skip to Main Content

ولادت:۱۸۵۵ء

بیعت:۲۳/دسمبر۱۸۸۹ء

وفات:۳/جنوری۱۹۳۵ء

تعارف

حضرت صاحبزادہ محمد سراج الحق جمالی نعمانی رضی اﷲ عنہ کے والد صاحب کا نام شاہ حبیب الرحمن تھا۔ آپ کے والد صاحب سرساوہ ضلع سہارنپور کے رہنے والے تھے اور نبیرہ قطب الاقطاب شیخ جمال الدین احمدؒ و حضرت امام المسلمین نعمان ابوحنیفہ کوفی کی اولاد میں سے تھے۔

حضرت اقدس ؑکی بیعت۔پس منظر

آپ نے خواب میں دیکھا کہ ایک مکان میں کثرت سے آدمی موجود ہیں ا ور حضرت رسول مقبول خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺتشریف رکھتے ہیں۔ آپ بے تکلف آنحضرت   صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس جا بیٹھے۔ آپ نے آنحضرت ﷺکے قدم مبارک کو بوسہ دیا اور آنکھوں سے لگایا۔ دو برس بعد لدھیانہ میں گئے تو حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا شہرہ سنا تو آپؑ کی مجلس میں حاضر ہوئے آپ کی صورت دیکھی تو کیا دیکھتے ہیں کہ یہ تو وہی صورت ہے جس صورت پر حضرت نبی کریمﷺکو خواب میں دیکھا تھا۔ اس ملاقات کے کوئی چھ ماہ بعد آپ حضرت اقدسؑ کو قادیان میں ملے تو آپ کی اعتقادی حالت بہت ترقی کر چکی تھی۔ تب آپ بصدق دل بیعت سے مشرف ہوئے۔ آپ نے ۲۳؍دسمبر۱۸۸۹ءکوبیعت کی رجسٹر بیعت اُولیٰ میں آپ کا نام ۱۵۳ نمبر پر درج ہے۔ آپ مباحثہ دہلی میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے ہمراہ تھے۔

قادیان میں سکونت اور خدمت سلسلہ

آپ ۱۸۹۲ء سے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں قادیان تشریف لایا کرتے تھے۔ بعد میں ۱۸۹۹ء میں مستقل طور پر قادیان میں رہائش رکھ لی۔ حضرت اقدسؑ کی حیات کے واقعات پر آپ نے ایک ایمان افروز کتاب ”تذکرۃ المہدی“کے نام سے تصنیفکی۔۱۹۰۱ء میں مردم شماری کے وقت ’’احمدی مسلمان‘‘ کا نام آپ کی تجویز پر دیا گیا۔ حضرت اقدس ؑ کی خط و کتابت میں بھی آپ مدد دیتے رہے۔

حضرت اقدسؑ کی کتب میں آپ کا ذکر

حضرت اقدسؑ نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں صفحہ ۵۳۴ پر آپ کا ذکر یوں فرمایا ہے:

’’صاف باطن یک رنگ اور للّہی کاموں میں جوش رکھنے والے اور اعلائے کلمہ حق کے لئے بدل و جان ساعی و سرگرم ہیں۔ اس سلسلہ میں داخل ہونے کے لئے خدا تعالیٰ نے جو ان کے لئے تقریب پیدا کی وہ ایک دلچسپ حال ہے۔‘‘

آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والے احباب اور چندہ دہندگان میں آپ کا ذکر ہے۔ اسی طرح تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور پُر امن جماعت میں ذکر ہے۔ نور القرآن نمبر ۲ صفحہ ۷۹۔۸۰ پر آپ کا نام دیگر خدمتگاروں میں درج ہے۔ ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۲۹ پر آپ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدسؑ نے فرمایا ’’صاحبزادہ پیر جی سراج الحق نے تو ہزاروں مریدوں سے قطع تعلق کر کے اس جگہ کی درویشانہ زندگی قبول کی۔‘‘ علاوہ ازیں متعدد مواقع پر بعض مجالس کے ضمن میں ملفوظات میں تذکرہ ہے۔

تصنیفات

(۱)تذکرۃ المہدی (حصہ اول، دوم) (۲)مخمس (۳)علم القرآن (۴)قاعدہ عربی (۵) پیر مہر علی شاہ گولڑوی سے فیصلہ کا ایک طریق (۶)سراج الحق حصہ اول تا پنجم آپ کی علمییادگار ہیں۔

وفات

آپ کی وفات ۳؍جنوری ۱۹۳۵ء کو ہوئی۔

اولاد

آپ کی اولاد میں ایک بیٹا فرقان الرحمٰن چھوٹی عمر میں فوت ہو گیاجو پہلی بیوی سے تھا آپ کی بیٹی مکرمہ محمودہ ناہید صاحبہ راولپنڈی میں ہیں جو مکرم سید احمد شاہ صاحب مرحوم مبلغ سلسلہ مشرقی افریقہ کی خوشدامن ہیں۔ حضرت پیر صاحب کے تین نواسے اور تین نواسیاں ہیں ایک نواسہ سید مبشر احمد صاحب کے بیٹے مکرم سیدعمران احمد صاحب مربی سلسلہ ہیں ۔

ماخذ

(۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد۳ (۲)آئینہ کمالاتاسلامروحانی خزائن جلد۵ (۳) نورالقرآن نمبر روحانی خزائن جلد  ۲ (۴) ضمیمہ انجام آتھمروحانی خزائن جلد۱۱(۵)تذکرۃ المہدی (۶)رجسٹر بیعت اولیٰ مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد ا و ۲ (۷)’’تاریخ احمدیت‘‘ جلد ہشتم(۸)”In The Company of Promissed Messiah” (۹)’’الفضل‘‘ ۱۲؍مارچ۱۹۷۸ء۔

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ60تا61،مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

ولادت:

۱۸۷۳ء۔

بیعت:

۱۸۹۴ء۔

وفات:

یکم نومبر ۱۹۵۱ء

تعارف:

حضرت میاں محمد دین رضی اﷲ عنہ موضع حقیقہ پنڈی کھاریاں ضلع گجرات کے رہنے والے تھے ۔ آپ کے والد صاحب کا نام میاں نورالدین صاحب تھا۔ ایک روایت کے مطابق آپ شاہ پور کے علاقہ میں جھمٹ قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے جہاں سے آپ کے بزرگ نقل مکانی کرکے کھاریاں کے علاقے میں آ گئے تھے۔ آپ ابتداء میں پٹواری تھے۔ ۱۸۸۹ء میں تقرری موضع بلانی میں ہوئی۔ بعد میں ترقی پا کر گرد اور ،قانونگو اور واصل با قی نویس بنے۔ آپ ۱۹۲۹ء میں ریٹائر ہوئے۔

بیعت کا پس منظر:

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی حضرت منشی جلال الدین بلانویؓ نے ۱۸۹۳ء میں سیالکوٹ سے اپنے بیٹے مرزا محمد قیّم صاحب کو کتابیں بھجوائیں۔ انہوں نے حضرت میاں محمد دینؓ سے کہا کہ آپ دوسری کتابیں پڑھتے رہتے ہیں یہ بھی پڑھ کر دیکھیں ۔ انہوں نے براہین احمدیہ آپ کو دی۔حضرت میاں صاحب نے جب حضرت اقدس ؑکی کتاب براہین احمدیہ پڑھنی شروع کی تو اﷲ تعالیٰ کی ہستی پر آپ کو کامل یقین ہوگیا۔ رجسٹر روایات جلد نمبر۷ میں آپ کی روایت درج ہے:۔
’’براہین کیا تھی آبِ حیات کا بحر ذخّار تھا۔ براہین کیا تھی ایک تریاق کوہِ لانی تھا یا تریاق اربعہ دافع صرع و لقوہ تھا۔ براہین کیا تھی ایک عین روح القدس یا روح مکرم یا روح اعظم تھا۔ براہین کیا تھی یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلٓائِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہِ تھی ایک نورِ خدا تھا جس کے ظہور سے ظلمت کافور ہو گئی۔
آریہ، برہمو، دہریہ لیکچراروں کے بد اثر نے مجھے اور مجھ جیسے اکثروں کو ہلاک کر دیا تھا اور ان اثرات کے ماتحت لایعنی زندگی بسر کر رہا تھا کہ براہین احمدیہ پڑھتے پڑھتے جب میں ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت کو پڑھتا ہوں صفحہ ۹۰ کے حاشیہ نمبر ۱پر اور صفحہ ۱۴۹ کے حاشیہ نمبر ۱۱ پر پہنچا تو معاً میری دہریت کافور ہوگئی اور میری آنکھ ایسے کھلی جس طرح کوئی سویا ہوا یا مرا ہوا …زندہ ہو جاتا ہے۔(اخبار الحکم ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۳۸ء)
سردی کا موسم جنوری ۱۸۹۳ء کی ۱۹؍ تاریخ تھی۔ آدھی رات کا وقت تھا جب میں ’’ہونا چاہئے‘‘ اور ’’ہے‘‘ کے مقام پر پہنچا۔ پڑھتے ہی …توبہ کی۔ کورا گھڑا پانی کا بھرا باہر صحن میں پڑا تھا۔ سرد پانی سے …تہہ بند پاک کیا۔ میرا ملازم مسّٰمی منگتو سو رہا تھا وہ جاگ پڑا۔ وہ مجھ سے پوچھتا تھا کہ …کیا ہوا؟ لاچہ (تہہ بند) مجھ کو دو۔ میں دھوتا ہوں مگر میں اس وقت ایسی شراب پی چکا تھا کہ جس کا نشہ مجھے کسی سے کلام کرنے کی اجازت نہ دیتا تھا۔ آخر منگتو اپنا سارا زور لگا کر خاموش ہو گیا اور میں نے گیلا لاچہ پہن کر نماز پڑھنی شروع کی اور منگتو دیکھتا رہا۔ محویت کے عالم میں نماز اس قدر لمبی ہوئی منگو تھک کر سو گیا اور میں نماز میں مشغول رہا۔ پس یہ نماز براہین نے پڑھائی کہ بعد ازاں آج تک میں نے نماز نہیں چھوڑی۔ یہ حضرت مسیح موعودؑ کے ایک عظیم معجزہ کا اثر تھا۔ اس پر میری صبح ہوئی تو میں وہ محمد دین نہ تھاجو کل شام تک تھا۔‘‘

بیعت:

حضرت منشی جلال الدینؓ بلانی تشریف لائے تو ان سے پتہ پوچھ کر بیعت کا خط لکھ دیا اور ۵؍جون ۱۸۹۵ء کو حضرت اقدس ؑ سے دستی بیعت کی۔
خدمات:

آپ نے ریٹائر ہونے کے بعد قادیان میں سکونت اختیار کی ۔ سندھ کی زرعی زمینوں کے نگران رہے۔ تقسیم ملک کے بعد قادیان میں درویش کے طو رپر خدمات انجام دیتے رہے۔ (۱۹۳۰ء میں آپ نے خدمتِ دین کے لئے وقف ِزندگی کی تھی۔)حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر : حضرت اقدسؑ نے کتاب البریہ میں اپنی پُرامن جماعت کے ضمن میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔
وفات:

قادیان میں یکم نومبر ۱۹۵۱ء کو وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔آپ کا وصیت نمبر ۱۸۵ ہے ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء کو آپ نظام وصیت میں شامل ہوئے۔
اولاد:

آپ کی اولاد میں حضرت صوفی غلام محمدصاحبؓ۱۸۹۸ء میں پیدا ہوئے (آپ پیدائشی رفیق بانی سلسلہ تھے)آپ ناظر مال خرچ اور ناظر اعلیٰ ثانی رہے۔ حضرت صوفی صاحب کے بیٹے مکرم چوہدری مبارک مصلح الدین احمد صاحب وکیل المال ثانی اور اب بطور وکیل التعلیم تحریک جدید خدمات بجا لا رہے ہیں۔ حضرت میاں محمد دین صاحبؓ کے بیٹے ڈاکٹر غلام مصطفی مرحوم۔ چوہدری غلام مرتضیٰ مرحوم ایڈووکیٹ (سابق وکیل القانون)، چوہدری غلام یٰسین مرحوم سابق مربی امریکہ و جاپان اور انڈونیشیا رہے اور ان بھائیوں کی اولاد کو بھی خدمت سلسلہ کی توفیق ملی اور ابھی تک یہ توفیق پا رہے ہیں۔ حضرت میاں صاحب ؓ کے ایک پوتے چوہدری لطیف احمد صاحب جھمٹ ولد چوہدری غلام مرتضیٰ صاحب نے مجلس نصرت جہاں کے تحت مغربی افریقہ میں کام کیا اور آج کل وکیل المال ثالث ہیں۔ اسی طرح آپ ؓ کی بیٹی زینب بی بی (ولادت : ۳۱؍ دسمبر ۱۹۰۳ء) الحاج مولوی محمد ابراہیم صاحب خلیل سابق مبلغ اٹلی و مغربی افریقہ کی اہلیہ تھیں، ان کے بیٹوں میں سے مکرم محمد زکریا ورک صاحب کنگسٹن کینیڈااور مکرم محمد ادریس صاحب ایم اے جارجیا امریکہ میں ہیں۔

ماخذ:

(۱) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد نمبر۱۳ (۲) مضمون ’’براہین کے مطالعہ سے…‘‘ مطبوعہ روزنامہ الفضل ربوہ ۲۶؍ اپریل ۲۰۰۲ء (۳)ماہنامہ الفرقان ربوہ ’’درویشانِ قادیان نمبر‘‘ اگست۔ اکتوبر ۱۹۶۳ء صفحہ ۸۷ (۴) الفضل ۲۵ ؍جولائی ۲۰۰۱ء (۵)ماہنامہ انصار اﷲ اپریل ۱۹۷۸ء (۶) رجسٹر روایات نمبر ۷ صفحہ ۴۴۔۴۶ (۷) یادوں کے چراغ (۸) انٹرویو از مکرم چوہدری مبارک مصلح الدین احمدصاحب وکیل التعلیم تحریک جدید ربوہ۔

دیگر مواد:

درویشان قادیان نمبر ہفت روزہ بدر قادیان  29،22،15 دسمبر 2011ء

بیعت:یکم فروری۱۸۹۲ء

وفات:۵/نومبر۱۹۳۳ء

تعارف

شیخ مولا بخش رضی اﷲ عنہ سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام شیخ نبی بخش صاحب تھا۔آپ دو دروازہ سیالکوٹ میں بوٹ فروش تھے۔ابتداً اہلحدیث خیالات سے متاثر تھے۔سیالکوٹ کے بزرگان حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ، حضرت میر حامد شاہ صاحبؓ نیز حضرت مولوی برہان الدین صاحب ؓجہلمی سے رابطہ تھا اور یہ احباب شیخ صاحب کے ہاں اپنی آمدورفت رکھتے تھے۔

حضرت اقدسؑ سے تعلق

حضرت مسیح موعودؑ کے ایسے عاشق تھے کہ حضرت اقدسؑ کا کوئی جلسہ ایسا نہیں تھا جس میں شریک نہ ہوئے ہوں۔مباحثات اور مقدمات کے چشم دید واقعات سنایا کرتے تھے۔حضرت اقدسؑ کی کتابوں پر  بڑا عبور حاصل تھا۔عبارتوں کی عبارتیں ازبر تھیں۔ایک کتاب ’’بشارات احمد‘‘کے مصنف بھی تھے۔

بیعت

آپ کی بیعت یکم فروری ۱۸۹۲ء کی ہے رجسٹر بیعت کے مطابق آپ کی بیعت ۳۱۴ نمبر پر ہے۔

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر

حضرت اقدسؑ نے آپ کا ذکر آئینہ کمالات اسلام میں شمولیت       جلسہ سالانہ، تحفہ قیصریہ میں ڈائمنڈ جوبلی کے جلسہ اور سراج منیر چندہ دہندگان کے سلسلہ میں فرمایا ہے۔

وفات

آپ کی وفات۵/نومبر۱۹۳۳ء کو ہوئی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی وفات کے بعد نظام خلافت سے الگ ہوگئے اور غیر مبائعین میں شامل ہو گئے۔

ماخذ

آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد۵ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد۱۲(۳) رجسٹر بیعت اُولیٰ مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحہ ۳۵۸ (۴) یادرفتگان حصہ دوم صفحہ ۶۳ تا ۶۷

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ261،260مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

مواد از:

درویشان قادیان نمبر ہفت روزہ بدر قادیان  29،22،15 دسمبر 2011ء

1 2 3 9