skip to Main Content

حضرت سیدہ بیگم صاحبہؓ
وفات   24 نومبر 1932

 

وفات: 24/ 23 نومبر 1932ء

اہلیہ حضرت میر نواب صاحبؓ
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحبؓ سول سرجن نے ایک مفصل مضمون میں ان کے حالات زندگی شائع کئے تھے جن میں تحریر فرمایا۔ ’’والدہ صاحبہ کی شادی قریباً ۱۲۔ ۱۳ سال کی عمر میں حضرت والد صاحب کے ساتھ ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔ مجھے یاد ہے کہ وہ ہجرت کرکے قادیان ۱۸۹۴ء میں آئی تھیں اور پھر یہیں رہیں۔ مگر اس سے پہلے ہمیشہ وقتاً فوقتاً ہمارے والد صاحب ان کو قادیان اپنے ہمراہ لایا کرتے تھے یا کبھی ان کو چھوڑ جاتے پھر دوسرے پھیرے میں لے جاتے سب سے پہلے وہ قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے والد بزرگوار کی زندگی میں آئی تھیں جب میر صاحب نہر پر سب اوورسیر تھے اور کئی ماہ قادیان میں ٹھہری تھیں اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دہلی میں حضرت ام المومنینؓ کے لئے پیغام بھیجا تو میر صاحب کو انہوں نے بھی مشورہ دیا تھا کہ دیگر برادری کے لڑکوں کی نسبت تو غلام احمد (علیہ الصلٰوہ والسلام) ہی اچھا ہے چنانچہ وہ نکاح ظہور میں آگیا‘‘۔(الفضل ۲۲/ دسمبر ۱۹۳۲ء صفحہ ۹ کالم ۲۔ ۳)

(تاریخ احمدیت جلد6صفحہ85)

 

وفات: جنوری 1933ء

 صحابیات میں سے اس سال والدہ ماجدہ حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی جنوری ۱۹۳۳ء میں وفات ہوئی۔

 (الفضل ۲۷/ جون ۱۹۳۳ء صفحہ ۱۱)

 سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے آپ کی نسبت فرمایا۔ ”وہ ایک نہایت مخلص اور نیک خاتون تھیں اگر انہیں ولیہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ایمان میں ان کو قدم صدق حاصل تھا ایسی بے شر اور نیک عورتیں اس زمانہ میں کم ہی دیکھی جاتی ہیں۔”

(تاریخ احمدیت جلد6صفحہ134)

حضرت حسین بی بی صاحبہؓ
وفات   16 مئی 1938

 

بیعت: ۱۹۰۴ء

وفات: ۱۶۔ مئی ۱۹۳۸ء

والدہ ماجدہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحبؓ

نہایت عابدہ و زاہدہ اور ملہمہ خاتون تھیں۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ان کے مزار کا کتبہ اپنے قلم سے تحریر فرمایا جو یہ ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم          ۔         نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
حسن بی بی بنت چوہدری الٰہی بخش صاحب مرحوم
زوجہ حاجی چوہدری نصراللہ خان صاحب مرحوم
سال پیدائش ۱۸۶۳ء   ۔       سال بیعت ۱۹۰۴ء
تاریخ وفات ۱۶۔ مئی ۱۹۳۸ء بروز شنبہ
’’چوہدری نصراللہ خان صاحب مرحوم کی زوجہ۔ عزیزم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کی والدہ صاحبہ کشف و رؤیا تھیں۔ رؤیا کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی شناخت نصیب ہوئی اور اپنے مرحوم شوہر سے پہلے بیعت کی۔ پھر رؤیا کے ذریعہ ہی سے خلافت ثانیہ کی شناخت کی اور مرحوم خاوند سے پہلے بیعت خلافت کی۔ دین کی غیرت بدرجہ کمال تھی اور کلام حق کے پہنچانے میں نڈر تھیں۔ غرباء کی خبرگیری کی صفت سے متصف اور غریبانہ زندگی بسر کرنے کی عادی۔ نیک اور ودود والدہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اور ان کے شوہر کو جو نہایت مودب مخلص خادم سلسلہ تھے اپنے انعامات سے حصہ دے اور اپنے قرب میں جگہ دے اور ان کی اولاد کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین۔
مرزا بشیر الدین محمود احمد‘‘
( اصحاب احمد جلد یازدہم مولفہ صلاح الدین صاحب ملک ایم۔ اے قادیان دسمبر ۱۹۶۲ء صفحہ ۳۔ ۴)

(تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 642-643)

حضرت سید نصرت جہاں بیگمؓ کا انتقال

مسیح محمدی علیہ السلام کے یوم وصول ۔۔ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ ۔۔ کی طرح ۲۱۔۲۰ اپریل ۱۹۵۲ء کی درد بھری را ت بھی سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔ یہ وہ رات تھی جس میں جماعت احمدیہ اور مہدی موعودؑ کے درمیان وہ زندہ واسطہ جو حضرت ام المومنین سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے مقدس وجود کی شکل میں اب تک باقی تھا آپ کی وفات کے ساتھ ہمیشہ کے لئے منقطع ہوگیا۔

علالت

حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم حرم مسیح پاکؑ قریباً دو ماہ سے بیمار تھیں۔ ڈاکٹری تشخیص کے مطابق گردوں کے فعل میں نقص پیدا ہوجانے سے بیماری کا آغاز ہوا اور پھر اس کا اثر دل پر اور تنفس پر پڑنا شروع ہوا۔ بیماری کے حملے وقتاً فوقتاً بڑی شدت اختیار کرتے رہے لیکن آپ نے ان تمام شدید حملوں میں نہ صرف کامل صبر و شکر کا نمونہ دکھایا بلکہ بیماری کا بھی نہایت ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اس عرصہ میں لاہور سے علی الترتیب ڈاکٹر کرنل ضیاء اللہ صاحب، ڈاکٹر غلام محمدصاحب بلوچ اور ڈاکٹر محمد یوسف صاحب علاج کے لئے بلائے جاتے رہے۔ ان کے ساتھ مکرم ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب بھی ہوتے تھے لیکن وقتی افاقہ کے سوا بیماری میں کوئی تخفیف کی صورت پیدا نہ ہوئی۔ اس کے بعد حکیم محمد حسن صاحب قرشی کو بھی بلا کر دکھایا گیا جن کے ساتھ حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسیٰ بھی تھے لیکن ان کے علاج سے بھی کوئی تخفیف کی صورت پیدا نہ ہوئی۔ مقامی طور پر ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب بھی معالج تھے جن کے ساتھ بعد میں حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب بھی شامل ہوگئے اور چند دن کے لئے درمیان میں ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا مبشر احمد صاحب نے بھی علاج میں حصہ لیا۔ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبارک خواتین اور نونہال نہایت تندہی کے ساتھ خدمت میں لگے رہے۔ بالآخر ۲۰ شہادت ۱۳۳۱ ہش/۲۰ اپریل ۱۹۵۲ء کی صبح کو ساڑھے تین بجے کے قریب دل میں ضعف کے آثار پیدا ہوئے جو فوری علاج کے نتیجہ میں کسی قدر کم ہوگئے مگر دن بھر دل کی کمزوری کے حملے ہوتے رہے۔ اس عرصہ میں حضرت سیدہ کے ہوش و حواس خدا کے فضل سے اچھی طرح قائم رہے۔ صرف کبھی کبھی عارضی غفلت سی آتی تھی۔ جو جلد دور ہوجاتی تھی۔ رات پونے نو بجے آپ نے دل میں زیادہ تکلیف محسوس کی اور اس  کے ساتھ ہی نظام تنفس میں خلل آنا شروع ہوگیا اور نبض کمزور پڑنے لگی۔ ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نے خود ہی ٹیکے وغیرہ لگائے مگر کوئی افاقہ کی صورت پیدا نہ ہوئی۔ اس وقت حضرت اماں جانؓ نے اپنی زبان مبارک سے فرمایا کہ قرآن شریف پڑھو چنانچہ حضرت میر محمد اسحٰق صاحبؓ کے چھوٹے صاحبزادے میرمحمود احمد صاحب(حال پروفیسر جامعہ احمدیہ)نے قرآن شریف پڑھ کر سنایا۔ اس وقت حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے آپ نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا دعا کریں، چنانچہ حضور بعض قرآنی دعائیں کسی قدر اونچی آواز سے دیر تک پڑھتے رہے۔ اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خود حضرت اماں جان مصروف دعا ہیں۔ آپ کی نبض اس وقت بے حد کمزور ہوچکی تھی بلکہ اکثر اوقات محسوس تک نہیں ہوتی تھی لیکن ہوش و حواس بدستور قائم تھے اور کبھی کبھی آنکھیں کھول کر اپنے اردگرد نظر ڈالتی تھیں اور آنکھوں میں شناخت کے آثار بھی واضح طور پر موجود تھے۔

حضرت امیر المومنینؓ تھوڑے وقفہ کے لئے باہر تشریف لے گئے تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ، حضرت سیدہ کے سامنے بیٹھ کر دعائیں کرتے رہے۔ اس  وقت بھی آپ آنکھ کھول کر دیکھتی تھیں اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دعا میں مصروف ہیں۔ دیگر عزیز بھی چارپائی کے اردگرد موجود تھے اور اپنے اپنے رنگ میں دعائیں کرتے اور حسب ضرورت خدمت بجالاتے تھے۔

سوا گیارہ بجے شب کے بعد آپ نے اشارۃکروٹ بدلنے کی خواہش ظاہر فرمائی لیکن کروٹ بدلتے ہی نبض کی حالت زیادہ مخدوش ہوگئی اور چند منٹ کے بعد تنفس زیادہ کمزور ہونا شروع ہوگیا۔

وفات

بالآخر ساڑھے گیارہ بجے شب آپ کی روح اپنے مولائے حقیقی کے حضور پہنچ گئی۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

بلانے والا ہے سب سے پیارا     اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر

وفات کے وقت آپ کی مبشر اولاد میں سے حضرت امیر المومنین المصلح الموعودؓ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ، حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ اور حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہؓ آپ کے پاس موجود تھے۔ حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ چند روز قبل ربوہ آکر لاہور واپس تشریف لے گئے تھے اور وفات کی خبر پانے کے بعد ربوہ پہنچے۔

(روزنامہ الفضل لاہور23شہادت1331ہش  مطابق23اپریل1952ء صفحہ2)

بیرونی احباب کو اطلاع

خاندانِ مسیح موعود ؑ کے دیگر افراد اور جملہ امراء جماعت کو اس اندوہناک حادثہ کی فی الفور اطلاع بذریعہ ایکسپریس تاردیدی گئی۔تار کے الفاظ یہ تھے:۔

MUMENEEN۔ UMMUL “HAZRAT

PASSED   AWAY ELEVEN THIRTY

INNALILLAH   ۔TONIGHT

”         JANAZA 5 A.M TUESDAY MORNING

(ترجمہ) ربوہ ۲۱۔۲۰ اپریل )سوا بارہ بجے شب( حضرت ام المومنینؓ آج شب ساڑھے گیارہ بجے انتقال فرما گئیں۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ نماز جنازہ منگل کو صبح پانچ بجے ادا کی جائے گی۔

ریڈیو خبر

صبح سوا آٹھ بجے ریڈیو پاکستان لاہور نے حضرت سیدہ ممدوحہؓ کی وفات کی خبر حسب ذیل الفاظ میں نشر کی:۔

’’ہم افسوس سے اعلان کرتے ہیں کہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی زوجہ محترمہ گزشتہ رات ساڑھے گیارہ بجے ربوہ میں انتقال کر گئیں۔ آپ جماعت احمدیہ کے موجودہ امام مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی والدہ ہیں۔ جنازہ کل (صبح) ۵ بجے ربوہ میں ہوگا۔‘‘

(روزنامہ الفضل لاہور ۔21شہادت1331ہش صفحہ1)

 تکفین

آپ ایک تھان قادیان دارالامان سے بوقت ہجرت ساتھ لائی ہوئی تھیں اور اکثر فرمایا کرتی تھیں کہ میں نے اسے اپنے کفن کے لئے رکھا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں حضرت مہدی معہود و مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ایک متبرک کرتہ بھی ململ کا آپ نے محفوظ رکھا ہوا تھا چنانچہ غسل کے بعد پہلے یہ مبارک کرتہ اور پھر کفن پہنایا گیا۔

ہزاروں احمدیوں کی ربوہ میں مضطر بانہ آمد

حضرت امام ہمام سیدنا المصلح الموعود ؓ نے ارشاد فرمایا کہ جنازہ22۔اپریل کی صبح کو ہو تاکہ دوست زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوسکیں۔چنانچہ 22اپریل کی صبح تک ملک کے چاروں اطراف سے ہزاروں کی تعداد میں احمدی مردوزن ربوہ میں پہنچ چکے تھے اور پشاور سے لیکر کراچی تک کی جماعتوں کے نمائندے موجود تھے۔21اپریل کی شام کو حضرت سیدہ کی نعش مبارک کی زیارت کا موقع مستورات کو دیا گیا۔قریباً ڈیڑھ ہزار مستورات نے زیارت کا شرف حاصل کیا اور ابھی ایک بڑی تعداد باقی رہ گئی۔

جنازہ اور تدفین کا دردناک منظر

حضرت سیدہ کا جنازہ اندرون خانہ سے اٹھا کر چھ بجکر ایک منٹ پر تابوت میں باہر لایا گیا۔ اس وقت خاندان مسیح موعودؑ کے زخم رسیدہ جگر گوشے اسے تھامے ہوئے تھے۔ تابوت کو ایک چارپائی پر رکھ دیا گیا جس کے دونوں طرف لمبے بانس بندھے ہوئے تھے۔ اس وقت تک ملک کے کونے کونے سے ہزاروں احمدی مردوزن پہنچ چکے تھے جو اپنی مادر مشفق کے لئے سوز و گداز سے دعائیں کرنے میں مصروف تھے۔ چھ بجکر پانچ منٹ پر جنازہ اٹھایا گیا جب کہ سیدنا حضرت امیر المومنین المصلح الموعود،ؓ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے متعدد دیگر افراد جنازے کو کندھا دے رہے تھے اور ساتھ ساتھ قرآن مجید اور احادیث نبویہ کی دعائیں بعض اوقات خاموشی کے ساتھ اور بعض اوقات کسی قدر بلند آواز سے دہرا رہے تھے۔

چونکہ احباب بہت بڑی تعداد میں آچکے تھے اور ہر دوست کندھا دینے کی سعادت حاصل کرنے کا متمنی تھا اس لئے رستے میں یہ انتظام کیا گیا کہ اعلان کر کے باری باری مختلف دوستوں کو کندھا دینے کا موقع دیا جائے- چنانچہ صحابہ مسیح موعود، امرائے صوبجات اضلاع یا ان کے نمائندگان ،بیرونی ممالک کے مبلغین،غیر ملکی طلباء ،کارکنان صدر انجمن احمدیہ و تحریک جدید،مدارس،مجالس خدام الاحمدیہ و انصار اللہ کے نمائندگان اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کے علاوہ مختلف مقامات کی جماعتوں نے بھی وقفے وقفے سے جنازہ کو کندھا دینے کی سعادت حاصل کی۔ سیدنا حضرت امیر المومنین،حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض افراد نے شروع سے آخر تک کندھا دیئے رکھا۔

چھ بج کر چھپن منٹ پر تابوت جنازہ گاہ میں پہنچ گیا، جو موصیوں کے قبرستان کے ایک حصہ میں مولانا جلال الدین صاحب شمسؓ اور مکرم میاں غلام محمد صاحب اختر کی مساعی سے قبلہ رخ خطوط لگا کر تیار کی گئی تھی صفوں کی درستی اور گنتی کے بعد سات بج کر پانچ منٹ پر سیدنا حضرت امیر المومنین مصلح موعودؓ نے نماز جنازہ شروع فرمائی جو سات بجر کر سترہ منٹ تک جاری رہی۔ نماز میں رقت کا ایک ایسا عالم طاری تھا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

نمازہ جنازہ کے بعد تابوت مجوزہ قبر تک لے جایا گیا جہاں اماں جانؓ کو امانتاً دفن کرناتھا۔ قبر کے لئے حضورؓ کے منشاء کے ماتحت قبرستان موصیاں ربوہ کا ایک قطعہ مخصوص کردیا گیا تھا۔ ہجوم بہت زیادہ تھا اس لئے نظم و ضبط کی خاطر مجوزہ قبر کے اردگرد ایک بڑا حلقہ قائم کردیا گیا جس میں جماعت کے مختلف طبقوں کے نمائندگان کو بلا لیا گیا چنانچہ صحابہ کرام،مختلف علاقوں کے امراء ،افسران صیغہ جات، بیرونی مبلغین،غیر ملکی طلباء اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کو اس حلقہ میں بلا کر شمولیت کا موقع دیا گیا۔

پونے آٹھ بجے تابوت کو قبر میں اتارا گیا۔ اس وقت سیدنا حضرت مصلح موعودؓ اور تمام حاضر الوقت اصحاب نہایت رقت اور سوز و گذار کے ساتھ دعاؤں میں مصروف تھے۔ رقت کا یہ سماں اپنے اندر ایک خاص روحانی کیفیت رکھتا تھا۔

تابوت پر چھت ڈالنے کے بعد حضرت امیر المومنین  نے ۸ بجکر ۲۲ منٹ پر قبر پر اپنے دست مبارک سے مٹی ڈالی جس کی تمام احباب نے اتباع کی۔ جب قبر تیار ہوگئی تو حضور نے پھر مسنون طریق پر مختصر دعا فرمائی۔

نماز جنازہ میں شرکت کرنے والے احباب کا اندازہ نامہ نگار الفضل کی رائے کے مطابق چھ سات ہزار تھا جو پاکستان کے ہر علاقہ اور ہر گوشہ سے تشریف لائے تھے- علاوہ ازیں پندرہ سولہ وہ غیر ملکی طلباء بھی شامل تھے جو دنیا کے مختلف حصوں سے دین سیکھنے اور خدمت دین میں اپنی زندگی بسر کرنے کے لئے ربوہ آئے ہوئے تھے ان غیر ملکی طلبہ میں چین،جاوا،سماٹرا،ملایا، برما، شام، مصر، سوڈان، حبشہ، مغربی افریقہ، جرمنی، انگلستان اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے طلبہ شامل تھے۔

(روزنامہ الفضل لاہور 23شہادت1351ہش مطابق23اپریل1952ء صفحہ1-2)

ریڈیو میں خبر

اگلے روز ریڈیو پاکستان سے ۲۲ اپریل ۵۲ء بوقت ۵ بج کر ۲۰ منٹ شام حسب ذیل خبر نشر کی گئی:۔

’’آج ربوہ میں سلسلہ احمدیہ کےبانی مرزا غلام احمد صاحب کی اہلیہ محترمہ سیدہ نصرت جہاں بیگم کو سپرد خاک کردیا گیا۔ ان کی وفات کل (۲۰ اپریل بروز اتوار) ربوہ میں ہوئی تھی۔ ایک بڑے مجمع نے جنازہ میں شرکت کی۔ نماز جنازہ ان کے بڑے صاحبزادےمرزا بشیر الدین محمود احمدصاحب نے پڑھائی۔ آپ سلسلہ احمدیہ کےموجودہ امام ہیں۔‘‘

پریس میں اطلاعات

پاکستانی پریس نے حضرت سید موصوفہ کی وفات پر اطلاعات شائع کیں- اس سلسلہ میں لاہور کے اخبارات میں سے احسان، آفاق، خاتون، امروز، سول اینڈ ملٹری گزٹ اور پاکستان ٹائمز خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

1۔چنانچہ روزنامہ’’احسان‘‘ (لاہور) نے24اپریل1952ء کو لکھا :۔

’’مرزا غلام احمد کی بیوہ ربوہ میں دفن کردی گئیں

لاہور ۲۲ اپریل۔ بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد کی اہلیہ نصرت جہاں بیگم کو آج صبح ربوہ میں سپرد خاک کردیا گیا۔ آپ نے اتوار کی شب کو ربوہ ہی میں انتقال کیا تھا۔ (نامہ نگار)‘‘

2۔ روزنامہ ’’آفاق‘‘ لاہور (مورخہ ۲۴ اپریل ۱۹۵۲ء) کی خبر:۔

’’بانی احمدیت کی بیوہ کا انتقال

لاہور ۲۲ اپریل- مرزا غلام احمد قادیانی بانی فرقہ احمدیت کی بیوہ نصرت جہاں بیگم کا پرسوں شب ۸۶ برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ نصرت جہاں بیگم احمدی فرقہ کے موجودہ خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کی والدہ تھیں۔ ان کی تدفین آج ربوہ میں ہوگئی۔ (۱-پ)‘‘

3۔روزنامہ ’’خاتون‘‘ لاہور نے ۲۴ اپریل ۱۹۵۲ء کی اشاعت میں بعنوان ’’مرزا بشیر الدین کی والدہ کا انتقال‘‘ لکھا :۔

’’لاہور ۲۲ اپریل۔ بانی سلسلہ احمدیہ (حضرت) مرزا غلام احمد صاحب کی اہلیہ سیدہ نصرت جہاں بیگم کو آج صبح ربوہ میں سپرد خاک کردیا گیا۔ آپ نے اتوار کی شب کو ربوہ ہی میں وفات پائی تھی۔ نماز جنازہ آپ کے بڑے صاحبزادے مرزا بشیر الدین صاحب امام جماعت احمدیہ نے پڑھائی۔‘‘

4۔روزنامہ ’’امروز‘‘لاہور (۲۴ اپریل ۱۹۵۲ء)کے نامہ نگار نے لکھا:۔

’’بانی جماعت احمدیہ کی زوجہ محترمہ سپرد خاک کردی گئیں

لاہور ۲۲ اپریل – مرزا غلام احمد بانی جماعت احمدیہ کی اہلیہ محترمہ حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم کو جو اتوار کی شب وفات پاگئی تھیں آج صبح ربوہ میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ آپ کے بڑے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ نے پڑھائی، جس میں ہزارہا افراد نے شرکت کی۔

مرحومہ کو احمدیہ جماعت میں کافی بلند مقام حاصل تھا۔ مقاصد کی تکمیل میں نصف صدی سے زائد عرصہ تک سرگرم عمل رہیں۔‘‘

5- اخبار ’’دی سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ (۲۳ اپریل ۱۹۵۲ء) کی خبر کا متن یہ تھا:۔

MIRZA GHULAM AHMAD’S WIDOW

LAID TO REST

(From a Caorrespondent)

Rabwah.April 22-The Body of Sayyeda Nusrat Jahan Begum widow of late Ghulam Ahmad, founder of the Ahmadiyya Movement who breathed her last on Sunday night was laid to rest this morning at Rabwah.

The Funeral prayer was led by her eldest son,Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad,the present Head of the community and was attended by several thousand people from all classes of society.Besides members of the Ahmadiyya community from various parts of the country,a large number of the general public reached Rabwah to join the funeral.

The deceased lady was held in high esteem in the Ahmadiyya community for her association for over half a Ahmadiyya Movement.Condolence messagees are pouring in from all parts of Pakistan India and the word including Indonesia,the Middle East,Europe and America where the follower of the movement are spread.

(ترجمہ) )(حضرت) مرزا غلام احمدصاحب کی بیوہ کو سپرد خاک کردیا گیا۔

ربوہ ۲۲ اپریل سیدہ نصرت جہاں بیگم جو مرزا غلام احمد بانی سلسلہ احمدیہ کی بیوہ تھی گزشتہ اتوار کی رات کو وفات پاگئیں اور اور آج صبح انہیں ربوہ میں سپرد خاک کردیا گیا۔ آپ کی نماز جنازہ ان کے سب سے بڑے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود احمد جو کہ جماعت کے موجودہ سربراہ ہیں نے پڑھائی اور جنازہ میں جماعت کے ہر طبقہ کے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے جماعت احمدیہ کے ممبران کے علاوہ دوسرے لوگ بھی کثیر تعداد میں نماز جنازہ میں شرکت کے لئے ربوہ پہنچے۔مرحومہ کا اپنے شوہر محترم کے کام کے ساتھ نصف صدی سے زائد تعلق کی وجہ سے بہت بلند مقام تھا۔ پاک و ہند کے ہر حصے سے اور دنیا کے دیگر ممالک مثلاً انڈونیشیاء شرق اوسط ، یورپ اور امریکہ سے جہاں جہاں بھی جماعت کے ممبران موجود ہیں تعزیتی پیغامات موصول ہورہے ہیں۔

6۔اخبار ’’دی پاکستان ٹائمز‘‘ )۲۳ اپریل ۱۹۵۲ء( نے حسب ذیل الفاظ میں خبر دی:۔

MIRZA GHULAM AHMAD BEGUM

LAID TO REST

The body of Sayyeda Nusrat Jahan Begum,the consort of late Mirza Ghulam Ahmad,the Founder of the Ahmadiyya Movement,whose sad demise took place on Sunday night,was laid to rest on Tuesday morning at Rabwah.

The funeral prayer was led by her eldest son,Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad,the present Head of the community and was attended by several thousand people belonging to all classes of society,Not only devoted members of the Ahmadiyya Community from various parts of the country flocked to the headquarter but also a large number of well-wishers and relations joined the burial rites.

(ترجمہ) بیگم (حضرت) مرزا غلام احمد صاحب کو سپرد خاک کردیا گیا۔

سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ زوجہ محترمہ مرزا غلام احمد بانی سلسلہ احمدیہ کو جو اتوار کی شب کو فوت ہوگئی تھیں منگل کی صبح ربوہ میں سپرد خاک کردیا گیا۔نماز جنازہ آپ کے سب سے بڑے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ نے پڑھائی جس میں جماعت کے ہر طبقہ کے ہزاروں افراد شریک ہوئے۔تجہیز و تکفین کی رسومات میں شریک ہونے کے لئے نہ صرف جماعت احمدیہ کی مخلصین ہی تشریف لائے بلکہ دوسرے بہی خواہان اور متعلقین بھی کثیر تعداد میں حاضر ہوئے۔

تعزیتی تاریں اور خطوط

حضرت ام المومنینؓ کی وفات حسرت آیات پر جماعت کے مخلصین کی طرف سے جن میں صحابی بھی شامل تھے، اور غیر صحابی بھی ،بچے بھی شامل تھے اور بوڑھے بھی ، عورتیں بھی شامل تھیں اور مرد بھی ، خاندان مسیح موعود کے مختلف افراد کے نام بے شمار تار (محکمہ تار نے تاروں کی کثرت دیکھ کر حضرت سیدہ کی بیماری کے ایام ہی سے ایک اور سگنیلرعارضی طور پر ربوہ میں متعین کر دیا تھا۔(الفضل 23شہادت1331ہش) اور خطوط پہنچے- یہ ہمدردی کے پیغامات نہ صرف۔ مغربی اور شرقی پاکستان کے ہر حصہ سے بلکہ قادیان اور دلی اور لکھنئو اور حیدر آباد اور مالیر کوئلہ اور مونگھیر اور کلکتہ اور بمبئی اور مدراس اور ہندوستان کے دوسرے حصوں اور بلاد عربی اور براعظم ایشیا اور افریقہ اور یورپ اور امریکہ کے مختلف ملکوں سے اس طرح چلے آرہے تھے جس طرح ایک قدرتی نہر اپنے طبعی بہاؤ میں بہتی چلی جاتی ہے۔ اور پھر ان اصحاب میں صرف ہماری جماعت کے دوست ہی شامل نہیں تھے۔ بلکہ غیر مبائع اور غیر احمدی اور غیر مسلم سب طبقات کے لوگ شامل تھے۔ اظہار ہمدردی کے لئے بعض غیر احمدی معززین اور غیر مبائع اصحاب مثلاً مرزا مسعود بیگ صاحب لاہور سے اور مکرم عبداللہ جان صاحب پشاور سے ربوہ تشریف لائے۔(روزنامہ الفضل لاہور،30شہادت1331ہش صفحہ4)

حضرت ام المومنین ؓ کا مقام سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کی نظر میں

سیدنا حضرت مصلح موعودؓ حضرت ام المومنینؓ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔

’’اس سال احمدیت کی تاریخ کا ایک بہت ہی اہم واقعہ ہوا ہے اور وہ ہے حضرت ام المومنینؓ کی وفات۔ ان کا وجود ہمارے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درمیان میں ایک زنجیر کی طرح تھا اولاد کے ذریعے بھی ایک تعلق اور واسطہ ہوتا ہے مگر وہ اور طرح کا ہوتا ہے۔ اولاد کو ہم ایک درخت کا پھول تو کہہ سکتے ہیں مگر اسے اس درخت کا اپنا حصہ نہیں کہا جاسکتا۔ پس حضرت ام المومنینؓ ہمارے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درمیان ایک زندہ واسطہ تھیں اور یہ واسطہ ان کی وفات سے ختم ہوگیا۔ پھر حضرت ام المومنینؓ کے وجود کی اہمیت عام حالات سے بھی زیادہ تھی کیونکہ ان کے متعلق خدا تعالیٰ نے قبل از وقت بشارتیں اور خبریں دیں۔ چنانچہ انجیل میں آنے والے مسیح کو آدم کہا گیا ہے۔ اس  میں یہ بھی اشارہ تھا کہ جس رنگ میں حوا آدم کی شریک کا تھیں اسی طرح مسیح موعودؑ کی بیوی بھی اس کی شریک کار ہوگی۔ پھر رسول کریمﷺ کی حدیث ہے کہ آنے والا مسیح شادی کرے گا اور اس کی اولاد ہوگی۔ اب شادی تو ہر نبی کرتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اس خبر میں یہی اشارہ تھا کہ اس کی بیوی کو یہ خصوصیت حاصل ہوگی کہ وہ اس کے کام میں اس کی شریک ہوگی۔ اسی طرح دلی میں ایک مشہور بزرگ خواجہ میر ناصر گزرے ہیں ان کے متعلق آتا ہے کہ ان کے پاس کشف میں حضرت امام حسنؓ تشریف لائے اور انہوں نے ایک روحانیت کی خلعت دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ تحفہ ایسا ہے جس میں تم مخصوص ہو۔ اس کی ابتداء تم سے کی جاتی ہے اور اس کا خاتمہ مہدی کے ظہور پر ہوگا۔ چنانچہ یہ کشف اس طرح پورا ہوا کہ آپ کی ہی اولاد میں سے حضرت ام المومنین کا وجود پیدا ہوا۔ یہ کشف خواجہ ناصر نذیر فراق کے بیٹے خواجہ ناصر خلیق نے اپنی کتاب میخانہ درد (صفحہ۲۵) میں درج کیا ہے۔‘‘

(متن کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد2صفحہ53)(الفضل 31فتح1331  /  31دسمبر1952ء صفحہ4)

حضرت سیدہ کے شمائل و اخلاق اور بلند سیرت

حضرت ام المومنینؓ کے شمائل و اخلاق اور بلند سیرت کے متعلق سب سے جامع اور سب سے زیادہ مختصر کلام وہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زبان مبارک پر خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہوا یعنی  اذکر نعمتی رائیت خدیجتی ھذا من رحمۃ ربک (الحکم24اگست1900ء صفحہ10بحوالہ تذکرہ صفحہ377ایڈیشن سوم) میری نعمت کو یاد کر کہ تو نے میری خدیجہ کو دیکھا یہ تیرے رب کی رحمت ہے۔

اس مختصر فقرہ کی کسی قدر تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ اور حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے الفاظ میں دی جاتی ہے۔

۱- حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ فرماتے ہیں-:

دوامتیازی خصوصیات

’’حضرت اماں جانؓ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ان کی شادی خاص الٰہی تحریک کے ماتحت ہوئی تھی۔ اور دوسرا امتیاز یہ حاصل ہے کہ یہ شادی ۱۸۸۴ء میں ہوئی۔ اور یہی وہ سال ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دعویٰ مجددیت کا اعلان فرمایا تھا اور پھر سارے زمانہ ماموریت میں حضرت اماں جان مرحومہ مغفورہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رفیقہ حیات رہیں اور حضرت مسیح موعود انہیں انتہاء درجہ محبت اور انتہاء درجہ شفقت کی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کی بے حد دلدادی فرماتے تھے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ زبردست احساس تھا کہ یہ شادی خدا کے خاص منشاء کے ماتحت ہوئی ہے اور یہ کہ حضور کی زندگی کے مبارک دور کے ساتھ حضرت اماں جان کو مخصوص نسبت ہے۔ چنانچہ بعض اوقات حضرت اماں جان بھی محبت اور ناز کے انداز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کرتی تھیں کہ میرے آنے کے ساتھ ہی آپ کی زندگی میں برکتوں کا دور شروع ہوا ہے جس پر حضرت مسیح موعودؑ مسکرا کر فرماتے تھے کہ ’’ہاں یہ ٹھیک ہے۔‘‘ دوسری طرف حضرت اماں جان بھی حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق کامل محبت اور کامل یگانگت کے مقام پر فائز تیں اور گھر میں یوں نظر آتا تھا کہ گویا دو سینوں میں ایک دل کام کررہا ہے۔

حضرت اماں جانؓ کے اخلاق فاضلہ اور آپ کی نیکی اور تقویٰ کو مختصر الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں مگر اس جگہ میں صرف اشارہ کے طور پر نمونتاً چند باتوں کے ذکر پر اکتفا کرتا ہوں۔

عبادات میں شغف

آپ کی نیکی اور دینداری کا مقدم ترین پہلو نماز اور نوافل میں شغف تھا۔ پانچ فرض نمازوں کا تو کیا کہنا ہے حضرت اماں جان نماز تہجد اور نماز ضحیٰ کی بھی بے حد پابند تھیں اور انہیں اس ذوق و شوق سے ادا کرتی تھیں کہ دیکھنے والوں کے دلوں میں بھی ایک خاص کیفیت پیدا ہونے لگتی تھی۔ بلکہ ان نوافل کے علاوہ بھی جب موقعہ ملتا تھا نماز میں دل کا سکون حاصل کرتی تھیں۔ میں پوری بصیرت کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آنحضرتﷺ )فداہ نفسی( کی یہ پیاری کیفیت کہ  جعلت قرہ عینی فی الصلوۃ(نسائی باب النساء ۔مسند احمد بن حنبل جلد3صفحہ128-199-285) )یعنی میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے( حضرت اماں جان کو بھی اپنے آقا سے ورثے میں ملی تھی۔

پھر دعا میں بھی حضرت اماں جان کو بے حد شغف تھا۔ اپنی اولاد اور دوسرے عزیزوں بلکہ ساری جماعت کے لئے جسے وہ اولاد کی طرح سمجھتی تھیں بڑے دردو سوز کے ساتھ دعا فرمایا کرتی تھیں اور اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے ان کے دل میں غیر معمولی تڑپ تھی۔

اولاد کے متعلق حضرت اماں جان کی دعا کا نمونہ ان اشعار سے ظاہر ہے جو حضرت مسیح موعودؑ نے اماں جان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کی طرف سے اور گویا انہی کی زبان سے فرمائے۔ خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے آپؑ عرض کرتے ہیں ۔

کوئی ضائع نہیں ہوتا جو تیرا طالب ہے

کوئی رسوا نہیں ہوتا جو ہے جویاں تیرا

آسماں پر سے فرشتے بھی مدد کرتے ہیں

کوئی ہوجائے اگر بندہ فرماں تیرا

اس  جہاں میں ہی وہ جنت میں ہے بے ریب و گماں

وہ جو ایک پختہ توکل سے ہے مہماں تیرا

میری اولاد کو تو ایسی ہی کردے پیارے

دیکھ لیں آنکھ سے وہ چہرہ نمایاں تیرا

عمردے ، رزق دے، اور عافیت و صحت بھی

سب سے بڑھ کر یہ کہ پاجائیں وہ عرفاں تیرا

 

اپنی ذاتی دعاؤں میں جو کلمہ حضرت اماں جانؓ کی زبان پر سب سے زیادہ آتا تھا وہ یہ مسنون دعا تھی کہ :۔

یاحیی یا قیوم برحمتک استغیث

یعنی اے میرے زندہ خدا اور میرے زندگی بخش آقا! میں تیری رحمت کا سہارا ڈھونڈتی ہوں یہ وہی جذبہ ہے جس کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ شعر فرمایا ہے کہ

تیری رحمت ہے میرے گھر کا شہتیر

مری جاں تیرے فضلوں کی پنہ گیر

مالی جہاد میں شمولیت

جماعتی چندوں میں بھی حضرت اماں جانؓ بڑے ذوق و شوق سے حصہ لیتی تھیں اور تبلیغ اسلام کے کام میں ہمیشہ اپنی طاقت سے بڑھ کر چندہ دیتی تھیں۔ تحریک جدید کا چندہ جس سے بیرونی ممالک میں اشاعت اسلام کا کام سرانجام پاتا ہے اس کے اعلان کے لئے ہمیشہ ہمہ تن منتظر رہتی تھیں اور اعلان ہوتے ہی بلا توقف اپنا وعدہ لکھا دیتی تھیں بلکہ وعدہ کے ساتھ ہی نقد ادائیگی بھی کردیتی تھیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں وعدہ جب تک ادا نہ ہوجائے دل پر بوجھ رہتا ہے۔ دوسرے چندوں میں بھی یہی ذوق و شوق کا عالم تھا۔

صدقہ و خیرات

صدقہ و خیرات اور غربیوں کی امداد بھی حضرت اماں جاں نور اللہ مرقدھا کا نمایاں خلق تھا اور اس میں وہ خاص لذت پاتی تھیں اور اس کثرت کے ساتھ غریبوں کی امداد کرتی تھیں کہ یہ کثرت بہت کم لوگوں میں دیکھی گئی ہے۔ جو شخص بھی ان کے پاس اپنی مصیبت کا ذکر لے کر آتا تھا حضرت اماں جان اپنے مقدور سے بڑھ کر اس کی امداد فرماتی تھیں اور کئی دفعہ ایسے خفیہ رنگ میں مدد کرتی تھیں کہ کسی اور کو پتہ تک نہیں چلتا تھا۔ اسی ذیل میں ان کا یہ طریق بھی تھا کہ بعض اوقات یتیم بچوں اور بچیوں کو اپنے مکان پر بلا کر کھانا کھلاتی تھیں اور بعض اوقات ان کے گھروں پر بھی کھانا بھجوا دیتی تھیں۔ ایک دفعہ ایک واقف کار شخص سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ کو کسی ایسے شخص )احمدی یا غیر احمدی، مسلم یا غیر مسلم( کا علم ہے جو قرض کی وجہ سے قید بھگت رہا ہو )اوائل زمانے میں ایسے سول(CIVIL) قیدی بھی ہوا کرتے تھے( اور جب اس نے لاعلمی کا اظہار کیا تو فرمایا کہ تلاش کرنا، میں اس کی مدد کرنا چاہتی ہوں تا قرآن مجید کے اس حکم پر عمل کرسکوں کہ معذور قیدیوں کی مدد بھی کار ثواب ہے۔

قرض  سے مدد

قرض مانگنے والوں کو فراخدلی کے ساتھ قرض بھی دیتی تھیں مگر یہ دیکھ لیتی تھیں کہ قرض مانگنے والا کوئی ایسا شخص تو نہیں جو عادی طور پر قرض مانگا کرتا ہے اور پھر قرض کی رقم واپس نہیں کرتا ایسے شخص کو قرض دینے سے پرہیز کیا کرتی تھیں تاکہ اس کی یہ بری عادت ترقی نہ کرے مگر ایسے شخص کو بھی حسب گنجائش امداد دے دیا کرتی تھیں۔ ایک دفعہ میرے سامنے ایک عورت نے ان سے کچھ قرض مانگا اس وقت اتفاق سے حضرت اماں جان کے پاس اس قرض کی گنجائش نہیں تھیں مجھ سے فرمانے لگیں ’’میاں! (وہ اپنے بچوں کو اکثر میاں کہہ کر پکارتی تھیں) تمہارے پاس اتنی رقم ہو تو اسے قرض دے دو یہ عورت لین دین میں صاف ہے۔‘‘ چنانچہ میں نے مطلوبہ رقم دیدی اور پھر اس غریب عورت نے تنگدستی کے باوجود عین وقت پر اپنا قرض واپس کردیا جو آج کل کے اکثر نوجوانوں کے لئے قابل تقلید نمونہ ہے۔

یتامیٰ کی پرورش و تربیت

حضرت اماں جان نور اللہ مرقدھا کو اسلامی احکام کے ماتحت یتیم بچوں کی پرورش اور تربیت کا بھی بہت خیال رہتا تھا میں نے جب سے ہوش سنبھالا ان کے سایہ عاطفت میں ہمیشہ کسی نہ کسی یتیم لڑکی یا لڑکے کو پلتے دیکھا اور وہ یتیموں کو نوکروں کی طرح نہیں رکھتی تھیں بلکہ ان کے تمام ضروری اخراجات برداشت کرنے کے علاوہ ان کے آرام و آسائش اور ان کی تعلیم و تربیت اور ان کے واجب اکرام اور عزت نفس کا بھی بہت خیال رکھتی تھیں۔ اس طرح ان کے ذریعہ بیسیوں یتیم بچے جماعت کے مفید وجود بن گئے۔ بسا اوقات اپنے ہاتھوں سے یتیموں کی خدمت کرتی تھیں مثلاً یتیم بچوں کو نہلانا، ان کے بالوں کو کنگھی کرنا اور کپڑے بدلوانا وغیرہ وغیرہ مجھے یقین ہے کہ حضرت اماں جاں رسولﷺ کی اس  بشارت سے انشاء اللہ ضرور حصہ پائیں گی کہ انا و کافل الیتیم کھاتین (بخاری (کتاب الطلاق ،کتاب الادب)مسلم (کتاب الزہد)’’یعنی قیامت کے دن میں اور یتیموں کی پرورش کرنے والا شخص اس طرح اکٹھے ہوں گے جس طرح کہ ایک ہاتھ کی دو انگلیاں باہم پیوست ہوتی ہیں۔

مہمان نوازی

مہمان نوازی بھی حضرت اماںجانؓ کے اخلاق کا طرہ امتیاز تھا۔ اپنے عزیزوں اور دوسرے لوگوں کو اکثر کھانے پر بلاتی رہتی تھیں اور اگر گھر میں کوئی خاص چیز پکتی تھی تو ان کے گھروں میں بھی بھجوا دیتی تھیں- خاکسار راقم الحروف کو علیحدہ گھر ہونے کے باوجود حضرت اماں جان نے اتنی دفعہ گھر سے کھانا بھجوایا ہے کہ اس  کا شمار ناممکن ہے۔ اور اگر کوئی عزیز یا کوئی دوسری خاتون کھانے کے وقت حضرت اماں جان کے گھر میں جاتی تھیں تو حضرت اماں جان کا اصرار ہوتا تھا کہ کھانا کھا کر واپس جاؤ چنانچہ اکثر اوقات زبردستی روک لیتی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مہمان نوازی ان کی روح کی غذا ہے۔ عیدوں کے دن حضرت اماں جان کا دستور تھا کہ اپنے سارے خاندان کو اپنے پاس کھانے کی دعوت دیتی تھیں اور ایسے موقعوں پر کھانا پکوانے اور کھانا کھلانے کی بذات خود نگرانی فرماتی تھیں اور اس بات کا بھی خیال رکھتی تھیں کہ فلاں عزیز کو کیا چیز مرغوب ہے اور اس صورت میں حتی الوسع وہ چیز ضرور پکواتی تھیں۔ جب آخری عمرمیں زیادہ کمزور ہوگئیں تو مجھے ایک دن حسرت کے ساتھ فرمایا کہ اب مجھ میں ایسے اہتمام کی طاقت نہیں رہی میرا دل چاہتا ہے کہ کوئی مجھ سے رقم لے لے اور میری طرف سے کھانے کا انتظام کردے۔

وفات سے کچھ عرصہ قبل جب کہ حضرت اماں جان بے حد کمزور ہوچکی تھیں اور کافی بیمار تھیں مجھے ہماری بڑی ممانی صاحبہ نے جو ان دنوں میں حضرت اماں جان کے پاس ان کی عیادت کے لئے ٹھہری ہوئی تھیں، فرمایا کہ آج آپ یہاں روزہ کھولیں۔ میں نے خیال کیا کہ شاید یہ اپنی طرف سے حضرت اماں جان کی خوشی اور ان کا دل بہلانے کے لئے ایسا کہہ رہی ہیں چنانچہ میں وقت پر وہاں چلا گیا تو دیکھا کہ بڑے اہتمام سے افطاری کا سامان تیار کر کے رکھا گیا ہے۔ اس وقت ممانی صاحبہ نے بتایا کہ میں نے تو اماں جان کی طرف سے ان کے کہنے پر آپ کی یہ دعوت دی تھی۔

محنت کی عادت

حضرت اماں جانؓ میں بے حد محنت کی عادت تھی اور ہر چھوٹے سے چھوٹا کام اپنے ہاتھ سے کرنے میں راحت پاتی تھیں۔ میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے بارہا کھانا پکاتے،چرخہ کاتنے،نواڑ بُنتے بلکہ بھینسوں کے آگے چارہ تک ڈالتے دیکھا ہے۔ بعض اوقات خود بھنگنوں کے سر پر کھڑے ہو کر صفائی کرواتی تھیں اور ان کے پیچھے لوٹے سے پانی ڈالتی جاتی تھیں۔ گھر میں اپنے ہاتھ سے پھولوں کے پودے یا سیم کی بیل یا دوائی کی غرض سے گلوکی بیل لگانے کا بھی شوق تھا اور عموماً انہیں اپنے ہاتھ سے پانی دیتی تھیں۔

مریضوں کی عیادت

مریضوں کی عیادت کا یہ عالم تھا کہ جب کبھی کسی احمدی عورت کے متعلق یہ سنتیں کہ وہ بیمار ہے تو بلاامتیاز غریب و امیر خود اس کے مکان پر جا کر عیادت فرماتی تھیں اور آنحضرت ﷺکی سنت کے مطابق تسلی دیا کرتی تھیں کہ گھبراؤ نہیں خدا کے فضل سے اچھی ہوجاؤگی۔ ان اخلاق فاضلہ کا یہ نتیجہ تھا کہ احمدی عورتیں حضرت اماں جان پر جان چھڑکتی تھیں اور ان کے ساتھ اپنی حقیقی ماؤں سے بھی بڑھ کر محبت کرتی تھیں- اور جب کوئی فکر کی بات پیش آتی تھی یا کسی امر میں مشورہ لینا ہوتا تھا تو حضرت اماں جان کے پاس دوڑی آتی تھیں۔ اس میں ذرہ بھر بھی شبہ نہیں کہ حضرت اماں جان کا مبارک وجود احمدی مستورات کے لئے ایک بھاری ستون تھا۔ بلکہ حق یہ ہے کہ ان کا وجود محبت اور شفقت کا ایک بلند اور مضبوط مینار تھا جس کے سایہ میں احمدی خواتین بے انداز راحت اور برکت اور ہمت اور تسلی پاتی تھیں۔

تقویٰ اور توکل کے دو واقعات

مگر غالباً حضرت اماں جانؓ کے تقویٰ اور توکل اور دینداری اور اخلاق کی بلندی کا سب سے زیادہ شاندار اظہار ذیل کے دو واقعات میں نظر آتا ہے۔ جب حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے بعض اقرباء پر اتمام حجت کی غرض سے خدا سے علم پاکر محمدی بیگم والی پیشگوئی فرمائی تو اس وقت حضرت مسیح موعودؑنے ایک دن دیکھا کہ حضرت اماں جان علیحدگی میں نماز پڑھ کر بڑی گریہ و زاری اور سوز و گذار سے یہ دعا فرمارہی ہیں کہ خدایا! تو اس پیشگوئی کو اپنے فضل اور اپنی قدرت نمائی سے پورا فرما۔ جب وہ دعا سے فارغ ہوئیں تو حضرت مسیح موعودؑ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم یہ دعا کررہی تھیں اور تم جانتی ہو کہ اس کے نتیجہ میں تم پر سوکن آتی ہے ؟ حضرت اماں جان نے بے ساختہ فرمایا ’’خواہ کچھ ہو مجھے اپنی تکلیف کی پرواہ نہیں میری خوشی اسی میں ہے کہ خدا کے منہ کی بات اور آپ کی پیشگوئی پوری ہو۔

دوست سوچیں اور غور کریں کہ یہ کس شان کا ایمان اور کس بلند اخلاقی کا مظاہرہ اور کس تقویٰ کا مقام ہے کہ اپنی ذاتی راحت اور ذاتی خوشی کو کلیۃً قربان کر کے محض خدا کی رضا کو تلاش کیا جارہا ہے اور شاید منجملہ دوسری باتوں کے یہ ان کی اسی بے نظیر قربانی کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مشروط پیشگوئی کو اس کی ظاہری صورت سے بدل کر دوسرے رنگ میں پورا فرما دیا۔ پھر جب حضرت مسیح موعودؑ کی وفات ہوئی (اور یہ میری آنکھوں کے سامنے کا واقعہ ہے)اور آپ کے آخری سانس تھے تو حضرت امان جان نور اللہ مرقدھا و رفعھا فی اعلی علیین آپ کی چارپائی کے قریب فرش پر آکر بیٹھ گئیں اور خدا سے مخاطب ہو کر عرض کیا کہ :۔

’’خدایا ! یہ تو اب ہمیں چھوڑ رہے ہیں مگر تو ہمیں نہ چھوڑیو۔‘‘

یہ ایک خاص انداز کا کلام تھا جس سے مراد یہ تھی کہ تو ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا اور دل اس یقین سے پر تھا کہ ایسا ہی ہوگا۔ اللہ اللہ !۔

خاوند کی وفات پر اور خاوند بھی وہ جو گویا ظاہری لحاظ سے ان کی ساری قسمت کا بانی اور ان کی تمام راحت کا مرکز تھا توکل،ایمان اور صبر کا یہ مقام دنیا کی بے مثال چیزوں میں سے ایک نہایت درخشاں نمونہ ہے۔ مجھے اس وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کا وہ بے حد پیارا اور مضبوطی کے لحاظ سے گویا فولادی نوعیت کا قول یاد آرہا ہے جو آپ نے کامل توحید کا مظاہرہ کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ)فداہ نفسی( کی وفات پر فرمایا کہ :۔

’’الا من کان منکم یعبد محمدا فان محمد قدمات ومن کان یعبد اللہ فان اللہ حیی لا یموت‘‘ (بخاری کتاب الغزوات(باب وفات النبی ﷺ)

’’یعنی اے مسلمانو! سنو کہ جو شخص محمد رسول اللہﷺکی پرستش کرتا تھا وہ جان لے کہ محمدﷺ فوت ہوگئے ہیں مگر جو شخص خدا کا پرستارہے وہ یقین رکھے کہ خدا زندہ ہے اس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔‘‘ (’’چار تقریریں‘‘ صفحہ94تا صفحہ108مولفہ قمرالانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب۔ناشر شعبہ نشرواشاعت نظارت اصلاح وارشاد صدرانجمن احمدیہ پاکستان(طبع دوم دسمبر1966ء)

۲- حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ تحریر فرماتی ہیں :۔

غیر معمولی محبت کرنے والی ماں

’’صرف اس لئے نہیں کہ اماں جانؓ غیر معمولی محبت کرنے والی ماں تھیں اور اس لئے نہیں کہ آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو محض ذکر خیر کے طور پر آپ کا تاریخی پہلو لکھا جائے۔ اور اس لئے بھی نہیں کہ مجھے ان سے بے حد محبت تھی )اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کس طرح میں ان کی جدائی کو برداشت کررہی ہوں( بلکہ حق اور محض حق ہے کہ حضرت اماں جانؓ کو خدا تعالیٰ نے سچ مچ اس قابل بنایا تھا کہ وہ ان کو اپنے مامور کے لئے چن لے اور اس وجود کو اپنی خاص ’’نعمت‘‘ قرار دے کہ اپنے مرسل کو عطا فرمائے۔

صابرہ و شاکرہ

آپ نہایت درجہ صابرہ اور شاکرہ تھیں- آپ کا قلب غیر معمولی طور پر صاف اور وسیع تھا۔ کسی کے لئے خواہ اس سے کتنی تکلیف پہنچی ہو آپ کے دل پر میل نہ آتا تھا۔ کان میں پڑی ہوئی رنج دہ بات کو اس صبر سے پی جاتی تھیں کہ حیرت ہوتی تھی اور ایسا برتاؤ کرتی تھیں کہ کسی دوسرے کو کبھی کسی بات کے دوہرانے کی جرات نہ ہوتی تھی۔ شکوہ، چغلی،غیبت کسی بھی رنگ میں نہ کبھی آپ نے کیا، نہ اس کو پسند کیا۔ اس صفت کو اس اعلیٰ اور کامل رنگ میں کبھی کسی میں میں نے نہیں دیکھا۔ آخر دنیا میں کبھی کوئی بات کوئی کسی کی کر ہی لیتا ہے،مگر زبان پر کسی کے لئے کوئی لفظ نہیں آتے سنا۔

شفقت

حضرت اماں جانؓ سے جہاں کسی نے مجلس میں کسی کی بطور شکایت بات شروع کی اور آپ نے فوراً  ٹوکا حتیٰ کہ اپنے ملازموں کی شکایت جو خود آپ کے وجود کے ہی آرام کے سلسلے میں تنگ آکر کبھی کی جاتی پیچھے سے سننا پسند نہ کرتی تھیں۔ اپنے ملازموں پر انتہائی شفقت فرماتی تھیں۔ آخری ایام میں جب آواز نکلنا محال تھا مائی عائشہ )والدہ مجید احمد مرحوم درویش قادیان( کی آواز کسی سے جھگڑے کی کان میں آئی۔ بڑی مشکل سے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور بدقت فرمایا ’’مائی کیوں روئی ؟‘‘ میں نے کہا نہیں اماں جان روئی تو نہیں یوں ہی کسی سے بات کررہی تھی۔ مگر جو درد حضرت اماں جان کی آواز میں اس وقت مائی کے لئے تھا وہ آج تک مجھے بے چین کردیتا ہے۔ آپ نے کئی لڑکیوں اور لڑکوں کو پرورش کیا اور سب سے بہت ہی شفقت و محبت کا برتاؤ تھا۔ خود اپنے ہاتھ سے ان کا کام کیا کرتی تھیں اورکھلانے،پلانے،آرام کا خیال رکھنے کا تو کوئی ٹھکانہ نہ تھا مگر تربیت کا بھی بہت خیال رکھتیں اور زبانی نصیحت اکثر فرماتیں۔ ایک لڑکی تھی،مجھے یاد ہے میں ان دنوں حضرت اماں جانؓ کے پاس تھی۔ وہ رات کو تہجد کے وقت سے اٹھ بیٹھتی اور حضرت اماں جاںؓ سے سوالات کرنے اور لفظوں کے معنے پوچھنا شروع کرتی اور آپ اس کی ہر بات کا جواب صبر اور خندہ پیشانی سے دیا کرتیں۔ میں نے اس کو سمجھایا کہ اس وقت نہ ستایا کرو۔ حضرت مسیح موعودؑ کے بعد آپ نے بہت زیادہ صبروتحمل کا نمونہ دکھایا مگر آپؑ کی جدائی کو جس طرح آپ محسوس کرتی رہیں اس کو جو لوگ جانتے ہیں وہ اس صبر کو اور بھی حیرت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔

حضرت مسیح موعودؑ سے غیر معمولی محبت

آپ اکثر سفر پر بھی جاتی تھیں اور بظاہر اپنے آپ کو بہت بہلائے رکھتی تھیں۔ باغ وغیرہ یا باہر گاؤں میں پھرنے کو بھی عورتوں کو لے کر جانا یا گھر میں کچھ نہ کچھ کام کرواتے رہنا،کھانا پکوانا اور اکثر غرباء میں تقسیم کرنا(جو آپ کا بہت مرغوب کام تھا) لوگوں کا آنا جانا اپنی اولاد کی دلچسپیاں یہ سب کچھ تھا مگر حضرت مسیح موعودؑ کے بعد پورا سکون آپ نے کبھی محسوس نہیں کیا۔ صاف معلوم ہوتا تھا کہ کوئی اپنا وقت کاٹ رہا ہے۔ ایک سفر ہے جس کو طے کرنا ہے۔ کچھ کام ہیں جو جلدی جلدی کرنے ہیں۔ غرض بظاہر ایک صبر کی چٹان ہونے کے باوجود ایک قسم کی گھبراہٹ سی بھی تھی جو آپ پر طاری رہتی تھی مگر ہم لوگوں کے لئے تو گویا وہ ہر غم اپنے سینہ میں چھپا کر خود سینہ سپر ہوگئی تھیں،دل میں طوفان اس درد جدائی کے اٹھتے اور اس کو دبا لیتیں اور سب کی خوشی کے سامان کرتیں۔ مجھے ذاتی علم ہے کہ جب کوئی بچہ گھر میں پیدا ہوتا تو خوشی کے ساتھ ایک رنج حضرت مسیح موعودؑ کی جدائی کا آپ کے دل میں تازہ ہوجاتا اور وہ آپ کو اس بچہ کی آمد پر یاد کرتیں۔

چشمہ محبت

میں اپنے لئے ہی دیکھتی تھی کہ حضرت مسیح موعودؑ کے بعد ایک چشمہ ہے،بے حد محبت کا ، جو اماں جان کے دل میں پھوٹ پڑا ہے اور بار بار فرمایا کرتی تھیں کہ تمہارے ابا تمہاری ہر بات مان لیتے اور میرے اعتراض کرنے پر بھی فرمایا کرتے تھے کہ ’’لڑکیاں تو چار دن کی مہمان ہیں۔ یہ کیا یاد کرے گی جو یہ کہتی ہے وہی کرو۔‘‘ غرض یہ محبت بھی دراصل حضرت مسیح موعودؑ کی محبت تھی جو آپ کے دل میں موجزن تھی۔

اس کے بعد میری زندگی میں ایک دوسر امرحلہ آیا یعنی میرے میاں مرحوم کی وفات ! ان کے بعد ایک بار اور میں نے اس ’’چشمہ محبت‘‘کو پورے زور سے پھوٹتے دیکھا جیسے بارش برستے برستے یکدم ایک جھڑا کے سے گرنے لگتی ہے۔ اس وقت وہی بابرکت ہستی تھی، وہی رحمت و شفقت کا مجسمہ تھا جو بظاہر اس دنیا میں خدا تعالیٰ رفیق اعلیٰ و رحیم و کریم ذات کے بعد میرا رفیق ثابت ہوا، جس  کے پیار نے میرے زخم دل پر مرہم رکھا۔ جس نے مجھے بھلا دیا تھا کہ میں اب ایک بیوہ ہوں بلکہ مجھے معلوم ہوتا تھا کہ میں کہیں جاکر پھر آغوش مادر میں واپس آگئی ہوں۔ اب دنیا میں کوئی ایسا نہیں جو میرا منہ دیکھے کہ اداس تو نہیں ہے۔ اب کوئی ایسا نہیں جو میرے احساس کو سمجھے ! میرے دکھ کو اپنے دل پر بیتا ہوا دکھ محسوس کرے۔ خدا سب عزیزوں کو سلامت رکھے۔ میرے بھائیوں کی عمر میں اپنے فضل سے خاص برکت دے۔ مگر یہ خصوصیت جو خدا نے ماں کے وجود میں بخشی ہے اس کا بدل تو کوئی خود اس نے ہی پیدا نہیں کیا اور میری ماں تو ایک بے بدل ماں تھیں،سب مومنوں کی ماں۔ ہزاروں رحمتیں لمحہ بہ لمحہ بڑھتی ہوئی رحمتیں ہمیشہ ہمیشہ آپ پر نازل ہوتی رہیں۔ وہ تو اب خاموش ہیں مگر ہم جب تک خدا ان سے نہ ملائے گا ان کی جدائی کی کھٹک برابر محسوس کرتے رہیں گے۔

عمر بھر کا ہش جاں بن کے یہ تڑپائے گی

وہ نہ آئیں گی مگر یاد چلی آئے گی

اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہم سب کے لئے زیادہ ہی زیادہ ان دعاؤں کو جو حضرت مسیح موعودؓ نے ہمارے لئے فرمائیں (اور حضرت اماں جانؓ نے جو سلسلہ ٹوٹنے نہ دیا) قبول فرمائے اور ایسا ہو کہ گویا وہ دعائیں جاری ہیں اور ہر گھڑی مقبول ہورہی ہیں، آمین، اور ہم سب کو اس ،قابل بنائے کہ ہم ان فضلوں کے جاذب بنیں جو ہماری لئے مانگے جاتے رہے۔ ثم آمین۔

حضرت اماں جانؓ کو ہماری تعریف کی حاجت نہیں خدا نے جس وجود کی تعریف کردی اس کو اور کیا چاہئے مگر ہمارا بھی فرض ہے کہ جو عمر بھر دیکھا اس کو آئندہ ہونے والوں کے لئے ظاہر کردیں۔

آپ ایک نمایاں شان کے ساتھ صابرہ تھیں اور خدا تعالیٰ کی رضا پر خوشی سے راضی ہونے والی تکالیف کا حوصلہ سے مقابل کرنے والی ! کبھی کسی کا شکوہ شکایت زبان پر نہ لانے والی کسی سے پہنچے ہوئے رنج کو مہر بہ لب ہو کر ایسی خاموشی سے برداشت کرنے اور مٹا ڈالنے والی کہ وہ مٹ ہی جاتا تھا۔

جس سے تکلیف پہنچتی اس پراپنی مہربانی اس طرح جاری رکھتیں بلکہ زیادہ حتی کہ وہ امر اوروں کے بھی دلوں سے محو ہوجاتا۔

خشیت الٰہی

بہت خشوع و خضوع سے، بہت سنوار کر نمازیں ادا کرنے والی` بہت دعائیں کرنے والی کبھی میں نے آپ کو کسی حالت میں بھی جلدی جلدی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تہجد اور اشراق بھی جب تک طاقت رہی ہمیشہ باقاعدہ ادا فرماتی رہیں- دوسرے اوقات میں بھی بہت دعا کرتی تھیں۔ اکثر بلند آواز سے دعا بے اختیار اس طرح آپ کی زبان سے نکلتی گویا کسی کا دم گھٹ کر یکدم رکا ہوا سانس نکلے۔ بہت ہی بے قرار اور تڑپ سے دعا فرماتی تھیں۔ کبھی کبھی موزوں نیم شعر الفاظ میں اور کبھی مصرع اور شعر کی صورت میں بھی دعا فرماتی تھیں اسی درد اورتڑپ سے ایک بار لاہور میں غیر آباد مسجد کو دیکھ کر ایک آہ کے ساتھ فرمایا

الٰہی مسجدیں آباد ہوں گر جائیں،گرجائیں

آپ کی دعاؤں میں سب آپ کی احمدی اولاد شریک ہوتی۔ اکثر ایسوں کا نام لے کر بے قرار ہو کر دعا کر تین جن کا بظاہر ہر کسی کو خیال تک نہ ہوتا۔ ایک بار لیٹے لیٹے اس طرح کرب سے ’’یااللہ‘‘کہا کہ میں گھبرا گئی مگر اس کے بعد کا فقرہ کیا تھا؟ یہ کہ ’’میرے نیر کو بیٹا دے‘‘ خدا نے آپ کے نیر (مکرم مولوی عبدالرحیم صاحب نیر)بانی نائیجریا مشن(وفات 17ستمبر1948ء)مفصل حالات تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ205ء طبع اول میں درج ہیں۔)کو اس کے بعد محمودہ کڑک سے دو بیٹے عطا فرمائے۔ خدا نیکی اور زندگی ان کو بخشے، سب جماعت سے محبت دلی فرماتی تھیں اورخصوصاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانہ کے لوگوں سے آپ کو بہت ہی پیار تھا۔ ان کی اولادوں کو اب تک دیکھ کر شاد ہوجاتی تھیں۔ شاید آپ میں سے بعض کو پورا احساس نہ ہو مجھے پوچھیں آپ سچ مچ ایک اعلیٰ نعمت سے،ایک ہزار ماں سے بہتر ماں سے محروم ہوگئے ہیں۔

شریکہ غم

ہر چھوٹے بڑے کی خوشی اور تکلیف میں بدل شریک ہوتی تھیں۔ جب تک طاقت رہی یعنی زمانہ قریب ہجرت تک جب باہر جاتیں اکثر گھروں میں ملنے جاتیں- حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ سے آپ کا یہی عمل تھا۔ مجھے کئی واقعات یاد ہیں کہ کسی کے گھر بچہ پیدا ہوا اور آپ برابر ان کی تکلیف کے وقت میں زچہ کے پاس رہیں اور یہی طریق بعد میں جب تک ہمت رہی جاری رہا۔

خاص چیز جو پکواتیں بہت کھلی اور ضرور سب میں تقسیم کرتیں۔ حضرت مسیح موعودؓ کے زمانہ میں چونکہ لوگ کم تھے تو سب کو گھروں سے بلا کر اکثر ساتھ ہی کھلوایا کرتی تھیں۔

خیرات و فیاضی

خیرات کثرت سے فرماتی تھیں،غرباء کو کھانا کھلانا آپ کو بہت پسند تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ کے پسند کی چیز تو ضرور کھلایا کرتی تھیں۔ اور گھر میں روزمرہ جب کوئی چیز سامنے آتی تو اول اول دنوں میں تو بہت فرمایا کرتی تھیں کہ یہ چیز آپؑ کو پسند تھی لو تم کھاؤ!

ہاتھ سے کام کرنا

ہاتھ سے کام کرنے میں ہرگز کبھی آپ کو عار نہ تھا۔ قادیان س آتے وقت بھی برابر خود کوئی نہ کوئی کام کرتی تھیں۔ باورچی خانہ جا کر خود کچھ پکا لینا، چیز خود ہی جا کر بکسوں میں سے نکالنا،کسی کو بہت کم کہتی تھیں،خود ہی کام کرنے لگتی تھیں۔ جب تک کمزوری حد سے نہ بڑھی سہارا لینا ہرگز پسند نہیں فرماتی تھیں کوئی سہارا دینا چاہتا تو نہیں دینے دیتیں کہ میں خود چلوں گی سہارا نہ دو۔

ذکر الٰہی

ایک خاص بات آپ کی اپنی بچپن سے مجھے یاد ہے کہ جن ایام میں آپ نے نماز نہیں پڑھنی ہوتی تھی اس وقت کو کبھی باتوں وغیرہ میں ضائع نہیں فرماتی تھیں برابر مقررہ اوقات نماز میں تنہا ٹہل کر یا بیٹھ کر دعا اور ذکر الٰہی کرتی تھیں اور پھر ہمیشہ میں نے اس امر کا التزام دیکھا۔

نظافت پسندی

جن لڑکیوں کو پالا ان کی جوئیں نکالنا،کنگھی کرنا یہ کام اکثر خود ہی کرتی تھیں اور باوجود نہایت صفائی پسند ہونے کے گھن نہیں کھاتی تھیں۔صاف لباس،پاکیزہ بستر اور خوشبو آپ کو بے حد پسند تھی مگر ان چیزوں کا شغف کبھی اس درجہ کو نہیں پہنچا کہ آپ کے اوقات نماز یا دعا یا ذکر میں حارج ہوا ہو۔

عطر کا استعمال

مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ بھی عطر اور چنبیلی کا تیل آپ کے لئے خاص طور منگایا کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے وصال کے بعد آپ نے اپنا عطر کا صندوقچہ مجھے پاس بلا کر تیسرے روز دے دیا تھا۔ (جو میں نے بھاوجوں میں تقسیم کردیا تھا)زمانہ عدت میں آپ نے خوشبو نہیں استعمال کی ، نہ زیور ہی کوئی پہنا ۔سفید لباس پہنتی تھیں مگر صاف ، میلا نہیں۔ مجھے یاد ہے جس دن ایام عدت ختم ہوئے آپ نے غسل کیا،صاف لباس پہنا، عطر لگایا اور اس دن جو کیفیت صدمہ کی اور پھر ضبط آپ کے چہرہ سے مترشح تھا وہ تحریر میں نہیں آسکتا۔ آپ کا رونا نمازوں کا رونا،دعائوں کا رونا ہوتا تھا ویسے نہیں۔ روزانہ بہشتی مقبرہ جاتیں اور نہایت رقت سے دعا کرتیں۔ وہ آپ کی حالت دیکھی نہیں جایا کرتی تھی جس مقام میں آخر آرام کرنے کے لئے آپ کی روح چالیس سال تڑپ سے انتظار کرتی رہی اور دل میں جس زمین کو دیکھ دیکھ کر بے قرار ہوتا رہا اس میں آپ کے جسد مبارک کا فی الحال رکھا جانا تقدیر الٰہی کے مطابق نہ تھا۔ دل بے چین ہوجاتا ہے جب یاد کرتی ہوں کہ قادیان سے آنے کا صدمہ بھی صبر اور تحمل سے برداشت کر جانے والی میری اماں جانؓ کس بے قراری سے وہاں سے آکر بار بار کہا کرتی تھیں کہ ’’مجھے قادیان ضرور پہنچانا یہاں نہ رکھ لینا‘‘ (یعنی بعد وفات)اگر کوئی گھبراہٹ ظاہراً دیکھی تو بس ایک اسی بات کے لئے !

داغ ہجرت میں وفات

سخت کرب پیدا ہوتا ہے اس خیال سے کہ یہ آرزو حضرت اماں جانؓ کی پورا نہ ہونا اور ان کا ہجرت میں داغ جدائی دینا،بے شک پیشگوئی کے مطابق ہوا مگر کہیں ہم لوگ کی شامت اعمال تو اس وقت کو نزدیک نہیں کھینچ لائی۔ یہی منشاء الٰہی تھا اور ضرورتھا جو ہونا تھا وہ ہوا۔ مگر اب تو خدا کرے وہ دن بھی جلدی لائے کہ حضرت اماں جانؓ کی تمنا کو پورا کرنے والے آپ لوگ بنیں اور ہم سب اس طرح حضرت اماں جانؓ کو ان کے اصل مقام میں لے جائیں جس طرح جانا ان کے شایان شان ہے (آمین)

ایک دعا اور اس کی قبولیت

بہت سال ہوئے حضرت سیدنابھائی صاحب(یعنی سیدنا حضرت مصلح موعود ) نے ایک دن مجھے کہا تھا کہ ’’میں بھی یہ دعا کیا کرتا ہوں تم بھی کیا کرو کہ اماں جانؓ کو خدا تعالیٰ مدت دراز تک سلامت رکھے مگر اب اماں جانؓ ہم میں سے کسی کا صدرمہ نہ دیکھیں‘‘میں نے اس دن س اس دعا کو ہمیشہ یاد رکھا اور اپنی خاص اس دعا کے ساتھ کہ ایسا وقت اس حالت میں نہ آئے کہ میں اماں جان سے دور ہوں۔ میں سالہال مالیر کوٹلہ رہی گو بار بار اور جلد جلد آتی تھی کیونکہ حضرت اماں جانؓ اور اس گھر کو ، بھائیوں کو،دیکھے بغیر مجھے چین ہی نہ آتا تھا مگر جب بھی وہاں ہوتی حضرت اماں جانؓ کے متعلق توہمات مجھے چین سے نہ رہنے دیتے۔ میں نے میاں مرحوم سے صاف کررکھا تھا کہ میں یہاں آپ کا ساتھ دے کر رہتی تو ہوں لیکن اگر کبھی اماں جانؓ کی علالت کی خبر مجھے ملی تو ہر گز نہ مجھے کسی اجازت کی حاجت ہوگی نہ کوئی ساتھ ڈھونڈنے کی ، میں ایک منٹ بھی پھر نہیں ٹھہروں گی خواہ اکیلے چل پڑنے کی صورت ہو۔ ہمیشہ ہر حال میں میں نے ایک رقم الگ محفوظ رکھی اس نیت سے کہ اماں جانؓ کو خدا نہ کرے کبھی تکلیف ہو تو کسی روپیہ کے انتظام کے لئے میرا گھنٹہ بھر بھی ضائع نہ ہو۔

الحمد للہ! کہ وہ دعا بھی خدا تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ خدمت کے قابل گو میں نہ رہی تھی مگر پاس رہی منہ دیکھتی رہی اور وہ پاکیزہ نعمت الٰہی جو مجھے دنیا میں لانے کا ذریعہ ایک دن بنی تھی میری آنکھوں کے سامنے میرے ہاتھ میں اس  دنیا سے رخصت ہو کر محبوب حقیقی سے جا ملی۔

(روزنامہ الفضل 11ہجرت1331صفحہ3-4)

’’چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے‘‘

تاریخی شخصیت

’’آپ میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جس نے یہ دعا حضرت مسیح موعودؑ بزبان حضرت اماں جانؓ نہ پڑھی ہوگی۔ یہ مصرعہ آپ کو اس وجود کی اہمیت اور بزرگی کا مرتبہ سمجھانے کے لئے کافی ہے کہ جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے مسیحا کے لئے چن کر چھانٹ لیا وہ کیا چیز ہوگی ؟

حضرت ام المومنینؓ کا وجود بھی اس زمانہ کی مستورات کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک نمونہ بنا کر، اپنے مرسل مسیح موعود اور مہدی معہودؑ کے لئے رفیق حیات منتخب فرما کر بھیجا تھا اور آپ کی تمام حیات آپ کی زندگی کا ہر پہلو اس پر روشن شہادت دیتا رہا اور دے رہا ہے اور ہمیشہ تاریخ احمدیت پر مہر درخشاں کی مانند چمک دکھلا کر شہادت دیتا رہے گا۔‘‘(نصرت الحق صفحہ13-14۔ناشر خدام الاحمدیہ ربوہ طبع اول)(آپ کے سوانح اور سیرت پر مستقل لٹریچر شائع ہو چکا ہے مثلاً(۱) سیرت نصرت جہاں بیگم حصہ اول(مصنفہ شیخ محمود احمد صاحبؓ عرفانی مجاہد مصر مدیر الحکم۔طبع اول دسمبر1943ء مطبوعہ انتظامی پریس حیدرآباد دکن۔(۲) سیرت نصرت جہاں بیگم حصہ دوم(مصنفہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ؓ عرفانی الکبیر موسس الحکم تاریخ اشاعت 25جولائی1945ء مطبوعہ انتظامی پریس حیدرآباد (دکن)( ۳)نصرت الحق(ناشر چوہدری عبدالعزیز صاحب واقف زندگی مہتمم مقامی مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ)۔

ان کتابوں کے علاوہ وسط ہش/  1952ء میں رسالہ’’مصباح‘‘اور رسالہ’’درویش‘‘کے خصوصی نمبر آپ کے اخلاق و شمائل پر شائع کئے گئے۔

(تاریخ احمدیت جلد14صفحہ93تا116)

مضامین:

حضرت سیّدہ اُمِّ ناصرصاحبہؓ
وفات   31 جولائی 1958

 

وفات: 31 جولائی 1958ء

حضرت سیّدہ اُمِّ ناصر حرم اول حضرت مصلح موعود جو ’’خواتین مبارکہ‘‘ کی الہامی بشارت کا اولین مصداق ہونے کے باعث آیت اللہ تھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب سے پہلی اور بڑی بہو ہونے کا شرف رکھتی تھیں اس سال ۳۱؍جولائی ۱۹۵۸ء کو چھ بجے صبح مری میں انتقال فرما گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

 (الفضل یکم اگست ۱۹۵۸ء صفحہ1 )

حضرت سیّدہ اُمِّ ناصر مری میں قیام فرما تھیں کہ ۱۸؍جولائی ۱۹۵۸ء کو آپ کو بخار ہوا جو مرض الموت ثابت ہوا اور آپ قریباً دو ہفتے بیمار رہنے کے بعد ۳۱؍جولائی ۱۹۵۸ء کو قریباً چھ بجے صبح داغ مفارقت دے گئیں۔ خدا کی قدرت ادھر آپ کا انتقال ہوا ادھر حضرت مصلح موعود جابہ کے مقام سے مری کے لئے روانہ ہو گئے اور راولپنڈی پہنچ کر حضور کی خدمت میں یہ درد ناک اطلاع پہنچی کہ حضرت سیّدہ کا وصال ہو گیا ہے۔

صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں:-

امی جان کو حضور کا بہت انتظار تھا۔ اور کئی بار پوچھ بھی چکی تھیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

وفات کے بعد فوری طور پر تمام بزرگوں اور عزیزوں کو اس سانحہ کی اطلاع ٹیلیفون و تاروں کے ذریعے کر دی گئی۔ اسی طرح راولپنڈی کی جماعت کو فون پر ہدایت کر دی گئی کہ جب حضور راولپنڈی پہنچیں تو حضور کو اس کی اطلاع کر دی جائے۔

حضور گیارہ بجے کے قریب مری پہنچے۔ حضور کے ہمراہ میاں ناصر احمد صاحب و ہمشیرہ ناصرہ بیگم بھی پہنچ گئیں۔ کوٹھی پہنچ کر حضور اماں جان کے کمرہ میں تشریف لے گئے اور ان کے سرہانے کھڑے ہو کر اپنی پچپن سالہ شریک زندگی کے چہرے پر نظر ڈالی جو ایک دلربا مسکراہٹ کے ساتھ ابدی نیند سو رہی تھی اور انا للہ پڑھ کر دوسرے کمرے میں تشریف لے گئے اور مجھے فرمایا کہ کیا تمہاری اماں نے کسی خواہش کا اظہار کیا تھا؟ جس پر میں نے عرض کیا کہ صرف حضور کو ملنے کی شدید تڑپ تھی۔

اس کے بعد حضور نے قبر وغیرہ تیار کرنے کی ہدایت فرمائی کہ ربوہ فون کر دیا جائے اور ساتھ ہی فرمایا کہ غسل اور کفن مری میں ہی دیا جائے۔ چنانچہ مولوی محمد اشرف صاحب ناصرؔ مربی مری کفن تیار کروانے گئے۔ اور پانی وغیرہ تیار کروا کر والدہ لیڈی ڈاکٹر غلام فاطمہ صاحبہ اور خوش دامنہ صاحبہ کیپٹن محمد سعید صاحب نے امی جان کو غسل دیا۔ ان کے معاون کے طور پر سیدہ مہر آپا صاحبہ و سکینہ بی بی خادمہ سیدہ ام متین صاحبہ اور رشیدہ بی بی خادمہ عزیزہ امۃ العزیز نے کام کیا۔ لیڈی ڈاکٹر غلام فاطمہ صاحبہ نے اس سلسلہ میں مناسب امداد کی۔ فجزاھم اللہ احسن الجزاء۔

اس طرح غسل اور کفن پہنانے کے بعد تقریباً سوا تین بجے حضرت مصلح موعود نے حاضر خدام کے ساتھ جن میں مری کے کچھ دوست بھی شامل تھے نماز جنازہ پڑھائی۔ جنازہ کو ایک بس میں چارپائی پر رکھا گیا۔ اور سب حاضر افراد خاندان و دیگر دوست حضرات مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ کی معیت میں جنازہ کو لے کر چار بجے کے قریب مری سے روانہ ہوئے۔ اور چھ بجے کے قریب راولپنڈی پہنچے۔ راولپنڈی جنازہ کو دوسری بس میں منتقل کیا گیا۔ اس طرح سامان و سواریاں دوسری بسوں میں منتقل ہوئیں اور سات بجے راولپنڈی سے روانہ ہوئے۔ راولپنڈی کی جماعت بھاری تعداد میں سڑک پر پیر انوارالدین صاحب کے مکان کے سامنے موجود تھی جہاں شامیانے لگوادیئے گئے تھے اور دوسری بسیں تیار تھیں تا ہمارے لئے بسیں تبدیل کرنے میں سہولت رہے۔ ان دوستوں نے ہر طرح سے ہمارے آرام کا خیال رکھا۔ فجزاہم اللہ احسن الجزاء۔ سات بجے راولپنڈی سے روانہ ہو کر سوہاوا، چکوال، تلہ گنگ، جابہ، خوشاب کے راستہ سے ہوئے ہوئے ہم لوگ تین بجے ربوہ کی حدود میں داخل ہوئے جہاں ہزاروں مرد بچے اور عورتیں ہمارے انتظار میں رات بھر سے جاگ کر سڑک پر کھڑے تھے۔ فجزاھم اللہ احسن الجزاء۔‘‘ (روزنامہ الفضل ۱۲؍اگست ۱۹۵۸ء صفحہ ۴)

صوبیدار عبدالغفور خاں صاحب سابق افسر حفاظت ۳۱؍جولائی ۱۹۵۸ء کے اس اندوہناک سفر کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں:-

“کون جانتا تھا کہ آج کا آفتاب ہمارے لئے ایک غم اور ناقابلِ برداشت صدمہ کا پیغام لے کر آرہا ہے۔ ۵۸-۷-۳۱ کا آفتاب صبح طلوع ہو رہا تھا نخلہ میں ہمارا قافلہ مری جانے کے لئے تیاریاں کر رہا تھا۔ سارے انتظامات مکمل ہوجانے پر حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں اطلاع پہنچائی گئی کہ سارا قافلہ سفر کے لئے تیار کھڑا ہے۔ حضور پونے چھ بجے تشریف لائے۔ موٹروں میں بیٹھنے سے پہلے ساری موٹروں اور ہم سفر احباب پر ایک نظر ڈالی اور پھر موٹر میں بیٹھ گئے۔ جونہی ہم نخلہ کی سڑک سے پختہ سڑک پر پہنچے حضور نے وقت اور تلہ گنگ کا فاصلہ دریافت فرمایا۔ خاکسار کے جواب پر حضور نے اندازہ فرمایا کہ اتنی دیر میں ہم پنڈی پہنچ جائیں گے۔ اور پھر تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد حضور طے شدہ فاصلہ اور وقت دریافت فرماتے رہے جس سے حضور کا منشاء مبارک یہ معلوم ہوتا تھا کہ تیز پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ چنانچہ موٹر کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی گئی۔ ہم سوا آٹھ بجے پشاور پنڈی روڈ والے پہلے پٹرول پمپ پر جب پٹرول ڈالنے کے لئے رُکے تو حضور کو اتنی دیر کے لئے بھی رکنا پسند نہیں تھا۔ اس لئے جلدی جلدی پٹرول ڈال کر روانہ ہوئے۔ مگر جوں ہی ہم شہر کے درمیان پہنچے اچانک ہماری کاریں جماعت احمدیہ راولپنڈی کے افراد نے اشارہ کرکے روک لیں۔ چونکہ حضور کسی رکاوٹ کو پسند نہیں فرماتے تھے میں تیزی سے احباب کو بتانے کے لئے اترنے لگا اتنے میں پیر انوارالدین صاحب نے فوراً آگے بڑھ کر موٹر کا دروازہ کھولا اور حضور کے دست مبارک کو بوسہ دے کر سسکیاں بھرتے ہوئے یہ المناک خبر سنائی کہ مری سے ٹیلیفون کے ذریعے خبر ملی ہے کہ سیّدہ امِّ ناصر صاحبہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ خبر سب قافلے کے دلوں میں نشتر کی طرح چبھی۔ اس کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے جو قافلے کی رہنمائی فرما رہے تھے چلنے کا حکم دیا۔ قافلہ روانہ ہوا اور خاکسار ہر سنگِ میل پر طے شدہ فاصلہ کی خبر حضور کو پہنچاتا رہا۔ حتیٰ کہ جب چھرہ پانی پہنچے تو موٹر اتنی گرم ہو گئی تھی کہ آگے چلنے کے قابل نہ رہی تھی۔ گیارہ بجے چھرہ پانی سے جیپ میں سے چند سواریاں اتار کر حضور اور خاکسار جیپ کے فرنٹ سیٹ پر اور محترمہ سیدہ ام متین صاحبہ پیچھے بیٹھ گئیں۔ جیپ کے ڈرائیور کو ہدایت ملی کہ تم جتنا تیز چلا سکتے ہو چلاؤ۔ یہاں سے وقت اور مسافت کی اطلاع دینے کی ذمہ داری حضرت سیّدہ امِّ متین صاحبہ نے اٹھالی۔ آخر خدا خدا کرکے ہم مری پونے بارہ بجے پہنچے۔ حضور کی آمد کی اطلاع راستہ ہی میں ٹیلیفون پر حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے کر دی تھی۔ حضرت میاں صاحب والی کار بھی زیادہ تیزرفتاری کی وجہ سے عین چند میل میں آکر فیل ہو گئی اور وہاں سے وہ بمعہ سواریوں کے پیدل کوٹھی کی طرف آرہے تھے۔ جب ہماری جیپ اکیلی کانٹیشیالاج پہنچی تو سب حیران ہو گئے۔ مگر جوں ہی جیپ کوٹھی میں داخل ہوئی تو خاندان کے تمام افراد اور احباب نے جیپ کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ خاکسار نے جب ایک نظر کوٹھی پر ڈالی اور پھر اس کے مکینوں اور دوسرے احباب پر جس میں ہر وقت گہماگہمی رہتی تھی اور ہر شخص ہشاش بشاس رہتا تھا اور جن کے چہروں پر کبھی ملال نہ دیکھا تھا آج سب کی آنکھیں اپنی پیاری امی جان کی جدائی کے ناقابل برداشت صدمہ سے سرخ اور سوجی ہوئی تھیں۔ حضور کو دیکھتے ہی ان کی آنکھیں جو آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں پھر چھلک گئیں۔ یہ وقت میرے لئے بہت نازک تھا۔ مجھ سے بھی ان کا دکھ دیکھا نہیں جاتا تھا میں چاہتا کہ ان میں ہر ایک کے گلے لپٹ کر زور زور سے چلاؤں مگر میری ذمہ داریاں مجھے ہر بار روک دیتیں۔ پھر خاکسار کئی دفعہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کے پاس آتا تو ان کو بہت صبر اورتحمل سے ٹیلیفون پر مختلف لوگوں اور شہروں کو پیغامات دیتے دیکھتا۔ اور اس طرح باہر کے مہمانوں اور حاضرین سے ملتے اور بہت صبر اور حوصلہ سے باتیں کرتے دیکھتا تو طبیعت میں قدرے سکون پیدا ہوجاتا۔ تین بجے تک غسل اور تکفین کے تمام انتظامات مکمل ہوجانے کے بعد جنازہ باہر صحن میں لایا گیا اور حضور نے نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد جنازہ کو اٹھا کر لاری میں رکھا گیا۔ عین اس وقت مجھے خیال آیا کہ جب ۱۹۵۷ء میں ہمارا قافلہ مری کو چھوڑ رہا تھا اور حضرت امی جان سنوڈن کوٹھی سے نیچے سڑک تک پالکی میں سوار ان دشوارگزار راستہ پر اتاری جارہی تھیں اس وقت میں نے ان کی پالکی کو کندھا دیا تھا لیکن اب آج مری سے روانگی کے وقت ان کے جنازہ کو کندھا دے رہا ہوں۔ انتظامات مکمل ہوجانے پر چار بجے خاندان کے افراد کے لئے دو بسوں کا انتظام کیاگیا تھا۔ اس میں سب بیٹھ گئے اور ہمارا قافلہ روانہ ہوا راستہ میں باقی قافلہ چھرہ پانی میں تھوڑی دیر کے لئے رک گیا مگر حضور نے فرمایا کہ ہم تریٹ میں نماز ظہر و عصر پڑھ کر چلیں گے۔ اس لئے ہم آگے تریٹ چلے گئے۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے سارا قافلہ روانہ ہوا اور تقریباً چھ بجے ہم راولپنڈی پہنچے۔ وہاں بزرگانِ جماعت راولپنڈی اور خدام اپنے محبوب آقا کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ قافلہ کے لئے چائے اور پانی کا مناسب انتظام کیا گیا تھا۔ پیر صاحب اور جماعت راولپنڈی کے خدام بھاگ بھاگ کر ہر دوست کی خدمت میں پانی و چائے پیش کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دے۔ آمین۔ وہاں پنجاب بس ٹرانسپورٹ کی دو بسوں کا انتظام کیا گیا تھا اور جنازہ کی حفاظت کے لئے کافی مقدار میں برف کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ ان بسوں میں سامان، سواریاں اور جنازہ منتقل کیا گیا۔ جماعت پنڈی کے چند خدام دو موٹروں کے ساتھ ہمارے قافلہ میں شامل ہوئے۔ ساڑھے سات بجے راولپنڈی سے پٹرول ڈلوا کر قافلہ براستہ چکوال روانہ ہوا۔ سورج غروب بھی ہو رہا تھا مگر ہمارے غموں میں کوئی کمی نہیں آ رہی تھی۔ بلکہ لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہی ہو رہا تھا۔ میں اس راستے سے واقف نہ تھا جب حضور نے دریافت فرمایا کہ چکوال کتنے میل ہے میں نے آنکھوں پھاڑ کر میل سٹون کو دیکھا مگر جہلم اور لاہور کے علاوہ اور کچھ لکھا نہ پایا۔ میں نے سمجھا کہ شاید غلطی سے پڑھ نہ سکا ہوں گا پھر دوسرے میل سٹون کو زیادہ غور سے دیکھا مگر اس پر بھی چکوال نہیں لکھا تھا۔ میں نے عرض کیا حضور چکوال نہیں لکھا ہے شاید یہ یاد نہ رہا تھا کہ چکوال کا راستہ آگے جاکر جدا ہوتا ہے حضور نے پھر دریافت فرمایا کہ چکوال کتنے میل ہے میں نے پھر بڑی کوشش کی مگر حیران تھا کہ چکوال آخر کیوں نہیں لکھا۔ میں نے پھر عرض کیا حضور جہلم اور لاہور لکھا ہے چکوال کہیں نہیں لکھا۔ کئی سنگِ میل پر تو کچھ بھی نہ لکھا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے اور بھی الجھن پیدا ہو جاتی۔ میری پریشانی اور حیرانی کا احساس حضور کو بھی ہوا۔ حضور نے بڑی شفقت سے فرمایا کہ چکوال نہیں تو پشاور یا مردان ضرور لکھا ہو گا ہم چکوال جا رہے ہیں اور تم لاہور اور جہلم بتا رہے ہو۔ آخر حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے چکوال کے راستہ کی وضاحت کرکے میری مشکل حل کر دی۔ مدراں تھانہ کے پاس ہماری ایک موٹر کی روشنی خراب ہو گئی اور وہاں قافلہ کو تقسیم کرنا پڑا۔ بسیں اور خدام الاحمدیہ کی موٹریں پہلے چکوال روانہ کر دیں اور باقی کاریں تھوڑی دیر میں روشنی ٹھیک ہونے کے بعد روانہ ہوئیں۔ اب چکوال کی سنسان سڑک پر یہ برق رفتار قافلہ جا رہا تھا۔ رات پونے دس بجے ہم چکوال پہنچے۔ حضور کا ارشاد ہوا چکوال کے ڈاک بنگلہ میں نماز مغرب اور عشاء پڑھیں گے۔ چنانچہ اسی وقت ڈاک بنگلہ پہنچے۔ حضور کے پیچھے مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھنے کا موقعہ ملا۔ پونے گیارہ بجے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا ڈاکٹر منور احمد صاحب کے مشورہ سے ربوہ کو براستہ تلہ گنگ قافلہ روانہ ہوا۔

اب چونکہ آدھی رات کا وقت ہو گیا تھا۔ حضور نے احباب ربوہ کے انتظار اور پریشانی کے خیال سے تیز چلنے کا ارشاد فرمایا۔ ہماری ہرموٹر آج ربوہ اڑ کر پہنچنا چاہتی تھی۔ حضور نے پھر مسافت دریافت فرمائی چنانچہ حکم کی تعمیل کی گئی۔ یہ سفر جو غم زدہ اور پریشان حال اور دکھے دلوں کا نہ بھولنے والا سفر تھا اس میں مجھے درود شریف اور استغفار پڑھنے کا بہت موقعہ ملا۔ اورصحیح سلامت پہنچنے اور حضور کی درازیٔ عمر و صحت یابی اور خاندان حضرت مسیح موعودؑ اور سلسلہ کے تمام کارکنوں اور مبلغین کے لئے اور اپنے جملہ خاندان کے لئے دعائیں کرتا رہا۔ اس طرح جس نے بھی مجھے دعا کے لئے کہا میں نے سب کے لئے اس سفر میں باوجود اتنی مصروفیت کے بارگاہ الٰہی سے دعائیں مانگیں کہ ہم سب کو اپنے فضل کے سایہ تلے ہمیشہ رکھے۔ آمین۔ اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

رات کے پونے دو بجے ہم خوشاب پہنچے۔ یہاں بہت سے احباب حاضر تھے۔ خوشاب کے محترم چوہدری نثار احمد صاحب جو بہت ہی مخلص دوست ہیں قافلے کے لئے پانی کا اور جنازہ کے لئے برف کا انتظام کئے رات بھر سے انتظار کر رہے تھے۔ حضور نے انہیں شرفِ باریابی بخشا۔ چند مخلص اورجانثار دوست طارق کمپنی کی ایک بس میں ربوہ ہی سے خوشاب پہنچ گئے تھے جس میں اور دوستوں کے علاوہ چوہدری صلاح الدین صاحب(مشیر قانونی صدرانجمن احمدیہ پاکستان)اورسید احمدصاحب (ابن حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحبؒ)بھی شامل تھے۔ خوشاب سے پٹرول ڈلوا کر قافلہ اسی رفتار سے روانہ ہوا۔ جب احمدنگر کے پاس پہنچے تو احمدنگر کے احباب ملے جو ساری رات سڑک پر اپنے پیارے آقا کی آمد کا انتظار کرتے رہے تھے۔ سوا تین بجے یہ غم زدہ قافلہ ربوہ کے اڈہ سے گزر رہا تھا جہاں بہت بڑا ہجوم قطاریں باندھے ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ اور کچھ لوگ آمد کی خبر سن کر ننگے پاؤں اور ننگے سر گھروں سے دوڑ کر آتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ موٹریں آہستہ آہستہ ان کے سامنے سے گزر رہی تھیں اور حضور سب کے سلام کا جواب دے رہے تھے۔ جب ہم قصرِ خلافت میں پہنچے تو تمام خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور بزرگان سلسلہ اور چھوٹے بڑے سینکڑوں کی تعداد میں کھڑے تھے۔ حضور کار سے اتر کر اندر تشریف لے گئے۔ تب معلوم ہوا کہ جنازہ والی بس ابھی تک نہیں پہنچی۔ اس وقت بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا مگر خدا کا فضل ہوا کہ تھوڑی دیر کے بعد جنازہ والی بس پہنچ گئی۔ جب یہ بس آ کر کھڑی ہوئی تو دل ہلا دینے والا منظر سامنے تھا کہ سب لوگ حضرت امی جان کے جنازہ کو دیکھ کر بے حد سسکیاں بھرنے لگے۔ سب حاضرین نے بڑھ چڑھ کر کندھا دینے کی کوشش کی۔ جنازہ اندر پہنچایا گیا۔‘‘(روزنامہ الفضل ربوہ ۲۸؍اگست ۱۹۵۸ء صفحہ ۴ ، ۵)

نمازِ جنازہ اور تدفین

الفضل کے خصوصی نامہ نگار کی رپورٹ ہے کہ:-

”صبح چھ بجے تک مستورات کو حضرت سیدہ مرحومہ کی زیارت کا موقع دیا گیا۔ چنانچہ مستورات نے ہزاروں کی تعداد میں حاضر ہو کر زیارت کا شرف حاصل کیا۔ ساڑھے چھ بجے صبح حضور حضرت سیدہ مرحومہ کے مکان کے بیرونی صحن میں جہاں جنازہ رکھا ہوا تھا تشریف لے آئے۔ پونے ساتھ بجے حضرت سیدہ مرحومہ کے مکان سے جنازہ باہر لایا گیا۔ جبکہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نونہالوں نے اسے کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا۔ باہر لا کر تابوت ایک چارپائی پر رکھ دیا گیا۔ اور اس کے ساتھ دو لمبے بانس باندھ دیئے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ احباب بآسانی کندھا دینے کی سعادت حاصل کر سکیں۔ اس موقعہ پر بزرگانِ سلسلہ اور ناظر و وکلاء صاحبان کے علاوہ دور و نزدیک کی بڑی بڑی احمدی جماعتوں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ یہاں سے جنازہ جو ایک تابوت میں رکھا ہوا تھا بیت المبارک کے احاطہ سے باہر لایا گیا۔ باہر سوگوار عورتوں اور مردوں کا ایک جم غفیر موجود تھا۔ احباب ایک نظام کے ماتحت باری باری کندھا دینے کی سعادت حاصل کر رہے تھے۔ سات بجے جنازہ مقبرہ بہشتی کے میدان میں پہنچ گیا۔ اور احباب نمازِ جنازہ کے لئے صفوں میں کھڑے ہو گئے۔ سوا سات بجے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بذریعہ کار تشریف لائے اور حضور نے نماز جنازہ پڑھائی۔ جنازہ میں شریک ہونے والے احباب نو لمبی صفوں پر مشتمل تھے جن میں سے ہر صف میں کم و بیش پانچ سو افراد تھے۔

نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد جنازہ کو حضرت اماں جان نوراللہ مرقدہا کے مزار مبارک والی چار دیواری میں لایا گیا۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے نماز جنازہ کے میدان سے لے کر چاردیواری تک مسلسل جنازہ کو کندھا دیا۔ اور اس طرح حضرت مرزا بشیرا حمد صاحب مدظلہ العالی اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیگر افراد نے بھی۔ افرادِ خاندان حضرت مسیح موعودؑ کے علاوہ رفقائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام، صدرانجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے ناظر و وکلاء افسرانِ صیغہ جات، بیرونی مبلغین علمائے سلسلہ، بیرونی جماعتوں کے نمائندگان اور غیرملکی طلباء کو چاردیواری کے اندرجانے کا موقع دیا گیا۔ پونے آٹھ بجے تابوت کو قبر میں اتارا گیا۔ تابوت کو قبر میں اتارنے میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ اورحضرت سیدہ مرحومہ کے ساتوں فرزندان کے علاوہ صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا حمید احمدصاحب، صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، خلیفہ صلاح الدین صاحب اور سید میر داؤد احمد صاحب نے حصہ لیا۔

تدفین مکمل ہونے تک حضور ایدہ اللہ تعالیٰ وہیں کرسی پر تشریف فرما رہے۔ تابوت پر چھت پڑنے کے بعد آٹھ بج کر پانچ منٹ پر حضور ایدہ اللہ نے اپنے دستِ مبارک سے مٹی ڈالی اورحضور کی اتباع میں باقی احباب نے بھی مٹی ڈالنے میں حصہ لیا۔ قبر تیار ہونے پر سوا آٹھ بجے حضور نے مسنون طریق پر دعا کرائی جس میں تمام احباب شریک ہوئے اور اس طرح حضرت سیدہ امِ ناصر احمد صاحبہ مرحومہ مغفورہ کو حضرت اماں جان… کے مزار کے قرب میں جانب مغرب سپرد خاک کر دیا گیا۔

اس کے بعد حضور نے حضرت اماں جان… کے مزار مبارک پر دعا فرمائی اور پھر بذریعہ کار واپس تشریف لے آئے۔

جنازہ میں شمولیت کرنے والے احباب

جنازہ میں شرکت کرنے والے احباب کا اندازہ چار پانچ ہزار کے قریب ہے جومغربی پاکستان کے ہر علاقے اور گوشے سے آئے ہوئے تھے۔ حضرت سیدہ مرحومہ کی وفات کے معاً بعد ایکسپریس تاروں اور ٹیلیفون کے ذریعہ جماعتہائے احمدیہ کے امراء صاحبان کو اس سانحہ کی اطلاع کر دی گئی تھی۔ نیز ریڈیو پاکستان کے ذریعہ بھی وفات کی خبر نشر کرنے کا اہتمام کردیا گیا تھا۔ تاکہ جلد سے جلد احباب جماعت کو اطلاع ہو سکے۔ چنانچہ ۳۱؍جولائی بروز جمعرات کی دوپہر سے ہی مختلف شہروں سے احبابِ جماعت ربوہ پہنچنے شروع ہو گئے تھے اور مورخہ یکم اگست کی صبح تک ہزاروں کی تعداد میں احمدی مرد و زن ربوہ پہنچ چکے تھے۔ اور مغربی پاکستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کی جماعتوں کے نمائندے موجود تھے۔ ان میں سے بعض تو ہوائی جہازوں کے ذریعہ ربوہ پہنچے تھے۔ تاکہ نماز جنازہ میں شرکت کر سکیں۔ نمازِ جنازہ اور تدفین میں شامل ہونے والوں میں وہ غیرملکی طلبہ بھی تھے جو دنیا کے مختلف حصوں سے دین سیکھنے اور خدمتِ دین میں اپنی زندگی بسر کرنے ربوہ آئے ہوئے ہیں… حضرت سیدہ مرحومہ کے بھائیوں میں سے مکرم خلیفہ علیم الدین صاحب اور مکرم خلیفہ صلاح الدین صاحب پہلے سے ربوہ میں موجود تھے۔ آپ کے دوسرے بھائی ڈاکٹر کرنل تقی الدین احمد صاحب اور ہمشیرہ محترمہ حمیدہ بیگم صاحبہ (اہلیہ خان بہادر خلیفہ اسد اللہ صاحب مرحوم) کراچی میں تھے۔ وہ دونوں بذریعہ طیارہ کراچی سے ۳۱؍جولائی کو روانہ ہو کر ساڑھے دس بجے ربوہ پہنچ گئے تھے۔

انتظامات

کل صبح حضرت سیدہ مرحومہ کی وفات کی اطلاع ملتے ہی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی امیر مقامی کی زیرنگرانی بیرونی جماعتوں کو وفات کی اطلاع دینے، نمازِجنازہ اور تدفین اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ اور قافلہ کی سہولت و آرام کے انتظامات کا کام سرگرمی کے ساتھ شروع ہو گیا۔ اس سلسلہ میں حضرت میاں صاحب ممدوح کے ساتھ محترم مرزا عزیز احمد صاحب، مکرم میاں غلام محمد صاحب اختر اور دیگر ناظر صاحبان بھی بہت مصروف رہے۔ مکرم میر داؤد احمد صاحب معتمد مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ اور مکرم مولوی محمد صدیق صاحب صدر عمومی ربوہ نے بھی اپنے معاونین کے ہمراہ انتظامات کی تکمیل میں خاص طور پر حصہ لیا۔ جزاہم اللہ احسن الجزاء۔

مقامی احباب کو لاؤڈ سپیکر کے ذریعے قافلہ کی روانگی ربوہ پہنچنے اور نماز کے وقت سے مسلسل اطلاع دی جاتی رہی۔‘‘  ( روزنامہ الفضل ۲؍اگست ۱۹۵۸ء صفحہ ۸)

تعزیتی تاروں اور خطوط کا جواب

حضرت امِ ناصر کی المناک وفات ایک نہایت دردناک جماعتی حادثہ تھا جس پر مرکزی تنظیموں اور اداروں نے تعزیتی قراردادیں پاس کیں اور دنیا کے مختلف اطراف سے بہت سے مخلصین نے تعزیتی تاریں اور خطوط ارسال کئے جن کے جواب میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (صدرانجمن احمدیہ ربوہ) نے حسبِ ذیل الفاظ میں مکتوب لکھے:-

بسم اللہ الرحمن الرحیم                    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

وعلی عبدہ المسیح الموعود

بخدمت     

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

”حضرت امی جان کی وفات پر آپ کا تعزیتی تار/ خط ملا۔ جزاکم اللہ واحسن الجزاء۔ میری طرف سے اور باقی بہن بھائیوں اور دیگر افرادِ خاندان کی طرف سے دلی شکریہ قبول فرمائیں۔ اک مختصر سی علالت کے بعد ہماری امی جان کا یوں اچانک رخصت ہو جانا ایک بہت بڑا حادثہ ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ آپ ہی کا بابرکت وجود تھا جسے خود سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر انتخاب نے چنا اور تربیت فرمائی۔ اور پھر انہوں نے نصف صدی سے زائد عرصے تک عسر اور یسر میں کمال اطاعت اور وفاداری سے سیدنا حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اور رفاقت کا حق ادا کیا۔ اور جماعت کے ہر دکھ درد میں مادر مہربان کی طرح شریک ہوئیں۔ا ور جماعت نے بھی اس نقصان عظیم کو جس طرح محسوس کیا ہے اس کی نظیر صرف روحانی رشتوں ہی میں مل سکتی ہے۔ دراصل یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا احسان ہے اس لئے جہاں ہم آپ کی اس ہمدردی پر تہ دل سے مشکور ہیں وہاں ہمارے دل اس محسنِ حقیقی کے حضور بھی جذبہ ممنونیت سے لبریز ہیں کہ ہمارے لاکھوں لاکھ بھائی بہن ہمارے اس غم میں برابر کے شریک ہیں اور اس شفیق اور متبرک سائے کے اٹھ جانے کی کمی کو یکساں طور پر محسوس کر رہے ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کی بارش برابر ہم سب پر اور حضرت امی جانؒ… پر برستی رہے اور سیدنا حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ کا بابرکت وجود تادیر ہمارے درمیان موجود رہے۔ تا اللہ تعالیٰ کے وعدے جلد پورے ہوں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت امی جانؒ… کو اپنے مقامِ قرب و رضا میں جگہ عطا فرماوے۔ آمین اللہم صل علیٰ محمدٍ وعلیٰ آل محمد وبارک وسلم انک حمید مجید۔

                                                                                والسلام

                                                                                خاکسار

                                                                                 مرزا ناصر احمد- ربوہ           

ابتدائی حالات اور عظیم الشان خدمات

جیسا کہ ’’تاریخ احمدیت‘‘ جلد سوم میں مفصل ذکر آچکا ہے اکتوبر ۱۹۰۲ء میں آپ کا رڑکی میں سیدنا محمود المصلح الموعود سے نکاح ہوا اور اکتوبر ۱۹۰۳ء کے دوسرے ہفتہ آگرہ میں تقریب رخصتانہ عمل میں آئی۔

حضرت سیّدہ امِّ ناصر کا وجود حضرت مصلح موعودؒ کے فیض تربیت کے نتیجہ میں پوری جماعت کے لئے اخلاص و فدائیت کا ایک قابل تقلید نمونہ تھا۔ آپ نہایت متقی، نیک، سلسلہ کا درد رکھنے والی سلیقہ شعار خاتون تھیں۔ بلند اخلاقی، شفقت اور ہمدردی کا پیکر تھیں۔ احمدی مستورات کے نظم و ضبط اور تحریک لجنہ اماء اللہ کو مستحکم کرنے میں آپ کی زریں خدمات کا بھاری عمل دخل ہے۔ آپ ایک لمبے عرصے تک صدر لجنہ مرکزیہ کے فرائض نہایت فرض شناسی اور خلوص اور باقاعدگی سے سرانجام دیتی رہیں۔

آپ کی زندگی کا عظیم کارنامہ یہ ہے کہ جن بزرگوں کی مالی قربانیوں سے اخبار الفضل جاری ہوا ان میں آپ کا نام سرِ فہرست ہے۔ سیدنا حضرت مصلح موعود نے اس عظیم الشان قربانی کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ایک مضمون میں رقم فرمایا کہ:-

”خداتعالیٰ نے میری بیوی کے دل میں اسی طرح تحریک کی جس طرح خدیجہؓ کے دل میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی تحریک کی تھی۔ انہوں نے اس امر کو جانتے ہوئے کہ اخبار میں روپیہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے کنویں میں پھینک دینا اور خصوصاً اس اخبار میں جس کا جاری کرنے والا محمود ہو جو اس زمانہ میں شاید سب سے زیادہ مذموم تھا اپنے دو زیور مجھے دے دیئے کہ میں ان کو فروخت کرکے اخبار جاری کردوں۔ ان میں سے ایک تو ان کے اپنے کڑے تھے اور دوسرے ان کے بچپن کے کڑے تھے جو انہوں نے اپنی اور میری لڑکی عزیزہ ناصرہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ کے استعمال کے لئے رکھے ہوئے تھے۔ میں زیورات کو لے کر اسی وقت لاہور گیا اور پونے پانسو کو وہ دونوں کڑے فروخت ہوئے۔ یہ ابتدائی سرمایہ ’’الفضل‘‘ کا تھا۔ الفضل اپنے ساتھ میری بے بسی کی حالت اور میری بیوی کی قربانی کو تازہ رکھے گا…… وہ بیوی جن کو میں نے اس وقت تک ایک انگوٹھی بھی شاید بنا کر نہ دی تھی اور جن کو بعد میں اس وقت تک ایک انگوٹھی بنوا کر دی ہے۔ ان کی یہ قربانی میرے دل پر نقش ہے… ان کا یہ سلوک مجھے شرمندہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس حسنِ سلوک نے نہ صرف مجھے ہاتھ دیئے جن سے میں دین کی خدمت کرنے کے قابل ہوا اور میرے لئے زندگی کا ایک نیا ورق الٹ دیا۔ بلکہ ساری جماعت کی زندگی کے لئے بھی ایک بہت بڑا سبب پیدا کر دیا۔ کیا ہی سچی بات ہے کہ عورت ایک خاموش کارکن ہوتی ہے۔ اس کی مثال اس گلاب کے پھول کی سی ہے جس سے عطر تیار کیا جاتا ہے۔ لوگ اس دوکان کو یاد رکھتے ہیں جہاں سے عطر خریدتے ہیں مگر اس گلاب کا کسی کو خیال بھی نہیں آتا جس نے مرکر ان کی خوشی کا سامان پیدا کیا۔ میں حیران ہوتا کہ اگر اللہ تعالیٰ یہ سامان پیدا نہ کرتا تو میں کیا کرتا اور میرے لئے خدمت کا کون سا دروازہ کھولا جاتا اور جماعت میں روزمرہ بڑھنے والا فتنہ کس طرح دور کیا جاسکتا۔‘‘ (الفضل ۴؍جولائی ۱۹۲۴ء صفحہ ۴ کالم نمبر ۱ عنوان ’’یادِ ایام)

حضرت سیدہ ام ناصر کی پاکیزہ سیرت سے متعلق خاندان حضرت مسیح موعودؑ کے ایمان افروز تاثرات

حضرت سیدہ ام ناصر کے وصال کے بعد آپ کی پاکیزہ سیرت پر کئی مخلص احمدی دوستوں اور خواتین نے اپنے چشم دید واقعات قلم بند کرکے الفضل میں شائع کرائے۔ (مضمون خلیفہ صلاح الدین صاحب (الفضل ۱۳؍اگست ۱۹۵۸ء صفحہ ۳)مضمون صاحبزادہ مرزا رفیق احمد صاحب (الفضل ۷؍اگست ۱۹۵۸ء صفحہ ۴،۵) مضمون بیگم صاحبہ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب (الفضل ۳۰؍اگست ۱۹۵۸ء صفحہ ۳،۴) نوٹ:محترمہ اہلیہ صاحبہ محمد عیسیٰ بھاگلپوری مرحوم ناظم آباد کرچی نمبر۱۸ (الفضل ۱۹؍اگست ۱۹۵۸ء صفحہ ۵) مضمون اہلیہ محترمہ حضرت مولوی رحمت علی صاحب مجاہد انڈونیشیا (الفضل ۱۳؍ستمبر ۱۹۵۸ء صفحہ ۴)

احمدی شعراء نے ان کے اوصافِ حمیدہ پر نظمیں کہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کی مبارک زندگی کا صحیح نقشہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے قلم مبارک ہی نے کھینچا۔

چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ’’ہماری بھاوجہ صاحبہ کا انتقال اور احبابِ کرام کا شکریہ‘‘ کے زیرعنوان اپنے قلبی تاثرات بایں الفاظ بیان فرمائے:-

                ”ہماری بھاوجہ صاحبہ سیدہ امِ ناصر احمد صاحبہ کی وفات کو جماعت میں جس رنگ میں محسوس کیا گیا ہے وہ ان کی غیرمعمولی ہردلعزیزی اور نیکی اور تقویٰ کا ایک بین ثبوت ہے۔ ہر چند کہ گزشتہ چند دن سے ان کی بیماری کے متعلق الفضل میں اعلانات چھپ رہے تھے اور بیماری کے تشویشناک پہلو کے متعلق بھی اشارات کافی واضح تھے پھر بھی ان کی وفات کی خبر ایک اچانک صدمے کے رنگ میں محسوس کی گئی جس نے اس کی تلخی کو بہت بڑھا دیا۔ مگر اس حادثہ کا زیادہ تلخ پہلو یہ ہے کہ بعض ناگزیر حالات کی وجہ سے اور کسی قدر نامکمل اطلاعات کی بنا پر مرحومہ کے زندگی بھر کے رفیق حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ بھی جو اس وقت نخلہ میں تشریف رکھتے تھے ان کی زندگی میں مری نہیں پہنچ سکے اور یہ حسرت دونو کے دلوں میں رہی ہوگی کہ اس دنیائے ناپائیدار میں ان کی آخری ملاقات نہیں ہوسکی۔ اور حضرت صاحب تیز سفر کرنے کے باوجود وفات سے چار پانچ گھنٹے کے بعد مری پہنچے۔

حضرت سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ مرحومہ کا نکاح اکتوبر ۱۹۰۲ء میں بمقام رڑکی میں ہوا تھا جہاں ان کے والد محترم حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم جو قدیم صحابہ میں سے تھے ان ایام میں متعین تھے۔ اس تقریب میں خلیفہ اول بھی شامل ہوئے۔ اگلے سال یعنی ۱۹۰۳ء میں بمقام آگرہ آپ کا رخصتانہ ہوا…… اس طرح حضرت سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ مرحومہ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کے ساتھ قریباً پچپن چھپن سال گزارے جو خدا کے فضل سے ایک بہت غیرمعمولی زمانہ ہے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت کا بھی ایک لمبا موقعہ میسر آ گیا اور پھر ان کو اللہ تعالیٰ نے اولاد بھی دوسروں کی نسبت زیادہ عطا کی جن میں سے اس وقت خدا کے فضل سے سات لڑکے اور دو لڑکیاں زندہ موجود ہیں۔ ان میں سب سے بڑے عزیزم مکرم مرزا ناصر احمد سلمہ ہیں اور سب سے چھوٹے عزیز مرزا رفیق احمد ہے جو ابھی تک زیر تعلیم اور قابلِ شادی ہے اور سیدہ مرحومہ کو بہت عزیز تھا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں جگہ دے اور ان کے زخمی دلوں پر اپنی جناب سے مرہم کا پھایہ رکھے۔ آمین یا ارحم الراحمین۔

سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ نہایت ملنسار، سب کے ساتھ بڑی محبت اور کشادہ پیشانی سے ملنے والی اور حقیقتاً حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کے گھر کی رونق تھیں اور حضرت اماں جان… کی وفات کے بعد جماعت کی مستورات کا گویا وہی مرکز تھیں۔ کیونکہ عمر میں بھی وہ ہمارے خاندان کی سب خواتین میں بڑی تھیں اور طبیعت کے لحاظ سے بھی اس امتیاز کی اہل تھیں۔ بے شک ہماری بڑی ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ کو بھی یہ وصف نمایاں طور پر حاصل ہے مگر وہ لاہور میں رک جانے اور بعض الجھنوں میں پھنس جانے کی وجہ سے ربوہ کی مرکزیت میں عملاً حصہ دار نہیں بن سکیں اس لئے عملاً یہ فرض سیدہ امِ ناصر احمد صاحبہ کے ذمہ ہی رہا۔ لہٰذا ان کی وفات نے وقتی طور پر یقینا ایک خلاء سا پیدا کر دیا ہے جسے دور کرنے والا خدا ہی ہے۔

سیّدہ امِّ ناصر احمد صاحبہ نے بہت بے شر طبیعت پائی تھی ان کے وجود سے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچی اور ان کا وجود ساری عمر اسی نوع کی معصومیت کا مرکز بنا رہا۔ نیکی اور تقویٰ میں بھی مرحومہ کا مقام بہت بلند تھا۔ غالباً یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ سیدہ امِ ناصر احمد صاحبہ کو جو جیب خرچ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی طرف سے ملتا اسے وہ سب کا سب چندہ میں دے دیتی تھیں اور اولین موصیوں میں سے بھی تھیں۔ جب تک روزوں کی طاقت رہی روزے رکھے اور بعد میں بہت التزام کے ساتھ فدیہ ادا کرتی رہیں۔ یہ انہی کی نیک تربیت کا اثر تھا کہ ان کی اولاد خدا کے فضل سے نمازوں اور دعاؤں میں خاص شغف رکھتی ہے۔ سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ کو یہ امتیاز بھی حاصل تھا کہ وہ عرصۂ دراز تک لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کی صدر رہیں۔

حضرت ام ناصر احمد صاحبہ کی وفات کے نتیجہ میں احبابِ جماعت کو اس وقت خاص طور پر چار دعاؤں پر بہت زور دینا چاہئے۔ (اول) یہ کہ حضرت صاحب کی طبیعت پر ان کی وفات کا کوئی ایسا اثر نہ پڑے جو حضور کی بیماری اور تکلیف میں اضافہ کرنے کا موجب ہو۔ (دوسرے) یہ کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی اولاد کا حافظ و ناصر ہو خصوصاً عزیز رفیق احمد کا جو اس وقت بہت غم زدہ اور مضمحل ہے۔ (تیسرے) یہ کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نماز جنازہ میں بہت لطیف دعا سکھائی ہے جماعت ہماری بھاوجہ مرحومہ کے نیک اعمال کے اجر سے محروم نہ ہونے پائے۔ (چوتھے) یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ربوہ میں خواتین کے لئے کوئی ایسا وجود پیدا کردے جو اپنے اندر مرکزیت کا مقام رکھتا ہو تاکہ احمدی مستورات اسے مل کر اپنے دلوں میں روحانی راحت پائیں اور اپنے مسائل میں مشورہ حاصل کرکے سکون حاصل کرسکیں۔ ہماری دوسری بھاوج سیدہ ام متین صاحبہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی خدمت میں قابلِ رشک انہماک رکھتی ہیں اور ایک طرح سے خط و کتاب کے کام میں حضرت صاحب کی گویا پرائیویٹ سیکرٹری بھی ہیں۔ مگر طبعاً انہیں مستورات سے ملاقات کرنے کے لئے بہت کم وقت ملتا ہے اور پھر طبائع کی مناسبت بھی جداگانہ ہوتی ہے۔ اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ جو بات میں نے فقرہ نمبر چہارم کے ماتحت لکھی ہے اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے اس کا کوئی احسن انتظام فرمادے یا ہماری ہمشیرہ کے لئے ہی ربوہ میں آکر خیر و خوبی کے ساتھ آباد ہونے کا رستہ کھل جائے۔

اس موقعہ پر بے شمار بھائیوں اور بہنوں نے دلی محبت اور قلبی ہمدردی کے ساتھ تعزیت کے پیغامات بھجوائے ہیں جو تاروں اور خطوں اور ٹیلیفون کے ذریعہ پہنچے ہیں اور پہنچ رہے ہیں۔ ان پیغامات کے بھجوانے والوں میں کافی تعداد غیراحمدی اصحاب کی بھی ہے اسی طرح بہت سے اداروں کی طرف سے بھی ہمدردی کے ریزولیوشن پہنچ رہے ہیں۔ ان سب کے لئے ہمارے دلوں میں مخلصانہ شکریہ کے جذبات جاگزین ہیں۔ حقیقتاً ایسے موقعہ پر دوستوں اور عزیزوں اور ہمدردوں کے محبت کے پیغامات انسان کے لئے بڑے سہارے کا موجب ہوتے ہیں۔ گو اصل سہارا بہرحال خدا کا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب دوستوں اور بہنوں کو جزائے خیر دے اور سب کو اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں رکھے اور سب کا حافظ و ناصر ہو اور جس طرح انہوں نے ہمارے غم کا بوجھ بانٹا ہے اللہ تعالیٰ ان کے بوجھوں کو دور فرمائے۔ آمین یاا رحم الراحمین۔

خاکسار

مرزا بشیر احمد۔ ربوہ۔

۴؍اگست ۱۹۵۸ء‘‘ 

(الفضل ۷؍اگست ۱۹۵۸ء صفحہ۳ )

اس سلسلہ میں حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے ایڈیٹر صاحب الفضل کے نام حسب ذیل مکتوب تحریر فرمایا جو الفضل ۱۳؍اگست ۱۹۵۸ء صفحہ ۳ پر شائع ہوا:-

بھابی جان اُمِّ ناصر مرحومہؒ

سوات سٹیٹ ہوٹل۔ سیدو شریف۔ سوات

۱۴؍اگست ۱۹۵۸ء

برادرم ایڈیٹر صاحب الفضل

السلام علیکم۔ بھابی جان امِ ناصر مرحومہ کی وفات کا اس قدر دل پر اثر ہے کہ ابھی کچھ لکھنا بھی مشکل ہے۔ ان کی شادی غالباً ۱۹۰۲ء کے آخر یا ۱۹۰۳ء کے شروع میں ہوئی ہوگی۔ مجھے خدا کے فضل سے اکثر بہت بچپن کی باتیں یاد رہ گئی ہیں خواہ سن وغیرہ یا تفصیل میں کبھی غلطی ہو بھابی جانؒ پہلی بار بیاہی آکر صرف دو تین دن ہمارے گھر رہیں چونکہ کم عمر تھیں اور ان کو جلد میکے بھیج دیا گیا تھا اور پھر سال بھر کے بعد ذرا اور بڑی ہوجانے پر دوبارہ رخصت ہو کر آ گئیں اور پھر گویا مستقل یہاں رہیں۔ ملنے پر کبھی کبھار چلی جاتی تھیں۔ ۱۹۰۴ء میں گورداسپور کے سفر میں وہ ہمارے ساتھ تھیں اور اتنی دیر کی شادی شدہ تھیں کہ کافی بے تکلف تھیں۔

انہوں نے شادی کے بعد اس گھر کو اپنا گھر اور ہم لوگوں کو اپنے بہن بھائی سمجھا۔ ایک گھڑی کو بھی محبت کے بغیر ان کا سلوک یاد نہیں۔ نہایت پیار سے ہم لوگ رہے۔ میں بہت چھوٹی تھی ضرور ستاتی بھی ہوں گی مگر ان کی شفقت میں کمی نہ آتی دیکھی۔ کبھی تیور پر بل نہ آتا تھا۔ ان کی سعید فطرت اور اس پر حضرت سیدنا بڑے بھائی صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) کی تربیت، گھر کا مبارک ماحول نیک نمونہ تھا۔ جو سونے پر سہاگہ ہو گیا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ دو برتن بھی ایک جگہ ہوتے ہیں تو کھٹک جاتے ہیں مگر ہم تو ایک بار بھی نہ کھٹکے تھے۔ مجھ سے جو محبت تھی وہ آخر دم تک نبھائی۔ ہمارے بچوں کے آپس میں رشتے ہوئے ایسے میں سو باتیں قدرتاً ہو جاتی ہیں بدمزگی کی۔ اور ہوسکتی تھیں۔ مگر ہمارے ذاتی تعلقات پر کوئی اثر کبھی نہ پڑا۔ نہ انہوں نے نہ میں نے ان رشتوں کو پہلے رشتے کے درمیان کبھی بھی حائل ہونے دیا۔ حضرت اماں جانؒ …… کے بعد بھی محبت و شفقت خصوصیت سے ان کی جانب سے حاصل رہی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

حضرت مسیح موعودؑ سے بہت اور حضرت اماں جانؒ سے بھی خاص تعلق تھا۔ بچپن تھا مگر فطرتی شرم اور جھجک کی وجہ سے ان کے سامنے خاموش ہی رہتی تھیں۔ زیادہ تر بہت کم اس زمانہ میں بات کرتے بڑوں سے میں نے ان کو دیکھا۔ اکثر وقت اپنے کمرے میں گزارتی تھیں۔ اکثر شام کو باہر آنا تو مؤدب ہو کر بیٹھنا اور حضرت مسیح موعودؑ کے سامنے بھی دوپٹہ بہت لپیٹ کر اوڑھے رکھنا ان کا طریق تھا۔ جسے پنجابی میں ’’دوہری بکل‘‘ کہتے ہیں۔ اب لڑکیوں نے شاید یہ طریق دیکھا بھی نہ ہو۔ اسی صورت میں دوپٹہ اوڑھ کر صحن میں نکلتی تھیں۔ یہ ایک طرح کا گھر کا پردہ ہی ہوتا ہے۔ حالانکہ اس وقت شروع میں پردہ والا کوئی گھر میں خاص نہ ہوتا تھا۔ بڑے ماموں جانؒ اکثر باہر اور چھوٹے ماموں جانؒ اور دوسرے میرے بھائی تو ابھی چھوٹے لڑکے سے تھے مگر انہوں نے ہمیشہ بہت لحاظ اور شرم کا طریق یکساں ملحوظ رکھا۔ کبھی میں نے ان کو لڑکوں سے بات کرتے نہیں دیکھا۔ مجھے بے شک ہر وقت یعنی جتنا بھی وقت مل سکتا اپنے پاس رکھنے کی کوشش کرتی تھیں۔ لحاظ شرم و حیا اورصبر و رضا ان کی خصوصیات میں سے تھے۔

حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت کی بہت خواہش رہتی تھی۔ مجھے یاد ہے زیادہ بے تکلف نہ تھیں مگر وضو فرمانے لگتے تو لوٹا اٹھا کر پانی ڈالنے لگتیں۔ غرض اسی طرح چاہتی تھیں کہ کوئی کام کروں گورداسپور میں جب حضرت مسیح موعودؑ عدالت میں تشریف لے جاتے تو میرے ساتھ ٹوکرا لگا کر مینا چڑیاں پکڑا کرتی تھیں۔ بہت ہی ذوق شوق سے کہ واپس آئیں گے تو آپؑ کے لئے شکار کا گوشت تیار رکھیں گے۔ حضرت اقدسؑ بھی بہت شفقت فرماتے تھے ایک بار یونہی کسی نے بات اڑا دی تھی کہ میاں (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) دوسری شادی کریں گے تو حضرت مسیح موعودؑ نے سن کر بہت پیار سے بھابی جان کو دلاسا دیا اور فرمایا کہ ’’میری زندگی میں تم کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی‘‘۔ اس وقت مغرب کا وقت تھا اور آپؑ وضو کر رہے تھے اسی صحن میں تھے جو اب دارالمسیح قادیان میں ام ناصر کا صحن کہلاتا ہے۔ وہ بات پوری ہوئی۔ شادیاں مقدر تھیں ہو کر رہیں مگر حضرت اقدسؑ کی زندگی میں یہ تکلیف بھابی جان کو نہیں پہنچی۔

دعاؤں میں بے حد شغف تھا۔ بہت دعائیں کرنے والی تھیں۔ جب میرا پہلا بھتیجا نصیر احمد فوت ہو گیا اور پھر بچہ کافی عرصہ تک نہ ہوا تو چونکہ اب سمجھ اور فکر کا زمانہ آ گیا تھا تو انہوں نے اولاد کے لئے بے حد دعائیں کیں۔ ایک بار ایک بات سے رنج پہنچا تو مجھے خود بتایا کہ میں نے تمام شب قریباً رو رو کر خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں اور اسی ماہ میں ناصر احمد کی پیدائش کے آثار ظاہر ہو گئے۔

پھر خدا کے فضل سے اوپر تلے اللہ تعالیٰ نے بیٹے بھی دیئے اور بیٹیاں بھی۔ مبارک زندگی تھی مبارک انجام ہوا۔ اللہ تعالیٰ جنت اعلیٰ میں اعلیٰ سے اعلیٰ درجات عطا فرمائے۔

احباب سے التجا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی صحت اور زندگی کے لئے خصوصیت سے بے حد دعائیں کریں۔ مجھے فکر ہے خواہ کتنا بھی اعلیٰ درجہ کا صبر ان کو خدا تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے پھر بھی بشریت کا تقاضا ہے کہ اتنے پرانے رفیق کا جدا ہوجانا دل پر اثرانداز ہو۔ خدا کرے ان کی صحت کو دھچکا نہ لگے۔ فقط (مبارکہ‘‘) (الفضل ۱۳؍اگست ۱۹۵۸ء صفحہ ۳)

(تاریخ احمدیت جلد20صفحہ 120تا137)

حضرت زینب بی بی صاحبہؓ
وفات   22 اپریل 1959

 

وفات: 21-22 اپریل 1959ء

 (والدہ مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری مجاہد انگلستان، سیرالیون، لائبیریا، سنگاپور، فجی) نہایت پارسا متوکل علی اللہ اور (دین حق) و احمدیت کی خاطر قربانیاں کرنے والی خاتون تھیں۔ نماز پنجگانہ کو التزام سے ادا کرنے کے علاوہ تہجد اور اشراق کی بھی پابند اور مستجاب الدعوات تھیں۔ خاندان حضرت مسیح موعودؑ سے خصوصاً اور بزرگانِ سلسلہ سے عموماً بہت عقیدت تھی۔ 

 (اخبار بدر قادیان ۱۹،۲۶؍فروری، ۱۲؍مارچ ۱۹۵۹ء میں مفصل روداد شائع شدہ ہے۔ جن جماعتوں کا دورہ کیا گیا یادگیر، تیماپور، اوٹکور، رائچور، دیودرگ، چنتہ کنٹہ، کرنول، ہبلی، باندہ، ساونت واڑی، دھارواڑ، شموگہ، ساگر، سرب)

(تاریخ احمدیت جلد20 صفحہ445)

حضرت مریم بی بی صاحبہؓ
وفات   27 جولائی 1959

 

وفات: 27 جولائی 1959ء

(مولانا نذیر احمد صاحب مبشر مبلغ انچارج احمدیہ مشن غانا کی بڑی ہمشیرہ)

اصل وطن سیالکوٹ تھا۔ ۱۹۲۱ء میں ہجرت کرکے قادیان آگئیں۔ بہت نیک دل غریب پرور اور دعاگو خاتون تھیں۔ (وفات ۲۷؍جولائی ۱۹۵۹ء)

(الفضل ۲۵؍اپریل ۱۹۵۹ء صفحہ۴ )

(تاریخ احمدیت جلد20صفحہ445)

حضرت مختار بیگم صاحبہؓ
وفات   9 اکتوبر 1959

 

وفات: 9 اکتوبر 1959ء

(اہلیہ ملک علی بخش صاحب بھوپال)حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت سے ۱۹۰۴ء میں مشرف ہوئیں۔ ۱۹۰۹ء میں ۹/۱ حصہ کی وصیت کی۔ پابند صوم و صلوٰۃ اور تہجد گزار تھیں۔ فرمایا کرتی تھیں:-

”میں نے مسیح پاک سے دل کھول کر باتیں کی ہیں اور جو نور میں نے دیکھا ہے وہ آپ کے نصیب میں کہاں۔”  (  الفضل ۵؍مئی ۱۹۵۹ء صفحہ ۱ و آخر)

(تاریخ احمدیت جلد20صفحہ446)

 

وفات: 13دسمبر 1959ء

(والدہ محمد اقبال صاحب سب انسپکٹر سیالکوٹ)

مرحومہ نے ساری عمر بچوں اور عورتوں کو قرآن کریم پڑھانے میں وقف رکھی احمدیت اور حضرت مصلح موعود کی شیدائی تھیں۔

(الفضل ۲۳؍اپریل ۱۹۵۹ء صفحہ۱ )

(تاریخ احمدیت جلد20صفحہ446)

حضرت حاکم بی بی صاحبہؓ
وفات   14 اپریل 1961

 

وفات: 14اپریل 1961ء

زوجہ محترم خواجہ محمد دین صاحب سیالکوٹی

14اپریل 1961ء کو محترمہ حاکم بی بی صاحبہ زوجہ خواجہ محمد دین صاحب سیالکوٹی بھی داغ مفارقت دے گئیں۔آپ شاعر احمدیت جناب عبد ال ناہید صاحب کی والدہ محترمہ تھیں۔

محترم ناہید صاحب کا تحریری بیان ہے کہ

”خاکسار کی والدہ محترمہ حاکم بی بی صاحبہ زوجہ خواجہ محمد دین صاحب پوسٹ ماسٹر (مرحوم) حضرت منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی کی بڑی دختر تھیں۔4اپریل 1961ء بروز جمعہ قریباً اڑسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔۔۔۔آپ فرمایا کرتی تھیں کہ جب میری ابھی شادی نہیں ہوئی تھی میں اپنی پھوپھو صاحبہ کے پاس غالباً 1906-7-8 ،میں گئی تھی۔وہاں پر سب لڑکیاں جن میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی اہلیہ محترمہ۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی بیگم صاحبہ۔ مولوی محمد علی صاحب کی پہلی بیوی محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ۔ محترمہ حاجرہ بیگم صاحبہ جو حضرت خلیفۃ المسیح  اول  کی نواسی تھیں اور قریباً سب ہم عمر تھیں۔حضرت اقدس ؑ کے دولت خانہ پر رہتی تھیں۔اور اکثر حضور کے پاس بیٹھنے ۔۔۔۔۔کا موقعہ ملتا رہتا تھا۔ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب عام طور پر حضرت اقدس کے مکان میں ہی رہتے تھے اور حضور اپنی رہائش گاہ سے ملحق ہی ان کو کمرے دے دیتے تھے۔اس طرح والدہ صاحبہ کو بہت قریب سے اللہ تعالیٰ کے مسیحؑ اور ان کی زوجہ محترمہ حضرت اماں جان اور ان کی اولاد کو دیکھنے اور ان پاک نفوس کی صحبت میں رہنے کا فخر حاصل تھا۔حضرت اقدسؑ جب اپنے خدام کے ساتھ سیر کو جایا کرتے تو یہ سب بیگمات اور مولویانی صاحبہ حضرت اماں جان کی معیت میں ساتھ جایا کرتی تھیں۔اگر لڑکیاں زیادہ ہوتیں تو وہ باری باری رتھ پر سوار ہوتی تھیں۔انہی ایام میں خاکسار کی والدہ محترمہ نے حضرت اقدسؑ کے دست مبارک پر بیعت کی تھی۔آپ کے والد محترم حضرت منشی محمد اسماعیل صاحب پہلے ہی بیعت کر چکے تھے۔

2۔ خاکسار راقم الحروف کی اہلیہ عائشہ محمودہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ان ایام کی یاد تازہ کرتے ہوئے ایک دفعہ والدہ محترمہ نے انہیں بتایا کہ ایک عید سے قبل حضرت اماں جان نے میرے لئے ایک نیا جوڑا بنوایا۔۔۔جب کھانے پر تمام لڑکیاں پہنچ گئیں تو حضرت اماں جان نے مجھے وہاں نہ پا کر پھوپی صاحبہ سے دریافت کیا کہ حاکم بی بی کہاں ہے۔آپ نے بتایا کہ وہ آپ کا دیا ہوا جوڑا آج پہننا چاہتی تھی مگر میں نے نہیں دیا۔اس لئے اس نے کپڑے نہیں بدلے اور کمرہ میں ہی ہے۔آپ نے پھوپی صاحبہ سے فرمایا کہ وہ جوڑا اسے پہننے کے لئے دیدو۔چنانچہ میں وہ جوڑا پہن کر آ گئی اور اس بات کے احساس سے کہ میری خفگی کا سب کو علم ہو گیا ہے کچھ شرما کر پیچھے کھڑی رہی۔ حضرت اماں جان نے دیکھا تو فرمایا ’’ آ ساڈیا حاکما آ جا”

یہ انہی پاک شب و روز کی نیک صحبت کا نتیجہ تھا کہ والدہ مرحومہ خوب پابندی سے ارکان (دین حق) بجا لاتی تھیں۔بے فائدہ باتوں سے اجتناب کرتی تھیں اور ذکر الٰہی میں مشغول رہتیں۔ غیبت۔ دروغ گوئی۔ عیب چینی۔ غرور و تکبر اور کسی کی تحقیر کرنے سے نفرت تھی اور ان باتوں سے بچنے کی ترغیب دیتی تھیں۔ محلہ کی تمام عورتیں آپ کی شرافت اور خوش اخلاقی کے باعث آپ سے بہت محبت رکھتی تھیں اور آپ کو بڑے احترام سے دیکھتی تھیں۔ ہم نے گھر میں اکثر یہ نظارہ دیکھا کہ کوئی محتاج عورت گھر میں آئی اور اس نے اپنا مقصد بیان کیا اور والدہ محترمہ نے پوری توجہ سے اس کی بات کو سنا۔پھر اپنا صندوق کھولا۔ اسکے بعد انکی بند مٹھی اس عورت کے ڈوپٹہ کے نیچے سے اسکے ہاتھ میں ہی کھلتی۔ہمیں یہ تو اندازا ہو جاتا تھا کہ اسکی نقدی سے امداد کی گئی ہے مگر یہ کبھی نہ پتہ چلتا کہ اسے کیا دیا گیا ہے۔

3۔ خاکسار کی اہلیہ نے مزید بیان کیا کہ اماں جی نے ایک دفعہ انہیں بتایا کہ میں ابھی چھوٹی تھی کہ ایک دن حضرت منشی محمد عبد اللہ صاحب سیالکوٹی (رفیق حضرت اقدس) کے ہاں گئی۔ ان کی ایک بچی شدید بیمار تھی۔ منشی صاحب کی والدہ محترمہ نے مجھے کہا کہ دعا کر یہ اچھی ہو جائے۔ میں نے اسی وقت دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو مجھے ایک آواز آئی جس پر میں نے ان سے کہا کہ ’’پائی کہندا اے۔ اے نہیں بچن لگی۔ کاکا ہوئے گا اوہ جیوندا رہے گا‘‘ یعنی کوئی آدمی کہتا ہے کہ یہ لڑکی نہیں بچے گی۔ البتہ ایک لڑکا ہوگا جو زندہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ایسا ہی تھا چنانچہ وہ لڑکی فوت ہو گئی۔ جس کے بعد حضرت منشی محمد عبد اللہ صاحب کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام خدا کے مسیحؑ نے عبد الحئی رکھا۔ جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ابھی زندہ ہیں۔

4۔ والدہ محترمہ کسی صدمہ پر انتہائی ضبط و تحمل سے کام لیتی تھیں۔ ہمارا چھوٹا بھائی ظفر جو بڑا ہی خوبصورت اور تندرست بچہ تھا اور چھوٹا ہونے کی وجہ سے گھر کی رونق بھی تھا جب تیرہ برس کی عمر میں فوت ہو گیا تو ہم نے والدہ صاحبہ کے خاموشی کے ساتھ آنسو بہتے ہوئے تو دیکھے مگر کوئی ایسا کلمہ ان کی زبان سے نہیں سنا جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا پر نا رضامندی یا شکایت کا اظہار ہو تا ہو۔

5۔ گھر میں جب کبھی کوئی اچھی چیز آتی یا خود پکاتیں تو محلہ کے تمام گھروں میں بھی ضرور تقسیم کرتیں۔اپنی اولاد اور بہوؤں کے ساتھ نہایت ہی مشفقانہ سلوک تھا۔کبھی کسی سے سختی سے پیش نہیں آتی تھیں الفضل کا باقاعدگی سے مطالعہ کرتی تھیں۔آخری عمر میں جب نظر خراب ہو گئی تو اپنی کسی بہو یا بچہ کو پاس بٹھا کر الفضل سنا کرتی تھیں۔اس خاکسار کی جب کبھی کوئی تازہ نظم الفضل میں شائع ہوتی تو اسے بڑی محبت اور توجہ کے ساتھ سنتیں۔اور گو زبان سے کچھ نہ کہتیں مگر چہرے کی چمک اور ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بیٹے کی جس رنگ میں حوصلہ افزائی کرتی اسے کچھ دل ہی جانتا ہے۔بچپن میں ہمیں آ پ کی طرف سے ہدایت ہوتی کہ مغرب سے پہلے گھر پہنچ جائیں۔بڑے بچوں کا بھی رات دیر تک گھر سے باہر رہنا پسند نہ کرتی تھیں۔یہ پابندی نمازوں کے اوقات پر نہیں تھی اور اگر دینی کاموں کے سلسلہ میں ساری رات بھی باہر رہنا پڑا تو بخوشی اجازت دے دیتیں۔

 6۔ آپ کی شادی نومبر 1908ء میں ہمارے والد صاحب بابو محمد دین صاحب پوسٹماسٹر مرحوم سے ہوئی۔ آپ کے بطن سے مندرجہ ذیل اولاد پیدا ہوئی :

1۔ عبد السلام صاحب (ڈپٹی کنٹرولر ملٹری اکاؤنٹس)

2۔ امۃ السلام صاحبہ مرحومہ زوجہ ڈاکٹر میجر عبد الحق ملک (سول سرجن) مرحوم

3۔ خاکسار عبدال ناہید ریٹائرڈ ڈپٹی کنٹرولر ملٹری اکاؤنٹس

4۔ خورشید مسرت صاحبہ مرحومہ زوجہ میجر محی الدین ملک پسر حضرت ملک نواب الدین صاحب مرحوم (ہیڈ ماسٹر۔ پرائیویٹ سیکرٹری خلیفۃ المسیح الثانی)

5۔ نسیم اختر صاحبہ اہلیہ میجر میر محمد عاصم صاحب پسر حضرت مولوی محمد جی صاحب فاضل مرحوم

انکے علاوہ امۃ الرحمان۔ ظفر اسلام اور شمیم بچپن میں ہی فوت ہو گئے ‘‘۔   (ریکارڈ شعبہ تاریخ ربوہ)

(تاریخ احمدیت جلد21صفحہ342-345)

حضرت امۃ اللہ بیگم صاحبہؓ
وفات   7 اکتوبر 1961

 

وفات: 7 اکتوبر 1961ء

 اہلیہ حضرت سید حسن شاہ صاحب آف ناصر آباد قادیان 

آپ حضرت منشی عبد الرحمان صاحب کپور تھلوی (یکے از اصحاب 313) کی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں۔بہت عابدہ اور تہجد گزار خاتون تھیں۔بچوں کو بھی پابندی نماز کی تلقین کرتیں۔ قرآن کریم نہایت خوش الحانی سے پڑھتیں ۔  

 دینی باتوں کے سننے کا بہت شوق تھا۔سلسلہ کی ہر مرکزی تحریک میں حصہ لیتیں اور کمزوریٔ صحت کے باوجود جلسہ سالانہ میں ضرور شامل ہوتیں۔ حضرت مسیح موعودؑ اور حضور کے مبارک خاندان سے نہایت درجہ محبت و عقیدت رکھتی تھیں۔(الفضل26نومبر1961ء صفحہ4)

(تاریخ احمدیت جلد21صفحہ341)

حضرت سکینہ بی بی صاحبہؓ
وفات   16 اکتوبر 1961

 

ولادت: 1879ء

بیعت: قبل از 1905ء

وفات: 16 اکتوبر 1961ء

(ریکارڈ بہشتی مقبرہ ربوہ)

زوجہ حضرت سید فضل شاہ صاحب۔ 

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر حسب ذیل نوٹ سپرد قلم فرمایا:

”مرحومہ حضرت سید فضل شاہ صاحب مرحوم کی اہلیہ تھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے خادم اور اول درجہ کے مخلص اور درویش بزرگ تھے۔ مرحومہ نے شروع میں ہی یعنی اپریل 1906ء میں وصیت کرا دی تھی۔

چنانچہ ان کی وصیت کا نمبر 150تھا جس میں چار اصحاب شامل تھے یعنی حضرت سید فضل شاہ صاحب اور ان کی اہلیہ اور حضرت شاہ صاحب کے بھائی حضرت سید ناصر شاہ صاحب مرحوم اور ان کی اہلیہ۔اور انہوں نے وصیت کے ساتھ ہی وصیت کی رقم بھی ادا کر دی تھی اور گو حضرت شاہ صاحب مرحوم بیعت میں زیادہ قدیم تھے مگر خود مرحومہ کی بیعت بھی کافی پرانی تھی اس لئے صحابہ کے قطعہ خاص میں دفن ہوئیں اور ان کی اولاد کا دین و دنیا میں خدا تعالیٰ حافظ و ناصر ہو۔ وفات کے وقت قمری حساب سے عمر غالباً 85سال تھی ‘‘۔ (الفضل19اکتوبر1961ء صفحہ1)

(تاریخ احمدیت جلد21صفحہ341-342)

حضرت امۃ الکریم صاحبہؓ
وفات   19 نومبر 1961

 

بیعت: 1892ء

وفات: 19 نومبر 1961ء بعمر 76 سال

اہلیہ حضرت قاضی عبد المجید صاحب مرحوم آف امرتسر۔ 

بہت نیک اور پارسا خاتون تھیں۔ آپ کا اکثر وقت ذکر الٰہی میں گذرتا تھا۔  سلسلہ احمدیہ سے اخلاص کا یہ عالم تھا کہ 1/3حصہ کی وصیت کی ہوئی تھی۔ مالی جہاد میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ تبلیغ کا بھی بہت شوق تھا۔ مہمان نوازی اور غرباء پروری کا وصف بھی اللہ تعالیٰ نے ان کو ودیعت کیا تھا۔ مرحومہ کی پوری زندگی دین کو دنیا پر مقدم کرنے میں بسر ہوئی۔ (الفضل25نومبر1961ء صفحہ8-1)

(تاریخ احمدیت جلد21صفحہ342)

ولادت : 1871ء ۔ وفات : 24 مارچ1963ء[1]

آپ حضرت سیٹھ ابوبکر یوسف صاحب آف جدّہ کی اہلیہ تھیں، حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خوش دامن تھیں اور مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب اور مکرم صاحبزادہ مرزا نعیم احمد صاحب کی نانی صاحبہ تھیں۔ اسی طرح مکرم شیخ بشیر احمد صاحب سابق جج لاہور ہائیکورٹ آپ کے داماد تھے اور مکرم کمال یوسف صاحب سابق مجاہد سکینڈے نیویا ممالک آپ کے پوتے ہیں۔

حوالہ جات:

[1] الفضل 26، 27 مارچ 1963ء صفحہ 1

(تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 316 )

حضرت عنایت بیگم صاحبہؓ
وفات   28 جولائی 1963

 

ولادت: 1880ء 

بیعت: 1903ء   

وفات: 28 جولائی 1963ء ۔(ریکارڈ بہشتی مقبرہ ربوہ۔ الفضل ۳؍ اگست ۱۹۶۳ء صفحہ ۶)

آپ کو خاندان حضرت مسیح موعود سے قرابت داری کا شرف حاصل تھا اور آپ کے والد مرزا غلام قادر صاحب آف لنگروال ضلع گورداسپور کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کے شوہر مرزا محمد علی صاحب ۱۹۰۳ء میں وفات پا گئے اور آپ عین جوانی میں بیوہ رہ گئیں۔خاندان کی مالی حالت اس وقت اچھی نہ تھی مگر اس کے باوجود آپ نے صبر اور استقلال اور تقویٰ اور عفّت کے ساتھ اپنی بیوگی کا ساٹھ سالہ دور گزارا جو احمدی مستورات کے لئے ایک شاندار مثال ہے۔ آپ نے اپنے دونوں یتیم بیٹوں (مرزا نذیر علی صاحب ۔ مرزا ضمیر علی صاحب) کی ہر ممکن عمدہ تربیت کی اور انہیں مروّجہ تعلیم دلائی۔

مرحومہ نہایت ہی اعلیٰ اخلاق کی مالک تھیں اور اپنے سینہ میں ایک نڈر اور فیاض دل رکھتی تھیں۔صوم و صلوٰۃ اور پردہ کا پابند ہونے کے علاوہ ایمانی جرأت کا ایک نمونہ تھیں۔ آپ کے تعلّقات حضرت تائی صاحبہ (حرمت بی بی) اہلیہ مرزا غلام قادر صاحب (برادر اکبر حضرت مسیح موعود) سے بھی تھے۔ انہوں نے ایک لمبے عرصہ تک بیعت نہیں کی تھی اس لئے مرحومہ جب کبھی اُن سے ملتیں وہ ان کے احمدی ہونے پر بہت جزبز ہوا کرتی تھیں۔مرحومہ ان کی زجر و توبیخ کو تو گوارا کر لیتی تھیں مگر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی شان مبارک کے خلاف کوئی بات سُننا آپ کے لئے ناقابل برداشت تھا۔حضرت تائی صاحبہ نے ۱۹۱۶ء  میں بیعت کر لی۔ ( الفضل ۴ مارچ ۱۹۱۶ء )

تو آپ کو بے حد خوشی ہوئی کہ الحمد ﷲ حضرت مسیح موعود کا الہام ’’تائی آئی‘‘ ۔(البشریٰ صفحہ ۱۱۳ حاشیہ مرتبہ حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی۔ تذکرہ طبع چہارم صفحہ ۶۶۵)نہایت شان سے پورا ہوا ہے۔

مرحومہ کو جھوٹ اور غیبت سے قطعی نفرت تھی۔آپ اپنے ہمسایوں کی ہمدرد اور غمگسار تھیں اور محلہ کی تمام احمدی، غیر احمدی اور غیر مسلم مستورات پر مرحومہ کا خداداد رعب تھا۔ (حالات تحریر کردہ قریشی محمد عبداﷲ صاحب آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ ربوہ۔الفضل ۷؍ اگست ۱۹۶۳ء صفحہ ۵)

(تاریخ احمدیت جلد22صفحہ266)

حضرت مہتاب بیگم صاحبہؓ
وفات   18 ستمبر 1963

 

ولادت: 1883ء

بیعت: 1903ء

وفات: 18 ستمبر 1963ء

(ریکارڈ بہشتی مقبرہ ربوہ۔ الفضل ۲۰۔۲۱ ستمبر ۱۹۶۳ء صفحہ ۱ )

آپ حضرت مسیح موعودؑ کے صحابی  حضرت بابا جیون بٹ صاحب آف امرتسرکی صاحبزادی تھیں۔ (آپ پشمینہ بافی کا کام کرتے تھے رہائش قلعہ بھنگیاں امرتسر میں تھی۔ بیعت ۱۸۹۴ء۔

(حیات احمد جلد چہارم صفحہ ۴۵۵ مؤلفہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی )

وفات ۱۸ ستمبر ۱۹۳۰ء۔ آپ موصی نہیں تھے مگر حضرت مصلح موعود کی اجازت خاص سے بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کئے گئے ۔

(غیر مطبوعہ یادداشت از حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب )

حضور علیہ السلام کی تحریک اور منظوری سے آپ کا عقد حضرت مولانا سرور شاہ صاحب سے ہوا۔ نکاح حکیم الامت حضرت مولانا نور الدین صاحب بھیروی نے حضور کی موجودگی میں پڑھا اور خود ہی دو صد روپیہ مہر مقرر کیا۔ حضرت اقدس علیہ السلام بھی دعا میں شریک ہوئے۔ رخصتانہ کے موقعہ پر حضرت بابا جی نے کہلا بھیجا کہ ہم سب کچھ دیں گے مولوی سرور شاہ صاحب کچھ بھی ساتھ نہ لائیں۔ ادھر مولوی صاحب کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا۔ حضرت حکیم فضل الدین صاحب نے فرمایا کہ یہ معلوم ہونے پر کہ آپ رخصتانہ کے لئے امرتسر جا رہے ہیں دس روپے دیئے اور حضرت مولانا نورالدین صاحب نے فرمایا کہ برات میں کسی کو ساتھ نہ لے جائیں آج تیرہ دوست مجھ سے مل کر امرتسر گئے ہیں اور میں نے انہیں کہا ہے کہ وہ امرتسر اسٹیشن پر ٹھہریں اور آپ کی برات میں شامل ہوں چنانچہ یہ لوگ اسٹیشن پر موجود تھے اُن کے ہمراہ مولوی صاحب ڈاکٹر عباد اﷲ صاحب امرتسری کے مکان پر پہنچے جہاں چند اور دوست بھی شامل ہوئے اور یہ برات حضرت بابا جی کے پاس پہنچی۔ رخصتانہ کی تقریب ہوئی اور حضرت مولوی صاحب محترمہ مہتاب بیگم صاحبہ کو بیاہ کر قادیان لائے اور ازدواجی زندگی کا مبارک دور شروع ہوا۔  (اصحاب احمد جلد پنجم ۔سیرت سرور حصہ اوّل صفحہ ۷۳۔۷۶ ۔مرتبہ ملک صلاح الدین صاحب ایم اے طبع اوّل اپریل ۱۹۵۸ء)

ایک دفعہ ان کے دانت میںشدید درد تھی۔دوائوں سے فائدہ نہ ہوا۔حضرت اماں جان نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی ۔حضور نے دارالمسیح میں بلواکر ان کی موجودگی میں دو نوافل ادا کئے۔انہیں یوں محسوس ہوا کہ اس دانت کے نیچے سے قدرے دھویں والا شعلہ نکل کر آسمان کی طرف جا رہا ہے۔چنانچہ تھوڑی دیر میں آرام آگیا۔اور بھی بہت سی قبولیت دعا کی شہادتیں آپ سے مروی ہیں۔

حضرت مہتاب بیگم صاحبہ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر مرزا نصیر احمد صاحب مرحوم پسر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو ایک ماہ دودھ پلانے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔آپ خدا کے فضل سے موصیہ تھیں۔جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مسجد برلن کی تحریک فرمائی تو آپ نے ۳۰روپے چندہ ادا کیا۔آپ حضرت سید سرور شاہ صاحب کے آرام کا بہت خیال رکھتیں۔جب گھر میں ہوتے تو کبھی ادھر ادھر نہ جاتیں نہ ان کے مطالعہ میں بچوں کو جانے دیتیں۔گھر کے اکثراخراجات کا حسن تدبر سے انتظام کرتیں اور گھر کے نظم و ضبط کی کڑی نگرانی رکھتیں۔

آپ کے نواسے لکھتے ہیں کہ گھر کے متعلق ہر کام سلیقے سے کرتیں گھر کے افراد کے علاوہ دو چار کشمیری طلباء بچے بچیاں اور ملازموں کی دیکھ بھال بڑے ذوق اور ڈھنگ سے کرتیں۔سلسلہ کے لڑیچر کے علاوہ حضرت قاضی اکمل صاحب کے گھر آنے والے تمام رسائل کا مطالعہ کرتیں۔

آخری عمر تک باپردہ گھر سے جاتیں۔بے حد دعا گو اور ملنسار خاتون تھیں۔حضرت سید سرور شاہ صاحب کی اہلیہ اول سے بیٹی فاطمہ بیگم تھیں ۔ان کی شادی کے وقت بڑی فراخ دلی سے ان کا جہیز تیار کیا۔ان کی اپنی حقیقی بیٹیوں کی طرح پرورش کی۔

(ملخص ــ’’حضرت محمد سرور شاہ صاحب‘‘ از برکت ناصر صاحبہ۔ صفحہ ۵ تا ۱۵)

اولاد:

حضرت مہتاب بیگم صاحبہ کے بطن سے حسب ذیل اولاد ہوئی۔

(۱)  سید ناصر احمد شاہ صاحب مرحوم

(۲) سید مبارک احمد صاحب سرور

(۳)سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہ

(تاریخ احمدیت جلد22صفحہ270-271)

 

ولادت: قریباً 1879ء

بیعت: (سن کی تعیین نہیں ہوسکی)

وفات: 6 فروری 1964ء

آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحابیہ تھیں۔ آپ بڑی خوبیوں کی مالک تھیں۔ بہت نیک، دین سے محبت کرنے والی، ہمدرد اور خداترس تھیں۔ مہمان نوازی آپ کا خاص وصف تھا۔ پردے کی سختی سے پابند تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے گہری عقیدت و محبت تھی ان کے لئے ہمیشہ التزام سے دعائیں کرتی تھیں۔ جلسہ کے موقعہ پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے گھر میں قیام پذیر ہوتی تھیں۔ مرحومہ اپنے خاندان میں سب سے پہلے احمدی ہوئیں جبکہ اس وقت ان کے خاوند بھی احمدی نہ تھے۔ قبول احمدیت کے بعد بہت تکلیفیں اٹھائیں مگر اُف تک نہیں کیا۔ چندوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ نماز تہجد اور اشراق باقاعدہ پڑھتی تھیں۔ محلے کے بچوں اور اپنے نوکروں کو بڑے ذوق و شوق سے قرآن کریم پڑھایا کرتی تھیں۔

( الفضل ۹جون ۱۹۶۴ء صفحہ۵)

(تاریخ احمدیت جلد22صفحہ589)

حضرت عزیزہ فاطمہ صاحبہؓ
وفات   23 مارچ 1964

 

ولادت: 1884ء          

بیعت: 1905ء           

وفات: 23 مارچ 1964ء    (ریکارڈ بہشتی مقبرہ)

مرحومہ کو اپنی زندگی میں اپنے دو نوجوان بچوں اور دو بچیوں کا صدمہ بھی برداشت کرنا پڑا۔ مگر آپ نے کمال صبر کا نمونہ دکھایا۔ پاکستان بننے کے بعد قادیان سے ہجرت کر کے پشاور تشریف لے آئیں۔ اس وقت پشاور میں لجنہ  اماء اللہ کی تنظیم نہ تھی۔ آپ نے وہاں اس تنظیم کو قائم کیا۔ لجنہ کی  صدارت بھی آپ کے سپرد ہوئی جسے آپ نے احسن طور پر نبھایا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک احمدی دوست نے آپ کے داماد مولا بخش صاحب کاز ریڈیو پشاور صدر سے ذکرکیا کہ آپ کی خوشدامن ہمارے گھر آ کر لجنہ کا چندہ مانگتی ہیں۔  مرحومہ سے اس واقعہ کا ذکر ہوا فرمانے لگیں۔میں تو سلسلہ کی خدمت کرتی ہوں اور احمدی بہنوں کے لئے ثواب کا موقعہ بہم پہنچاتی ہوں۔ شہر سے ٹانگہ پر دو روپے اپنی جیب سے دے کر آتی ہوں۔ اور ان سے ایک چونّی چندہ رکنیت وصول کرتی ہوں۔ صرف اس وجہ سے کہ ان کو ثواب ملے اور احمدی مستورات کی تنظیم قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے میرے جیسے بیمار وجود کو ہمت ہی اس وجہ سے دی ہے۔ میں اس نیکی کے کام کو نہیں چھوڑ سکتی۔ غرضیکہ دین کی خدمت کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جو آخر دم تک ان میں قائم رہا۔   (الفضل ۷؍اپریل ۱۹۶۴ء صفحہ ۶)

(تاریخ احمدیت جلد22صفحہ608)

حضرت سکینہ بیگم صاحبہؓ
وفات   21 اپریل 1964

 

ولادت: 1885ء                           

بیعت: 1903ء              

وفات: 21 اپریل 1964ء

سکینہ بیگم صاحبہ حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کے صحابی حضرت شیخ احمد علی صاحب دھرم کوٹ بگہ کی اہلیہ تھیں اور خود بھی صحابیہ ہونے کا شرف حاصل تھا۔   (بیعت:۱۹۰۳ء وفات یافتگان۱۹۰۵ء تا۲۰۰۷ء صفحہ۳۷۰۔ نظارت بہشتی مقبرہ ربوہ)

 حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام ایک دفعہ دھرم کوٹ بگہ تشریف لے گئے۔ اس موقع پر مرحومہ نے اپنے ہاتھ سے کھانا تیار کر کے حضور علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا تھا۔آپ پابند صوم وصلوۃ اور صاحبِ رئویا وکشوف تھیں اور اللہ تعالیٰ ان کی دعائوں کو شرف قبولیت سے نوازتا تھا۔ 

(الفضل ربوہ۲۳؍اپریل۱۹۶۴ء صفحہ۸)

(تاریخ احمدیت جلد22صفحہ608)

حضرت مہراں بی بی صاحبہؓ
وفات   یکم جون 1964

 

ولادت: 1884ء  

بیعت: 1903ء۔   

وفات: 2 جون 1964ء  (ریکارڈ بہشتی مقبرہ)

آپ اپنے شوہر محترم میاں عبدالرحیم صاحب مرحوم المعروف میاں پوہلہ کے ہمراہ بیعت کر کے داخل سلسلہ احمدیہ ہوئی تھیں۔ ۱۹۰۳ء سے ۱۹۲۸ء تک جلسہ سالانہ پر آنے والی مستورات کے لئے کھانا وغیرہ کے جماعتی انتظام میں پورے اخلاص اور خندہ پیشانی سے حصہ لیتی رہیں۔ بہت نیک اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ساتھ مخلصانہ تعلق رکھنے والی خاتون تھیں۔ طبیعت بہت صلح جُو تھی برادری اور مستورات کے تنازعات کو نہایت خوش اسلوبی سے سلجھا دیا کرتی تھیں۔  

(الفضل ۶جون ۱۹۶۴ء صفحہ۸)

(تاریخ احمدیت جلد22صفحہ611)