skip to Main Content

بیعت:ابتدائی ایام میں

وفات:۱۸۹۷ء سے قبل

تعارف و بیعت

حضرت مولوی حبیب اﷲ رضی اﷲ عنہ دفتر پولیس جہلم میں محافظ ملازم تھے۔ آپ کے والد ماجد کا نام حافظ اﷲ دتا صاحب تھا۔ آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔ حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمسؓ نے آپ کا اسم گرامی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معاصر علماء کرام جنہوں نے آپؑ کی بیعت کی تھی کی فہرست میں درج کیا ہے۔آپ کے دوسرے بھائی حضرت میاں کریم اﷲ صاحب ؓ سارجنٹ پولیس جہلم بھی ۳۱۳ کی فہرست ضمیمہ انجام آتھم میں شامل ہیں۔ جن کا نام نمبر ۳۱۳ پر ہے۔ تیسرے بھائی حضرت مرزا عظیم اﷲ تھے جنہوں نے ۱۹۰۳ء میں جہلم میں حضرت اقدسؑ کی دستی بیعت کی تھی۔ آپ کا خاندان موضع متعال جہلم شہر کے جانب ۷،۸ میل کے فاصلہ پر میں آباد تھا ۔

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر

حضرت اقدسؑ نے کتاب البریہ میں آپ کا نام پُرامن جماعت میں تحریر فرمایا ہے۔

وفات اور اولاد

آپ حضرت اقدسؑ کی زندگی میں ہی وفات پا گئے تھے۔ آپ کی اولا د میں مکرم مرزا عبدالحق صاحب اور مکرم مرزا عبدالخالق صاحب تھے۔ اور ایک بیٹی زینب بی بی صاحبہ ان میں سے صرف مرزا عبدالحق صاحب احمدی تھے آگے ان کی اولاد ۶ بیٹے اور ۴ بیٹیاں تھیں حضرت مولوی حبیب اﷲ ؓ کی پوتی مکرمہ امۃ الرشید صاحبہ (اہلیہ چوہدری منور احمد صاحب) کے ۳ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ایک بیٹا مکرم عزیز محمد سعید ؔواقف زندگی ہیں۔

ماخذ

ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱۱(۲) کتاب البریہ روحا خزائن جلد ۱۳(۳) صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۶۴ء (۴) غیر مطبوعہ مقالہ ’’ضلع جہلم کے صحابہ‘‘ از ملک منور احمد احسان صاحب (۵) انٹرویو مکرمہ امۃ الرشید صاحبہ و مکرم چوہدری منور احمد صاحب دارالرحمت وسطی ربوہ۔

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ325،324مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

 

بیعت:۱۸۹۲ء

وفات:۱۸۹۷ء سے قبل

تعارف

حضرت عبدالکریم رضی اﷲ عنہ کا وطن موضع چمارو ریاست پٹیالہ میں واقع ہے ۔

جلسہ سالانہ میں شرکت اور بیعت

آئینہ کمالات اسلام میں حضرت عبدالکریم صاحب نمبردار کا نام جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والوں میں ۹۰ نمبر پر موجود ہے۔ اسی طرح ۱۸۹۲ء میں آپ احمدیت قبول کر چکے تھے۔

وفات

آپ کے نام کے ساتھ مرحوم لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی وفات ۱۸۹۷ء سے قبل کی تھی۔ حضرت میر مہدی حسین صاحبؓ کے ذریعہ احمدیت سے متعارف ہوئے۔

نوٹ:آپ کے مزید سوانحی حالات نہیں مل سکے۔

ماخذ

آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵(۲) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱۱(۳) سیرت احمد مصنفہ حضرت مولوی قدرت اﷲ سنوری صاحب (۴)مکتوبات احمدیہ جلد ششم حصہ اول صفحہ ۲۱۱

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ311مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

بیعت:ابتدائی ایام میں

وفات:۱۸۹۷ء سے قبل

تعارف و بیعت

حضرت مولوی غلام حسن رضی اﷲ عنہ دینانگر گورداسپور سے تعلق رکھتے تھے۔ دینا نگر گورداسپور سے پندرہ بیس میل کے فاصلے پر ایک ریلوے اسٹیشن ہے۔ آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔

وفات

آپ کی وفات ۱۸۹۷ء سے قبل ہوئی۔

نوٹ:آپ کے سوانحی حالات دستیاب نہیں ہو سکے۔

مولانا جلال الدین صاحب شمسؓ مرحوم نے آپ کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہم عصر علماء میں درج کیا جنہوں نے آپؑ کی بیعت کی۔

ماخذ

(۱)انجام آتھم روحانی خزائن جلد۱۱(۲) ملاحظہ نقشہ مندرجہ ’’اصحاب احمد‘‘ جلد اول صفحہ ۴۸ (۳)صداقت حضرت مسیح موعودؑ تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۶۴ء

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ307مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

 

ولادت:۱۸۵۶ء

بیعت:۹/جولائی۱۸۹۱ء

وفات:۱۵/ستمبر۱۸۹۸ء

تعارف

حضرت سید خصیلت علی شاہ رضی اﷲ عنہ خاندان سادات کے چشم و چراغ تھے۔آپ کی اصل سکونت مالومہے تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ میں تھی۔آپ خوارزمی بخاری سیّد تھے۔آپ کے والدکا نام سید ہدایت علی شاہ صاحب تھا۔آپ کی ولادت ۱۸۵۶ء کی ہے۔ بیعت کے وقت ڈنگہ ضلع گجرات میں ڈپٹی انسپکٹر پولیس تھے۔آپ تین بھائی سید محمد علی شاہ صاحبؓ،سیّد احمد علی شاہ صاحبؓ اور سیّد امیر علی شاہ صاحبؓ تھے۔

خاندانی تعارف

آپ کا خاندان بطور صوفی خاندان مشہور تھا۔آپ کو بارہا بزرگان صوفیاء و مشائخ کی زیارت نصیب ہوئی اور بارہا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی زیارت سے فیض یاب ہوئے۔آپ نے اپنے کشوف و کرامات کا اپنی بیاض میں ذکر کیا ہے۔جن میں سے بعض کا ذکر حضرت میر حامد شاہ صاحب ؓنے کتاب ”واقعات ناگزیر‘‘ میں کیا ہے۔

حضرت اقدسؑ کے بارہ میں تحقیق اور بیعت

حضرت شاہ صاحبؓ نے حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کے دریافت حال کے لئے اپنے محکمہ سے تین ماہ کی رخصت لی۔ان دنوں حضرت اقدسؑ حویلی سندھی خاں کوتوالی امرتسر میں فروکش تھے۔حضرت اقدس ؑ ۷ ؍جولائی ۱۸۹۱ء کو دن کے دس بجے دیوان خانہ میں رونق افروز ہوئے۔حضرت سید محمد علی شاہ ؓ اور حضرت سید احمد علی شاہ ؓ بھی آپ کے ساتھ امرتسر گئے تھے۔حضرت اقدسؑ نے واعظانہ تقریر شروع کی مگر حضرت شاہ صاحبؓ پر نیند نے غلبہ کیا۔آپ نے اٹھ کر منہ پر پانی بھی ڈالا لیکن پھر نیند کا غلبہ ہوا۔دیکھا کہ ایک باغ میں داخل ہوتے ہیں۔اندر ایک حوض ہے جو خشک تھا۔پھر آپ جنوب کی طرف چلے گئے۔وہاں الماریاں اور طاق بنے ہوئے ہیں اور آپ کے والد صاحب کھڑے ہیں۔انہوں نے آپ سے فرمایا کہ یہ گھاس اور کتابیں اب طاق میں رکھ دو۔تعمیل ارشاد کی۔فوراً سر کو جھٹکا لگا اور معاً تفہیم ہوئی کہ تم پہلا علم اور حال بالائے طاق رکھو۔چونکہ آپ کے والد صاحب آپ کے پیر طریقت بھی تھے۔اُسی وقت حسب ایماء آنجناب حضرت     مسیح موعودؑ سے شرف بیعت حاصل کی اس کے بعد بالکل نیند نہ آئی۔

آپ کی شادی ۱۸۷۷ء میں حضرت حکیم سید میر حسام الدین صاحب کی بیٹی سے ہوئی تھی۔اس سے ظاہر ہے کہ آپ کے حضرت اقدس سے قدیمی مراسم تھے۔کیونکہ حضرت اقدس کا قیام حضرت حکیم سید میر حسام الدین کے ہاں ہوا کرتا تھا۔۱۸۷۹ء میں محکمہ پولیس میں عارضی طور پر مقرر ہوئے اور پھر اپنی خداداد لیاقت سے ۲۰ سال بعد انسپکٹر پولیس کے عہدے پر پہنچ گئے۔

بیعت

آپ کا نام رجسٹر بیعت اُولیٰ میں ۱۳۸ نمبر پر ہے۔آپ نے ۹؍جولائی۱۸۹۱ء کو بیعت کی۔ آپ نے جلسہ ۱۸۹۲ء میں بھی شرکت کی۔جس کا ذکر حضرت اقدسؑ نے آئینہ کمالات اسلام میں فرمایا ہے۔

” (۲۱)سید خصیلت علی شاہ ڈپٹی انسپکٹر پولیس کڑیانوالہ ضلع گجرات“

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر

حضرت اقدس نے ایک تعزیتی خط میں حضرت حکیم سید میر حسام الدین     رضی اﷲ عنہ کو حضرت شاہ صاحب کے اخلاص کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:

”سید خصیلت علی شاہ صاحب کو جس قدر خدا تعالیٰ نے اخلاص بخشا تھا اور جس قدر انہوں نے ایک پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کی تھی اور جیسے انہوں نے اپنی سعادت مندی اور نیک چلنی اور صدق اور محبت کا عمدہ نمونہ دکھایا تھا یہ باتیں عمر بھر کبھی بھولنے کی نہیں ہمیں کیا خبر تھی کہ اب دوسرے سال پر ملاقات نہیں ہو گی۔“

(مکتوبات احمدیہ جلد۵ نمبر۵ صفحہ ۱۱۴ تا ۱۱۵، واقعات ناگزیر صفحہ ۲۴۹۔۲۵۰)

ازالہ اوہام اور آئینہ کمالات اسلام، تحفہ قیصریہ اور سراج منیر میں جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں، جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور چندہ دہندگان میں بھی آپ کا ذکر کیا ہے۔اسی طرح حضرت مولوی غلام علی ؓرہتاسی کی بیماری کا تار موصول ہونے پر فرمایا:

”ہماری جماعت جو اب ایک لاکھ تک پہنچی ہے سب آپس میں بھائی ہیں اسی لئے اتنے بڑے کنبہ میں کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی نہ کوئی دردناک آواز نہ آتی ہو۔جو گزر گئے وہ بھی بڑے ہی مخلص تھے۔جیسے ڈاکٹر بوڑے خاں، سید خصیلت علی شاہ، ایوب بیگ، منشی جلال الدین خدا ان سب پر رحم کرے۔“

(اخبار الحکم قادیان ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء)

وفات

آپ کو شوگر کی تکلیف تھی۔کھاریاں قیام کے دوران آپ بیمار ہوئے۔۱۵/ستمبر۱۸۹۸ءکو۴۲ سال کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔گجرات میں آپ کا جنازہ پڑھا گیا حضرت مسیح موعودؑ نے بھی نماز جنازہ غائب ادا کی۔

ماخذ

(۱)ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد۳ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد۵(۳)تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد۱۲ (۴)سراج منیر روحانی خزائن جلد۱۲ (۵)رجسٹر بیعت اولیٰ مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحہ۳۵۵ (۶)اصحاب احمد جلد ۱ (۷)مضمون ’’حضرت سید خصیلت علی شاہ صاحب‘‘ مطبوعہ ماہ نامہ ’’تشحیذ الاذہان‘‘ مارچ۲۰۰۱ء (۸)مضمون ’’حضرت سید خصیلت علی شاہ صاحب سیالکوٹی‘‘ مطبوعہ ماہنامہ’’انصاراﷲ‘‘ ربوہ نومبر ۲۰۰۱ء (۹)مضمون حضرت سید خصیلت علی شاہ صاحب روزنامہ الفضل ربوہ ۲۴ ستمبر ۱۹۹۸ء

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ261تا263مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

ولادت:یکم اگست ۱۸۷۵ء

بیعت:یکم فروری۱۸۹۲ء

وفات:۲۸/اپریل۱۹۰۰ء

تعارف و بیعت حضرت اقدس

مرزا ایوب بیگ رضی اﷲ عنہ چیفس کالج لاہور میں پروفیسر تھے۔ آپ نے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ سے چند دن پہلے یکم فروری ۱۸۹۲ء کو بیعت کی۔ رجسٹر بیعت میں آپ کا نام ۲۱۷نمبر پر درج ہے۔

حضرت اقدسؑ سے تعلق محبت : حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق صادق تھے۔ ۳۰/ستمبر۱۸۹۵ءکوجو وفد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چولہ باوا نانک صاحبؒ کی تحقیقات کے لئے ڈیرہ بابانانک بھیجا آپ اس میں شامل تھے۔ آپ کسوف و خسوف کے آسمانی نشان کو دیکھنے کے لئے قادیان گئے تھے اور حضرت اقدسؑ کے ساتھ اس آفاقی نشان کا مشاہد ہ کیا تھا۔

وفات اور حضرت اقدسؑ کا ذکر خیر کرنا

آپ کی وفات عین جوانی میں بعمر ۲۵ سال ۲۸؍اپریل ۱۹۰۰ء کو ہوئی تھی۔ بہشتی مقبرہ کے قیام کے بعد حضرت اقدس کے ارشاد پر تدفین بہشتی مقبرہ میں ہوئی۔ حضرت اقدسؑ نے آپ کے بھائی مرزا یعقوب بیگ کے نام جو تعزیت نامہ تحریر فرمایا اس میں لکھا:۔

ہماری توجہ اس عزیز کی طرف تھی کہ وہ کیونکر جلد ہماری آنکھوں سے ناپدید ہو گیا تو اس حالت میںیک دفعہ الہام ہوا:

”مبارک وہ آدمی جو اس دروازہ کی راہ سے داخل ہو، یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ عزیزی مرحوم کی موت نہایت نیک طور پر ہوئی ہے اور خوش نصیب وہ ہے جس کی ایسی موت ہو“

( نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ ص۶۰۰ )

حضرت اقدسؑ نے ملفوظات میں فرمایا:۔

’’ہماری جماعت جو اب تک ایک لاکھ پہنچی ہے سب اس میں بھائی ہیں اس لئے اتنے بڑے کنبہ میں کوئی دن ایسا نہیں ہوا کہ کوئی درد ناک آواز نہ آئی ہو۔جو گزر گئے وہ بعد بڑے ہی مخلص تھے۔جیسے ڈاکٹر بوڑے خاں،سید خصیلت علی شاہ صاحب ،ایوب بیگ صاحب اورمنشی جلالالدین صاحب خدا ان سب پر رحم کرے۔“(ص ۳۰۵،۳۰۶)

اسی طرح ایک جگہ تحریر فرمایاکہ

مرحوم مذکور’’نیک بخت جو اولیاء اﷲ کی صفات اپنے اندر رکھتا تھا ‘‘

(نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ ص۶۰۰)

آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبر۲ حصہ نمبر ۵ بلا وصیت منتقلی ہوئی۔

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر: تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی کی فہرست میں نام درج ہے۔ ملفوظات جلد اوّل و دوم میں بھی آپ کا ذکر ہے۔ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۳۱ پر اپنے مخلص احباب میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا

”مرزا ایوب بیگ جوان صالح میں نے بارہا ان کو نمازوں میں روتے دیکھا ہے۔“

اور نور القرآن نمبر۲ پر امام کامل کی خدمت میں مصروف رہنے والے احباب میں ذکر ہے۔

وفات

آپ کی وفات ۲۸ ؍پریل ۱۹۰۰ء کو ہوئی آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبر ۲ حصہ نمبر ۵ میں ہوئی۔

ماخذ

(۱) ضمیمہ انجام آتھم  روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۳۱ (۲) نور القرآن نمبر ۲روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ۲۵۵(۳)تحفہ قیصریہ  روحانی خزائن جلد نمبر۱۲(۴) ملفوظات جلد اول و دوم (۵)لاہور تاریخ احمدیت صفحہ ۱۳۷ (۶) ’’آئینہ صدق و صفا سیرت حضرت مرزا ایوب بیگؓ  ‘‘ (۶)’’ذکرِ حبیب‘‘ (۷) رجسٹر بیعت اُولیٰ از تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحہ ۳۵۸۔

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ86،87،مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

پنشنر سابق میر منشی رجمنٹ نمبر ۱۲ موضع بلانی کھاریاں ضلع گجرات

ولادت:۱۸۳۰ء۔

بیعت: مئی۱۸۸۹ء

وفات: اگست ۱۹۰۲ء

تعارف:

حضرت منشی جلال الدین رضی اﷲ عنہ مغل برلاس خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے آباؤ اجداد قندھار (افغانستان) سے ہجرت کر کے صوبہ پنجاب کے علاقہ گجرات میں آئے تھے۔ آپ کے والد کا نام مرزا غلام قادر صاحب تھا جو اس علاقہ میں طبیب تھے۔

ولادت و ابتدائی حالات:

آپ ۱۸۳۰ء کو موضع بلانی میں پیدا ہوئے۔ آپ کی عمر سات سال تھی کہ آپ کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ چنانچہ آپ کے ماموں مرزا زین العابدین نے آپ کے لئے گھر پر اساتذہ رکھ کر آپ کو تعلیم دلائی۔ آپ فارسی اور عربی کے معروف عالم تھے۔ چودہ برس کی عمر میں آپ کی شادی ہو گئی اور اسی عمر میں آپ کو سرکاری ملازمت مل گئی۔ ۱۸۶۴ء تک ملازمت کرتے رہے ۔بعد ازاں میر منشی کے طور پر فوج میں بھرتی ہو گئے اور ۱۸۹۵ء میں فوج سے ریٹائر ہوئے۔

حضرت اقدسؑ سے تعلق:

۱۸۷۸ء میں اخبار منشور محمدی بنگلور میں آپ کی نظر سے حضرت اقدس مسیح موعود     علیہ السلام کا ایک مضمون گزرا۔ مضمون پڑھتے ہی دل نے گواہی دی کہ یہ مضمون کسی عام آدمی کا نہیں ہو سکتا۔ یہ یقینا وہی شخص ہے جس کی آمد کے بارے میں حضرت رسول مقبول صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیش گوئیاں ہیں۔ چنانچہ آپ قادیان کے لئے روانہ ہو گئے مگر کسی روک کے باعث آپ واپس لوٹ آئے۔

بیعت کاپس منظر:

ایک دفعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت خواب میں ہوئی تو دل کی بے قراریاں اور بڑھ گئیں۔ دوبار ہ جب حضرت اقدسؑ کی زیارت خواب میں ہوئی تو آپ نے حضور کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا حضورؑ! آپ مجھے اپنے نام اور جائے قیام سے مطلع فرمائیں تو حضرتؑ نے آپ کو نام اور رہائش بتا دی۔

جب آپ کی رجمنٹ جھانسی چلی گئی تو ۱۸۸۲ء یا ۱۸۸۳ء میں آپ نے چند ماہ کی رخصت لی اورقادیان کے لئے رختِ سفر باندھا۔ یکّے والا حضرت اقدسؑ کے علاوہ کسی اور کے پاس آپ کو لے گیا تو آپ نے کہاکہ یہ وہ شخص نہیں اس پر یکّے والا آپ کو حضرت اقدسؑ کے پاس لے گیا۔ حضور پُر نور کو دیکھتے ہی آپ نے پہچان لیا اور بیعت کی درخواست کی لیکن حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ابھی بیعت لینے کا حکم نہیں ملا۔

بیعت:

جب حضرت اقدسؑ نے بیعت کا اعلان فرمایا تو آپ نے فوراً بیعت کر لی۔ رجسٹر بیعت میں آپ کی بیعت ۹۳ نمبرپر درج ہے۔ بیعت کے بعد ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی کہ آپ کی عبادات میں اس قدر رقّت اور خشیت تھی کہ آنسوؤں سے آپ کا چہرہ مبارک تر ہو کر کُرتا بھی بھیگ جایا کرتا۔

خدمت دین کا موقع:

۱۸۹۱ء یا ۱۸۹۲ء میں آپ نے ایک خواب دیکھا کہ حضرت اقدسؑ نے آپ کا نکاح ایک باکرہ (کنواری لڑکی) سے کر دیا ہے۔ خواب عرض کرنے پر حضرت اقدسؑ نے ارشاد فرمایا کہ آپ کوئی دینی خدمت سرانجام دیں گے۔چنانچہ آپ نے کتاب’’ ثوابت قرآنی غلام احمد قادیانی ‘‘بڑی جانفشانی سے لکھنی شروع کی مگر وہ مکمل نہ ہو سکی ۔آپ کی تبلیغ سے سردار سندر سنگھ وضعدار اور سردار جگت سنگھ لیس دفعدار مشرف بہ اسلام ہو کر احمدی ہوئے جن کا اسلامی نام بالترتیب سردار فضل حق  ؓاور شیخ عبدالرحیمؓ تھا۔

حضرت منشی صاحب کا اعزاز:

حضرت منشی صاحبؓ نے جلسہ اعظم مذاہب عالم کے انعقاد میں خدمت کا اعزاز حاصل کیا ۔ حضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی  ؓ اپنے ایک مضمون ۲۰ ؍جولائی ۱۹۴۶ء میں لکھتے ہیں:۔

’’جلسہ اعظم مذاہب لاہور کے انعقاد سے قبل سوامی شوگن چندر رسالہ فوجی میں ہیڈ کلرک تھے اور منشی  جلال الدین صاحب کے ہم نشین اور ہم صحبت تھے۔ حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے جلسہ اعظم مذاہب عالم لاہور میں شہرہ آفاق مضمون ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ میں حضرت منشی صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہوا۔ حضرت صاحب نے منشی صاحب کو اس کی کاپی لکھنے پر مامور کیا اور فرمایا کہ حضرت منشی صاحب کا خط مَایَقْرَا ہے اس لئے آپ ہی اس کو لکھیں چنانچہ منشی صاحب نے وہ مضمون اپنی قلم سے لکھا۔‘‘

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر :

ازالہ اوہام میں آپ کا ذکر مخلصین میں ہے۔ حضرت اقدسؑ نے انجام آتھم میں اپنے مخلص دوستوں میں اور اشتہار ۲۲؍ فروری ۱۸۹۸ء میں اپنی پُرامن جماعت میں آپ کا نام درج فرمایا ہے۔ اشتہار یکم جولائی ۱۹۰۰ء میں چندہ دہندگان منارۃ المسیح میں آپ کا نام درج ہے۔ اسی طرح ملفوظات جلد چہارم میں بھی آپ کا نام محبت بھرے الفاظ میں درج ہے۔

وفات:

اگست ۱۹۰۲ء میں آپ وفات پا گئے اور تدفین موضع بلانی میں ہوئی۔ آپ کا کتبہ یادگار بہشتی مقبرہ قادیان میں ہے۔  آپ کی وفات پر حضرت اقدسؑ نے سردآہ بھر کر فرمایا ’’حضرت منشی جلال الدین مرحوم ہمارے یکتا اور بے نظیر دوست تھے۔‘‘

آپ کی اولاد:

آپ کی اولاد میں چار بیٹیاں اور چار بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے مرزا محمد قیم لاولد فوت ہو گئے۔ ایک بیٹا بچپن میں فوت ہو گیا۔ تیسرے بیٹے حضرت مرزا محمد اشرف ؓ کو بھی صحابی ہونے کا شرف حاصل تھا۔ حضرت مرزا محمد اشرف صاحبؓ صدر انجمن احمدیہ قادیان میں محاسب اور ناظم جائیداد رہے ہیں۔ جب کہ آپ کے اسی بیٹے سے نظام تحریک جدید کے پہلے واقف زندگی مرزا محمد یعقوب مرحوم تھے اور بیٹی مولانا محمد یعقوب طاہرصاحب انچارج صیغہ زود نویسی کی اہلیہ تھیں۔ مولانا محمد یعقوب طاہر صاحب کے بیٹے مکرم داؤد احمد طاہر کمشنر انکم ٹیکس (ریٹائرڈ) اسلام آباد اور ایک داماد مولانا سعید احمد اظہر مرحوم (مربی سلسلہ) نائب ناظر مال تھے ۔حضرت منشی صاحب کے چوتھے بیٹے مرزا محمد افضلؓ بھی رفیق بانی سلسلہ تھے۔ اسی طرح حضرت منشی صاحبؓ کے برادران ماسٹر فضل الرحمنؓ اور مرزا کمال الدینؓ کو بھی رفیق بانی سلسلہ ہونے کی سعادت ملی۔

ماخذ:

(۱)ازالہ اوہام روحانی خزائین جلد نمبر۳ (۲) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد نمبر۱۸ (۳) مجموعہ اشتہارات جلد سوم (۴) ملفوظات جلد چہارم (جدید ایڈیشن ) (۵) رجسٹر بیعت از تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحہ ۳۴۸  (۶) اصحاب احمد جلد دہم (۷)سوانح حضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی  ؓ (۸) الحکم ۷؍ اپریل ۱۹۳۸ء جلد ۴۳ نمبر ۱۳۔

(“تین سو تیرہ اصحاب صدق و صفا” صفحہ19تا 21۔ مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء۔ )

حضرت صاحبزادہ صاحب افغانستان کے صوبہ پکتیا کے علاقہ خوست کے رہنے والے تھے۔ آپ کے گاؤں کا نام سیّدگاہ ہے جودریائے شمل کے کنارہ پر آبادہے۔

پکتیامیں چند گاؤں آپ کی ملکیت تھے ۔ زرعی اراضی کا رقبہ سولہ ہزارکنال تھا۔ اس میں باغات اور پن چکیاں بھی تھیں۔ اس کے علاوہ ضلع بنّوں میں بھی بہت سی زمین تھی ۔ آپ کے والد صاحب کا نام سید محمد شریف تھا۔ حضرت صاحبزادہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہمار ا شجرۂ نسب توجل کر ضائع ہو گیا لیکن میں نے اپنے بزرگوں سے سناہے کہ ہم حضرت سید علی ہجویری ؒ المعروف بہ داتاگنج بخش کی اولاد ہیں۔

ہمارے آباء دہلی کے بادشاہوں کے قاضی ہوتے تھے ۔ خاندان کی ایک بڑی لائبریری تھی جس کی قیمت نولاکھ روپیہ بتائی جاتی ہے ۔ جب ہمارے بزرگوں نے حکومت میں عہدے حاصل کر لئے تو ان کی توجہ کتب خانہ کی طرف نہ رہی اور یہ کتابیں ضائع ہو گئیں۔ میرا اپنا یہ حال ہے کہ جائیداد چونکہ مجھے ورثہ میں ملی ہے اس لئے اسے رکھنے پر مجبورہوں ورنہ میرا دل دولت کو پسند نہیں کرتا۔

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایاہے کہ صاحبزادہ صاحب کی عمر 50 سال تھی ۔ حضورؑ فرماتے ہیں:

’’ قریباً پچاس برس کی عمر تک تنعم اورآرام میں زندگی بسر کی تھی‘‘۔

(تذکرۃ الشہادتین،روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 51)

حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت 1903ء میں ہوئی اس طرح ان کا سن پیدائش1853ء بنتاہے۔جناب قاضی محمد یوسف صاحب مرحوم امیر جماعت احمدیہ صوبہ سرحدنے1902ء کے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر قادیان میں حضرت صاحبزادہ صاحب کو دیکھاتھا۔ وہ لکھتے ہیں:

’’حضرت شہیدمرحوم کا قد درمیانہ تھا۔ ریش مبارک بہت گھنی نہ تھی ۔ بال اکثرسیاہ تھے اور ٹھوڑی پرکچھ کچھ سفید تھے‘‘۔

(عاقبۃ المکذّبین حصہ اول صفحہ 40 سن اشاعت 1936ء)

کتب و مضامین :

عبد اللطیف شہید نمبرز :

ولادت:

۱۸۶۰ء

بیعت:

۲۳/مارچ۱۸۸۹ء

وفات:

یکم جنوری۱۹۰۴ء

پس منظر بیعت:

حضرت میاں محمد خان رضی اﷲ عنہ کے والد دلاور خاں صاحب کپورتھلہ کے رہنے والے تھے۔ جن کے جدّامجدافغانستان سے آ کر کپورتھلہ میں آباد ہوئے تھے۔آپ کی ولادت سال ۱۸۶۰ء میں ہوئی۔ آپؓ ریاست کپور تھلہ کے سرکاری اصطبل کے انچارج تھے۔ جب براہین احمدیہ چھپی تو حضرت مسیح موعود ؑ نے اس کا ایک نسخہ حاجی ولی اﷲ صاحبکو بھیجا (جو کپورتھلہ میں مہتمم بندوبست تھے۔) حاجی صاحب نے یہ کتاب حضرت منشی ظفر احمدؓ   صاحب کپورتھلوی کو دے دی۔ کپورتھلہ میںیہ کتاب ایک محفل میں پڑھوا کر سنی جاتی تھی۔ حضرت میاں محمد خانؓ نے بھی اس کتاب کا مطالعہ کیا اور انہیں حضرت مسیح موعودؑ سے محبت ہو گئی۔

شرفِ بیعت:

۲۳؍مارچ۱۸۸۹ء جب حضرت مسیح موعودؑ کی لدھیانہ میں پہلی بیعت ہوئی تو حضرت میاں صاحب ؓ نے بھی بیعت کر لی۔رجسٹر بیعت اُولیٰ میں آپ کا بیعت نمبر ۵۸ ہے جبکہ آپ اہلمد فوجداری کپورتھلہ تھے۔ آپ کی اہلیہ صاحبہ نے ۲۱ ؍فروری ۱۸۹۲ء میں بمقام کپورتھلہ حضرت اقدسؑ کی بیعت کی۔ (مکتوبات احمدیہ) اس طرح آپ کی والدہ محترمہ کی بیعت بھی ۲۱ ؍فروری ۱۸۹۲ء کی ہے۔ جب دہلی میں مولوی نذیر حسین صاحب کے ساتھ مباحثہ ہوا تو اس وقت آپ حضرت اقدسؑ کے ساتھ بارہ بزرگوں میں سے تھے جنہیں آپ نے حضرت مسیح ناصریؑ کے حواریوں کے ساتھ تشبیہ دی۔

صدق و اخلاص:

جب حضرت اقدس کے بیٹے بشیر اوّل کی وفات ہوئی تو آپ نے صدمہ سے ان جذبات کا اظہار کیا کہ’’ اگر میری ساری اولاد بھی مر جاتی اور ایک بشیر جیتا رہتا تو کچھ رنج نہ تھا۔ ‘‘حضرت مولانا حکیم نور الدینؓ ؓنے اس موقع پر فرمایا کہ

’’یہ شخص تو ہم سے بھی آگے نکل گیاہے ‘‘۔

حضرت مسیح موعودؑ کے لئے میاں صاحب بہت غیرت رکھتے تھے۔ جب میاں صاحب فوت ہوئے تو حضرت اقدسؑ کو الہام ہوا:۔ ’’اہلبیت میں سے کسی شخص کی وفات ہوئی ہے‘‘ حاضرین کو تعجب ہوا۔ دریں اثناء اسی مجلس میں حضرت میاں محمد خاںؓ کی وفات کی خبر ملی تو حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہیہ الہام انہی کے بارہ میں تھا (آپ کی وفات یکم جنوری ۱۹۰۴ء کو ہوئی) پھر حضرت اقدسؑ نے اپنے اس عاشق کے بارہ میں فرمایا۔ ’’مجھے ۲ ؍جنوری کو ایسی حالت طاری ہوگئی تھی جیسے کوئی نہایت عزیز مر جاتا ہے۔ ساتھ ہی الہام ہوا۔اولاد کے ساتھ نرم سلوک کیا جائے گا‘‘ چنانچہ میاں صاحب کے فرزند اکبر منشی عبدالمجید خاںؓ صاحب آپ کے بعد افسر بگھی خانہ مقرر ہوئے اور بالآخر ترقی کرتے کرتے وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہوئے اور اسی عہدہ سے پنشن پائی۔اسی طرح باقی خاندان بھی اس الہام کا مصداق ٹھہرا۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے آپ کو (اہل کپورتھلہ کے احمدی احباب کے بارہ میں) ایک خط میں لکھا کہ:

“آپ لوگ اس دنیا اور آخرت میں خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرے ساتھ ہوں گے۔”

حضرت اقدسؑ نے احباب کپورتھلہ کے بارہ میں فرمایا

’’مجھے کپورتھلہ کے دوستوں سے دلی محبت ہے۔‘‘

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر:

ازالہ اوہام حصہ دوم میں حضرت اقدسؑ فرماتے ہیں:

” حبّی فی اﷲ میاں محمد خاں صاحب کپور تھلہ میں نوکر ہیں۔ نہایت درجہ کے غریب طبع صاف باطن دقیق فہم حق پسند ہیں اور جس قدر انہیں میری نسبت عقیدت و ارادت ومحبت و نیک ظن ہے میں اس کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ مجھے ان کی نسبت یہ تردّد نہیں کہ اُن کے اس درجہ ارادت میں کبھی کچھ ظن پیدا ہو بلکہ یہ اندیشہ ہے کہ حد سے زیادہ نہ بڑھ جائے۔ وہ سچے وفادار اور جاں نثار اور مستقیم الاحوال ہیں۔ خدا اُن کے ساتھ ہو۔ ان کا نوجوان بھائی سردار علی خاں بھی میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہے۔ یہ لڑکا بھی اپنے بھائی کی طرح بہت سعید و رشید ہے خدا تعالیٰ ان کا محافظ ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۵۳۲)

انجام آتھم میں فرمایا:

“اگر بافراست آدمی ایک مجمع میں ان کے منہ دیکھے تو یقینا سمجھ لے گا کہ یہ خدا کا ایک معجزہ ہے۔ جو ایسے اخلاص ان کے دل میں بھر دیئے۔ ان کے چہروں پر ان کی محبت کے نور چمک رہے ہیں ۔ وہ ایک پہلی جماعت ہے جس کو خدا صدق کا نمونہ دکھلانے کے لئے تیار کر رہا ہے۔ ”

(ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱۱صفحہ ۳۱۵)

آئینہ کمالات اسلام مکتوب عربی اور جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں ۲۲۵نمبر پر چندہ دہندگان کی فہرست میں ۵۷ نمبر پر ،کتاب البریہ میں پُر امن وفادار جماعت کے ضمن میں ذکر ہے، سراج منیر میں چندہ دہندگان کی فہرست میں، ملفوظات جلد سوم صفحہ ۵۲۶ میں ہے۔ حضرت اقدسؑ نے وفات کا واقعہ سن کر فرمایا کہ

’’نیکی کرنے والے کی اولاد کو اس کی نیکی کا حصہ ملتا ہے۔‘‘

ملفوظات جلد پنجم میں ہے۔

’’میاں محمد خاں صاحب مرحوم ہمارے بڑے مخلص اور محبت کرنے والے تھے‘‘

کتاب منن الرحمن میں حضرت اقدسؑ نے اشتراک السنہ میں مدد کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ کا ذکر کیاہے۔

وفات:

آپ کی وفات یکم جنوری ۱۹۰۴ء کو ہوئی۔

اولاد:

آپ کے چار بیٹے تھے ۔حضرت عبدالمجید خان ؓ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے عہدہ پر فائز رہے ۔حضرت بشیر احمد خان صاحب ؓ،حضرت برکت اﷲ خان صاحبؓ اور حضرت محمد ابراہیم خاں صاحب ؓ تھے اور دو بیٹیاں حمیدہ خانم اور زبیدہ خانم تھیں۔ حضرت منشی عبدالمجید خاںؓ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے نواسہ مکرم خاں محمد سعید خاں صاحب (ولد کرنل اوصاف علی خاں آف مالیر کوٹلہ) کی بیٹی محترمہ قیصرہ خانم سعیدصاحبہ ، حضرت مصلح موعودؓ کے فرزند صاحبزادہ مرزا اظہر احمد صاحب کے عقد میں آئیں۔ حضرت میاں محمد خاں صاحبؓ کے بیٹے حضرت بشیر احمد خاں ؓ کی بیٹی سعیدہ خانم کا عقد مکرم راجہ فضل داد خان صاحب آف ڈلوال ضلع جہلم (حال چکوال) کے ساتھ ہوا جن کے بیٹے مکرم راجہ نصر اﷲ خان صاحب ربوہ ہیں جو ایک معروف قلم کار ہیں۔حضرت عبدالمجید خان صاحبؓ کی بیٹی مکرمہ امۃ اﷲ صاحبہ کی شادی خان عبدالمجید خان آف ویرو وال کے ساتھ ہوئی جو پروفیسر نصیر احمد خان صاحب مرحوم اور محترمہ منصورہ ڈاہری اور حضرت طاہرہ صدیقہ ناصر صاحبہ حرم خلیفہ ثالثؓ ہیں۔دیگر بیٹے کرنل ایاز محمود صاحب سابق صدر عمومی ربوہ اور امین اﷲ صاحب سالک ہیں۔مکرم محمد ابراہیم خان صاحب کے بیٹے مکرم شاہد اضوان خان صاحب جو مولانا ابولمنیر نور الحق صاحب کے داماد ہیں ان کے بیٹے دانش احمد خان صاحب جامعہ احمدیہ کے طالب علم ہیں۔

ماخذ:

(۱)ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد۳(۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد۵ (۳)کتاب البریہ روحانی خزائن جلد۱۳ (۴) سراج منیر روحانی خزائن جلد۱۲ (۵) انجام آتھم روحانی خزائن جلد۱۱ (۶) منن الرحمن روحانی خزائن جلد۹ (۷) مکتوبات احمدیہ جلد پنجم (۸)ملفوظات جدید ایڈیشن جلد سوم و جلد پنجم (۹) خطبات نکاح از حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ (۱۰)اصحابِ احمد جلد چہارم (۱۱)مضمون ’’حضرت میاں محمد خاں ؓ ‘ ‘ روزنامہ الفضل ربوہ ۱۹؍اکتوبر۲۰۰۱  (۱۲) ماہنامہانصاراﷲماہ اگست ۱۹۹۲ء۔

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ 32تا34،مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

 

 

ولادت:۱۸۴۳ء

بیعت:۲۳/مارچ۱۸۸۹ء

وفات:۱۵/مئی۱۹۰۴ء

ابتدائی حالات

حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کا مسکن کوٹ قاضی محمد جان تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ تھا اور آپ کے والد صاحب کا نام قاضی غلام احمد صاحب تھا۔ جنہیں آپ کی پیدائش سے قبل اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ملی تھی کہ گیارہ لڑکیوں کے بعد بیٹا پیدا ہو گا۔قبول احمدیت سے پہلے آپ معلم اور امام مسجد تھے۔

حضرت اقدسؑ کی زیارت و بیعت

حضرت مولوی عبداﷲ غزنوی سے آپ کو عقیدت تھی ۔اسی وجہ سے امرتسر میں آمد و رفت تھی۔ انہی کی معرفت حضرت اقدسؑ کا علم ہوا اور فروری ۱۸۸۴ء میں قادیان میں حضرت مسیح موعودؑ سے ملاقات ہوئی۔ واپسی پر جاتے ہوئے مسجد اقصیٰ کی دیوار پر فارسیزبان میں ایک عبارت تحریر کر گئے کہ

”میری والدہ اگر بوڑھی اور ضعیفہ نہ ہوتی تو میں مرزا صاحب کی صحبت سے جدا نہ ہوتا ۔“

حضرت اقدس ؑکی زیارت کے لئے تیسری مرتبہ آرہے تھے کہ بٹالہ میں اطلاع ملی کہ حضرت اقدسؑ لدھیانہ میں ہیں۔ چنانچہ وہاں حاضر ہوئے اور ۲۳؍مارچ۱۸۸۹ءکوبیعت میں شامل ہو گئے۔رجسٹر بیعت کے مطابق آپ کا نام ۵۳ نمبر پر ہے۔ آپ کی بیعت کے بعد ظہیر الدین قاضی نے سخت مخالفت کی۔ اس نے حضرت اقدسؑ کے خلاف ایک قصیدہ اعجازیہ بھی لکھا۔ مگر شائع کرنے سے پہلے ہلاک ہو گیا۔

حضرت اقدسؑ سے تعلقِ اخلاص

ایک بار حافظ حامد علی صاحب نے حضرت اقدس ؑ سے آپ کے بارہ میں پوچھا کہ یہ کون شخص ہے آپ نے فرمایا اس شخص کو ہمارے ساتھ عشق ہے۔ بیعت کرنے کے بعد آپ کو بہت ابتلاء پیش آئے لیکن خدا تعالیٰ نے ان تمام مصیبتوں سے کامل نجات دیاور دشمن ذلیل و خوار ہوئے۔ آپ بہت منکسر المزاج تھے اپنے نام کے ساتھ مسکین لکھتے تھے۔ آپ کی وفات مورخہ ۵؍مئی ۱۹۰۴ء کو ہوئی تو حضر ت اقدس مسیح موعودؑ کو الہاماً بتایا گیا۔

”وہ بیچارہ فوت ہو گیا ہے“

گویا اﷲ تعالیٰ نے مسکین کے بالمقابل مترادف ’’بیچارہ‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا۔

قادیان میں آمد

حضرت اقدس ؑ کی تاکید پر قادیان ہجرت کر کے آگئے۔ آپ جلد بندی کا کام کرتے تھے۔ چونکہ آپ کے والد کا نام بھی غلام احمد تھا اس لئے اس بات پر فخر کرتے تھے کہ میرے جسمانی باپ کا نام بھی غلام احمد ہے اور روحانی باپ کا نام بھی غلام احمد ہے۔

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر

آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء اور چندہ دہندگان میں اور سراج منیر میں چندہ مہمانخانہ دینے والوں میں ذکر ہے۔ حضرت اقدسؑ نے نزول المسیح میں مندرجہ پیشگوئیوں نمبر ۴۹  ا ور ۵۰ ا میں  اُن کے مصدق کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔نور القرآن نمبر۲ میں امام کامل کی خدمت میں رہنے والوں میں آپ کا ذکر ہے۔

حضرت عبداﷲ صاحب مرحوم غزنوی کا ایک کشف مولوی محمد حسین بطالوی کی نسبت حضرت قاضی     ضیاء الدینؓ کی شہادت سے رسالہ نور القرآن ۔۲ میں درج ہے ۔

’’می بینم کہ محمد حسین پیرا ہنے کلاں پوشیدہ است راکن پارہ پارہ شدہ است‘‘۔

(روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۴۵۷)

وفات

۵؍مئی ۱۹۰۴ء کو وفات پائی۔اور قادیان میں آ پ کی تدفین ہوئی ۔(روڑی والا) قبرستان نزد دفتر جلسہ سالانہ قادیان میں آپ کا مزار ہے۔ حضرت اقدس ؑنے گورداسپور سے واپسی پر آپ کاجنازہ پڑھایا اور بہت لمبی دعا کی حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ

’’بہت عمدہ آدمی تھے قریباً ۲۰ سال سے محبت رکھتے تھے‘‘

بعد ازاں حضرت مولوی عبدالکریم سیالکوٹیؓنے چند آدمیوں کو مخاطب کر کے فرمایا

’’پرانے آدمیوں کی ایسی ہی قدر ہوتی ہے‘‘

حضرت مولانا جلال الدین شمسؓ صاحب نے تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۶۴ء میں آپ کا نام معاصر علماء میں شامل کیا ہے جنہوں نے حضرت اقدسؑ کی بیعت کی تھی۔

اولاد

آپ کے بیٹے حضرت قاضی عبدالرحیم ؓصاحب اور حضرت قاضی محمد عبداﷲ ؓ صاحب سابق مبلغ انگلستان تھے ۔   (صحابہ ۳۱۳ میں سب سے آخر میں سال ۱۹۷۳ء میں حضرت قاضی محمد عبداﷲ  ؓ صاحب کی وفات ہوئی۔) حضرت قاضی ضیاء الدین صاحبؓ  نے اپنی اولاد کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں بڑی مشکل سے تمہیں حضرت مسیح موعودؑ کے در پر لے آیا ہوں اب میرے بعد اس دروازہ کو کبھی نہ چھوڑنا۔ چنانچہ آپ کی اولاد نے اس پر کامل طور پر عمل کیا۔ حضرت قاضی عبدالرحیمؓ صاحب کے ایک بیٹے قاضی عبدالسلام صاحب بھٹی نیروبی (مشرقی افریقہ) رہے جن کے داماد مکرم مولانا عطاء الکریم شاہد مربی سلسلہ احمدیہ ہیں۔

نوٹ: ۔ تفصیلی حالات اصحاب احمد جلد ششم میں ملاحظہ فرمائیں۔

ماخذ

(۱)آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد۵ (۲) سراج منیر روحانی خزائن جلد۱۲ (۳) نزول المسیح روحانی خزائن جلد۱۰ (۴)’’تریاق القلوب‘‘ روحانی خزائن جلد۱۵(۵) نور القرآن نمبر۲ روحانی خزائن جلد۹ (۶)اصحاب  احمد جلد ششم (۷) رجسٹر بیعت اولیٰ مطبوعہ تاریخ احمدیتجلد ۱ صفحہ ۳۴۶ ۔(۸) صداقت حضرت مسیح موعود تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۴۲ء (۹) مقالہ ’’احمدیت ضلع گوجرانوالہ میں‘‘ ۔

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ76تا78،مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

بیعت:

۱۸۸۹ء

وفات:

۲/اکتوبر۱۹۰۵ء

تعارف و بیعت:

حضرت مولوی وزیر الدین رضی اﷲ عنہ کا اصل وطن مکیریاں ضلع ہوشیار پور تھا۔آپ کی بیعت۱۸۸۹ء کی ہے۔ ملازمت کے سلسلہ میں آپ ضلع کانگڑہ میں رہے۔ آپ بطور ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ مڈل سکول کانگڑہ میں متعین تھے۔ حضرت مولوی صاحب نے کچھ عرصہ اورینٹل کالج لاہور میں بھی تعلیم پائی۔( آپ کے ہم جماعتوں میں رائے بہادر منشی گلاب سنگھ بھی تھے جو بعد میں لاہور کے ایک مطبع کے مالک بنے۔ )

حضرت اقدسؑ سے تعلق

براہین احمدیہ کے مطالعہ کے بعد حضرت اقدس ؑ کی ملاقات کے لئے گئے۔ حضرتاقدس ؑنے آپ کو ملاقات کے لئے انتظار میں بیٹھے دیکھ کر فرمایا۔ کیسے تشریف لائے ہیں؟ مولوی صاحب نے جواب میں حضرت اقدس ؑکے یہ اشعار سنائے۔

نعرہ ہامے زنم  بر  آبِ  زلال
ہمچو مادر دواں پئے اطفال
تا   مگر  تشنگاںِ   بادیہ ہا
گِردم آئیند زیں فغان و صلا

اور زبانی کہا کہ آب زلال پینے کے لئے حاضر خدمت ہوا ہوں۔ یہ اشعار سن کر حضور مسکرائے اور پھر اندرون خانہ تشریف لے گئے۔ چائے کا پیالہ ہاتھ میں لئے باہر تشریف لائے اور مولوی صاحب کو یہ پیالہ عنایت فرمایا۔ مولوی صاحب نے بصد شوق یہ پیالہ پی لیا۔ مولوی صاحب اکثر اس کا ذکر فرمایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ حضرت اقدسؑ نے بظاہر چائے پلائی مگر وہ چائے نہیں تھی عشقِ دین تھا۔

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر:

مولوی صاحب جلسہ اعظم مذاہب عالم میں بھی شریک ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے حضرت مولوی محمد عزیز الدین بھی تھے۔حضرت اقدس نے آئینہ کمالاتِ اسلام ، تحفہ قیصریہ، سراج منیر، کتاب البریہ اور ملفوظات جلد چہارم جلسہ سالانہ کے شرکاء، جلسہ ڈائمنڈ جوبلی، چندہ دہندگان اور پُرامن جماعت میں آپ کا ذکر فرمایا ہے ۔

وفات:

۲ ؍اکتوبر۱۹۰۵ءکوآپپرفالجکاحملہہواجسسےآپوفاتپاگئے۔آپکی تدفین مکیریاں ضلع ہوشیارپور میں ہوئی۔

اولاد:

آپ کی چھ بیٹیاں تھیں اور کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی۔ حضرت مسیح موعودؑ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹا عطا کیا۔ (حضرت مولوی عزیز الدینؓ صاحب) اور لمبی عمر پائی۔حضرت مولوی عزیزالدین صاحب کی ایک بیٹی بھی صحابیہ تھیں۔مولاناحکیم دین محمد صاحب قادیان حضرت مولوی وزیر الدین صاحبؓ کے پوتے ہیں۔مکرم مولانا محمد شریف صاحب سابق بلاد عربیہ،گیمبیا،مکرم مولانا محمد صدیق صاحب سابق لائبریرین اور ، مولانانسیم سیفی صاحب سابق مبلغ مغربی افریقہ و سابق ایڈیٹر الفضل آپ کے خاندان سے ہیں۔

ماخذ:

(۱) براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد۵ (۳) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد۱۲(۴) سراج منیر روحانی خزائن جلد۱۲ (۵) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد۱۳ (۶) ملفوظات جلد چہارم (۷) غیر مطبوعہ حالات مرقومہ حکیم دین محمد صاحب نائب ناظم وقف جدید قادیان (۸) الفضل ۲جولائی ۱۹۶۳ء  (۹)  الفضل ۲۰؍اکتوبر ۱۹۹۷ء۔

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ 45،44،مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

 

ولادت:

۱۸۵۸ء

بیعت:

۲۳/مارچ ۱۸۸۹ء

وفات:

۱۱/ اکتوبر۱۹۰۵ء

تعارف:

حضرت مولوی عبدالکریم رضی اﷲ عنہ ۱۸۵۸ء میں سیالکوٹ میں چوہدری محمد سلطان صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ نے سیالکوٹ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بورڈ سکول سیالکوٹ میں فارسی مدرس کے طور پر کام کیا۔ آپ کے مضامین رسالہ ’’انوار الاسلام‘‘ اور ’’الحق‘‘ سیالکوٹ میں شائع ہوتے تھے۔ عیسائیت کے منادوں سے مذاکرات کا آپ کو خاص ملکہ تھا۔آپ کبھی کبھی اردو، فارسی میں’’صافی‘‘ تخلّص سے شعر بھی کہتے تھے۔

حضرت اقدسؑ کی بیعت:

۲۳؍مارچ۱۸۸۹ءکوحضرتاقدسمسیح موعودؑ کی بیعت کی۔ رجسٹر بیعت اُولیٰ میں آپ کا بیعت نمبر ۴۳ہے۔ آپ کی والدہ حضرت حشمت بی بی صاحبہؓ کی بیعت ۷؍فروری ۱۸۹۲ء اور اہلیہ حضرت زینب بی بی صاحبہؓ کی بیعت بھی اسی روز کی ہے۔ اس سے قبل سر سید احمد خاں کی تحریرات سے متاثر تھے۔ ۱۸۹۸ء میں سیالکوٹ چھوڑ کر قادیان تشریف لے آئے۔ قادیان میں ہجرت کرنے کے بعد آپ حضرت اقدسؑ کی تائید میں مضامین لکھنے کے علاوہ خطبات، تقاریر اور لیکچرز بھی دیتے تھے۔

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر:

حضرت اقدسؑ ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں:

”حبی فی اﷲ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی۔ مولوی صاحب اس عاجز کے یک رنگ دوست ہیں اور مجھ سے ایک سچی اور زندہ محبت رکھتے ہیں اور اپنے اوقات عزیز کا اکثر حصہ انہوں نے تائید دین کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ اُن کے بیان میں ایک اثر ڈالنے والا جوش ہے۔ اخلاص کی برکت اور نورانیت اُن کے چہرہ سے ظاہر ہے میری تعلیم کی اکثر باتوں سے وہ متفق الرائے ہیں۔ اخویم مولوی نور دین صاحب کے انوارِ صحبت نے بہت سا نورانی اثر اُن کے دل پہ ڈالا ہے۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۵۲۳)

آسمانی فیصلہ ، آئینہ کمالات اسلام ، سراج منیر، تحفہ قیصریہ، کتاب البریہ اور اس کے علاوہ ملفوظات میں متعدد جگہ اپنے مخلصین، جلسہ میں شریک احباب، چندہ دہندگان، جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور پُرامن جماعت کے ضمن میں ذکر فرمایا ہے۔

خدمات دینیہ:

حضرت اقدسؑ کا ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ والا مضمون جلسہ اعظم مذاہب عالم میں حضرت مولوی صاحب نے ہی پڑھ کر سنایا تھا۔ اس کے علاوہ خطبہ الہامیہ کو دوران خطبہ ساتھ ساتھ لکھتے رہے اور اس کا ترجمہ بھی کیا۔ حضرت اقدسؑ کا لیکچر لاہور اور لیکچر سیالکوٹ جلسہ عام میں پڑھنے کی سعادت آپ کو حاصل ہوئی۔ کتاب منن الرحمن میں حضرت اقدس نے اشتراک السنہ کے کام میں جان فشانی کرنے والے مردان خدا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ کا ذکر فرمایا ہے۔

تصانیف:

(۱) ’’الحق‘‘ سیالکوٹ اکتوبر ۱۸۹۱ء و نومبر دسمبر ۱۸۹۱ء (۲) القول الفصیح فی اثبات حقیقۃ مثیل المسیح (۳)لیکچر گناہ (۴)لیکچر موت (۵)ہادی کاملؐ (۶)ایام الصلح  فارسی ترجمہ (۷)حضرت مسیح موعود جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے کیا اصلاح اور تجدید کی۔ (۸)سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام (۹)ضمیمہ واقعات صحیحہ (۱۰)اعجاز المسیح اور حضرت مسیح موعود اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی (۱۱)خطبات کریمیہ (۱۲)دعوۃ الی الندوۃ۔ ندوۃ العلماء کی طرف ایک خط (۱۳) خلافت راشدہ حصہ اوّل (۱۴)خلافت راشدہ حصہ دوم المعروف فرقان۔

حضرت اقدسؑ سے تعلق محبت:

حضرت مسیح موعود ؑ حضرت مولانا عبدالکریم ؓصاحب کی اس محبت کی کیفیت کو یوں بیان فرماتے ہیں۔

’’ان کو میرے ساتھ نہایت درجہ کی محبت تھی اور وہ اصحاب الصفہ میں سے ہو گئے تھے جن کی تعریف خدا تعالیٰ نے پہلے سے ہی وحی کیتھی ‘‘

(اخبار البدرقادیان ۱۲ ؍جنوری ۱۹۰۶ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں:

”مسجد مبارک کے پرانے حصہ کی اینٹیں اب بھی اُن کی ذمہ دار تقریروں سے گونج رہی ہیں“۔

(خطبہ نکاح بحوالہ سیرت حضرت مولانا عبدالکریم سیالکوٹی ص۳۶)

شادی:

آپ کی شادی آپ کی پھوپھی زاد حضرت زینب بی بیؓ سے ہوئی (بیعت نمبر ۲۳۸ مورخہ ۷؍فروری ۱۸۹۲ء)  جو فخرالدین ؓصاحب کی بیٹی اور منشی محمد اسمٰعیل ؓصاحب کی ہمشیرہ تھیں۔ حضرت زینب بی بی صاحبہ کے والد صاحب کے جد امجد عطر سنگھ صاحب چوہڑکانہ حال فاروق آبادضلع شیخوپورہ سے کشمیر چلے گئے اور مسلمان ہو کر ’’عطریاب‘‘ کہلائے۔ آپ کی دوسری شادی حضرت عائشہ بیگم سے ہوئی جو حضرت شادی خاں صاحبؓ کی بیٹی تھیں۔ حضرت منشی شادی خاں صاحب ؓنے منارۃ المسیح کی تعمیر میں غیر معمولی مالی قربانی دی اور خلافت ثانیہ میں اپنا گھریلو اثاثہ بھی فروخت کر کے تعمیر مینارۃ المسیح کے لئے پیش کر دیا جسے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے صدیقیت کا نمونہ قرار دیا۔

اولاد:

آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔

وفات:

آپ ذیابیطس کے باعث بیمار ہوئے جس کی علامت کاربنکل ظاہر ہوئی۔ بیماری کے دوران حضرت اقدسؑ کو الہام ہوا کہ

’’دو شہتیر ٹوٹ گئے‘‘

چنانچہ آپ ۱۱؍اکتوبر۱۹۰۵ءکوانتقالفرماگئےاورقادیان میں تدفین ہوئی۔بہشتی مقبرہ کا قیام آپ کی وفات کے بعد ہوا۔ جہاں بعد میں آپ کی تدفین سے بہشتی مقبرہ کا عملاً افتتاح ہوا۔ حضرت اقدسؑ نے آپ کی وفات پر ایک طویل فارسی نظم تحریر کی۔ جس کے چند اشعار یہ ہیں :

کَے تواں کردن شمار خوبیٔ عبدالکریم

آنکہ جاں داد از شجاعت بر صراط مستقیم

حامیٔ دیں آنکہ یزداں نام او لیڈر نہاد

عارفِ اسرارِ حق گنجینۂ دینِ قویم

صدق ورزید و بصدقِ کامل و اخلاصِ خویش

موردِ رحمت شُد اندر درگۂ ربِّ علیم

گرچہ جنسِ نیکواں ایں چرخ بسیار آورد

کم بزاید مادرے بایں صفاء دُرِّ یتیم

اے خدا بر تربت اُو بارش رحمت ببار

داخلش کن از کمالِ فضل در بیت النعیم

(نقل از کتبہ حضرت مولوی عبدالکریمؓ)

ترجمہ:

عبدالکریم کی خوبیاں کیونکر گنی جا سکتی ہیں جس نے شجاعت کے ساتھ صراط مستقیم پر جان دی وہ جو دینِ اسلام کا حامی تھا اور جس کا خدا نے لیڈر نام رکھا تھا وہ خدائی اسرار کا عارف تھا اور دین متین کا خزانہ ۔ اس نے صدق اختیار کر لیا تھا اور اپنے اخلاص اور صدق کامل کی وجہ سے ربِّ علیم کی درگاہ میں رحمت کا مورد بن گیا تھا۔ اگرچہ آسمان نیکوں کی جماعت بکثرت لاتا رہتا ہے مگر ایسا شفاف اور قیمتی موتی ماں بہت کم جنا کرتی ہے۔ اے خدا اس کی قبر پر رحمت کی بارش نازل فرما اور نہایت درجہ فضل کے ساتھ اسے جنت میں داخل کر دے۔

ماخذ:

(۱)ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد۳ (۲) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد۲ (۳) آئینہ کمالات اسلام  روحانی خزائن جلد۵ (۴) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد۱۲ (۵)کتاب البریہ روحانی خزائن جلد۱۳ (۶) منن الرحمن روحانی خزائن جلد۹ (۷) ملفوظات جلد اوّل تا پنجم (۸) سیرتحضرت مولانا عبدالکریم سیالکوٹی (۹)مخدوم الملت مولانا عبدالکریم سیالکوٹی مطبوعہ انصار اﷲ جولائی ۲۰۰۰ء (۱۰) مضمون مطبوعہ روز نامہ الفضل ۱۲ ؍دسمبر۱۹۸۸ءو۲؍جنوری ۱۹۹۹ء (۱۱) رجسٹر بیعت اولیٰ مندرجہ تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحہ ۳۴۴ و ۳۵۸ (۱۲) درثمین فارسی ۔

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ 40تا42،مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

ولادت:۱۸۵۲ء

بیعت:۱۸۹۲ء

وفات:۱۹۰۶ء

تعارف و بیعت

حضرت مولوی شیخ قادر بخش رضی اﷲ عنہ احمد آباد (جہلم) نزد بھیرہ (دریائے جہلم کے دوسری جانب) کے رہنے والے تھے۔ حضرت حکیم مولانا مولوی نورالدین ؓکے محبّوں میں سے تھے۔ اوائل میں ہی احمدیت قبول کرنے کا شرف حاصل کیا۔ آپ ۱۸۹۲ء کے جلسہ سالانہ میں شریک ہوئے اورہجرت کر کے قادیان چلے گئے۔

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر

حضرت اقدسؑ نے آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء کی فہرست میں ۳۳ نمبر پر آپ کا نام درج فرمایا ہے۔ جہاں حکیم شیخ قادر بخش احمد آباد ضلع جہلم تحریر کیا ہے۔ کتاب البریہ میں پُرامن جماعت کے ضمن میں ذکر فرمایاہے۔

وفات

آپ ابتداء میں ہی ہجرت کرکے قادیان چلے گئے تھے اور وہیں ۱۹۰۶ء میں وفات ہوئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔

ماخذ

آئینہ کمالات اسلام (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد۱۳(۳)بھیرہ کی تاریخ احمدیت صفحہ ۱۱۸

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ288مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

بیعت:۹۳۔۱۸۹۲ء

وفات:۸/اپریل۱۹۰۶ء

تعارف و بیعت حضرت اقدسؑ

حضرت حکیم فضل الٰہی رضی اﷲ عنہ لاہور کے مقام ستھان کے رہنے والے تھے۔لاہور تاریخ احمدیت کے مطابق آپ کی بیعت۹۳۔۱۸۹۲ء کی ہے(صفحہ ۱۴۹)۔ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے ساتھ بات چیت چل رہی تھی تو احباب لاہور کی ایک انجمن جس کا نام ’’انجمن فرقانیہ‘‘ تھا، نے خوب کام کیا۔اس کے صدر حکیم فضل الٰہی صاحبؓ، سیکرٹری منشی تاج الدین صاحبؓ اور جائنٹ سیکرٹری میاں معراج الدین عمر صاحبؓ تھے۔چونکہ پیر صاحب حیلے بہانے سے اس مقابلہ کو ٹال رہے تھے اور لاہور کی پبلک کو مغالطہ میں ڈال کر حضرت اقدسؑ کے خلاف مشتعل کر رہے تھے۔اس لئے اس انجمن نے ان ایام میں متعدد اشتہارات شائع کر کے لوگوں پر حقیقت حال کو واضح کیا تھا۔

دینی خدمات

حضرت حکیم صاحبؓ بڑے مخلص اور جانثار تھے مخالفین کے سامنے سینہ سپر رہے تھے۔مالی قربانی میں بھی حضرت حکیم صاحب ؓپیش پیش رہا کرتے تھے۔تبلیغی پمفلٹوں کے خرچ میں ان کا کافی حصہ ہوتا تھا۔تحریکات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔

آپ کا اعزاز

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے زمانہ میں ۱۳؍ مارچ ۱۹۰۳ء کو جب ’’منارۃ المسیح‘‘ کی بنیاد رکھنے کا وقت آیا تو حضرت حکیم صاحب مرزا خدا بخش صاحبؓ، شیخ مولا بخش صاحبؓ اور قاضی ضیاء الدین صاحبؓ نے حضور کی خدمت میں درخواست کی کہ حضور آج مینارۃ المسیح کی بنیاد رکھی جائے گی اگر حضور خود اپنے ہاتھ سے رکھیں تو بہت مبارک ہو گا۔اس پر حضور نے فرمایا۔آپ ایک اینٹ لے آئیں میں اس پر دعا کروں گا۔پھر جہاں میں کہوں وہاں جا کر رکھ دیں۔چنانچہ حکیم فضل الٰہی صاحبؓ اینٹ لے آئے اور حضور نے لمبی دعا کی۔دعا کے بعد حضرت حکیم صاحب ؓسے ارشاد فرمایا کہ آپ اس کو مجوزہ منارۃ المسیح کے مغربی حصہ میں رکھ دیں۔حضرت حکیم صاحبؓ اور دوسرے احباب نے یہ مبارک اینٹ لے کر مسجد اقصیٰ میں بنیاد کے مغربی حصہ میں نصب کر دی۔

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر :  حضرت اقدسؑ نے تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں چندہ دہندگان اور پُرامن جماعت میں ذکر کیا ہے۔

وفات

آپ کی وفات ۸؍ اپریل ۱۹۰۶ء کو ہوئی۔بہشتی مقبرہ قادیان میں لاہور کے ایک صاحب ’’فضل الٰہی‘‘ کا کتبہ نصب ہے اگر یہی حکیم فضل الٰہی مراد ہیں تو تاریخ وفات ۸؍ اپریل ۱۹۰۶ء ہے۔

ماخذ

تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد۱۲(۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد۱۳ (۳)  لاہور تاریخ احمدیت صفحہ ۱۴۹۔۱۵۰

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ250،251مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

 

ولادت:۱۷۸۳

بیعت:۱۸۹۰ء

وفات:۲۷ مئی۱۹۰۶ء

تعارف

حضرت منشی اﷲ داد رضی اﷲ عنہ شاہپور (ضلع سرگودھا) کے رہنے والے تھے ۔آپ تقریباً۱۸۷۳ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد شاہ پور چھاؤنی میں دفتر رجسٹرار میں کلرک کے طورپر ملازمت اختیار کی جہاں آپ کو پچاس روپے ماہانہ ملتے تھے۔

بیعت

ابھی آپ سترہ سال کے تھے کہ عین جوانی کے عالم میں حضرت اقدس بانی سلسلہ کی بیعت کی توفیق پائی اور بیعت کے بعد آپ کی زندگی درجوانی توبہ کردن کا عظیم نمونہ پیش کررہی تھی۔ آپ حضور ؑکے نام اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں:۔

”اس امر کی وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں سمجھتا کہ خاکسار کے دل میں عرصہ دراز سے شعلہ محبت بھڑکا ہواتھا۔ سال۱۸۹۰ء یعنی ایام طالب علمی سے جبکہ خاکسار ابھی انٹرنس تعلیم پاتا تھا محض اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے حضور ے ساتھ تعلق اخلاص مندی نصیب ہوا جس کو اب چودھواں سال جارہا ہے۔

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم جزنمبر پنجم )

ابتلاؤں کا سامنا:شاہ پور میں خداتعالیٰ کے فضل سے ایک اچھی ملازمت پر آپ متعین تھے لیکن ان خوشحال مواقع کے ساتھ ساتھ کچھ مشکلات بھی آپ کے درپے تھیں جس کے لئے وقتا فوقتا آپ حضرت اقدس ؑکی خدمت میں دعا کے لئے لکھتے رہتے۔ چنانچہ ان مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے حضور کی خدمت میں لکھا-:

”وہاں شاہ پور میں خاکسار کی موجودہ حالت بھی کچھ ابتلاء سے کم نہیں ہے جو۔۔۔افسر ہے بوجہ عناد مذہبی کے سخت مخالف ہے۔۔۔اللہ تعالیٰ ہی محفوظ رکھے۔“

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم )

حضور آپ کے خطوط کو پڑھ کر صبر اوراستقلال کی تلقین کے جوابات تحریر فرماتے اور ہمت نہ ہارنے کی تاکید فرماتے چنانچہ ایک مکتوب میں حضور نے آپ کو تحریر فرمایا-:

”محبی اخویم منشی اللہ داد صاحب کلرک سلمہ اللہ تعالیٰ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ یادرہے کہ ہر ایک مومن کے لئے کسی حد تک تکالیف اور ابتلاء کا ہونا ضروری ہے اس کو صدق دل سے برداشت کرنا چاہئے اور خداتعالیٰ کی رحمت کا انتظار کرنا چاہئے۔“

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم )

قادیان سے محبت

حضرت چودھری اللہ داد صاحب بھی محبت امام الزمان سے سرشار تھے۔ آپ اپنے آپ سے کہتے رہتے کہ مامور صادق کے مبارک قدموں میں زندگی گزارنا تمہارا مقصود بالذات ہوناچاہئے۔ دارالامان سے باہر رہنا تو زندگی کا عبث گزارنا ہے۔ آپ نے قادیان سے محبت کی اس دلی کیفیت کا اظہار حضور کی خدمت میں بھی کیا  جس کا ذکر اپنے مکتوب بنام حضرت اقدسؑ میں کیا گیا ہے۔

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبرپنجم ص۲۵۳)

قادیان کی طرف ہجرت

آپ قادیان میں سکونت پذیر ہونے کے خواہشمند تھے اس سلسلے میں آپ کو موقع کی تلاش تھی۔ شاہ پور میں آپ کو ۵۰روپے تنخواہ ملتی تھی لیکن قادیان کی محبت میں آپ یہ سب کچھ چھوڑنے کے لئے تیار تھے۔ جب رسالہ ریویوآف ریلیجنز کاآغاز ہوا تو دفتر میگزین میں کلرک کی ضرورت تھی۔مولوی محمد علی صاحب ایم اے نے اس آسامی کے لئے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ اس جگہ آجائیں۱۵روپے ماہوار ملا کریں گے آگے جیسے جیسے رسالہ میں ترقی ہوگی۔ الاؤنس بھی بڑھنے کاامکان ہوگا لیکن آپ ان ۱۵روپے میں بھی بہت خوش تھے اس کی وجہ یہ تھی آپ نہایت سادہ زندگی گزارنے کے عادی تھے۔ بس ایک بات کا آپ کو انتظار تھا کہ حضرت اقدسؑ اس سلسلے میں خود اجازت عنایت فرماویں۔ چنانچہ آپ نے حضور کی خدمت میں لکھا۔حضور نے فرمایا:۔

”آپ کے صدق و ثبات پر نظر کرکے میری رائے یہی ہے کہ آپ توکل علی اللہ اس نوکری کو لعنت بھیجیں اور اس محبت کو غنیمت سمجھیں اور بالفعل ۱۵روپیہ پر قناعت کریں۔“

(مکتوبات احمدیہ حصہ پنجم نمبرپنجم )

اس پاک وجود کے دہن مبارک سے اجازت ملنے پر خوشی کی انتہانہ تھی۔۱۹۰۴ء کی ابتداء ہی میں قادیان مہاجر ہوکر آگئے۔ دفتر میگزین میں ہیڈکلرک متعین ہوئے اور اس خدمت میں دن رات صرف کردیئے۔

مالی قربانیاں

حضرت چودھری اللہ دادصاحب کا شاہ پورمیں۵۰روپےکی ملازمت ترک کرکےقادیان میں۱۵روپےالاؤنس کی خدمت پررضامندہوکرآجانامالی قربانی کی عظیم الشان مثال ہے۔اسکے علاوہ آپ نے جماعت کی ہر مالی تحریک میں حصہ ڈالنے کی سعی کی۔رسالہ ریویو آف ریلیجنز کےخریدار، مدرسہ تعلیم الاسلام اور امداد داخلہ امتحان طلباء کالج کی مدات میں آپ شامل ہوتے۔حضرت اقدس ؑنےجب قادیان میں مدرسہ کے قیام کی تجویز پیش کی اوردوستوں کو مالی تحریک فرمائی تو آپ بھی لبیک کہنے والوں میں سے تھے۔

(اخبارالبدرقادیان۲۹اکتوبر۱۹۰۳ء)

اسی طرح حضرت چودھری صاحب نے کئی احباب کے نام اپنی طرف سے اخبار بدر جاری کروایا۔

(اخبارالبدر قادیان۹فروری۱۹۰۶ء ص)

مئی۱۹۰۶ء میں آپ تپ محرقہ سے علیل ہوگئے اور سترہ دن تک بخار میں مبتلا رہ کر۲۷مئی ۱۹۰۶ء کواپنی جان اپنے مالک حقیقی کو سونپ دی۔ حضرت بانی سلسلہ نے فرمایا کہ

’’چودھری اللہ داد صاحب بڑے مخلص تھے۔ ایسا آدمی پیدا ہونا مشکل ہوتا ہے‘‘

اور ساتھ ہی ارشاد فرمایاکہ ان کو بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جائے چنانچہ حسب الحکم ایسا ہی کیاگیا۔ حضرت اقدس بانی سلسلہ کی پاکیزہ مجلس میں آپ کا ذکر ہواتو حضور نے فرمایا-:

”بڑے مخلص آدمی تھے ایسا آدمی پیدا ہونا مشکل ہے۔ فرمایا جو الہام الٰہی نازل ہوا تھا کہ ”دو شہتیر ٹوٹ گئے“ان میں سے ایک شہتیر تو مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم تھے، دوسرے چودھری صاحب معلوم ہوتے ہیں۔“

فرمایا:

یہ جورویا دیکھا تھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب کی قبر کے پاس دواور قبریں ہیں وہ بھی پورا ہوا۔ ایک قبرالہٰی بخش صاحب ساکن مالیر کوٹلہ کی بنی اور دوسری چودھری صاحب مرحوم کی بنی۔

(اخبار البدر قادیان۱۷جون۱۹۰۶ء)

ماخذ

(۱)تبلیغ رسالت (۲)مکتوبات احمدیہ جلد پنجم(۳)حیات احمد جلد دوم(۴)اخبار البدر قادیان ۹؍فروری ۱۹۰۵، ۲۰؍جولائی ۱۹۰۵،(۵)ملفوظات جلد پنجم(۶)الفضل ۹؍فروری ۱۹۱۶۔الفضل۱۳؍اکتوبر۲۰۰۵ء۔

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ289تا291مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

حضرت شیخ شہاب الدین صاحبؓ
وفات   6 نومبر 1907

بیعت:ابتدائی ایام

وفات:۶/نومبر۱۹۰۷ء

تعارف

حضرت شیخ شہاب الدین صاحب رضی اﷲ عنہ لدھیانوی حضرت مسیح موعودؑ کے پرانے محبین میں سے تھے۔ اگست ۱۸۹۱ء میں اہل لدھیانہ کی طرف سے باجازت حضرت مسیح موعودؑ ایک اشتہار شائع کیا گیا۔ جس میں علماء کو حضورؑ سے بحث کی دعوت دی گئی ان مشتہرین افراد میں آپ کا نام بھی ۷۹ویں نمبر پر شامل ہے۔

بیعت

آپ نے ابتدائی ایام میں بیعت کی۔ آسمانی فیصلہ میں جلسہ سالانہ میں شریک احباب کی فہرست میں نام درج ہے۔

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر

ازالہ اوہام ، آسمانی فیصلہ ، تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں مخلصین، جلسہ کے شرکاء، چندہ دہندگان اور پُرامن جماعت کے ضمن میں آپ کا ذکر ہے۔

سکونت قادیان

اپنی آخری عمر میں آپ بیمار ہو گئے اور یہ ایام آپ نے قادیان میں ہی گزارے۔

حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی  ؓ فرماتے ہیں:

”حاجی شہاب الدین لودیانوی اور باباالٰہی بخش صاحب مالیر کوٹلوی جب بیمار ہوئے تو آپ ؑ(حضرت اقدسؑ) ان کی عیادت کو بھی جاتے۔ حاجی شہاب صاحب ۔۔اخلاص مند دل ان کے پہلو میں تھا“

وفات

حضرت شیخ شہاب الدین صاحبؓ نے ۶؍نومبر۱۹۰۷ءکوقادیان ہی میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبر ۱ حصہ نمبر ۳ میں بلا وصیت دفن ہوئے۔

ماخذ

(۱)’’ازالہ اوہام‘‘ روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۵۴۱، ۵۴۲ (۲) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد نمبر ۲ (۳) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد نمبر۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد نمبر۱۳(۵) سیرت حضرت مسیح موعودؑ صفحہ۱۸۲

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ92،93،مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

 

ولادت:۱۸۷۴ء

بیعت:۱۸۹۲ء

وفات:۱۹۰۸ء

تعارف

حضرت میاں صاحب دین رضی اﷲ عنہ تہال ضلع گجرات کے رہنے والے تھے جو کھاریاں کے قریب واقع ہے۔ آپ تہال میں امام مسجد تھے۔ اور بہت بزرگ اور خدا رسیدہ انسان تھے۔آپ کے خاندان سے ایک صاحب صوبہ خان حفظ قرآن کیلئے گولیکی ضلع گجرات گئے ۔ادھر واپس آ کر یہاں قیام کیا۔ آپ کو علم کا بیحد شوقت تھا اور تہال میں ایک ذاتی کتب خانہ بھی تھا۔

بیعت

آپ ۱۸۹۲ء کے جلسہ سالانہ میں شامل تھے اور یہی سال آپ کی بیعت کا ہے۔

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر

آئینہ کمالات اسلام میں آپ کے نام کا اندراج جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں میں۱ ۱۱ نمبر پر ہے۔ تحفہ قیصریہ میں آپ کا جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں شامل ہونے والوں میں بھی ذکرہے۔

حضورؑ نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں اپنے ایک نشان کے متعلق آپ کی گواہی بھی درج کی ہے کہ

”۳۱؍مارچ ۱۹۰۷ء کو بوقت تخمیناً چار بجے دن کے آپ کے الہام کے مطابق ایک تعجب انگیز واقعہ ظہور میں آیا یعنی آسمان پر ایک انگارا نمودار ہوا جس کے دیکھتے ہی ہزاروں آدمی تعجب میں رہ گئے۔“

(صفحہ ۵۲۹)

دینی خدمت

جماعت احمدیہ تہال کی بنیاد آپ نے ہی رکھی تھی۔ آپ کی کوششوں سے تہال میں جماعت قائم ہوگئی۔ آپ لمبا عرصہ تہال جماعت کے امام الصلوٰۃ رہے۔

وفات

آپ کی وفات ۱۹۰۸ء میں ہوئی۔

اولاد

آپ کے بیٹے کا نام عبدالرحیم صاحب تھا۔جن کے دو لڑکے تھے مکرم صاحب داد اور مکرم کرم داد صاحب۔مکرم کرم داد صاحب تہال جماعت کے صدر بھی رہے۔

ماخذ

آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد۵صفحہ ۶۲۰(۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد۱۲(۳) حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد۲۲(۴) گجرات میں احمدیت غیر مطبوعہ مقالہ مکرم عبدالرزاق صاحب گجراتی۔

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ306مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

ولادت:۱۸۷۰ء

بیعت: ابتدائی زمانہ

وفات:۲۵/مئی۱۹۰۸ء

تعارف

حضرت منشی شاہ دین رضی اﷲ عنہ کی بیعت دینہ ضلع جہلم سے ہے۔آپ کا اصل گاؤں ساہووالہ تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ تھا۔دوران ملازمت مختلف جگہوں پر اسٹیشن ماسٹر رہے۔

بیعت

ابتدا میں پیر مہر علی شاہ گولڑوی سے تعلق رکھتے تھے۔پھر خدا تعالیٰ نے آپ کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر

تحفہ قیصریہ ، سراج منیر اور کتاب البریہ میں حضرت اقدسؑ نے آپ کا ذکر ڈائمنڈ جوبلی جلسہ میں شرکت ، چندہ دہندگان اور پُرامن جماعت میں ذکر کیا ہے۔

قادیان ہجرت کرنا

حضرت اقدسؑ کی زندگی کے آخری ایام میں بیمار ہو کر قادیان آگئے۔حضرت اقدسؑ جب حضرت ام المومنین ؓکی علالت کے باعث مشیتِ ایزدی کے ماتحت لاہور آگئے تو حضرت اقدسؑ نے وفات سے تیرہ روز پیشتر حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدینؓ کو منشی شاہ دینؓ کی خبرگیری کے لئے تاکیداً خطوط لکھے۔

وفات

حضرت منشی صاحب کی وفات ۲۵؍مئی ۱۹۰۸ء میں ہوئی۔

ملک محمود خان صاحب مردان کے حالات میں اصحاب احمد جلد دہم میں لکھا ہے کہ ’’جب نوشہرہ سے بطرف در گئی و مالاکنڈ ریلوے لائن بنائی گئی تو مردان کے سب سے پہلے اسٹیشن ماسٹر حضرت بابو شاہ دین صاحبؓ مقرر ہوئے۔آپ احمدیت کے قابلِ قدر خادم تھے بگٹ گنج مردان میں جماعت قائم کی۔بڑے مہمان نواز اور جاذب شخصیت کے مالک تھے۔آپ کے حسن اخلاق سے نوشہرہ سے درگئی تک کئی ریلوے ملازم احمدی ہوئے۔

ماخذ

انجام آتھم روحانی خزائن جلد۱۱ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد۱۲(۳)سراج منیر روحانی خزائن جلد۱۲ (۴)کتاب البریہ روحانی خزائن جلد۱۳ (۵) سیرت حضرت مسیح موعودؑ جلد سوم صفحہ ۴۲۵ تا ۴۲۷ (۶) اصحاب احمد جلد ۱۰ صفحہ ۱۹۷ (۷)مضمون مطبوعہ ’’روزنامہ الفضل‘‘ ربوہ ۱۲؍ فروری ۱۹۶۶ء۔

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ248مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

ولادت:۱۸۳۶ء

بیعت:۱۸۹۵ء

وفات:۲۴/ستمبر۱۹۰۸ء

تعارف

حضرت مولوی فضل دین رضی اﷲ عنہ خوشاب شہر کے محلہ آہیرانوالہ میں پٹھان خاندان سے تھے۔آپ کی ولادت سال ۱۸۳۶ء میں ہوئی۔ آپ کے قریبی عزیز حضرت فتح دین خاں صاحب بھی رفقاء تھے۔ جو امام الصلوٰۃ تھے۔آپ حافظ قرآن تھے۔

بیعت

آپ خوشاب شہر کے پہلے احمدی تھے آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت ۱۸۹۵ء کی تھی۔

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر

حضرت اقد س ؑ نے آپ کا ’’تحفہ قیصریہ‘‘ میں ڈائمنڈ جوبلی کے لئے چندہ دینے والوں میں نام درج فرمایا ہے۔

حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحبؓ نے حضرت اقدسؑ کے معاصر علماء میں آپ کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے حضرت اقدسؑ کی بیعت کا شرف حاصل کیا ہے۔

حضرت حافظ صاحب کے بھانجے مکرم عبدالرحیم خاں اورحافظ عبدالکریم خاں صاحب تھے ہردو نے ۱۹۲۴ء اور ۱۹۲۶ء میں بیعت کی۔ حافظ عبدالکریم صاحب نے ۷۲/افراد کے ساتھ بیعت کی۔ ان کے چھ بیٹے ہیں۔ جن میں سے مکرم عبدالرشید خان صاحب تحصیلدار (والد مکرم عبدالسمیع خاں صاحب ایڈیٹر الفضل ربوہ)ا ورمکرم عبدالستار خاں صاحب مربی سلسلہ۔

وفات

آپ کی وفات ۲۴ستمبر ۱۹۰۸ء میں ہوئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے آپ کی نماز جنازہ غائب جمعہ کے دن پڑھانے کا ارشاد فرمایا۔ آپ نے ۱۳ مئی ۱۹۰۶ء کو وصیت کی۔ وصیت نمبر ۱۱ ہے جو الحکم میں ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۷ء کو شائع ہوئی۔ بہشتی مقبرہ قادیان میں آپ کا کتبہ نصب ہے۔

ماخذ

تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۲) الحکم ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۷ء جلد ۱۱ نمبر ۱۲ (۳) اخبار بدر جلد ۷ نمبر ۳۶ (۴)’’میراخاندان‘‘ الفضل ۲۷؍ دسمبر ۱۹۹۵ء (۵) بیان مکرم رانا عطاء اﷲ صاحب آف خوشاب حال لندن(۶)بیان مکرم مولانا عبدالستار خان صاحب آف خوشاب مربی سلسلہ سپین و گوئٹے مالا۔

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ292مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

 

بیعت:۱۸۹۵ء

وفات:۱۹۰۹ء

تعارف وبیعت

حضرت منشی عطا محمد رضی اﷲ عنہ چنیوٹ کے مشہور وہرہ خاندان میں سے تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام حافظ محمد حیات صاحب تھا۔آپ تاجراور اشٹام فروش تھے۔

وفات

آپ نے ۱۹۰۹ء کو وفات پائی۔آپ کا وصیت نمبر ۱۹۰ ہے۔منشی صاحب محترم شیخ شمس الدین صاحب ولد شیخ حاجی عمر حیات صاحب کے خسر تھے۔آپ کی بیعت ۱۸۹۵ء کی ہے ۔

حضرت اقدس کی کتب میں ذکر

حضرت اقدسؑ نے کتاب البریہ میں پُرامن جماعت میں آپ کا ذکر کیا ہے۔

اولاد

آپ کی بیٹی حضرت اﷲ جوائی صاحبہ صحابیہ تھیں جومحترم شیخ شمس الدین ؓ کی اہلیہ تھیں جن سے ان کی دو بیٹیاں اور تین بیٹے تھے ۔

نوٹ:آپ کے مزید حالات معلوم نہیں ہو سکے۔

ماخذ

(۱)کتاب البریہ روحانی خزائن جلد۱۳ (۲) لاہور تاریخ احمدیت صفحہ ۳۶۶ (۳) ’’سرزمین ربوہ اور اس کے ماحول کا تاریخی اور روحانی پس منظر‘‘ الفضل ۲۱ ؍ستمبر ۲۰۰۲ء(۴)اخبار بدر ۱۸؍فروری ۱۹۰۹۔

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ275مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

 

1 2 3 23