (خان بہادر) سیٹھ احمد الہ دین صاحب کی انیس سا ل تھی اور دوسرے دو بھائی بچے ہی تھے اور اڑھائی ہزار کے بیمہ کے سوا کوئی سرمایہ نہ تھا اورتجارت کی حالت بھی اچھی نہ تھی مگر اللہ تعالیٰ نے جو تمام برکات کا منبع ہے اسی تجارت میں ایسی برکت دی کہ پہلے ہی سال اس سے ہزارہا روپیہ نفع ہونے لگا حتی کہ چند سالوں میں سرمایہ لاکھوں تک پہنچ گیا۔

1913ء میں پہلی بارآپ نے قادیان کا نام سنا۔ جبکہ مینیجر رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ (انگریزی) کی طرف سے یہ رسالہ آپ کی فرم کے نام اشتہار حاصل کرنے کیلئے موصول ہوا۔ مذہب سے دلچسپی نہ ہونے کے باعث یہ رسالہ کئی روز تک آپ کی میز پر پڑا رہا۔ ایک دن آپ کی نظر اس کے آخری صفحہ پر پڑی جسمیں ’’ٹیچنگز آف اسلام‘‘ (اسلامی اصول کی فلاسفی) کا اشتہار تھا۔ آپ نے کتاب منگوائی اور اس کا نہایت دلچسپی سے مطالعہ کیا۔ اس کتاب کا آپ پر ایسا فوری اثر ہوا کہ گویا آپ ظلمت سے نکل کر نور میں آگئے آپ نے اسکی متعدد جلدیں مسلم اور غیرمسلم افراد میں تحفۃً تقسیم کیں۔

آغا خانی خیالات کے زیر اثر آپ سمجھتے تھے کہ قرآن عربوں کے لئے تھا ہمیں اس کی ضرورت نہیں اس لئے قرآن مجید پڑھنا بھی چھوڑ چکے تھے مگر اس کتاب کے پڑھنے سے آپ کے اندر زبردست تبدیلی واقع ہوگئی اور آپ کمال ذوق اور ولولہ جوش کے ساتھ مطالعہ قرآن میں منہمک ہوگئے۔ پہلے پنجوقتہ نمازوں میں بے قاعدہ تھے اب پورے التزام سے تہجد اور نوافل بھی پڑھنے لگے۔ تجارت میں ہرقسم کے ناجائز طریقے موقوف کردئیے اور سالانہ زکوٰۃ کی ادائیگی شروع کردی اور مع اہل وعیال حج بیت اللہ کا بھی شرف حاصل کیا۔ اس کتاب کے ذریعہ آپ کو یہ عجیب بات بھی معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ دعا سنتا اور جواب بھی دیتا ہے۔ اس امر کی تحقیق کیلئے آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور بعض دعائیں کیں جس کے جواب میں آپ کو ایسی واضح خوابیں دکھلائی گئیں کہ آپ یقین محکم پر قائم ہوگئے کہ خدا تو یقینا مستجیب الدعوات ہے۔ ان روحانی تجربات و مشاہدات کے باوجود آپ کی توجہ احمدیت کی طرف نہ ہوئی جسکی وجہ یہ تھی کہ ایک اہلحدیث شخص کی مصاحبت سے آپ کٹراہلحدیث ہوگئے تھے۔

1914ء میں حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کسی کام کے لئے سکندر آباد تشریف لے گئے اور آپ پر ہر پہلو سے صداقت ِ احمدیت واضح کی۔ قادیان سے بہت سی کتابیں بھی منگوادیں مگر آپ قبول  احمدیت پر قطعاً آمادہ نہ ہوئے۔[3]

جون 1914ء میں خلیفۃ المسیح الثانی نے اعلیٰ حضرت نظام دکن کیلئے ’’تحفۃ الملوک ‘‘تصنیف فرمائی اور اس کو پہنچانے اور مختلف حلقوں میں تقسیم کرنے کیلئے سب سے پہلے حضرت حکیم محمد حسین صاحب قریشی (موجدمفرح عنبری لاہور) اورپھر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو بھیجا گیا لیکن حضرت سیٹھ صاحب کو اس وفد کا علم نہ ہوسکا۔ ازاں بعد حضرت مفتی صاحب اور حضرت حافظ روشن علی صاحب حضور کے حکم پر حیدر آباد تشریف لے گئے۔ تو حضرت سیٹھ صاحب اُن کے لیکچر میں شامل ہوئے جن کے سننے کے بعد آپ نے اپنے مکان الہ دین بلڈنگ میں انکی تقریریں کرائیں اوردرس قرآن بھی جاری کرایا۔ یہ دونوں بزرگ دو تین ماہ تک روزانہ اُن کے پاس سکندر آباد تشریف لے جاتے اور تبلیغ کرتے رہے۔ مخالف علماء کو بھی اعتراضات کرنے کا کھلا موقعہ ملا۔ فریقین کے دلائل سننے اور موازنہ کرنے کے بعد آپ کو حضرت مسیح موعود ؑ کی صداقت پر کامل یقین ہوگیا۔ اس اثنا میں جبکہ آپ تحقیقات کررہے تھے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے آپ کے لئے دعا کی تو خواب میں دیکھا کہ ’’آپ ایک بڑی عمارت میں بیٹھے ہیں جس کے بیچ میں ایک بہت بڑا صحن ہے ایک تخت اس میں بچھا ہے اور آپ اس پر بیٹھے ہوئے ہیں اور …آسمان سے خداتعالیٰ کے فضل کی بارش بہ شکل نور ہورہی ہے اور آپ پر گررہی ہے‘‘ حضور کو یقین ہوگیا کہ آپ سلسلہ میں داخل ہوکر سلسلہ کیلئے بہت مفید وجود ثابت ہوں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ [4]

قبول احمدیت اور انقلابی دور کا آغاز:

حضرت سیٹھ صاحب 9 اپریل 1915ء[5]کو داخل احمدیت ہوئے اور پھر اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور جائیداد عملاً دین کے لئے وقف کر کے دیوانہ وار جہاد تبلیغ میں منہمک ہوگئے اور انگریزی ،اردو، گجراتی، ملیالم، تلگو، گورمکھی ، ہندی، برمی، کنٹری اور چینی زبان میں اپنے خرچ پر اس درجہ وسیع پیمانے پر دینی لٹریچر شائع کیا کہ اس سے پہلے جماعت کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ لٹریچر دنیا میں جہاں جہاں پہنچا وہاں وہاں اُس کے شاندار نتائج رونما ہوئے۔ بہت سی سعید روحوں نے حق قبول کیا۔گیمبیا میں احمدیت کا بیج آپ کی شائع کردہ نماز ہی کے ذریعہ بویاگیا جو آہستہ آہستہ تناور درخت کی صورت اختیار کررہا ہے۔

بیعت کے بعد 1915ء میں آپ نے پہلی کتاب “EXTRACTS FROM HOLY QURAN” کے نام سے انگریزی میں شائع فرمائی۔ یہ کتاب بہت مقبول ہوئی اور آپ کی زندگی میں اسکی تیرہ بار اشاعت ہوئی۔

دسمبر 1916ء میں آپ پہلی بار جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان دارالامان تشریف لے گئے جس کے بعد (چند مستثنیات کے سوا) آپ قریباً اکتالیس سال تک اس مبارک تقریب کی برکات سے مستفید ہوتے رہے۔ جلسہ کا ایک اجلاس ہمیشہ (الاماشاء اللہ) آپ کی زیرصدارت ہوتا تھا۔

اگست 1917ء میں قادیان سے حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؒ، حضرت مولانا میر محمداسحاق صاحبؒ، حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ؒ عرفانی اور حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب ؒ فاضل جلالپوری بغرض تبلیغ بمبئی بھیجے گئے۔[6] حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؒکے ارشاد پر آپ بھی شامل وفدہوئے اور تبلیغی سرگرمیوں میں اس درجہ نمایاں اور سرگرم حصہ لیا کہ مخالفین نے آپ کو قتل کرنے کی سازش کی مگر خدا کے فضل سے یہ منصوبہ ناکام رہا۔[7]

1918ء میں آپ کا انجمن احمدیہ حیدر آباد دکن کے سالانہ جلسہ میں ایک نہایت پُرجوش لیکچر ہوا جس کا عنوان تھا ’’دنیا کے تمام مسلمانوں کی علی الخصوص اور دیگر مذاہب کو بالعموم دس ہزار روپے کے انعام کے ساتھ ایک چیلنج‘‘ سید بشارت احمد صاحب نے جلسہ کی رپورٹ میں لکھا-:

’’سیٹھ صاحب نے جس عمدگی اور خوش دلی کے ساتھ اپنے مضمون کو سنایا نہ صرف دیگر سامعین کو بلکہ ہم واقف کاروں کو بھی حیرت میں ڈال دیا۔ خدا کی قدرت نظر آتی تھی کہ چند سال میں آپ کو کیسے معلومات اور قوت ِ بیانی حاصل ہوگئی کہ اعلیٰ سے اعلیٰ مضمون نگار بھی اپنے لیکچر کے ذریعے ایسے زبردست فطری جذبات کو اس طرح عام فہم مثالوں میں کبھی نہ بیان کرسکتا کہ جس طرح سیٹھ صاحب نے ادا کیا ہے۔ لیکچر کیا تھا دعوت ِ حق کا ایک زبردست پیغام تھا۔‘‘[8]

شروع 1923ء میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے سکندر آباد میں احمدیت کے مخالف تقریر کی۔ حضرت سیٹھ صاحب نے اُن کے نام کھلا اشتہار دیا کہ اگر وہ ایک جلسہ میں اپنے عقائد پر مجوزہ عبارت میں مؤکدبعذاب قسم اٹھائیں توان کو اسی وقت پانچصد روپیہ دوں گا اور اگر وہ ایک سال تک سلامت رہے تو انہیں مزید دس ہزار روپیہ پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد آپ نے انکو ایک اور چیلنج یہ دیا کہ وہ جلسہ میں یہ حلف اٹھائیں کہ میں نے مرزا صاحب کے مضمون ’’مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘ پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا مرزا صاحب جھوٹے تھے اس لئے خدائی گرفت میں آکر فوت ہوگئے اور میں حق پر تھا اس لئے زندہ رہا۔ اگر میں اس حلف میں جھوٹا ہوں تو اے علیم وخبیر تو مجھ پر موت وارد کریاایک سال کے اندر مجھ پر عبرتناک عذاب وارد کردے۔ سیٹھ صاحب نے اعلان فرمایا کہ وہ مولوی صاحب کو یہ حلف اٹھاتے ہی اسی جلسہ میں پانچصد روپے نقد پیش کردیں گے اور اگر وہ اس کے بعد ایک سال تک زندہ رہے یا کسی عبرتناک عذاب میں (جس میں انسانی ہاتھ کا دخل نہ ہو) محفوظ رہے تو اُن کو مزید تین ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔[9]

جناب مولوی ثناء اللہ صاحب کو عمر بھر یہ حلف اٹھانے کی جرأت نہ ہوئی۔

1924ء سے آپ نے ’’اسلامی اصول کی فلاسفی ‘‘ کے تراجم کی اشاعت کا آغاز فرمایا اور اس سلسلہ میں اس سال سب سے پہلے گجراتی ترجمہ شائع کیا جس کے بعد آپ نے مسلسل کئی سالوں کی محنت وکاوش اور زرکثیر سے انگریزی، ملیالم، تلگو، گورمکھی، ہندی، برمی، کنٹری، چینی اور مرہٹی تراجم چھپوائے۔ انگریزی ایڈیشن بارہ دفعہ شائع ہوا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی  ؒ نے فرمایا-:

’’میرے مشورہ کے بعد سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی کا ترجمہ مختلف زبانوں میں شائع کرنا شروع کیا ہے یہ وہ کتاب ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بتایا گیا تھا کہ اس کے ذریعہ سے اسلام کو غلبہ حاصل ہوگا… معلوم ہوتا ہے کہ یہ ترجمے اپنا اثر پیدا کررہے ہیں۔‘‘[10]

جنوری1926ء میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی  ؒ نے آپ کی بے مثال مالی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا-:

’’سلسلہ کی بے نظیر خدمت میں سیٹھ عبداللہ بھائی صاحب کا مرتبہ سب سے بڑھا ہوا ہے ایک وقت میں بڑی سے بڑی رقم تو اُن کی طرف سے سلسلہ کو تیرہ ہزار کی ملی ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ متواتر سلسلہ کی خدمت میں اُن کا نمبر غالباً سب سے بڑھا ہوا ہے، اُن کی مالی حالت میں جانتا ہوںایسی اعلیٰ نہیں جیسی کہ بعض لوگ اُن کی امداد کو دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں لیکن اُن کو خداتعالیٰ نے نہایت پاکیزہ دل دیا ہے اور مجھے اُن کی ذات پر خصوصاً اس لئے فخر ہے کہ ان کے سلسلہ میں داخل ہونے کے وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے اُن کے اخلاص کے متعلق پہلے سے اطلاع دی تھی۔ حالانکہ میں نے اُن کو دیکھا بھی نہ تھا۔ میں دیکھتا ہوں کہ وہ سلسلہ کے درد میں اسقدر گداز ہیں کہ مجھے ان کی قربانی کو دیکھ کر رشک آتا ہے اور میں اُن کو خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھتا ہوں کاش کہ جماعت کے دوسرے دوست اور خصوصاً تاجرپیشہ اصحاب اُن کے نمونہ پرچلیں اور اُن کے رنگ میں اخلاص دکھائیں تو سلسلہ کی مالی تنگیاں بھی کا فور ہوجائیں اور خدا کی برکات بھی جو قربانیوں پر نازل ہوتی ہیں خاص طور پر نازل ہوں۔‘‘[11]

ملک صلاح الدین صاحب ایم اے تحریر فرماتے ہیں کہ-:

’’مولوی محمد اسمٰعیل صاحب یادگیری وکیل (مرحوم) نے آج سے قریباً اٹھائیس سال پہلے حضرت سیٹھ صاحب کے کھاتہ جات کا جائزہ لے کربتایا تھا کہ بیعت 1915ء تا 1950ء آپ نے سوا نو لاکھ کے قریب خدمت دین میں صرف کئے۔ ان میں سے 1944ء۔ 1948ء و 1949ء تین سالوں میں ایسا اِنفاق دولاکھ سترہ ہزار کے قریب تھا۔ اُن کا جائزہ یہ تھا کہ آپ اپنی آمدنی میں سے صرف دو آنے فی روپیہ اپنی ذات کے لئے استعمال کرتے ہیں اور چودہ آنے فی روپیہ خدمت ِدین پر۔‘‘[12]

جماعت احمدیہ حیدر آباد دکن کو ایسی کوئی جگہ میسر نہ تھی جہاں تقاریر اور اجلاس کئے جاسکیں۔ حضرت سیٹھ صاحب نے شہر کے ایک باموقعہ مقام پر جو علاقہ افضل گنج میں واقع ہے ایک عالیشان احمدیہ جوبلی ہال تعمیرکرایا جس کا افتتاح 23 اکتوبر 1931ء کو عمل میں آیا۔ حضرت مولوی عبدالمغنی خاں صاحب ناظر دعوت و تبلیغ نے اس ہال کی نسبت تحریر فرمایا-:

’’سیٹھ صاحب محترم نے حیدرآباد کے عین مرکز میں …ایک شاندار ہال بنوادیا ہے جوصدر انجمن احمدیہ کی وصیت میں دے دیاگیا ہے۔ اس میں لائبریری اور ریڈنگ روم  ہے اور وہیں پر ہی جلسے ہوتے ہیں اور یہ سیٹھ صاحب محترم کا صدقہ جاریہ ایسا ہے کہ جماعت احمدیہ کو ابھی تک ایسی جگہ ہندوستان میں کسی دوسری جگہ میسر نہیں آئی۔‘‘[13]

یہ جوبلی ہال جماعت احمدیہ کی دینی اور تبلیغی اور تربیتی سرگرمیوں کا مشہور مرکز بن چکا ہے۔

نومبر1934ء میں ’’تحریک جدید‘‘ جاری ہوئی۔ سلسلہ کے جن مخیر بزرگوں نے اس مالی جہاد میں نمایاں اور قابل رشک حد تک حصہ لیا ان میں آپ سرفہرست تھے۔ چنانچہ کتاب ’’تحریک جدید کے پانچہزاری مجاہدین‘‘ (صفحہ461) کے مطابق آپ کے انیس سالہ چندہ کا میزان 62065/-روپے بنتا ہے۔

حضرت سیٹھ صاحب تحریک جدید کے دوسرے مطالبات پر بھی ہمیشہ کاربندرہے اور آپ نے حضرت مصلح موعود کی ہدایت کے مطابق پوری عمر ایک کھانا کھایا حالانکہ دوسروں کے لئے آپ کے دسترخوان پر ہمہ قسم کے لوازمات مہیا ہوتے تھے۔[14]

سیدنا حضرت مصلح موعود نے مارچ 1932ء میں فیصلہ فرمایا کہ جماعت سال میں دوبار یوم التبلیغ منائے۔ اس فیصلہ کے مطابق پہلا یوم التبلیغ 8اکتوبر1932ء کو منایا گیا۔[15] حضرت سیٹھ صاحب ہمیشہ یہ دن نہایت جوش و خروش سے منایا کرتے تھے۔ چنانچہ مولانا عبدالمالک خاں صاحب ناظر اصلاح وارشاد کا بیان ہے کہ -:

’’حضرت المصلح الموعود کی طرف سے جب یہ اعلان ہوا کہ احبابِ جماعت یوم تبلیغ منایا کریں تو دیکھا گیا کہ سیٹھ صاحب ٹریکٹ لے کر بس سٹاپ پر جاکھڑے ہوتے اور ایک بس سٹاپ سے دوسرے بس سٹاپ تک تقسیم کراتے اور یہ اندازہ فرمالیتے کہ جس کو ٹریکٹ دیاگیا ہے وہ اس کا مطالعہ کرے گا۔ وہ شخص جو موٹرنشین تھا اپنے امام کی آواز پر لبیک کہنے اور اپنے جذبہ تبلیغ کی تسلی کے لئے اپنے آرام کو یوں قربان کردیا کرتا تھا۔ ان کی اس خوبی نے اپنے پرائے سب کو متاثر کیا۔‘‘[16]

اکتوبر1938ء میں حضرت مصلح موعود نے حیدرآباد دکن کا تاریخی سفر کیا[17]اورروانگی سے قبل حضرت سیٹھ صاحب کو دو پرائیویٹ خطوط رقم فرمائے،[18]،[19]جن میں سفر کی اطلاع دیتے ہوئے بعض ضروری ہدایات دیں۔ آپ نے ان ہدایات کی روشنی میں سفر کو زیادہ سے زیادہ مفید اور خوشگوار بنانے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی جس پر حضور نے اظہار خوشنودی فرمایا اور واپسی پر آپ کے نام ایک مکتوب میں لکھا۔

’’حیدر آباد دیکھنے کا مدت سے شوق تھا لیکن جو لطف اس سفر میں رہا۔ اس کا اندازہ پہلے نہ تھا۔ ہر طرح آرام اور خوشی سے یہ سفر ہوا جس میں بہت سا حصہ آپ کے اور آپ کے اہل خانہ کے اخلاص اور محبت کو حاصل تھا۔‘‘[20]

16جولائی 1941ء کو حضرت سیٹھ صاحب کی صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے نکاح کا اعلان حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؒ نے فرمایا۔ [21]فریقین کی طرف سے حضور ہی وکیل تھے۔ اس موقعہ پر حضور نے ایک نہایت لطیف خطبہ ارشاد فرمایا جس میں آپ کے اخلاص اور تبلیغی خدمات اور مالی قربانیوں پر مفصل روشنی ڈالی چنانچہ فرمایا-:

’’ جس نکاح کے اعلان کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوا ہوں ۔اس میں لڑکی سیٹھ عبداللہ بھائی صاحب کی ہے جو سکندر آباد کے رہنے والے ہیں۔ گوآج مجھے نقرس کے درد کی تکلیف ہے اور یوں بھی جب لڑکے لڑکی والے دونوں یہاں موجود نہ ہوں تو عربی کے خطبہ پر ہی کفایت کرتا ہوں۔ کیونکہ نصیحت جن کے لئے ہوتی ہے وہ خود ہی موجود نہ ہوں تو چنداں فائدہ نہیں ہوتا۔ مگر اس وقت مَیں نے ’’الفضل‘‘ والوں کو بلالیا ہے تاکہ خطبہ لکھ لیں تاکہ شائع ہوکر اُن تک پہنچ جائے اور یہ اُن تعلقات کی وجہ سے ہے جو سیٹھ عبداللہ بھائی صاحب سے مجھے ہیں۔

سیٹھ صاحب جب غیر احمدی تھے ایک ہمارا وفد حیدرآباد میں تبلیغ کے لئے گیا۔ وفد کے ارکان کو کسی ذریعہ سے معلوم ہوا کہ سکندر آباد میں خوجوں میں سے ایک صاحب دین سے بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ نمازروزہ کے پوری طرح پابند ہیں۔ اس پر وہ دوست اُن کے پاس بھی گئے اور تبلیغ کی۔ سیٹھ صاحب نے چاریا پانچ سوال لکھ کردیئے کہ اُن کے جواب دیدیئے جائیں۔ اگر ان سے میری تسلی ہوگئی تو میں احمدی ہوجائوں گا۔ ہمارے مبلغین نے وہ سوال مجھے بھجوادیئے اور ساتھ ہی لکھا کہ یہ صاحب بہت شریف اور بااخلاق ہیں۔ ان کے دل میں دین کی بڑی محبت ہے۔ ان کے لئے دُعا کی جائے کہ احمدی ہوجائیں۔ کیونکہ اگر یہ احمدی ہوگئے تواس علاقہ میں تبلیغ احمدیت کا بڑا ذریعہ بن جائیں گے۔ میں نے ان کے سوالات کا جواب بھی لکھا اور دعا بھی کی۔ میں نے رؤیا دیکھا کہ باہر صحن میں ایک شخص بیٹھا ہے۔ سیٹھ صاحب کو میں نے دیکھا ہوا نہیں تھا۔ جب بعد میں دیکھاتو ان کی شکل اس شخص سے ملتی جلتی تھی جسے مَیں نے رؤیا میں دیکھا تھا۔ تو میں نے دیکھا ایک صاحب باہر تخت پر بیٹھے ہیں۔ ان کے سَر پر چھوٹی سی ٹوپی ہے۔ وہ کھلے آسمان کے نیچے  بیٹھے ہیں۔ اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان میں شگاف ہوا ہے۔ جس میں سے (فرشتے) نورپھینک رہے ہیں اور وہ اس شخص پرگررہاہے۔ میں نے اسی وقت سمجھ لیا کہ ان کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے گا اور نہ صرف ہدایت دے گا بلکہ سلسلہ کے لئے مفید بنائے گا۔ میرا خیال ہے کہ شاید ان کے سوالات کے جواب ابھی میری طرف سے انھیں نہ پہنچے تھے کہ انھوں نے استخارہ کرکے بیعت کرلی۔

اس کے بعد احمدیت سے اُن کا عشق بڑھتا گیا اوروہ بڑی سے بڑی قربانی اور ہر رنگ کی قربانی کرتے رہے ہیں۔ تبلیغ میں اس حد تک انہیں جوش ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم میں والنٰزعت غرقاً والنٰشطت نشطاً والسٰبحٰت سبحاً فاالسٰبقت سبقاً، وَالمدبرات امرا۔ارشاد فرمایا گیا ہے۔ یہ مقام ان کو حاصل ہے۔ یوں ان کی مذہبی تعلیم کچھ نہیں۔ عربی تعلیم بھی نہیں۔ انگریزی کا چونکہ ان کی قوم میں رواج ہے کہ اس میں خط و کتابت کرتے ہیں، اس لئے وہ اس میں لکھ پڑھ لیتے ہیں۔ ورنہ کالج میں تعلیم پاکر اس میں خاص کسب کمال کیاہو یہ بات نہیں ہے۔ مگر اس جوش میں کہ تبلیغ کریں۔ اُردو، انگریزی اور گجراتی میں کتابیں لکھتے رہے ہیں اور پھر تبلیغی لٹریچر شائع کرانے کی انہیں ایسی دُھن ہے کہ ان کی جدّوجہد کو دیکھ کرشرم آجاتی ہے کہ قادیان میں اتنا عملہ ہونے کے باوجود اس دُھن سے کام نہیں ہوتا جس سے وہ کرتے ہیں۔ انہوں نے تبلیغی لٹریچر کی اشاعت کے کئی ڈھنگ نکالے ہوئے ہیں۔ کسی غریب اور بے کار آدمی کو پکڑ لیتے ہیں اور تبلیغی لٹریچر دے کر کہتے ہیں جائو سٹیشنوں پر جاکر اسے فروخت کرو اور جوآمد ہو وہ تم لے لو۔ اس طرح وہ اپنی ایک ایک کتاب کے پندرہ پندرہ، سولہ سولہ ایڈیشن شائع کرچکے ہیں۔ غرض وہ اس دُھن سے تبلیغ احمدیت کاکام کرتے ہیں کہ اگر چند اور ایسے ہی کام کرنے والے ہوتے تواس وقت تک بہت بڑا کام ہوچکا ہوتا۔

مدراس وغیرہ کی طرف جماعتیں گوابھی چھوٹی چھوٹی ہیں مگر ان کے لٹریچر کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔ وہ عام اخبارات میں اشتہارات دیتے رہتے ہیں کہ ہمارے پاس یہ یہ کتابیں ہیں۔ اگر کوئی مول لینا چاہے تو قیمتاً لے لے اور اگر کوئی مفت لینا چاہے تو مفت منگالے۔ اس طرح لوگ ان سے کتابیں منگاتے اور پڑھتے ہیں اور پھر جماعت میں داخل ہوجاتے ہیں۔ پھریوں بھی تبلیغ میں اس قسم کا جوش اُن میں پایاجاتا ہے کہ وہ دیوانگی جو ایمان اور اخلاص ایک مومن میں پیدا کرنا چاہتا ہے ان میں پائی جاتی ہے۔ آگے اولاد کے متعلق بھی اُن کی یہی خواہش ہے کہ وہ تبلیغ میں مصروف رہے۔ انھوں نے اپنے بڑے بیٹے سیٹھ علی محمد صاحب کو ولایت بھجوایا۔ اُن کے واپس آنے پر یہی خواہش ظاہر کی کہ دین کی خدمت کرے۔ چھوٹے لڑکے کے متعلق بھی اُن کی یہی خواہش ہے کہ دین کا خادم رہے۔ وہ مجھ سے جب بھی اپنی اولاد کے لئے دعا کی خواہش کرتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ دُعا کریں میری اولاد دین کی خادم ہو۔ یہی شادی جس کا میں خطبہ پڑھ رہا ہوں اس میں بھی یہی خواہش کام کررہی ہے سیٹھ صاحب خود خدا کے فضل سے زیادہ آسودہ حال ہیں۔ لڑکا ایسا نہیں ہے مگر سیٹھ صاحب کی خواہش ہے کہ چونکہ اس خاندان میں احمدیت نہیں اس لئے جب لڑکی جائے گی اور انہیں تبلیغ کرے گی تو وہ لوگ بھی احمدی ہوجائیں گے۔

سیٹھ صاحب کے چھوٹے بھائی خان بہادر احمد صاحب چھوٹے رہ گئے تھے۔ جب ان کے والد فوت ہوئے سیٹھ عبداللہ بھائی کی یہ بھی نیکی ہے کہ انہوں نے چھوٹے بھائی کو پالا اور اپنی کوئی الگ جائیداد نہ بنائی بلکہ بھائی کے ساتھ مشترکہ ہی رکھی۔ وہ سیٹھ صاحب کے منجھلے بھائی ہیں۔اپنے کاروبار میں بہت ہوشیار ہیں اتنے ہوشیار کہ سیٹھ صاحب کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ وہ بہت زیادہ کما سکتے ہیں۔ کماتے رہے ہیں اور کماتے ہیں۔مگر باوجود اس کے کہ وہ مالی لحاظ سے، رسوخ کے لحاظ سے اور پبلک کے ساتھ تعلقات کے لحاظ سے بہت زیادہ بڑھے ہوئے ہیں۔ ان پر سیٹھ صاحب کے سلوک کا ایسا اثر ہے کہ جس طرح بہت نیک بیٹا اپنے باپ کا ادب کرتا ہے اسی طرح وہ سیٹھ صاحب کا ادب کرتے ہیں۔ ان کے متعلق بھی سیٹھ صاحب کی یہی خواہش ہوتی ہے دعا کریں احمدی ہوجائیں۔ میں جب حیدر آباد گیا تو جس وقت دونوں بھائی میرے سامنے اکٹھے ہوئے انہیں سیٹھ صاحب یہی کہتے۔ احمد بھائی! بہت دنیا کمائی۔ اب احمدی ہوجاؤ۔

تو تبلیغ کا اُن میں وہ جوش پایاجاتا ہے جو بعض ان مبلّغین میں بھی نظر نہیں آتا جنھوں نے خدمت ِدین کے لئے زندگیاں وقف کی ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ کے احسانوں میں سے یہ بھی ایک احسان سمجھتا ہوں کہ تجارت کرنے والے طبقہ میں سے بھی احمدی ہوں جو اپنے طبقہ میں تبلیغ کرسکیں۔‘‘

پھر حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی کے اخلاص اورمالی قربانیوں کا ذکر کرکے فرمایا کہ-:

’’ان کے بعد سلسلہ میں بڑے تاجروں میں سے کوئی نہ رہا تھا اور خیال آیاکرتا تھا کہ تاجروں میں سے کوئی احمدی ہوتا کہ اس طبقہ میں تبلیغ کی جاسکے۔ پنجاب میں تو کوئی بڑا مبائع تاجر نہیں ہے۔ معمولی ہیں ان کی اور بات ہے۔ سیٹھ عبداللہ صاحب کو خدا تعالیٰ نے شروع خلافت میں ہی دے دیا اور انہوں نے اسی وقت نہایت سرگرمی کے ساتھ تبلیغ شروع کردی۔ جس پر آج بائیس تئیس سال کا زمانہ گزررہا ہے۔ مگران کے جوشِ تبلیغ میں فرق نہیں آیا۔ ان پر خدا تعالیٰ کا یہ بھی فضل ہوگیا کہ وہ پہلے بہت اونچا سنتے تھے۔ کان پر ایک کُپی سی لگا کر بیٹھتے تھے اور جوں جوں انسان کی عمر بڑھتی ہے یہ مرض بڑھتا جاتا ہے۔ اس وقت کہا کرتے تھے کہ دُعا کریں کان درست ہوجائیں تاکہ تقریر یں اچھی طرح سُن سکوں۔ اب خداتعالیٰ نے ان پر ایسا فضل کیا ہے کہ کان کے پیچھے ہاتھ رکھ کر دور بیٹھے ہوئے بھی سُن لیتے ہیں پہلے تواُن کی یہ حالت تھی کہ میرے سامنے میز پر بیٹھ کریامیز سے ٹیک لگا کر یا لاؤڈ سپیکر کا ساآلہ کان سے لگا کرسنا کرتے تھے۔

میں نے ان کے اخلاص اور تبلیغی خدمات کا اس لئے بھی ذکرکیا ہے کہ ہمارے کام کرنے والے نوجوان ان سے سبق سیکھیں اور دیکھیں کہ کس طرح ایک شخص بڑی عمر میں جبکہ آرام کرنے کا وقت ہوتا ہے، کام کررہا ہے۔ دکان کے کاروبار سے وہ پنشن لے چکے ہیں۔ اس میں کام نہیں کرتے۔ ان کا الگ کمرہ ہے جس میں اب وہ تصنیف کا کام کرتے ہیں نوجوانوں کو ان سے سبق حاصل کرنا چاہیئے۔

پھر میں نے اس لئے بھی ذکر کیا ہے کہ جب کسی انسان کی خدمات اوراخلاص کے متعلق واقفیت ہوتو اس کے لئے دعا کی تحریک ہوتی ہے جیساکہ میں نے بتایا ہے لڑکے کی مالی حالت ان جیسی نہیں ہے لیکن انھوں نے محض اس لئے کہ لڑکی اس خاندان میں جاکر تبلیغ احمدیت کرے، یہ رشتہ کیا ہے۔ احباب دعاکریں کہ سیٹھ صاحب نے جس خواہش کے پیش نظریہ رشتہ کیا ہے خداتعالیٰ اسے پورا کرے اور اس خاندان میں احمدیت پھیلائے۔

اس میں شبہ نہیں کہ اس قوم نے جن کو دین سمجھا اس کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔ مالی قربانی کرنے میں یہ لوگ -خوجے، میمن، اور بورے- بہت بڑھے ہوئے ہیں اور خداتعالیٰ نے دنیوی لحاظ سے انہیں برکت بھی دی ہے۔ یہ لوگ ظاہر میں جسے دین سمجھتے ہیں…اس کے لئے انہوں نے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔ ہماری جماعت میں سے جولوگ وصیت کرتے ہیں وہ دسواں حصہ دیتے ہیں اور جماعت کے مقابلہ میں ایسے لوگوں  کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن ہر خوجہ اپنی آمدنی کا دسواں حصہ دیتا ہے…ایک آغاخاں… کا حکم تھا کہ اگر مقررہ رقم کی ادائیگی کے وقت تم سمندر میں ہوتو سمندر میں ہی گرادو ہمیں پہنچ جائے گی دراصل یہ ایک ڈھنگ تھا باقاعدہ ادائیگی کے لئے پابند بنانے کا۔ اگر پانچ فیصدی رقم سمندر میں گِرا بھی دی جاتی تو پچانوے فیصدی باقاعدہ پہنچ جاتی۔ وہ لوگ اسی طرح کرتے۔ اگر سمندر میں جاتے ہوئے وقت آجاتا تو سمندر میں پھینک دیتے۔ پس ان قوموں نے جسے دین سمجھا اس کے لئے بڑی قربانی کی۔ ان میں اگر احمدیت پھیل جائے تو اس کا بہت اچھا اثر ہندوستان میں ہوگا۔

سیٹھ صاحب کی کتابیں دُور دُور اثرکرتی ہیں۔ ان کے لٹریچرکے ذریعہ ہی ایک بڑے آدمی کی بیوی احمدی ہوئی …بہت بڑے آدمی ہیں۔ بڑے بڑے افسروں اور گورنروں کی پارٹیوں میں جاتے ہیں اور ان کے گھر پر آتے ہیں۔ ان کی بیوی نے سیٹھ صاحب کی کسی کتاب میں پردہ کے متعلق پڑھا تو پردہ کرنے لگ گئی اور پارٹیوں میں جانا چھوڑدیا۔اس پر سارے گھروالے اسے پاگل کہنے لگ گئے۔ اس نے مجھے لکھا میں حیران ہوں کہ کیا کروں۔ میں نے جواب دیا کہ پردہ کرنا شریعت کا حکم ہے۔ جس حدتک اس پر عمل کرسکتی ہوکرو۔ مجھ پر اس سے یہ اثر ہواکہ سیٹھ صاحب کی کتاب کا اثر کہاں جاپہنچا۔ اتنے بڑے گھرانے کی خاتون، ولایت سے پھر کرآئی ہوئی، اس کے خاوند اور خُسر کو نواب کا خطاب ملا ہوا ہے، وہ ایسی متاثر ہوئی کہ پردہ کر کے گھر میں بیٹھ گئی کیونکہ سیٹھ صاحب کے دل سے نکلی ہوئی بات اپنا اثرکرگئی… اس رنگ میں ان کی تبلیغ ہر قوم میں اثر کررہی ہے اور جنوب مغربی ہند میں اس کا بہت اثر ہے۔‘‘[22]

حضرت سیٹھ صاحب نے اعلان فرمایا کہ آپ مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبائعین کو اس مؤکدبعذاب حلف اٹھانے پر ساٹھ ہزار روپیہ انعام دیں گے کہ جن عقائد پر وہ آج قائم ہیں۔ یہی حضرت مسیح موعود کے عقائد تھے اور وہ خود بھی حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ اوّل کے زمانہ میں یہی عقائد رکھتے تھے۔ مولوی صاحب موصوف پہلے تو کئی سال خاموش رہے پھر اخبار ’’پیغام صلح‘‘ (4 دسمبر 1946ء) میں یہ اعلان شائع کرایا کہ ’’حضرت امیرایدہ اللہ تعالیٰ‘‘ مطلوبہ حلف اٹھانے کو تیار ہیں اور اس کے لئے 25 دسمبر 1946ء کا دن اور وقت بھی مقرر کردیاگیا۔ حضرت سیٹھ صاحب نے جو عرصہ سے اس موقعہ کے انتظار میں تھے اس روز اپنی طرف سے عبدالقادر صاحب صدیقی کو بطورنمائندہ بھجوادیا تا مطلوبہ حلف کے بعد انعامی رقم  انکو فوری طورپر ادا کی جاسکے مگر افسوس! جناب مولوی صاحب نے سیٹھ صاحب کے مجوزہ الفاظ میں حلف اٹھانے سے صاف انکار کردیا۔‘‘[23]

ربوہ کا پہلا جلسہ سالانہ 17،16،15 اپریل 1949ء کو منعقد ہوا۔ اُن ایام میں دہلی کے حالات سخت محذوش اور کشیدہ تھے۔ بایں ہمہ آپ نے سیٹھ یوسف احمد الہ دین صاحب کی معیّت میں پاکستان کا سفراختیار فرمایا اور اس مبارک اجتماع میں شرکت فرمائی۔[24]

1953ء میں آپ نے ’’خداتعالیٰ کا عظیم الشان نشان‘‘ کے نام سے گجراتی میں اپنی سوانح حیات شائع فرمائی۔ ماہ فروری 1955ء میں حضرت مصلح موعود نے آپ کو حیدرآباد دکن اور سکندر آباد کا امیرنامزد فرمایا۔ آپ تاوفات اس اہم عہدہ پر فائزرہے اور اپنے فرائض کمال مستعدی، فراست، تقوی شعاری اور دعا اور موہ فراست سے بجالاتے رہے۔[25]

مارچ 1955ء میں حضور نے سیٹھ صاحب کو ایک مفصل مکتوب ارسال فرمایا جس میں سفر یورپ پر روانگی کی اطلاع دی اور لکھا-:

’’ان دنوں آپ کا خاندان بھی بہت دعاؤں کا محتاج ہے۔ انشاء اللہ سفر میں آپ کے خاندان کو دعاؤں میں یادرکھوں گا۔[26]آپ میری زندگی کے سفر کے ساتھی ہیں پھر میں آپ کو کس طرح بھول سکتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس اللہ تعالیٰ نے سیٹھ عبدالرحمن اللہ رکھا مدراسی کی شکل میں اپنے فرشتے بھجوائے تھے میرے پاس اللہ تعالیٰ نے آپ کی شکل میں فرشتے بھجوائے ہیں۔‘‘

نیز فرمایا-:

’’ہندوستان کی جماعت کا خیال رکھیں آپ کی طبیعت میں جو شرم وحیا ہے اس کی وجہ سے میں آپ پر کام کی ذمہ داری نہیں ڈالتا مگر وقت آگیا ہے کہ آپ آگے آکر جماعت کو مضبوط کریں اور مرکز قادیان کو مضبوط کرنے کی سعی فرمائیں۔‘‘[27]

جلسہ سالانہ قادیان 1956ء اور جلسہ سالانہ ربوہ 1957ء حضرت سیٹھ صاحب کی زندگی کے آخری جلسے تھے جن میں آپ نے شرکت فرمائی جس کے بعد آپ چارسال تک بقید حیات رہے اور 26 فروری 1962ء کو انتقال کیا۔ آپ کی نعش مبارک سکندرآباد کے آبائی قبرستان میں امانتاً دفن کی گئی۔پھر آپ کا تابوت 21 دسمبر 1962ء کو بہشتی مقبرہ قادیان کے قطعہ خاص میں رفقاء نمبر 4 میں سپرد خاک کردیا گیا۔دراصل حضرت مصلح  موعود نے آپ کی زندگی میں ہی یہ فیصلہ فرمادیا تھا کہ :۔

’’بے شک سیٹھ صاحب کو ان کی نمایاں خدمات کی وجہ سے اُن کی وفات پر (خدا اُن کی زندگی کو لمبا کرے) صحابہ کے قطعہ میں دفن کیا جائے۔‘‘[28]

قابل رشک اخلاص اور مثالی شمائل:

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر حسب ذیل نوٹ سپرد قلم فرمایا-:

’’سیٹھ صاحب مرحوم کا نام نامی جماعت میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ انہوں نے غالباً خلافت ثانیہ کے ابتداء میں اسمٰعیلیہ فرقہ سے نکل کر احمدیت کوقبول کیا تھا اور پھر ایمان واخلاص میں ایسی جلد جلد ترقی کی اور قربانی اور خدمت دین کا ایسا اعلیٰ نمونہ قائم کیا کہ بہت سے پہلے آنے والے لوگوں سے آگے نکل گئے۔ یہی وہ مبارک طبقہ ہے جسے قرآن مجید نے سابقون کے اعزازی نام سے یاد کیا ہے یعنی وہ بعد میں آتا ہے مگر دین کے میدان میں اپنی تیزرفتاری سے پہلوں سے آگے نکل جاتا ہے۔ حضرت سیٹھ صاحب نے غیر معمولی مالی قربانی کے علاوہ اسلام اور احمدیت کی خدمت میں اتنا وسیع لٹریچر شائع کیا کہ اُن کے تبلیغی ولولہ کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ گویا ایک مقدس جنون تھا جو انہیں ہرروز آگے ہی آگے بڑھاتا چلا جاتا تھا اور اُن کا یہ دینی جذبہ آخرتک (غالباً اسّی سال سے اوپر عمر پاکر فوت ہوئے) یکساں قائم رہا۔ بلکہ ترقی کرتا گیا اور ذاتی نیکی اور عبادت میں بھی اُن کا مقام حقیقتہً مثالی تھا۔ اللہ تعالیٰ حضرت سیٹھ صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاکرے اور بہترین نعماء سے نوازے اور انکی اولاد کا دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو اور جماعت میں بھی اُن کے مقدس ورثہ کو ہمیشہ جاری اور ساری رکھے آمین یارب العالمین وہ یقینا اُس طبقہ میں سے تھے جن کے متعلق قرآن فرماتا ہے کہ منھم من قضٰی نحبہ اور منھم من ینتظر والے طبقہ کا خدا حافظ ہے۔

اے خدا برتُربت او بارشِ رحمت ببار

داخلش کن از کمال فضل دربیت النعیم[29]

عظیم الشان جماعتی خدمات:

حضرت [30]سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب نہایت درجہ عابدو زاہد بزرگ تھے اور پابند صوم و صلوٰۃ  ہونے کے علاوہ تہجد، اشراق، چاشت اور دیگر نوافل خاص التزام سے پڑھتے تھے اور ذکر الہٰی کا بے حد شغف تھا فرمایا کرتے تھے کہ میرے پاس فرشتے مختلف لباسوں میں آتے ہیں۔ آپ پوری عمر تقویٰ کی باریک راہوں پر گامزن رہے اور توکل کا بے مثال نمونہ دکھایا تقسیم ملک کے بعد آپ کی ’’الہ دین بون فیکٹری‘‘ پر تین لاکھ روپیہ کا ٹیکس عائد ہوا۔ ایک لاکھ اسی ہزار روپے آپ نے پہلے اداکیا اور بقیہ رقم قسطوں سے اداکی جبکہ ٹیکس کا معاملہ سرکاری طورپر زیرکارروائی تھا اور یقین ہوچکا تھا کہ بھاری ٹیکس لگے گا۔ آپ کو مشورہ دیاگیا کہ آپ اپنا دیوالیہ نکال دیں اس طرح آپ کو بہت کم رقم اداکرنی پڑے گی۔ آپ نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ سرمایہ موجود ہے اور میرامکان بھی۔ ایسی صورت میں دیوالیہ کیونکر ہوجاؤں یہ خالص دھوکہ ہوگا۔ پھر مشورہ دیاگیاکہ تاجروں کی طرز پر ازسرنو حساب تیار کراکے پیش کردیں تو ٹیکس کی مقدار میں بہت کمی آسکتی ہے۔ مگر آپ نے اس تجویز کو بھی پائے استحقار سے ٹھکرادیا اور فرمایا۔ یہ تو جھوٹ ہے لوگ کہیں گے کہ یہ دنیا بھر میں تبلیغ کا ڈھنڈورہ پیٹتا اورجھوٹ سے لوگوں کو منع کرتا تھا لیکن روپیہ بچانے کی خاطر خود اُس نے جھوٹ کی غلاظت پر منہ مارا میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا اس میں اسلام کی بدنامی ہے۔ میں اصل حساب کے مطابق ہی انکم ٹیکس اداکروں گا۔ آپ کا یہ مقدمہ ایک ہندو انکم ٹیکس آفیسر مسٹر شیٹی(Shetti) کے پاس زیرسماعت تھا موصوف آپ کے حسابات دیکھ کر بہت متاثر ہوئے کہ دنیادار تاجر حسابات میں سفر خرچ، عملہ سٹیشنری وغیرہ سب کچھ بڑھا چڑھا کر درج کرتے ہیں تاکہ خالص منافع کی مقدارجس قدر ممکن ہوکم ہوجائے لیکن یہ عجیب شخص ہیں کہ عملہ میں صرف ایک شخص کی تنخواہ درج ہے اخراجات بے حد کم لکھے ہیں اور خالص منافع کی مقدار بہت زیادہ ہے طرفہ تر یہ کہ آپ آمد کا کثیر حصہ فی سبیل اللہ خرچ کردیتے تھے مگر چونکہ خیراتی اور مذہبی اخراجات کو انکم ٹیکس کی خاطر منہاکرنے کا جواز ملکی قانون میں نہیں تھا اس لئے افسر ایسی چھوٹ نہ دے سکے اوربھاری ٹیکس اداکرنے سے آپ کا کاروبار ختم ہوگیا جسے آپ نے رضائے الہٰی کی خاطر بانشراح قبول فرمایا۔ بشیرالدین الہ دین صاحب نے (جو1949ء تا 1959ء آپ کے حسابات کاکام کرتے رہے) آپ سے دریافت کیا کہ آپ پر جو انکم ٹیکس کا بوجھ پڑنے والا ہے کیا آپ کو اس کا فکر ہے فرمایا مجھے اس کا کوئی فکر نہیں۔

جب اس ٹیکس کی وجہ سے آپ کے کاروبار کی حالت بہت خراب ہوگئی تو آپ نے دوسال کے لئے اسے ٹھیکہ پردے دیا۔ کسی نے دکن سے اس خستہ حالی اور بے سروسامانی کے بارے میں حضرت مصلح موعود کی خدمت میں تحریر کردیا ۔آپ کو پتہ چلا تو اس اطلاع دہی کو بہت ناپسند فرمایا۔ حضور نے مرکز قادیان کو ہدایت فرمائی کہ آپ کو پچاس ہزار روپیہ بھجوایا جائے لیکن ابھی بیس ہزار روپیہ ہی آیاتھا کہ آپ نے حضور  کی خدمت میں عرض کیا کہ اب مزید روپیہ کی ضرورت نہیں اور اسوقت تک شدید بے چین رہے جب تک کہ کاروبار کی فروختگی کے ذریعہ یہ بیس ہزار روپیہ واپس نہیں کردیا۔ ایسی مخدوش مالی حالت کے دوران جونہی بینک سے روپیہ آنے کی اطلاع ملتی تو آپ اوّلین کام یہ کرتے کہ قادیان کو چندہ بھجوانے کیلئے بینک کا ڈرافٹ منگواتے اور اپنی دنیوی ضروریات واخراجات کی مطلقاً پروانہ کرتے تھے۔

حضرت سیٹھ صاحب نے خدمت دین کے لئے اس طرح بے دریغ روپیہ خرچ کیا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ آپ نے شروع میں طویل عرصہ تک سیکرٹری مال جماعت سکندر آباد کے فرائض انجام دئیے آپ کا طریق تھا کہ کسی سے وصولی ہویانہ ہو آپ اپنی گرہ سے سو فیصدی چندہ مرکز کو بھجوادیتے تھے آپ نے 5مئی 1918ء کو اپنی جائیداد کے چھٹے حصہ کی وصیت کی پھر 1931ء میں اضافہ کر کے اسے ایک تہائی تک بڑھا دیا اور اس کی ادائیگی بھی اپنی زندگی میں کردی۔

نومبر 1934ء میں تحریک جدید کی الہامی تحریک کا اجراء ہواتو اس کے پانچہزاری مجاہدین میں اس شان سے شامل ہوئے کہ مجسم قربانی بن گئے۔ اس کے علاوہ آپ نے سلسلہ احمدیہ کی دوسری تمام اہم مالی تحریکات میں بھی قابل رشک حصہ لیا۔

مثلاًچندہ منارۃ المسیح (1916ء)،چندہ تبلیغ ولایت (1917ء)، تعمیر شفاخانہ نور (1923ء،1917ء)، وظیفہ برائے طلبامدرسہ (1918ء)، تعمیر مسجد انگلستان (1920ء) اور یتامیٰ فنڈ (1921ء) چندہ انسداد ارتداد ملکانہ (1923ء)

تحریک پچیس لاکھ ریزروفنڈ(1927 تا 1929ء)، تحریک چندہ خاص (1929 تا 1931ء)، تحریک قرض 60 ہزار (1934ء)، مطالبہ قرض (1935ء)،امداد مصیبت زدگان زلزلہ کوئٹہ (1935ء)، قادیان میں تالاب بنانے کی تحریک (1940ء)، تحریک قرضہ نصف لاکھ (1941ء)، تبلیغ ماحول قادیان (1940 تا 1943ء)، چندہ تعمیر مسجد کر ڈاپلی اڑیسہ واعانت لائبریری موسی بنی مائنز ، چندہ برائے تعمیردفتر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ قادیان (1942ء)، درویش فنڈ (1955ء)، امداد سپین مشن (1962ء)۔

حضرت سیٹھ صاحب حقیقی معنوں میں مجاہد فی سبیل اللہ تھے آپ کی قابل قدر تبلیغی مساعی آئندہ نسلوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ آپ کے پرجوش کارناموں کا ذکر سلسلہ کے لٹریچر میں بڑی کثرت سے ملتا ہے۔ آپ کی قائم کردہ ’’انجمن ترقی اسلام‘‘ کے ذریعہ لاکھوں نہیں کروڑوں تک احمدیت کا پیغام پہنچا اور بہت سے لوگ آپ کی تبلیغ سے حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔ آپ کا مقصد حیات عبادت، خدمت دین اور تبلیغ تھا۔ جو شخص بھی آکر آپ سے کہتا کہ میں اسلام قبول کرنے کو تیار ہوں تو آپ روپیہ کیا جان تک اس پر نثار  کرنے کو آمادہ ہوجاتے تھے۔ آپ نے اعلان کررکھا تھا کہ کارڈ آنے پر لٹریچر مفت مہیا کیا جائے گا۔

خاندان حضرت مسیح موعود ؑ خصوصاً حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؒ سے بے مثال محبت و عقیدت تھی۔ 1953ء میں جب حضرت مرزا شریف احمد صاحب ؒ اور حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ؒ قیدکرلئے گئے تو آپ نے فرش پر سونا شروع کردیا۔ تکیہ بھی نہیں لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرے پیارے تکلیف میں ہیں یہ کیونکر ممکن ہے کہ میں بستر پرسوؤں۔ ان مقدس بزرگوں کی رہائی کی خبر آنے تک آپ کا یہی معمول رہا۔ ایک بار آپ نے بوجہ ضعیفی سیٹھ یوسف احمد الہ دین صاحب سے حضرت مصلح موعود کے فرزند کی خدمت میں خط لکھوایا۔ انہوں نے مکتوب الیہ کے لئے صرف مکرم و محترم کے الفاظ کافی سمجھے مگر آپ نے فرمایا کہ حضرت کا لفظ کیوں نہیں لکھا؟ چنانچہ یہ لفظ لکھوایا اور پھر دستخط ثبت کئے۔

آپ کو مرکز احمدیت قادیان سے غیرمعمولی محبت تھی۔ ہرجلسہ پر تشریف لے جاتے آخری عمر میں آپ کی مالی حالت پہلے جیسے نہ رہی تھی اس لئے آپ فرسٹ یاسیکنڈ کی بجائے تھرڈ کلاس میں قادیان کا سفر کرتے اور مرکز کے روحانی فوائد کی خاطر تمام تکالیف برداشت کرنے کو باعث سعادت سمجھتے تھے۔

آپ کے دل میں بزرگان سلسلہ اور مبلغین جماعت کا بہت احترام تھا۔ آپ بنی نوع انسان کے سچے ہمدرد تھے اور بلاتمیز امیروغریب ہر ایک سے یکساں محبت کا سلوک فرماتے تھے۔ مہمان نوازی، غرباپروری اور یتامیٰ کی پرورش آپ کے خاص اوصاف میں سے تھے۔

آپ کی عادات سادہ تھیں۔ غذا سادہ تھی اور لباس بھی سادہ اور اپنی ذات پر بہت کم خرچ کرتے تھے۔ گھر کے اخراجات کے لئے آپ نے ایک مخصوص رقم ماہوار مقرر کی ہوئی تھی اس طرح کفایت کر کے دینی اور خیراتی کاموں میں روپیہ صرف کرتے تھے۔

آپ کی دلی خواہش تھی کہ خدمت دین کا بے پناہ جذبہ آپ کی نسل میں ہمیشہ قائم رہے اسی رنگ میں آپ نے اپنی اولاد کی تربیت فرمائی کہ وہ سلسلہ کے لئے مفید وجود بن سکیں۔ آپ کے پوتے ڈاکٹر حافظ صالح محمد الہ دین صاحب فرماتے ہیں کہ

’’بعد نماز فجر آپ ہم سے ترجمہ قرآن سنتے تھے۔ میں نے جب حفظ قرآن مجید مکمل کرلیا تو جس محبت و شفقت سے آپ نے اس عاجز سے معانقہ کیا اور پیار کیا وہ بیان سے باہر ہے اوراس خوشی میں آپ نے مجھے سوروپیہ بطور تحفہ عطا کیا۔‘‘

’’آپ اپنے بے پناہ جذبۂ خدمت دین کی وجہ سے یہ جذبہ اپنی نسل میں بھی قائم رکھنا چاہتے تھے آپ بچپن میں مجھے کئی طرزوں سے نصیحت فرماتے مثلاً یہ کہ ہماری مثال ایک  خزانچی کی سی ہے۔ سرکاری خزانچی کے پاس بے شک ڈھیروں ڈھیر مال آتا ہے لیکن وہ اس کا مالک نہیں ہوتا اور وہ ان اموال کو صرف سرکاری کاموں کے لئے صرف کرتا ہے۔ اسی طرح ہم بھی اللہ تعالیٰ کے خزانچی ہیں۔ اپنی ضروریات سے جس قدر روپیہ بچے اسے فی سبیل اللہ خرچ کرنا چاہیے۔ یہ بھی فرماتے کہ اس دنیا میں ہماری مثال ایک مسافر کی سی ہے۔ یہ دنیا ہمارا اصل گھر نہیں اس لئے اگر سفر میں تکلیف ہوتو کیا حرج ہے؟ یہ بھی فرماتے کہ ایک مجاہد کا درجہ ہزار عابد سے زیادہ ہوتا ہے۔‘‘

’’آپ نے اپنے شدید جذبۂ تبلیغ کی وجہ سے بچپن میں ہی مجھے اپنی جملہ گجراتی زبان کی تصانیف پڑھا دیں تاکہ مجھے اُن سے تبلیغ میں مدد ملے۔‘‘[31]

حضرت سیٹھ صاحب کی مثال اور عظیم شخصیت جماعت احمدیہ کے علاوہ دوسرے متدیّن حلقوں میں بھی خاص احترام کی نظر سے دیکھی جاتی تھی اور وہ آپ کی بزرگی، توکل، صداقت شعاری اور ولولۂ تبلیغ اسلام سے از حدمتاثر تھے۔ اس حقیقت کا اندازہ جناب سید غلام دستگیر صاحب بی کام ایف سی (بانی و مالک ایس جی دستگیر اینڈ کمپنی چارٹرڈ اکائونٹس) کے ایک بیان سے ہوتا ہے۔ جناب سید صاحب حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے گہرے عقیدتمند ہیں۔ کاروباری حساب کتاب کے سلسلہ میں ان کا حضرت سیٹھ صاحب سے تیس سال تک قریبی رابطہ رہا اور آپ کی کتاب زندگی کا گہرا اور تنقیدی نظر سے مطالعہ کرنے اور جائزہ لینے کا موقعہ ملا۔ ذیل میں آپ کے بیان کا آخری حصہ درج کیا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں-:

’’آپ کی زندگی کا مقصد وحید عبادت، خدمت دین اور تبلیغ تھا اور شب وروز آپ انہی امور کے افکار میں غلطاں و پیچاں رہتے تھے۔ آپ انہی امور کے لئے باوجود پیرانہ سالی کے، ضعف اور علالت کے، صبح ہی اپنے دفتر میں آجاتے تھے آپ احباب سے نہایت آہستگی سے کلام کرتے تھے۔ میں نے کبھی آپ کو غصہ میں آتے نہیں دیکھا آپ کی درازی عمر کا یہ راز تھا کہ آپ احباب کے لئے دعائیں کرتے تھے اور خدمت قوم میں مشغول رہتے تھے۔ آپ کی زندگی آپ کے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے لئے وقف تھی۔ آپ اپنے معتقدات کے پکے تھے۔ میں نے قریباً ایک تہائی صدی تک آپ کو نہایت قریب سے دیکھا۔ میں نے اپنی ساٹھ سالہ عمر میں بہت سی دنیا دیکھی۔ تمام دنیا کے حالات نیز آپ کے حالات کو گہری اور تنقیدی نظر سے دیکھا۔ آپ کے مبارک چہرہ کو نورالہٰی سے منور پایا۔ میں نے آپ جیسی کوئی اور عظیم اور عدیم المثال شخصیت نہیں دیکھ  پائی۔ آپ حقیقی معنوں میں ولی اللہ تھے۔‘‘[32]

تالیفات اور دیگر مطبوعات:

1915ء

Extracts from Holy Quran and Tradations  (صفحات702، تیرہ بار)

1917ء

Difference Between Ahmadies & Non Ahmadies (صفحات16)

1917ء

آنحضرت ﷺ کے مبارک فرمان(گجراتی صفحات380، تین بار)

1918ء

IMAM of the AGE(صفحات52، پانچ بار)

1918ء

اہل اسلام کس طرح ترقی کرسکتے ہیں(صفحات 32، اٹھائیس بار)

1918ء

انسان کس لئے پیداکیا گیا ہے(گجراتی صفحات 32)

1919ء

Ahmad Claim & Teaching(صفحات 398، دوبار)

1919ء

انعامی چیلنج(صفحات32، سات بار)

1921ء

احمدیت کے متعلق پانچ سوالات کے جوابات از حضرت خلیفۃ المسیح الثانی

(اردو ایڈیشن بارہ بار چھپا۔ انگریزی 1949ء دوبار)

1924ء

اسلامی اصول کی فلاسفی(گجراتی 1924ء دوبار۔ انگریزی 1929ء بارہ بار

ملیالم1931ء۔تلگو1932ء۔ گورمکھی1932ء

ہندی 1933۔ برمی 1934ء۔ کنٹری 1935ء

چینی1935ء۔ مرہٹی1939ء ایک ایک بار)

1930ء

چارصداقتوں کا انکشاف(صفحات 16، گیارہ بار)

1930ء

Vindication of The Prophet of Islam(صفحات 68، بارہ بار)

1930ء

The Way to Peace & Happiness(صفحات 300، چھ بار)

1930ء

Message of Peace  (تصنیف حضرت مسیح موعود ؑ)(بارہ دفعہ)

1931ء

احمدیہ جوبلی بلڈنگ(صفحات 68،ایک بار)

1933ء

Future Religion of the World (صفحات78، دس بار)

1935ء

A Divine Sign(صفحات32)

1936ء

پاک محمد مصطفی نبیوں کا سردار(گجراتی، صفحات32)

1936ء

نبوۃ کی حقیقت(گجراتی، صفحات32)

1938ء

خداتعالیٰ کا عظیم الشان پیغام(صفحات64،چار بار)

1938ء

خداتعالیٰ کا عظیم الشان نشان(اپنی سوانح عمری)

(اردو صفحات64دوبار۔ گجراتی 1953ء صفحات74)

1940ء

نماز مترجم(صفحات 48، 38بار)

1940ء

A Heavenly Call to Different Nations of The Globe

(صفحات64،سات بار)

1940ء

ربانی سنت(صفحات 240،چار بار)

1940ء

پیارے امام کی پیاری باتیں

1941ء

Divine Teachings Regarding Peace & Happiness(صفحات 52،چار بار)

1942ء

8,500 Precious Gems(صفحات 850، چار بار)

1942ء

Muslim Prayer with Illustrations(صفحات 64، اکیس بار)

1942ء

A Challenge to All The Nations of Globe with Rewards of Rs. 1,5000/-(صفحات 58،پانچ بار)

1943ء

ہرانسان کو ضروری پیغام(صفحات 68،چار بار)

1943ء

ملفوظات امام زمان(صفحات62،پانچ بار)

1943ء

پیارے رسول کی پیاری باتیں از حضرت میر محمد اسحق صاحب ؒ (صفحات176،دس بار)

1944ء

دونوں جہاں میں فلاح پانے کی راہ(صفحات32، چار بار)

1944ء

ہرانسان کے لئے پیغام(گجراتی۔ صفحات52۔ تلگو102صفحات) گورمکھی131صفحات۔ہندی64صفحات)

1945ء

اسلام کا ایک عظیم الشان معجزہ(صفحات64،تین بار)

1945ء

احمدیت کے متعلق اعتراضات اور جوابات(صفحات84)

1945ء

New World Order(تصنیف حضرت مصلح موعود)

1946ء

All About Jesus Christ(صفحات54،چار بار)

1946ء

A Standing Miracle of Islam(صفحات16،پانچ بار)

1947ء

مسلمانوں کی ترقی کی راہ(صفحات32)
تقسیم ہند کے بعد

1948ء

احمدیت کا پیغام از حضرت مصلح موعود ؒ   (فارسی ایڈیشن 1948ء۔ اردو ایڈیشن 1949ء۔

گجراتی ایڈیشن 1952ء)

1950ء

پیارے خداکی پیاری باتیں(صفحات198)

1950ء

عورتوں کا مقام ازمولانا ابوالعطاء صاحب(صفحات84، تین بار)

1950ء

Mohammad The Liberator of Woman ازحضرت مصلح موعود ؒ (تین بار)

1951ء

Promised Divine Messenger(صفحات110،دوبار)

1951ء

Ahmadia Movement in India(تین بار)

1951ء

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامےازشیخ رحمت اللہ صاحب شاکر

1952ء

فیصلہ کن کتاب(صفحات 94، تین بار)

1953ء

Questions and Answers(صفحات64،چاربار)

1954ء

700حدیثیں اورحضرت علی کے فرمان(گجراتی صفحات 178،پانچ بار)

1955ء

A Great Divine Sign(صفحات 66)

1955ء

مقصد زندگی و احکام ربانی (گجراتی صفحات 80، چار بار۔ اردو صفحات 46،1956ء)

1956ء

Object of Man’s Existence(صفحات 60،ایک بار)

1958ء

اشاعت ِ اسلام کی فرضیت(صفحات36)[1]

[1] سوانح صفحہ 128 تا 132۔

ٹریکٹ:

ایک عظیم الشان بشارت

اشتہارات:

1۔ ’’قبرکے عذاب سے بچو‘‘                                        (اردو، گجراتی)

2۔ نامدار آغا خاں صاحب کے فرمان کلام امام مبین سے        (گجراتی)

3۔ تمام غیر مسلم اقوام کو چیلنج بیس ہزار کے ساتھ               (اردو)

4۔ ہرانسان پر ایک عظیم الشان فرض                                 (اردو)

5۔ہر مسلمان پر ایک عظیم الشان فرض                               (اردو)

6۔ سچے اور جھوٹے کے پہچاننے کی کسوٹی    [34]          (اردو)

اولاد:

جناب سیٹھ علی محمد الہ دین صاحب سکندرآباد[35]

محترمہ فاطمہ بائی صاحبہ                                             (اہلیہ فاضل الہ دین سکندرآباد)

محترمہ زینب بیگم صاحبہ                                            (اہلیہ شیخ محمود الحسن صاحب)

جناب سیٹھ یوسف احمد الہ دین صاحب سکندرآباد

محترمہ ہاجرہ بیگم صاحب                                            (اہلیہ محترم رشید الدین خاں صاحب) مدفون بہشتی مقبرہ قادیان

محترمہ امتہ الحفیظ بائی صاحبہ مقیم کراچی                      (بیوہ مکرم شیر علی صاحب)[36]

حوالہ جات:

[1] سوانح حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب ’’مصنفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم اے‘‘ اشاعت مئی 1983ء حیدرآباد۔

[2] ولادت 11مارچ1885ء وفات 19،18جنوری 1970ء ۔حضرت سیٹھ صاحب کی بیعت کے کچھ عرصہ بعد آپ نے بھی بیعت کرلی۔ آپ نے اپنے خاوند کے ساتھ حج کی توفیق بھی پائی۔ خدمات دینیہ میں بھی آپ کا نہایت بلند مقام ہے۔ پنجوقتہ نمازوں کی پابندی کے علاوہ تہجد گزار تھیں اور چندوںکی ادائیگی کا خاص التزام فرماتی تھیں۔ جلسہ سالانہ قادیان کانہایت شدت سے انتظار کرتیں اور اس کے لئے بیقرار رہتیں۔ بے کس، نادار اور غریب الحال بچوں بچیوں کاسہاراتھیں اور ان کے موزوں رشتوں کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتیں۔ آپ کے ذریعہ کئی رشتے طے ہوئے حضرت سیٹھ صاحب کی وفات کے بعد حیدرآباد اور سکندر آباد کے احمدی احباب کیلئے آپ بہت برکتوں کا موجب تھیں۔ سبھی آپ کو میٹھی اماں کے نام سے پکارتے تھے۔ (سوانح صفحہ 238 تا 240)

[3] ایضاًسوانح صفحہ 35،34،24،16

[4] ایضاًسوانح صفحہ 32،25

[5] الفضل 22 اپریل 1915ء صفحہ 6

[6] تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ 221،220

[7]  سوانح حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صفحہ 253 ازملک صلاح الدین ایم اے۔مطبوعہ دائرہ پرنٹنگ پریس چھتہ بازار حیدرآباد 1983ء

[8] الفضل 9اپریل 1918ء صفحہ 8

[9]صداقت احمدیت-عظیم الشان نشانات صفحہ 185،184 (بحوالہ سوانح حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین‘‘ صفحہ 138،137)

[10] الفضل 2 جنوری 1934ء صفحہ 4

[11] الفضل 29 جنوری 1926ء صفحہ 2

[12] سوانح حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب صفحہ 176

[13]  سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمدیہ بابت 1938ء۔39ء صفحہ 52

[14] اخبار ’’بدر‘‘ 15 مارچ 1962ء صفحہ 7 مضمون محمد عبداللہ صاحب بی ایس سی ایل ایل بی سیکرٹری مال جماعت احمدیہ حیدر آباد دکن۔

[15]  تاریخ احمدیت جلد ہفتم صفحہ 12

[16] سوانح حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب ؒ  صفحہ 282،281

[17] تفصیل کیلئے دیکھئے تاریخ احمدیت جلد ہشتم صفحہ 507 تا 529

[18]  تاریخ احمدیت جلد ہشتم صفحہ 509،508

[19]سوانح حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب صفحہ 195

[20]  سوانح حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب صفحہ 195

[21] الفضل 18 جولائی 1941ء صفحہ 2

[22] الفضل 6 اگست 1941ء صفحہ 3 تا 5

[23]  الفضل 24 دسمبر 1946ء صفحہ 1۔27 دسمبر1946ء صفحہ 3 تا 5

[24]  سوانح حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب صفحہ 46

[25]  سوانح حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب صفحہ 220،221

[26]  یادرہے تقسیم ملک کے بعد آپ کو اور آپ کے خاندان کو شدید مالی بحران سے دوچار ہونا پڑا اور مالی حالت حددرجہ کمزور ہوگئی۔ مگر آپ کے جذبہ خدمت اور دینی جوش میں چنداں کوئی فرق نہیں آیا۔

[27]  الفضل 16 مارچ 1955ء صفحہ 2۔(مکمل مکتوب تاریخ احمدیت جلد ہفتم صفحہ 458 تا 460 میں بھی شائع شدہ ہے)

[28]  سوانح حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب صفحہ 272

[29]  الفضل یکم مارچ 1962ء صفحہ 1

[30]  ماخوذازکتاب ’’حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب ؒ۔

[31] سوانح حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب صفحہ 299،298

[32]  سوانح حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب صفحہ 303،302

[33] سوانح صفحہ 128 تا 132

[34]  سوانح صفحہ 133۔

[35]  محترم ڈاکٹر حافظ صالح محمد الہ دین صاحب (داماد مولانا عبدالمالک خاں صاحب) آپ ہی کے صاحبزادے ہیں جو اپنے دادا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے علمی و دینی خدمات بجالارہے ہیں۔

[36] سوانح حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب‘‘ صفحہ 237،236 میں مفصل شجرہ درج ہے۔

(تاریخ احمدیت جلد 21 صفحہ 388 تا 408)

ڈاکٹر محمد احمد صاحب آف عدن
وفات   17 جولائی 1962

(وفات 17جولائی 1962)

حضرت حاجی محمد الدین صاحب تہالوی درویش قادیان کے بڑے صاحبزادے تھے جو حضرت مسیح موعود کے عہد مبارک کے اواخر میں پیدا ہوئے اور حضور ہی نے ان کانام رکھا۔ جماعت عدن کے مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ مہمان نوازی ان کا خاص وصف تھا۔ عدن کے راستہ آنے جانے والے مبلغین احمدیت اور سلسلہ کے دوسرے احباب کو نہایت اخلاص و محبت سے اپنے ہاں ٹھہراتے تھے۔ حضرت صاحبزادہ مرزاناصراحمد صاحب نے ولایت جاتے ہوئے آپ کے ہاں قیام فرمایا تھا۔[1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 3 اگست 1962ء صفحہ 5 و الفضل 22 جو لائی 1962ء صفحہ 1

(تاریخ احمدیت جلد 21 صفحہ 599)

(وفات 15ستمبر1962ء)

آپ کے فرزند جناب محمد عبدالماجد صدیقی کے قلم سے روزنامہ الفضل 21اپریل 1990ء صفحہ7-6میں شائع ہوچکے ہیں جن کا خلاصہ آپ ہی کے الفاظ میں یہ ہے۔ میرے والدمحترم محمد عبدالقادر صدیقی صاحب آف حیدرآباد دکن 1896ء میں قصبہ نارائن پیٹھ میں پیدا ہوئے۔ میرے داداجان مکرم و محترم محمد عبدالرحمن صدیقی صاحب ایک اہل علم، مذہبی اور اپنے علاقہ کے مشہور عالم دین اور پارسا انسان تھے۔ میرے والد محترم کو بھی بچپن سے ہی دین سے گہرا لگاؤ تھا وہ بھی اپنے بڑے بھائی صاحب کی معیت میں بزرگوارم مکرم و محترم میر محمد سعید صاحب کی محفلوں میں شرکت کرتے رہے۔ جس کے نتیجہ میں وہ بھی آغوش احمدیت میں آگئے۔

میرے ناناجان عبدالکریم صا حب جو حیدرآباد دکن کی جماعت کے اوّلین اراکین میں سے تھے اور مکرم میر محمد سعید صاحب کی محفلوں میں باقاعدگی سے شریک ہوا کرتے تھے۔ میرے والد صاحب کو بھی وہیں سے جانتے تھے کہ وہ ایک تقویٰ شعار اور دین کاشغف رکھنے والے نوجوان تھے۔ میر صاحب محترم سے صلاح اور مشورے کے بعد میرے نانا جان نے اپنی بڑی صاحبزادی کا نکاح میرے والد صاحب سے کردیا۔ اس وقت والد صاحب تلاش معاش میں مصروف تھے۔ آخرکار انہیں محکمہ علاج حیوانات کی نظامت میں ملازمت مل گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے رات میں اخبارات میں انگریزی خبروں کے ترجمہ کاکام بھی شروع کیا۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے وکالت کی تعلیم شروع کی اوراس کے امتحانات کو بھی عمدہ طریق پرپاس کیا۔ ملازمت سے قبل ہی انہوں نے لڑکوں کو پڑھانا شروع کیاتھا جوکافی عرصہ تک اس سلسلہ کو جاری  رکھا۔ ان کے شاگردوں میں چند طلباء حیدرآباد دکن کے وزراء کے لڑکے بھی تھے۔ ان کی ان مصروفیات کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا نہایت آسان ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں محنت کے کتنے عادی تھے اور تعلیم اور تدریس سے کتنا گہرا لگاؤ تھا۔

اسی طرح دین کا شغف بھی اتنے ہی عروج پرتھا۔ انہیں قادیان جیسا ماحول ملا جس نے ان کی شخصیت کو اور بھی نکھار دیا۔ سلسلہ کی ہر کتاب آپ کے کتب خانہ میں موجودتھی۔ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی کتب سے لے کرآپ کے آئمہ کی کتب نیز جماعت کے بزرگ علماء کی کتب اس کتب خانہ میں موجود تھیں۔ آپ کا روزانہ کامعمول تھا کہ رات میں ان کتب کا مطالعہ فرماتے۔ آپ کی نیک سیرت اور علمی تبحر کے پیش نظر آپ کو برس ہا برس تک حیدرآباددکن کا سیکرٹری دعوت الیٰ اللہ رہنے کا شرف حاصل رہا۔ وہ ایک عالم، مدبر، بہت اچھے مقرر اورعمدہ نثرنگار تھے آپ کے اکثر مضامین الفضل اور ریویوآف ریلیجنز میں شائع ہوتے رہے۔ کبھی کبھی نظم بھی کہہ دیاکرتے اورچند نظمیں آپ کی الفضل میں بھی چھپ چکی ہیں۔

آپ کی سرشت میں خدمت خلق کامادہ کوٹ کوٹ کربھرا ہواتھا۔ کیااپنے خاندان کے افراد اور کیا اپنے رحمی رشتوں کے افراد کی بے حد خدمت کی جنہیں ملازمتوں کی ضرورت تھی انہیں ملازمتیں دلوائیں۔ جنہیں مالی امداد کی ضرورت تھی انہیں مالی امداد فراہم کی مگر ایسے کہ صرف لینے والا ہی جانتا تھا۔ خاندان کے بچوں کی پڑھائی میں بیحد دلچسپی لیتے گو کہ اکثراوقات آپ کے پاس وقت کی کمی ہوتی۔ بہت سے بچے آپ سے پڑھنے آتے اور آپ نہایت کشادہ دلی اورخندہ پیشانی سے انہیں پڑھاتے۔ خاص طورپر انگریزی اورحساب۔ یتیموں، بیواؤں اور ایسے احباب کی خاص طورپر مدد فرماتے جو اپنی عزت نفس کی وجہ سے سوال نہیں کرسکتے تھے۔ بیواؤں اور غریبوں کے مقدمات عام طورپر بغیر معاوضہ کے لڑتے ۔کبھی کسی سائل کو خالی ہاتھ جاتے نہیں دیکھا۔ بہت سے حضرات اورضرورت مندوں کو قرضہ حسنہ دیاکرتے لیکن کبھی اپنی طرف سے شائدہی کسی سے واپسی کے لئے کہاہو۔ آپ کی ایک عادت یہ بھی تھی کہ جب کبھی بھی آپ کسی دوست یاسائل کو قرضہ حسنہ دیا کرتے اس کا کوئی تذکرہ گھر میں عام طورپر نہیں فرماتے اوراگر ان میں سے کوئی رقم لوٹانے میں کامیاب نہ ہوتے تو کبھی حرف شکایت اپنی زبان پر نہ لاتے۔

آپ کی شخصیت اپنے اعلیٰ اخلاق، نیک فطرت اور انسانی ہمدردی کی وجہ سے ہر ماحول اور ہر حلقہ احباب میں نہایت معروف و مقبول رہی۔ ہر شخص چاہے وہ چھوٹا ہویابڑا، امیر ہویا غریب یکساں آپ کی عزت کرتے کیونکہ آپ ہمہ وقت خدا کی مخلوق کی خدمت کے لئے تیاررہتے۔

(تاریخ احمدیت جلد 21 صفحہ 600-601)

(وفات6نومبر1962ء)

سلسلہ کے ایک مخلص بزرگ تھے۔ قادیان میں عرصہ تک صدر انجمن احمدیہ کے انتظامی کمیشن کے کارکن رہے ۔ 1935ء میں آپ کو حضرت مصلح موعود ؒ نے چندوں میں اضافہ اورنظام بیت المال بہتر بنانے کے لئے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت فرمائی آپ نے چار ماہ تک مختلف مقامات کا دورہ کرکے اپنی تجاویز رپورٹ کی شکل میں مرتب کرکے پیش کیں جو بہت مفید ثابت ہوئیں۔ حضور نے آپ کومجلس مشاورت کا مستقل نمائندہ مقرر فرمایا ہواتھا۔

جماعت احمدیہ کے نئے مرکز ربوہ کی آبادی اورتعمیر میں آپ نے شاندار خدمات انجام دیں۔ آپ 1949ء سے1952ء تک سیکرٹری تعمیر ربوہ کے عہدہ پر ممتاز رہے۔ آپ کے دور میں نہ صرف دفاتر اور رہائش کے لئے تین سو سے زائد عارضی عمارتیں بنیں بلکہ بیت مبارک، قصر خلافت دارالضیافت اور تعلیم الاسلام ہائی سکول مستقل اوروسیع عمارات بھی تیار ہوئیں۔ اسی طرح دفاتر صدرانجمن احمدیہ اورجامعہ نصرت کا خاصا حصہ تعمیر ہوا ربوہ کے لئے سیمنٹ کی ایجنسی کاانتظام ہوا۔ پہلی بار سینکڑوں درخت ااور پھلدار پودے اس وادی بے آب و گیاہ میں لگائے گئے جس سے ربوہ کی نئی بستی جہاں ہر طرف کلر ہی کلر نظرآتا تھا ایک دلکش اور خوبصورت منظر پیش کرنے لگی۔

آپ کے بڑے فرزند چوہدری عبداللطیف صاحب دس سال سے نہایت خوش اسلوبی اورکامیابی سے جرمنی میں فریضہ تبلیغ بجالارہے تھے اور ان کی واپسی بہت جلد متوقع تھی اور آپ نہایت بے تابی سے اپنے مجاہد بیٹے کی انتظار میں تھے کہ اچانک پیغام اجل آگیا۔[1]آپ کے مفصل حالات چودھری عبداللطیف صاحب کے قلم سے الفضل 14اپریل1963ء میں شائع شدہ ہیں۔

حوالہ جات:

[1] الفضل 9 نومبر 1962ء صفحہ 1-8۔رپورٹ سالانہ صدر انجمن پاکستان بابت سال 1950-51صفحہ 92-88 و رپورٹ بابت 1951-52 صفحہ 74 تا 82

(تاریخ احمدیت جلد 21 صفحہ 602)

خلیفہ صلاح الدین احمد صاحب
وفات   9 دسمبر 1962

(وفات 9 دسمبر 1962ء)

مسیح الزماں کے رفیق خاص حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب کے فرزند ارجمند اور سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود کے برادرنسبتی۔ آپ بہت مخلص اورفدائی احمدی تھے۔ قادیان میں آپ کو 1943و1944ء میں مہتمم نشرواشاعت کی حیثیت سے علمی خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔ تفسیر کبیر و سورہ یونس تا سورہ کہف کی عمدہ اور بروقت طباعت کے انتظام میں بھی آپ کا نمایاں حصہ تھا۔ فلسفہ اور سائنسی علوم سے خاصی دلچسپی اورشغف تھا۔ آپ کے قلم سے متعدد مضامین الفضل میں چھپ چکے ہیں۔

تالیفات۔ مذہب اور سائنس۔ اسلامک کلچر(انگریزی)۔ لائحہ عمل سیکرٹریان نشرواشاعت۔ تفسیر القرآن کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کے دعویٰ کی حقیقت۔تفصیلی حالات اخبار الفضل 16،19،20 جولائی 1963ء میں ریکارڈ ہوچکے ہیں۔[1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 12 دسمبر 1962ء صفحہ 8۔ فہرست شائع کردہ میاں عبدالعظیم صاحب درویشان قادیان ۔پروپرائٹر احمدیہ بک ڈپو

(تاریخ احمدیت جلد 21 صفحہ 601-602)

پیر زمان شاہ صاحب مانسہرہ
وفات   5 اپریل 1963

 

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔ ’’پیر زمان شاہ صاحب مخلص احمدی تھے … سکول کے زمانے میں میرے شاگرد بھی رہے تھے اور سید شاہ محمد صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا کے بڑے بھائی تھے۔‘‘[1]

حضرت مصلح موعود 1956ء میں جب ایبٹ آباد تشریف لے گئے تو آپ کے مکان میں فروکش ہوئے۔ ضلع مانسہرہ کے امیر تھے۔5؍اپریل 1963ء کو وفات پائی۔ [2]

حوالہ جات:

[1]  الفضل 9 ؍اپریل 1963ء صفحہ 1

[2] الفضل 16؍اپریل 1963ء صفحہ 6

(تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 316-317 )

 

آپ کے والد بزرگوار حضرت نواب مولوی سید محمد صاحب رضوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے 313 صحابہ کبار میں شامل تھے جن کی نظام حیدر آباد (دکن) کی پھوپھی زاد بہن سے شادی ہوئی تھی۔ مرحوم اشاعت ِ احمدیت میں خاص شغف رکھتے تھے۔ 28 مئی 1963ء کو وفات پائی۔[1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 14جون 1963ء صفحہ 5

(تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 317)

مرحومہ محترمہ محمدی بیگم صاحبہ (اہلیہ مرزا سلطان محمد صاحب)کی چھوٹی بہن تھی۔ 30مئی 1963ء کو وفات پائی۔ ان کا جنازہ حکیم عبداللطیف صاحب شاہد گوالمنڈی لاہور نے پڑھایا اور میانی صاحب کے قبرستان میں تدفین ہوئی۔[1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 16 جون 1963ء صفحہ 6

(تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 317)

 

آپ ایک نہایت درجہ مخلص اور فدائی احمدی تھے۔ مختلف ممالک میں سفیرِپاکستان کے طور پر اپنے ملک کی نہایت قابلِ قدر خدمات بجالاتے رہے۔ سفارتی مصروفیات کے باوجود آپ کا دینی شغف اور اخلاص و قربانی کا جذبہ قابلِ رشک تھا آپ نے حج کا شرف بھی حاصل کیا اور حرمین شریفین کی دو مرتبہ زیارت کی۔ 4جون 1963ء کو بیروت میں وفات پائی۔ [1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 9جون 1963ء صفحہ 1تا 8

(تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 317)

وفات:  آغاز جولائی1963ء

حضرت عمدہ بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نوے سال کی عمر میں لاہور میں وفات پا گئیں۔

آپ حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ کی والدہ محترمہ تھیں۔آپ اپنے بیٹے مکرم کرنل ڈاکٹر خلیفہ تقی الدین احمد صاحب کے پاس لاہور میں مقیم تھیں۔آپ حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کی پہلی بیوی تھیں۔آپ کو خداتعالیٰ نے اپنے فضل سے دوبیٹیوں اور دو بیٹوں سے نوازا تھا۔[1]

حوالہ جات:

[1] الفضل7 جولائی1964ء صفحہ 1

(تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 318)

مرزا عبدالغنی صاحب
وفات   جولائی 1963

 

مکرم مرزا عبدالغنی صاحب1890ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔آپ مکرم مرزا فرزند علی صاحب متولی مسجد وزیر خان لاہور کے صاحبزادے تھے۔آپ کالونیکل سروس میں بھرتی ہوئے۔ ہندوستان میں ابتدائی ٹریننگ کے بعد نیروبی(کینیا) میں فارینسک ڈیپارٹمنٹ میں آپ کا تقرر ہوا۔آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔کئی زبانوں میں مثلاً فارسی،عربی،اردو اور انگریزی میں مہارت رکھتے تھے۔دوران ملازمت برٹش سول سروس میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔کرکٹ کے اچھے کھلاڑی تھے۔اکثر مواقع پر نیروبی الیون کی نمائندگی کی۔1931ء میں حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کے ذریعہ احمدیت قبول کی۔ احمدیت قبول کرنے کی وجہ سے آپ کے خاندان والوں نے آپ سے قطع تعلق کر لیا اور جائیداد سے بھی محروم کر دیا۔1933ء میں آپ اپنے اہل خانہ کے ساتھ قادیان آ گئے اور محلہ دارالبرکات میں ایک عالی شان مکان تعمیر کرایا۔(20جنوری1935ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اس مکان کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔[1]

آپ محاسب خزانہ صدرانجمن احمدیہ رہے۔1947ء میں تقسیم ملک کے وقت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی ہدایت پر انجمن کا خزانہ قادیان سے ربوہ لیکر آئے۔اور لاہور آکر جماعت کے اکاؤنٹ میں یہ خزانہ جو تقریباً تین لاکھ روپے تھا جمع کرادیا۔

1951ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی اجازت سے نیروبی کینیا چلے گئے۔جہاں آپ کے دو بیٹے رہتے تھے۔ وہیں جولائی 1963ء میں آپ کی وفات ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ بیٹے اور تین  بیٹیاں عطا کیں۔آپ کی اہلیہ حفیظ بیگم صاحبہ 1983ء میں فوت ہوئیں۔[2]

حوالہ جات:

[1] الفضل24جنوری۱1935ء صفحہ1

[2] غیر مطبوعہ ریکارڈ شعبہ تاریخ احمدیت ربوہ

(تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ319،318)

الاستاذ احمد حلمی صاحب
وفات   16 جولائی 1963

 

مصر کے ابتدائی احمدیوں سے تھے۔ 1938ء میں قادیان کی زیارت کی اور مرکز احمدیت کی برکات سے مالا مال ہو کر اپنے وطن لوٹے۔ جولائی 1963ء میں وفات پائی۔[1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 16جولائی 1963ء صفحہ 4

(تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 317)

میاں عبدالرحیم صاحب بنوں
وفات   17 اگست 1963

 

سلسلہ احمدیہ سے پہلے خورم گوجر متصل ٹیکسلا میں امام مسجد  تھے اور سلسلہ کے کٹر مخالف تھے۔ لیکن قبول احمدیت کے بعد اتنے مخلص ثابت ہوئے کہ امامت خیر باد کہہ دی اور اپنی آبائی اراضی جو سو کنال سے بھی زیادہ تھی کسی کے ہاں رہن رکھ کر قادیان میں سکونت اختیار کر لی۔ ہجرت 1947ء کے بعد آپ بھی پاکستان آ گئے اور راولپنڈی میں مقیم ہو گئے۔ مربی سلسلہ مولوی اسد اللہ کشمیری صاحب مرحوم آپ کے داماد تھے۔ 17؍اگست1963ء کو وفات پائی۔ [1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 18 جنوری 1964ء صفحہ6

(تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 319)

1 2 3 14