skip to Main Content

 

1841ء تا 1914ء

ابتدائی زندگی

حاجی الحرمین حضرت حافظ مولوی نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح الاوّلؓ 1841ء میں پنجاب کے ایک قدیم شہر بھیرہ(محلہ معماراں) میں پیدا ہوئے والد کا نام حافظ غلام رسول او روالدہ کا نام نور بخت تھا۔

32 ویں پشت میں آپ کا شجرہ نسب حضرت عمر فاروق ؓ سے ملتا ہے  آپ کے خاندان میں بہت سے اولیاء و مشائخ گذرے ہیں ۔ گیارہ پشت سے تو حفاظ کا سلسلہ بھی برابر چلا آتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ اس مقدس خاندان کو ابتداء سے ہی قرآن کریم سے والہانہ شغف رہا ہے۔ ابتدائی تعلیم تو ماں باپ سے حاصل کی پھر لاہور اور راولپنڈی میں تعلیم پائی۔ نارمل سکول سے فارغ ہوکر چار سال پنڈدادا نخاں میں سکول کے ہیڈماسٹر رہے۔ پھر ملازمت ترک کردی اور حصولِ علم کے لئے رامپور ۔ لکھنؤ۔ میرٹھ اور بھوپال کے سفر اختیار کئے ان ایام میں آپ نے عربی۔ فارسی۔ منطق۔ فلسفہ۔ طبّ غرض ہر قسم کے مروجہ علوم سیکھے۔ قرآن کریم سے قلبی لگائو تھا اور اس کے  معارف آپ پر کھلتے رہتے تھے توکل کا اعلیٰ مقام حاصل تھا ۔ دعاؤں سے ہر وقت کام لیتے تھے ۔جہاں جاتے غیب سے آپ کے لئے سہولت کے سامان پیدا ہوجاتے اور لوگ آپ کے گرویدہ ہو جاتے۔ ایک مرتبہ ایک رئیس زادہ کا علاج کیا تو اس نے اسقدر روپیہ دیا کہ آپ پر حج فرض ہوگیا۔ چنانچہ آپ مکہ اور مدینہ منورہ کی زیارت کیلئے تشریف لے گئے حج بھی کیا اور وہاں کئی  اکابر علماء فضلاء سے حدیث پڑھی۔ اس وقت آپ کی عمر 24-25  برس تھی۔

بلا د عرب سے ہند واپس آکر بھیرہ میں درس و تدریس اور مطب کا آغاز کیا۔ مطب کی شان یہ تھی کہ مریضوں کیلئے نسخے لکھنے کے دوران احادیث وغیرہ بھی پڑھاتے۔1877ء میں لارڈ لٹن وائسرائے ہند کے دربار میں شرکت کی کچھ عرصہ بھوپال میں قیام کیا۔ پھر ریاست جموں و کشمیر میں 1876ء سے  1892ء تک شاہی طبیب رہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت

گورداسپور کے ایک شخص کے ذریعہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا غائبانہ تعارف ہوا۔ اور حضور کا ایک اشتہار بھی نظر سے گذرا۔ مارچ 1885 میں قادیان پہنچ کر حضور ؑ سے ملاقات کی۔ اس وقت حضور ؑ نے نہ کوئی دعویٰ کیا تھا نہ بیعت لیتے تھے تاہم فراستِ صدیقی سے آپ ؓ نے حضور کو شناخت کیا اور حضور ؑ کے گرویدہ ہوگئے ۔ آپ نے پادری تھامس ہاول کے اعتراضات کے جواب میں کتاب فصل الخطاب اور پنڈت لیکھرام کی کتاب ’’ تکذیب براہین کے جواب میں تصدیق براہین احمدیہ ‘‘ تصنیف فرمائیں۔23؍ مارچ1889 میں جب لدھیانہ میں بیعت اولیٰ ہوئی تو سب سے اول آپ نے بیعت کا شرف حاصل کیا۔ ستمبر1892 میں ریاست کشمیر سے آپ کا تعلق منقطع ہوگیا۔ تو بھیرہ میں مطب جاری کرنے کیلئے ایک بڑا مکان تعمیر کرایا۔ ابھی  وہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ1893میں کسی کام کے سلسلہ میں لاہور آئے اور سوچا کہ قادیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کرتے جائیں چنانچہ آپ قادیان تشریف لے گئے اورحضور علیہ السلام کے ارشاد کے بموجب قادیان میں دھونی رماکر بیٹھ رہے قادیان میں ایک مکان بنواکر اس میں مطب شروع کیا۔

آپ  حضرت مسیح موعود علیہ السلام  کے ساتھ دربارِ شام میں نیز سیروسفر میں ہمر کاب رہتے۔ حضور کی مقدس اولاد کو قرآن و حدیث پڑھاتے ۔ صبح سویرے  بیماروں کو دیکھتے پھر طالب علموں کو درس حدیث دیتے اور طب پڑھاتے بعد نمازِ عصر درس قرآن کریم دیتے ۔ عورتوں میں بھی درس ہوتا۔ مسجد اقصیٰ میں پنجوقتہ نماز اور جمعہ کی امامت کراتے ۔ دسمبر1905میں انجمن کارپرداز مصالح قبرستان کے چندوں کے امین مقرر ہوئے پھرجب1906میں صدر انجمن بنی تو اس کے پریذیڈنٹ مقرر ہوئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حوالہ جات نکالنے میں مدد دیتے اور حضور ؑ کی تصانیف کی پروف ریڈنگ کرتے۔ اخبار الحکمؔ اور البدرؔ کی قلمی معاونت فرماتے۔ قرآن کریم کا مکمل ترجمہ کیا اور چھپوانے کیلئے مولوی محمد علی صاحب کو دیا لیکن صرف پہلا پارہ چھپ سکا۔

خلافت کا دور

27؍ مئی 1908 کو جبکہ آپ کی عمر67سال تھی خلیفہ منتخب ہوئے۔ قریباً بارہ سو افراد نے بیعت خلافت کی ۔ مستورات میں سب سے پہلے  حضرت اماں جان ؓ  نے بیعت کی۔ حضرت خلیفۃ المسیح  الاوّل کا انتخاب حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرح اجماع قوم سے خاص خدائی تصرف سے ہوا اور کسی قسم کا اختلاف اس وقت نہ ہوا۔شروع خلافت سے ہی واعظین سلسلہ کا تقرر ہوا۔ شیخ غلام احمد صاحب حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی  ۔ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی اولین واعظ مقرر ہوئے۔ جنہوں نے ملک کے طول و عرض میں پھر کر سلسلہ کی خدمات سرانجام دیں بیشمار تقاریر کیں۔ مباحثات کئے اور متعدد مقامات پر جماعتیں قائم کیں۔

آپ کے دورِ خلافت میں گرلز سکول اور اخبار نور کا1909میں اجراء ہوا۔ نیز مدرسہ احمدیہ کا قیام عمل میں آیا۔1910ء  میں مسجد نور کی بنیاد رکھی گئی۔ اسی طرح مدرسہ تعلیم الاسلام ہائی سکول اور اس کے بورڈنگ کی بنیاد رکھی گئی۔ مسجد اقصیٰ کی توسیع ہوئی۔ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب (خلیفۃ المسیح الثانیؓ) کی کوششوں سے انجمن انصار اللہ کا  قیام عمل میں آیا۔آپ کے بابرکت دور میں جماعت کے پریس میں اضافہ ہوا۔اخبارنور،الحق،الفضل جاری ہوئے نیز رسالہ احمدی خاتون کا بھی اجراء ہوا۔1913میں یورپ میں سب سے پہلا احمدیہ مشن قائم ہوا۔اس کے علاوہ سلسلہ احمدیہ اور اسلام کی تائید میں اردو،انگریزی،ہندی اور فارسی زبان میں بکثرت لٹریچر شائع ہوا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو1903میں خواب میں دکھایا گیا تھا کہ حضرت مولوی صاحب گھوڑے سے گر پڑے ہیں چنانچہ یہ خواب پوری ہوئی اور 18نومبر1910کو آپ گھوڑے پر سے گرپڑے اور شدید چوٹیں آئیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے دور خلافت میں جماعت میں منکرین خلافت کا فتنہ سراٹھانے لگا لیکن آپ نے خدائی فراست سے اس فتنہ کی بیخ کنی کی۔آپ کا سب سے بڑا کارنامہ ہے کہ آپ نے خلافت کے نظام کو مضبوطی سے قائم کردیا اور خلافت کی ضرورت و  اہمیت کو جماعت کے سامنے بار بار پیش کرکے اس عقیدہ کو جماعت میں راسخ  کردیا کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے۔ انسانی منصوبوں سے  کوئی شخص خلیفہ نہیں بن سکتا۔

وفات

یوں تو آپ کی صحت کافی عرصہ سے کمزورچلی آتی تھی لیکن فروری1914کے دوسرے ہفتے میں صحت کافی کمزور ہوگئی چنانچہ ڈاکٹروں کی تجویز کہ آپ کو باہر کھلی ہوا میں رکھنا چاہئے چنانچہ آپ 27فروری 1914حضرت نواب محمدعلی خان صاحب کی کوٹھی دارالسلام میں منتقل ہوگئے۔4مارچ 1914کو آپ کو یکایک ضعف محسوس ہونے لگا چنانچہ آپ نے قلم دوات منگوا کر وصیت لکھوائی۔13مارچ کی صبح آپ کی حالت نازک ترین صورت اختیار کرگئی چنانچہ آپ اسی روز دوپہر2بجے اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہوگئے۔

شادی

(1)آپ کی پہلی شادی شیخ مکرم صاحب قریشی عثمانی کی لڑکی فاطمہ بی بی سے ہوئی۔

(2)آپ کی دوسری شادی حضر ت صوفی احمدجان صاحب کی صاحبزادی صغری بیگم صاحبہ سے ہوئی۔

تصانیف

آپ نے 22کے قریب کتب تصانیف فرمائیں۔جن میں سے فصل الخطاب ،تصدیق براہین احمدیہ،ابطال الوہیت مسیح،دینیات کا پہلا رسالہ ودیگر شامل ہیں۔


کتب :


مضامین:


3) حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ

3) حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ

جنوری 1

حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحبؓ کا تعارف

بھیرہ ضلع شاہ پور کے محلہ معماراں میں پیدا ہوئے۔ (1258ھ) آپ کے والد صاحب کا نام غلام رسول اور والدہ صاحبہ کا نام نور بخت تھا۔ آپؓ کا سلسلہ نسب 32 واسطوں سے حضرت عمرؓ تک پہنچتا ہے۔ بچپن…

جنوری 1

حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کی حج بیت اللہ کی سعادت

حرمین شریفین کا سفر۔ حج بیت اللہ کی سعادت پائی۔ مکہ مکرمہ میں شیخ محمد خزرجی صاحب، سید حسین صاحب اور مولوی رحمت اللہ صاحب سے حدیث کی تعلیم حاصل کی ۔ مدینہ میں حضرت شاہ عبد الغنی مجددی سے…

جنوری 1

حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کی بھیرہ میں آمد و علماء کی مخالفت

آبائی وطن بھیرہ میں آمد۔ علماء کی طرف سے شدید مخالفت ۔ قتل کی کوششیں۔ آپ کی پہلی شادی محترمہ فاطمہ بی بی صاحبہ بنت مفتی شیخ مکرم صاحب قریشی عثمانی سے ہوئی

جنوری 1

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی بیٹی کی ولادت

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی بیٹی حفصہ کی ولادت ہوئی

جنوری 1

حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ وائسرائے ہند کے دربار میں شمولیت

وائسرائے ہند لارڈ لٹن کے دربار دہلی میں شمولیت

دسمبر 1

حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کی جموں و کشمیر میں ملازمت کا آغاز

ریاست جموں و کشمیر میں ملازمت کا آغاز

نومبر 15

اشاعت کتاب فصل الخطاب از حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ

اشاعت فصل الخطاب فی مسلۃ فاتحۃ الکتاب

جنوری 1

حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کا دوران سفر حفظ قرآن

کشمیر میں ایک ماہ کے سفر کے دوران چودہ پارے حفظ کرلئے۔ بقیہ 16 پارے بعد میں حفظ کئے

جنوری 1

حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کی قادیان میں پہلی بار آمد و حضورؑ سے ملاقات

حضرت مولانا نورالدین صاحبؓ کی قادیان میں پہلی بار آمد اور حضرت مسیح موعودؑ سے شرف ملاقات

جنوری 7

سفر جموں بغرض عیادت

حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب (خلیفۃ المسیح الاول ؓ)کی عیادت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام جموں تشریف لے گئے۔

 

 

1889ء تا 1965ء

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے 20؍ فروری  1886ء کو ایک مسیحی نفس لڑکے کی پیدائش کی خبردی جو دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا اور بتلایا گیا کہ وہ  نو سال کے عرصہ میں ضرور پیدا ہو جائے گا۔ اس پیشگوئی کے مطابق سیدنا حضرت مرزا  بشیر الدین محمود احمد صاحب حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم ؓ کے بطن سے 12جنوری  1889ء بروز ہفتہ تولد ہوئے۔ الہام الٰہی میں آپ کا نام محمود ، بشیر ثانی، فضل عمر اور مصلح موعود بھی رکھا گیا۔ اور کلمۃ اللہ نیز فخر رسل کے خطابات سے نوازا گیا۔ آپ کے بارے میں الہاماً یہ بھی بتایا گیا کہ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا ۔ خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد پڑھے گا اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ بچپن سے آپ کی طبیعت میں دین سے رغبت تھی۔ دعا میں شغف تھا اور نمازیں بہت توجہ سے ادا کرتے تھے۔

آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ تعلیم الاسلام میں پائی۔ درسی تعلیم کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ نے اپنی خاص تربیت میں لیا۔ قرآن کریم کا ترجمہ تین ماہ میں پڑھا دیا پھر بخاری بھی دو تین ماہ میں پڑھا دی۔ کچھ طب بھی پڑھائی اور چند عربی کے رسالے پڑھائے۔

1906ء میں جبکہ آپ کی عمر ۱۷ سال تھی۔ صدر انجمن احمدیہ کا قیام عمل میں آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو مجلس معتمدین کارکن مقرر کیا۔ 26 ؍مئی 1908ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جب وصال ہوا تو غم کا ایک پہاڑ آپ پر ٹوٹ پڑا۔ غم اس بات کا تھا کہ سلسلہ کی مخالفت زور پکڑے گی اور لوگ طرح طرح کے اعتراضات کریں گے تب آپ نے حضور ؑ کے جسد اطہر کے سرہانے کھڑے ہوکر اپنے ربّ سے عہد کیا کہ:۔

’’ اگر سارے لوگ بھی آپ (یعنی مسیح موعود) کو چھوڑ دیں گے اور میں اکیلا رہ جائوں گا تو میں اکیلا ہی ساری دنیا کا مقابلہ کروںگا اور کسی مخالفت اور دشمنی کی پرواہ نہیں کروں گا ‘‘۔

یہ عہد آپ کی اولوالعزمی اور غیرت دینی کی ایک روشن دلیل ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ آپ نے اس عہد کو خوب نبھایا۔

15۔ 16 برس کی عمر میں پہلی مرتبہ آپ کو یہ الہام ہوا اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْک فَوْقََ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِلیٰ یَوْم الْقِیَامَۃِ۔ خلافت ِ اُولیٰ کے دور میں آپ نے ہندوستان کے مختلف علاقوں نیز بلادِ عرب و مصر کا سفر کیا۔ حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔   1911ء میں  آپ نے مجلس انصار اللہ قائم فرمائی اور  1913ء میں  اخبار الفضل جاری کیا اور اس کی ادارت کے فرائض اپنی خلافت کے دور تک نہایت عمدگی اور قابلیت سے سرانجام دیئے۔

عہدِ خلافت

حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات کے بعد 14؍ مارچ  1914ء کومسجد نور میں خلافت کا انتخاب ہوا۔ دو اڑھائی ہزار افراد نے جو اس وقت موجود تھے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے دست مبارک پر بیعتِ خلافت کی ۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا عہدِ خلافت اسلام کی ترقی اور بینظیر کامیابیوں کا درخشاں دور ہے اس باون سالہ دور میں خدائے تعالیٰ کی غیر معمولی نصرتوں کے ایسے عجیب درعجیب نشانات ظاہر ہوئے کہ ایک دنیا ورطہ ٔ حیرت میں پڑگئی او ردشمن سے دشمن کو بھی یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہ رہا کہ اس زمانہ میں سلسلہ عالیہ احمدیہ نے غیر معمولی ترقی کی ہے اور یہ کہ امام جماعت احمدیہ بے نظیر صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ آپ کے اس باون سالہ عہد خلافت میں مخالفتوں کے بہت سے طوفان اُٹھے ۔ اندرونی اور بیرونی فتنوں نے سر اٹھایا مگر آپ کے پائے استقلال کو ذرا جنبش نہ ہوئی اور یہ الٰہی قافلہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اپنی منزل کی جانب بدستور بڑھتا گیا۔ ہر فتنہ کے بعد جماعت  میں قربانی اور فدائیت کی روح میں نمایاں ترقی ہوئی اور قدم آگے ہی آگے بڑھتا گیا۔ جس وقت منکرین خلافت مرکز سلسلہ کو چھوڑ کر گئے اس وقت انجمن کے خزانے میں چند آنوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ لیکن جس وقت آپ کا وصال ہوا اس وقت صدر انجمن اور تحریک جدید کا بجٹ 71 لاکھ نواسی ہزار تک پہنچ چکا تھا۔ اختلاف کے وقت ایک کہنے والے نے مدرسہ تعلیم الاسلام کے متعلق کہا کہ یہاں اُلو بولیں گے ۔ لیکن خدا کی شان کہ وہ مدرسہ نہ صرف کالج بنا بلکہ اس کے نام پر بیسیوں تعلیمی ادارے مختلف ممالک میں قائم ہوئے۔

مصلح موعود کے بارے میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتلایا تھا۔ وہ لفظاً لفظاً پورا ہوا۔آپ کے بہت سے کارناموں میں سے چند کا ذکر اختصار سے درج ذیل ہے :۔

1۔ جماعتی کاموں میں تیزی اور مضبوطی پیدا کرنے کیلئے صدر انجمن احمدیہ کے کاموں کو مختلف شعبوں میں تقسیم کرکے نظارتوں کا نظام قائم کیا۔

2۔ بیرونی ممالک میں تبلیغ کے کام کو وسیع پیمانے پر چلانے کیلئے 1934ء میں تحریک جدید جاری فرمائی۔ اور صدر انجمن احمدیہ سے الگ ایک نئی انجمن یعنی تحریک جدید انجمن احمدیہ کی بنیاد رکھی۔ اس کے نتیجہ میں بفضلِ ایزدی یورپ ، ایشیاء، افریقہ اور امریکہ کے مختلف ممالک اور جزائر میں نئے تبلیغی مشن قائم ہوئے۔ سینکڑوں مساجد تعمیر ہوئیں۔ قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم ہوئے اورکثرت کے ساتھ اسلامی لٹریچر مختلف زبانوں میں شائع کیا گیا اور لاکھوں افراد اسلام کے نور سے منور ہوئے۔

3۔ اندرونِ ملک دیہاتی علاقوں میں تبلیغ کے کام کو مؤثر رنگ میں چلانے کیلئے  1957ء میں وقف جدید انجمن احمدیہ کے نام سے تیسری انجمن قائم کی۔

4۔ جماعت میں قوتِ عمل کو بیدار رکھنے کیلئے آپ نے جماعت میں ذیلی تنظیمیں یعنی انصار اللہ، خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ ، لجنہ اماء اللہ اور ناصرات الاحمدیہ قائم فرمائیں۔ تاکہ مرد اور عورتیں ، بچے اورجوان سب اپنے اپنے رنگ میں آزادانہ طور پر تعلیم و تربیت کا کام جاری رکھ سکیں۔ اور نئی نسل میں قیادت کی صلاحیتیں اُجاگر ہوں۔

5۔ جماعت میں مل جل کر اور منظم رنگ میں کام کو جاری رکھنے کے لئے مجلس شوریٰ کا قیام فرمایا۔

6۔ قرآنی علوم کی اشاعت اور ترویج کیلئے درسِ قرآن کا سلسلہ جماعت میں جاری رکھا۔ تفسیر کبیر کے نام سے کئی جلدوں میں ایک ضخیم  تفسیرلکھی جس میں قرآنی حقائق و معارف کو ایسے اچھوتے انداز میں پیش کیا کہ دل تسلی پاتے ہیں اور اسلام کی حقانیت خوب واضح ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر طبقہ کے لوگوں میں قرآنی علوم کا چسکا پیدا کرنے کیلئے قرآن کریم کی ایک نہایت مختصرمگر عام فہم تفسیر الگ تحریر فرمائی جس کا نام ’ تفسیر صغیر‘‘ ہے۔

7۔ بحیثیت امام اور خلیفہ ٔ وقت جماعتی ذمہ داریوں کو نبھانے کے علاوہ آپ نے ملک و ملت کی خدمت میں نمایاں اور قابل قدر حصہ لیا۔ آپ کی تنظیمی صلاحیتوں کے پیش نظر مسلمانانِ کشمیر کو آزادی دلانے کیلئے جب آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم ہوئی تو آپ کو اس کا صدر منتخب کیا گیا۔ ہر اہم سیاسی مسئلہ کے بارے میں آپ نے مسلمانانِ ہند کی رہنمائی کی۔ کئی مرتبہ اپنے سیاسی مشوروں کو کتابی شکل میں شائع کرکے ملک کے تمام سربرآور دہ اشخاص تک نیز ترجمہ کے ذریعہ ممبران برٹش پارلیمنٹ اور برٹش کیبنٹ تک پہنچایا۔

8۔ تقسیم ملک کے وقت جہاں آپ نے مسلمانوں کی حفاظت اور بہبود کیلئے مقدور بھر کوششیں کیں وہاں اپنی جماعت کے لئے 1948ء میں ربوہ جیسے بے آب و گیاہ علاقہ میں ایک فعال مرکز قائم کیا۔

9۔ آپ نے تاریخ اسلام کے واقعات کو بہتر رنگ میں سمجھنے اور یاد رکھنے کیلئے ہجری شمسی کیلنڈرجاری فرمایا۔

10۔ آپ نے متعدد والیان ریاست اور سربراہان مملکت کو تبلیغی خطوط ارسال کئے اور انہیں احمدیت یعنی حقیقی اسلام سے روشناس کرایا۔ ان میں امیر امان اللہ خاں والی ٔ افغانستان، نظام دکن۔ پرنس آف ویلز اور لارڈ ارون وائسرے ہند خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

1939ء میں خلافت کے پچیس سال پورے ہونے پر سلور جوبلی کی تقریب منعقد ہوئی اور جماعت نے تین لاکھ روپے کی رقم اپنے امام کے حضور تبلیغ اسلام کی توسیع کیلئے پیش کی۔ پھر 1964ء میں جب خلافتِ ثانیہ پر پچاس سال پورے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کے حضور اظہار تشکر کے طور پر خاص دعائیں کی گئیں اور اپنے پیارے امام کے مقاصد عالیہ کی تکمیل کے لئے جماعت نے پچیس لاکھ روپے سے زائد رقم بطور شکرانہ پیش کی۔

1944ء میں بذریعہ رؤیا و الہام آپ پر اس امر کا انکشاف ہوا کہ آپ ہی وہ مصلح موعود ہیں جس کی پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی تھی۔ اس انکشاف کے اعلان کے لئے آپ نے ہوشیارپور ، لدھیانہ، لاہور اور دہلی میں جلسے منعقد کرکے معرکۃ الآراء تقاریر کیں اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا ذکر کیا۔

آپ نے یورپ کا دو مرتبہ سفر کیا۔ پہلی مرتبہ آپ 1924ء میں ویمبلے کانفرنس میں شرکت کیلئے لندن تشریف لے گئے جہاں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے اپنے اپنے مذاہب کی خوبیاں بیان کیں۔ اس کانفرنس میں آپ کا مضمون ’’احمدیت یعنی حقیقی اسلام‘‘ انگریزی میں ترجمہ ہوکر پڑھا گیا۔ 1954ء میں  آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ علاج سے زخم تو بظاہر مندمل ہوگئے لیکن تکلیف جاری رہی۔ اس لئے 1955ء میں آپ دوسری مرتبہ بغرض علاج یورپ تشریف لے گئے۔

وفات

مندرجہ بالاسانحہ فاجعہ کے بعد آپ کی صحت برابر گرتی چلی گئی یہاں تک کہ وہ المناک گھڑی آپہنچی ۔ جب آپ تقدیر الٰہی کے ماتحت اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔اِنّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ یہ 7؍ او ر8؍ نومبر 1965ء کی  درمیانی شب تھی۔ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے 9؍ نومبر کو بہشتی مقبرہ ربوہ کے وسیع احاطہ میں نماز جنازہ پڑھائی اور پچاس ہزار افراد نے دلی دعاؤں اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ آپ کو سپرد خاک کیا۔

ازواج و اولاد

آپ نے سات شادیاں کیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو 23بیٹوں اور بیٹیوں سے نوازا۔

تصانیف

انوار العلوم26جلدیں(مجموعہ کتب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی)

خطبات محمود39جلدیں (مجموعہ خطابات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی)

تفسیر صغیر

تفسیر کبیر

 


 

کتب :


مضامین:


دورہ جات :


مصلح موعود نمبرز :


 

 

1909ء تا 1982ء

ابتدائی زندگی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جہاں اللہ تعالیٰ نے اولاد کی بشارت دی تھی وہاں ایک نافلہ کی بھی خاص طور پر بشارت دی تھی جیسا کہ فرمایا:۔   اِنَّا نُبَشّرُِکَ بِغُلَامٍ نَافِلَۃً  لَّکَ۔یعنی ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جو تیرا پوتا ہوگا۔اس پیش خبری کے مطابق حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث ؒ  16؍ نومبر  1909ء کوپیدا ہوئے۔آپ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود کے پوتے اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی کے صاحبزادہ تھے۔

آپ کو 17؍ اپریل  1922ء کو  جبکہ آپ کی عمر 13 سال تھی ۔ حفظ قرآن کی تکمیل کی توفیق ملی۔ بعد ازاں حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ سے عربی اور اُردو پڑھتے رہے۔ پھر مدرسہ احمدیہ میں دینی علوم کی تحصیل کیلئے باقاعدہ داخل ہوئے اور جولائی  1929ء میں  آپؓ نے پنجاب یونیورسٹی سے ’’مولوی فاضل‘‘ کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد میٹرک کا امتحان دیا۔ اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوکر 1934ء میں  بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اگست 1934ء میں  آپ کی شادی سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ سے ہوئی۔ 6؍ ستمبر 1934ء کو آپ بغرض تعلیم انگلستان کیلئے  روانہ ہوئے۔ آپ نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے Balliol College میں داخلہ لیا اور پولیٹیکل سائنس میں بی اے آنرز کیا۔ نومبر 1938ء میں آپ قادیان واپس تشریف لائے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے دستور کے مطابق سات ٹرم یعنی تقریبا ساڑھے تین سال بعد آپ کو گھر پر پرچے بھجوائے گئے جنہیں آپ نے حل کر کے بھجوایا اور 1941ء میں آپ کو ایم اے آنرز کی ڈگری بھی آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے مل گئی۔ یورپ سے واپسی پر جون 1939ء سے  اپریل 1944ء تک  جامعہ احمدیہ کے پرنسپل رہے۔ فروری  1939ء میں مجلس خدام الاحمدیہ کے صدر بنے۔ اکتوبر 1949ء میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بنفس نفیس خدام الاحمدیہ کی صدارت کا اعلان فرمایا تو نومبر 1954ء تک  بحیثیت نائب صدر مجلس کے کاموں کو نہایت عمدگی سے چلاتے  رہے۔10 مارچ 1944ء کو آپ نے اپنی زندگی اللہ کی راہ میں وقف کر دی۔ مئی 1944ء سے لیکر نومبر 1965ء تک   (یعنی تا انتخاب خلافت) تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل رہے۔ جون  1948ء سے  جون  1950 تک  فرقان بٹالین کشمیر کے محاذ پر دادِ شجاعت دیتے رہے آپ اس بٹالین کی انتظامی کمیٹی کے ممبر تھے۔ 1953ء میں پنجاب میں فسادات ہوئے اور مارشل لاء کا نفاد ہوا۔ تو اس وقت آپ کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس طرح سنتِ یوسفی کے مطابق آپ کو کچھ عرصہ قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑیں۔ 1954ء میں بطور نائب صدر مجلس انصار اللہ مرکزیہ مقرر ہوئے(اس دوران حضرت خلیفۃ المسیح الثانی بطور صدر مجلس انصار اللہ مرکزیہ نگرانی فرما رہے تھے)۔ مئی 1955ء میں  حضرت خلیفۃ المسیح  الثانیؓ نے آپ کو صدر انجمن احمدیہ کا صدر مقرر فرمایا۔

خلافت کا دور

خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے اپنے عہد خلافت میں ہی آئندہ نئے خلیفہ کے انتخاب کیلئے ایک مجلس مقرر فرمادی تھی جو مجلس انتخاب خلافت کے نام سے موسوم ہے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی وفات پر اس مجلس کا اجلاس 8؍ نومبر کو بعد نماز عشاء مسجد مبارک میں زیر صدارت حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب ؓ ناظر اعلیٰ  منعقد ہوا۔ جس میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ؓ کو آئندہ کیلئے خلیفۃ المسیح منتخب کیا گیا۔ اراکین مجلس انتخاب نے اسی وقت آپ کی بیعت کی۔ اس کے بعد انتخاب کا اعلان ہوا۔

آپ نے اپنے دست مبارک سے 28اکتوبر 1966ء کو مسجد اقصیٰ ربوہ کا سنگ بنیاد رکھا اور بعدا زاں 31 مارچ 1972ء کو افتتاح فرمایا۔اسی طرح آپ نے خلافت لائبریری ربوہ کا سنگ بنیاد 18 جنوری 1970ء کو اور افتتاح 3کتوبر 1971ء کو فرمایا۔ آپ نے دورہ انگلستان کے دوران 24 مئی 1970ء کو نصرت جہاں سکیم کا اعلان فرمایا۔ اسی طرح 28 دسمبر 1973ء کو صد سالہ جوبلی منصوبہ کا اعلان فرمایا۔ آپ کے دور خلافت کا اہم واقعہ 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی کا جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا تھا جو بعد ازاں ترقیات کی بارش لے کر جماعت پر برسا۔جون 1978ء میں لندن میں آپ نے مسیح کی صلیبی موت سے نجات کے موضوع پر کانفرنس میں افتتاحی اور اختتامی خطاب فرمایا۔

آپ نے اپنے دور خلافت میں دنیا کو حق کا پیغام پہنچانے کی خاطر افریقہ، یورپ اور امریکہ کے سات دورے کئے اور درجنوں ممالک میں تقاریر، پریس کانفرنس ، اور خطابات کے ذریعہ سے حق کا پیغام ہر مذہب و ملت کے افراد تک پہنچایا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ فرمایا تھا کہ ـ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘ یہ الہام بھی آپ کے دور خلافت میں اپنے ظاہری معنوں میں پورا ہوا۔ اور اس کے پہلے مصداق بننے کی سعادت گیمبیا کے گورنر جنرل ایف ایم سنگھاٹے کو حاصل ہوئی۔

تحریکات

آپ نے اپنے دورِ خلافت میں متعدد تحریکیں جاری فرمائیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:۔

تحریک جدید کے دفتر سوم کا اعلان، وقف جدید کے دفتر اطفال کا اجراء، فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے 25 لاکھ روپے کی تحریک، بدرسوم کے خلاف جہاد، وقف عارضی کی تحریک، مجالس موصیان کا قیام، مجلس ارشاد کا قیام، نصرت جہاں لیپ فارورڈ منصوبہ، گھوڑے پالنے کی تحریک،صد سالہ احمدیہ جوبلی منصوبہ کے لئے اڑھائی کروڑ روپے مہیا کرنے کی تحریک نیز روحانی پروگرام کا اعلان، تعلیم القرآن کی تحریک، اشاعت قرآن کی تحریک، سورۃ بقرہ کی ابتدائی سترہ آیات حفظ کرنے کی تحریک، چودھویں صدی کی تکمیل پر ستارہ احمدیت کا تحفہ، قلمی دوستی کی تحریک۔ مہمان خانے بنانے کی تحری، پریس لگانے اور ریڈیو اسٹیشن بنانے کی تحریک، مجلس صحت کا قیام، افضل الذکر لا الہ الا اللہ کا کثرت سے ورد کرنے کی تحریک۔

وفات

آپ نے 8۔9 جون 1982ء کی درمیانی شب پونے ایک بجے کے قریب ’’ بیت الفضل‘‘ اسلام آباد میں وفات پائی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلیہِ رَاجِعُون۔

9؍ جون 1982ء کو  حضور کا جسدِ اطہر اسلام آباد سے ربوہؔ لایا گیا۔ 10؍ جون کو سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الرابع نے بعد نماز عصر احاطہ بہشتی مقبرہ میں نماز جنازہ پڑھائی جس میں ایک لاکھ کے قریب احباب شریک ہوئے۔ نماز جنازہ کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے پہلو میں جانب شرق حضور کی تدفین عمل میں لائی گئی۔ حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے 73 سال کی عمر پائی۔

ازواج واولاد

آپ نے دو شادیاں کیں۔ 1) حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ۔ 2) حضرت طاہرہ صدیقہ صاحبہ

حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کے بطن مبارک سے آپ کی درج ذیل اولاد ہوئی۔

صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب ، صاحبزادہ مرزا فرید احمد صاحب صاحبزادہ مرزا لقمان احمد صاحب۔ صاحبزادی امۃ الشکور بیگم صاحبہ ۔ صاحبزادی امۃ الحلیم بیگم صاحبہ۔

 

کتب:


دورہ جات :


حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ  نمبرز :

 

 

پیدائش 1928ء

ابتدائی زندگی

ہمارے پیارے امام حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب حضرت مصلح موعود ؓ کے حرم ثالث حضرت سیدہ اُمِّ طاہر مریم بیگم صاحبہ کے بطن سے 18دسمبر1928 کو پیدا ہوئے ۔ حضور کے نانا حضرت  ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب کلر سیداں تحصیل کہوٹہ ضلع راولپنڈی کے ایک مشہور سید خاندان کے چشم و چراغ تھے ۔ بڑے عابد و زاہد اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے جنہوں نے 1901میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ آپ کی والدہ حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ نہایت پارسا اور بزرگ خاتون تھیں ۔

حضرت صاحبزادہ صاحب نے1944میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے میٹرک پاس کرکے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا اور ایف ایس سی تک تعلیم  حاصل کی۔ 7دسمبر1949 کو جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے او ر 1953میں نمایاں کامیابی کے ساتھ شاہد کی ڈگری لی۔ اپریل 1955 میں حضرت مصلح موعود ؓ کے ساتھ یورپ تشریف لے گئے اور لنڈن یونیورسٹی کے سکول آف اورینٹل اسٹیڈیز میں تعلیم حاصل کی۔ 4؍ اکتوبر  1957 کو ربوہؔ واپس تشریف لائے۔ دسمبر1957میں آپ کا نکاح حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ بنت مرزا رشید احمدصاحب سے ہوا اور 9دسمبر1957کو شادی کی تقریب منعقدہوئی۔12؍ نومبر1958کو حضرت مصلح موعود ؓ نے آپ کو وقفِ جدیدکا ناظم ارشاد مقرر فرمایا۔ نومبر1960سے  1966 تک آپ نائب صدر خدام الاحمدیہ رہے۔ 1960 کے جلسہ سالانہ پر آپ نے پہلی مرتبہ اس عظیم اجتماع میں خطاب فرمایا۔اس کے بعد قریباً ہر سال ہی جلسہ سالانہ کے موقعہ پر خطاب فرماتے رہے۔1961ء میں آپ افتاء کمیٹی کے ممبر مقرر ہوئے۔  1966 سے نومبر1969تک مجلس خدام الاحمدیہ کے صدر رہے۔ یکم جنوری 1970 کو فضل عمر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔1974میںجماعت احمدیہ کے ایک نمائندہ وفد نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی قیادت میں پاکستان اسمبلی کے سامنے جماعت احمدیہ کے موقف کی حقانیت کو دلائل و براہین سے واضح کیا۔ آپ اس وفد کے ایک رکن تھے۔ یکم جنوری  1979ء کو  آپ صدر مجلس انصار اللہ مقرر ہوئے اور خلیفہ منتخب ہونے تک اس عہدہ پر فائز رہے۔

دور خلافت

مورخہ9جون 1982 کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کی وفات ہوئی جس کے اگلے روز10جون1982کو حضرت مصلح موعود ؓ کی مقرر کردہ مجلس انتخاب خلافت کا اجلاس بعد نماز ظہر مسجد مبارک میں زیر صدارت حضرت صاحبزدہ  مرزا مبارک احمدصاحب وکیل الاعلیٰ تحریک جدید منعقد ہوا اور آپ کو بالاتفاق خلیفۃ المسیح الرابع منتخب کیا گیا اور تمام حاضرین مجلس نے انتخاب کے معاً بعد حضور کی بیعت کی۔

حضور 28جولائی 1982 کو یورپ کے دورہ پر روانہ ہوئے۔ اس سفر میں حضور نے ناروے ، سویڈن، ڈنمارک جرمنی، آسٹریا، سؤئٹزرلینڈ، ہالینڈ ، اسپین، اور انگلستان کا دورہ کیا اور وہاں کے مشنوں کا جائزہ لیا۔ سفر کے دوران تبلیغ و تربیت اور مجالس عرفان کے علاوہ استقبالیہ تقاریب کی پریس کانفرنسوں اور زیورک میں ایک پبلک لیکچر کے ذریعہ اہل یورپ کو پیغام حق پہنچایا۔ انگلستان میں دو نئے مشن ہاؤسوں کا افتتاح کیا۔

10ستمبر1982 کو حضور نے ’ مسجد بشارت‘‘ سپین کا  تاریخ ساز افتتاح فرمایا اور واضح کیا کہ احمدیت کا پیغام امن و آشتی کا پیغام ہے اور محبت و پیار سے اہل یورپ کے دل اسلام کیلئے فتح کئے جائیں گے۔ ’’ مسجد بشارت‘‘ پیڈروآباد کے افتتاح کے وقت40ممالک سے آنے والے قرییاً دو ہزار نمائندے اور دو ہزار کے قریب اہالیان سپین نے شرکت کی۔ ریڈیو ۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات کے ذریعہ مسجد بشارت کے افتتاح کا سارے یورپ بلکہ دوسرے ممالک میں بھی خوب چرچا ہوا۔اورکروڑوں لوگوں تک سرکاری ذرائع سے اسلام کا پیغام پہنچ گیا۔

1984میں اس وقت کے صدرپاکستان جنرل ضیاء الحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا۔جس کے تحت احمدیوں پر شعائر اسلام کے استعمال اور تبلیغ پر پابندی لگادی گئی۔اس آرڈیننس کا مقصد امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کوگرفتارکرنا تھا تاکہ خلیفہ وقت کا جماعت سے رابطہ منقطع کردیاجائے۔ چنانچہ بعدمشورہ حضورؒ نے 29اپریل 1984ء کو ربوہ پاکستان سے ہجرت فرمائی اور 30اپریل کو لندن پہنچ گئے۔27مئی تا 17 جون  1988کو حضورانور ؒ نے خطبات کا ایک سلسلہ شروع فرمایا جس میں معاندین احمدیت کو انتباہ فرمایااور آخر پر 3 اور10جون کو جماعت احمدیہ عالمگیر کی نمائندگی میں معاندین احمدیت کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ 12اگست 1988کو حضور نے ایک رویا کی بناء پر معاندین خصوصا صدر پاکستان ضیاء الحق کو پاکستان پر احمدیوں پر کئے گئے مظالم کی بناء پر سخت متنبہ فرمایا۔چنانچہ 17اگست1988کو صدرپاکستان ضیاء الحق بہاولپور کے قریب فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے۔حضور انور نے 16دسمبر1991تا16جنوری1992قادیان کا مبارک سفر اختیار فرمایااور جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت اختیارفرمائی۔

1989 میں جماعت احمدیہ کے قیام پر سوسال پورے ہونے پر جماعت نے نہایت شاندار عالمگیر جشن تشکر منایا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اپنے بابرکت دور خلافت میں جماعت کے سامنے مختلف تحریکات پیش کیں جن میں تحریک بیوت الحمد،داعی الی اللہ بننے کی تحریک،تحریک وقف نو،سیدنا بلال فنڈ،مریم شادی فنڈ ودیگر شامل ہیں۔

مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ انٹرنیشنل

1994 کے سال کو اللہ تعالیٰ نے یہ عظمت بھی عطافرمائی ہے کہ اسلام کے بصیرت افروز پیغام کو تمام دنیا میں پہنچانے کیلئے اور اسلام کی خوبیو ں کو  تمام دنیا پر واضح کرنے کیلئے جماعت  احمدیہ کو اپنا سیٹلائٹ ٹیلی ویژن سٹیشن چلانے کی توفیق ملی الحمد للہ ۔اس کی باقاعدہ نشریات کا آغاز 7جنوری 1994سے ہوا۔حضور انور M.T.Aکے مختلف پروگرامز میں رونق افروز ہوتے رہے جن میں ترجمۃ القرآن کلاس،لقاء مع العرب،اردو کلاس،ہومیوپیتھی کلاس ،مجالس سوال وجواب ودیگر شامل ہیں۔

 

تصانیف

(1)  خلیج کا بحران اور نظام نو۔ذوق عبادت اور آداب دُعا۔حواکی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ۔ زھق الباطل۔  ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل۔مذہب کے نام پر خون۔Islam Response to Contemporary issues۔Christianity from facts to fiction ۔Absolute Justice ۔   Revelation Rationality knowledge and Truth

وفات

مورخہ19اپریل2003ء کولندن وقت کے مطابق صبح ساڑھے نو بجے حضرت مرزا طاہر احمدصاحب خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی وفات ہوئی۔اور22اپریل کو تدفین عمل میں آئی۔

شادی واولاد

حضرت مرزا طاہر احمدصاحب خلیفۃ المسیح الرابع  ؒ کی شادی حضرت آصفہ بیگم صاحبہ بنت مرزا رشید احمدصاحب کے ساتھ 1957میں ہوئی جس سے مندرجہ ذیل اولادہوئی۔

صاحبزادی فائزہ صاحبہ،صاحبزادی شوکت جہاں صاحبہ،صاحبزادی یاسمین رحمن مونا صاحبہ،صاحبزادی عطیۃ المجیب طوبی صاحبہ۔

 کتب:


سیدنا طاہر نمبرز :


 

 

ابتدائی زندگی

حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقدس خاندان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو مبشر اولاد عطا فرمائی ان میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانیؓ  اور حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ بھی شامل تھے۔ ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے نواسے اور حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کے پوتے ہیں۔ یوں آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پڑپوتے ہیں۔ یہ وہ مقدس خاندان ہے جس کے بارہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ اگر ایمان ثریا ستارے پر بھی پہنچ گیا تو فارسی نسل کا ایک آدمی یا فارسی نسل کے لوگ اس کو واپس لے آئیں گے۔حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے والد ماجد حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب سابق ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ پاکستان تھے جو 13ـ؍ مارچ 1911ء کو حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ ایک لمبا عرصہ تک امیر مقامی ربوہ بھی رہے۔ آپ نے 10 دسمبر 1997ء کو وفات پائی۔ حضور ایدہ اللہ کی والدہ ماجدہ حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ تھیں جو ستمبر1911ء میں حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ہاں پیدا ہوئیں۔اور2011ء میں وفات پائی۔حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ کے والدین کی شادی 26 اگست 1934ء کو ہوئی جب کہ حضرت مصلح موعودنَوَّرَ اللّٰہُ مَرْقَدَہٗ نے ان کے نکاح کا اعلان 2 جولائی 1934ء کو فرمایا تھا۔

حضرت مرزا مسرور احمد صاحب مورخہ 15 ستمبر 1950ء  ربوہ میں پیدا ہوئے۔ عمر میں آپ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ آپ کے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ سایہ خلافت، نیک والدین اور پاکیزہ ماحول میں آپ کی تعلیم و تربیت ہوئی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ابتدائی تعلیم سے لے کر بی۔ اے تک کی تعلیم ربوہ سے حاصل کی۔ آپ نے میٹرک تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ اور بی اے تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے کیا پھر ایم ایس سی کے لئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں داخلہ لیا۔ اور 1976ء میں اسی یونیورسٹی سے ایگریکلچرل اکنامکس میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔

وقف زندگی اور افریقہ روانگی

آپ نے 1977ء میں زندگی وقف کی۔ نصرت جہاں سکیم کے تحت آپ کی تقرری غانا، مغربی افریقہ میں ہوئی۔ اگست 1977ء میں آپ غانا تشریف لے گئے۔ 1977ء سے 1985ء تک آپ غانا میں خدمات بجا لاتے رہے۔ پہلے دو سال بطور ہیڈماسٹر احمدیہ سیکنڈری سکول سلاگا، اگلے4 سال بطور پرنسپل اکمفی ٹی آئی احمدیہ سیکنڈری سکول ایسارچر اور پھر تقریباً دو سال احمدیہ زرعی فارم ٹمالے میں بطور مینیجر خدمات بجا لاتے رہے۔ زراعتی خدمات کرتے ہوئے آپ نے غانا میں پہلی بار گندم اُگانے کا کامیاب تجربہ کیا۔حالانکہ ملک میں یہ تصور تھا کہ غانا میں گندم کاشت  کی جاسکتی۔

1985ء میں آپ غانا سے پاکستان واپس تشریف لائے۔ یکم مارچ 1985ء سے آپ نے نائب وکیل المال ثانی کی حیثیت سے تحریک جدید میں خدمات کا آغاز کیا اور نوسال تک اس عہدہ پر کام کیا۔ 19 جون 1994ء کو آپ کا تقرر بطور ناظر تعلیم صدر انجمن احمدیہ ہوا اور آپ کو شعبہ تعلیم میں غیر معمولی خدمات کی توفیق ملی۔ 1994ء سے 1997ء تک آپ ناصر فاؤنڈیشن ربوہ کے چیئرمین رہے۔ اسی عرصہ میں آپ تزئین کمیٹی ربوہ کے صدر بھی تھے۔ اسی حوالہ سے آپ نے گلشن احمد نرسری ربوہ کی توسیع اور ربوہ کو خوبصورت بنانے کیلئے ذاتی کوشش اور نگرانی کی۔ آپ 1988ء سے 1995ء تک ممبر قضا بورڈ ربوہ رہے۔ یوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ’’ابھی تو اس نے قاضی بننا ہے‘‘ ظاہری طور پر بھی آپ کی ذات میں پورا ہوا۔آپ اپنے والد ماجد حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی وفات کے بعد 10 دسمبر 1997ء کو ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ پاکستان اور امیر مقامی ربوہ مقرر ہوئے اور تا انتخا ب خلافت اس منصب پر فائز رہے۔ اگست 1998ء میں آپ صدر مجلس کارپرداز مقرر ہوئے۔معاندین سلسلہ کی جانب سے آپ پر ایک جھوٹا مقدمہ بنایا گیا جس کی وجہ سے 30 اپریل 1999ء کوآپ کو گرفتار کیا گیا اور جھنگ جیل میں اسیر کر دیا گیا۔ 10 مئی 1999ء کو آپ کی رہائی ہوئی۔ یوں آپ نے اسیرِ راہ مولیٰ ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

حضور انور ایدہ اللہ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ و پاکستان اور مجلس انصار اللہ پاکستان میں بھی مختلف شعبوں میں خدمات بجا لاتے رہے۔ سال 1976-77ء میں آپ مہتمم صحت جسمانی خدام الاحمدیہ مرکزیہ تھے۔ 1984-85ء میں مہتمم تجنید،1985تا1989ء مہتمم مجالس بیرون رہے اور سال 1989-90ء میں آپ نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان تھے۔ مجلس انصار اللہ پاکستان میں 1995ء میں قائد ذہانت و صحت جسمانی اور1995تا 1997ء تک قائد تعلیم القرآن کے طور پر خدمات بجا لاتے رہے۔

دور خلافت

حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ 19 اپریل 2003ء کو لندن میں انتقال فرما گئے۔ 22 اپریل 2003ء کو بیت الفضل لندن میں انتخاب خلافت ہوا۔ لندن وقت کے مطابق 11:40بجے رات حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کا بطور خلیفۃ المسیح الخامس اعلان ہوا اور آپ قافلہ احمدیت کے سالار مقرر ہوئے۔آپ کے بابرکت دور خلافت میں جماعت کا پہلا جلسہ سالانہ 25 تا 27 جولائی 2003ء کو منعقدہوا۔جس میں قریبا25ہزار افراد نے شرکت کی۔26 جولائی کو جلسہ کے دوسرے روز حضور نے طاہرفاؤنڈیشن کے قیام کا اعلان فرمایا،جس کے سپرد حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے خطبات و خطابات کی اشاعت ہے۔

3 اکتوبر 2003ء کو حضور انور نے مسجد بیت الفتوح مورڈن کا خطبہ جمعہ کے ذریعہ افتتاح فرمایا۔حضور انور کے دورخلافت میں جامعہ احمدیہ کی شاخیں دنیا میں پھیلیں جرمنی،انگلستان،ملائیشیا،سیرالیون،سری لنکا،غاناوغیرہ۔حضور انورنے 10دسمبر 2005ء تا 17 جنوری 2006ء قادیان کا سفراختیارفرمایااور جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت فرمائی۔2006ء میں ڈنمارک اور بعض دوسرے یورپی ممالک میں حضور ﷺکے توہین آمیز کارٹونز کی اشاعت کی گئی جس کے جواب میں حضور انور نے 4 خطبات متواتر ارشاد فرمائے اور حضورﷺ کی ذات پاک پر معاندین اسلام کی طرف سے ہونے والے اعتراضات کے جوابات دئیے۔23 مارچ 2007ء کو حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے ایم ٹی اے الثالثہ کا افتتاح فرمایا۔2008ء میں خلافت احمدیہ کے سوسال پورے ہونے پر شکرانے کے طور پر جماعت احمدیہ عالمگیر نے صدسالہ خلافت جوبلی منائی۔ 27 مئی کو جلسہ خلافت میں حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے تمام احمدیوں سے خلافت کے سوسال پورے ہونے پرعظیم الشان عہد لیا۔

حضور انور کے دورخلافت میں دنیا میں دیرپا امن کے قیام کے لیے لندن میں Peace Symposium کے انعقاد کا ایک سلسلہ شروع ہواجو کہ 2003ء سے جاری ہے۔ان پروگرامز میں مختلف طبقہ ہائے فکرسیاسی،سماجی اور مذہبی شخصیات شامل ہوتی ہیں۔اس ذریعہ سے اسلام کا امن اور انصاف کا پیغام دنیا تک پہنچتاہے۔2011ء میں دنیا کے مخدوش حالات اور تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھتے ہوئے رحجانات  کے پیش نظر حضور انورنے دنیا کے سرکردہ ممالک کے سربراہان کو خطوط لکھے جن میں امریکہ،اسرائیل،روس،فرانس،برطانیہ،چین،ایران،سعودی عرب ومذہبی رہنماؤں میں پوپ بینیڈکٹ شامل ہیں۔ان خطوط میں حضور انور نے دنیا میں امن کے قیام کے لئے ان ممالک کے سربراہا ن کو اپنا کردار ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔

حضور انور نے اپنے دورخلافت میں اب تک کل 109 دورہ جات فرمائے جن میں 29 ممالک شامل ہیں۔ان دورہ جات میں حضور انور نے 103 مساجد کے افتتاح اور 42مساجدکے سنگ بنیاد رکھے اور ان ممالک کی بااثر سیاسی و مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں بھی فرمائیں۔

شادی اور اولاد

حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کی شادی حضرت سیدہ امۃ السبوح بیگم صاحبہ اَطَالَ اللّٰہُ عُمُرَھَابنت محترم سید داؤد مظفر شاہ صاحب و محترمہ صاحبزادی امۃ الحکیم صاحبہ مرحومہ کے ساتھ مورخہ 31 جنوری 1977ء کو ہوئی۔ 2 فروری 1977ء کو دعوت ولیمہ کا انعقاد ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بیٹی مکرمہ امۃ الوارث فاتح صاحبہ اہلیہ مکرم فاتح احمد ڈاہری صاحب اور ایک بیٹے محترم صاحبزادہ مرزا وقاص احمد صاحب مقیم لندن سے نوازا ہے۔

دیگر کتب ومضامین:

انٹرویوز: