skip to Main Content

حضرت صاحبزادہ صاحب افغانستان کے صوبہ پکتیا کے علاقہ خوست کے رہنے والے تھے۔ آپ کے گاؤں کا نام سیّدگاہ ہے جودریائے شمل کے کنارہ پر آبادہے۔

پکتیامیں چند گاؤں آپ کی ملکیت تھے ۔ زرعی اراضی کا رقبہ سولہ ہزارکنال تھا۔ اس میں باغات اور پن چکیاں بھی تھیں۔ اس کے علاوہ ضلع بنّوں میں بھی بہت سی زمین تھی ۔ آپ کے والد صاحب کا نام سید محمد شریف تھا۔ حضرت صاحبزادہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہمار ا شجرۂ نسب توجل کر ضائع ہو گیا لیکن میں نے اپنے بزرگوں سے سناہے کہ ہم حضرت سید علی ہجویری ؒ المعروف بہ داتاگنج بخش کی اولاد ہیں۔

ہمارے آباء دہلی کے بادشاہوں کے قاضی ہوتے تھے ۔ خاندان کی ایک بڑی لائبریری تھی جس کی قیمت نولاکھ روپیہ بتائی جاتی ہے ۔ جب ہمارے بزرگوں نے حکومت میں عہدے حاصل کر لئے تو ان کی توجہ کتب خانہ کی طرف نہ رہی اور یہ کتابیں ضائع ہو گئیں۔ میرا اپنا یہ حال ہے کہ جائیداد چونکہ مجھے ورثہ میں ملی ہے اس لئے اسے رکھنے پر مجبورہوں ورنہ میرا دل دولت کو پسند نہیں کرتا۔

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایاہے کہ صاحبزادہ صاحب کی عمر 50 سال تھی ۔ حضورؑ فرماتے ہیں:

’’ قریباً پچاس برس کی عمر تک تنعم اورآرام میں زندگی بسر کی تھی‘‘۔

(تذکرۃ الشہادتین،روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 51)

حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت 1903ء میں ہوئی اس طرح ان کا سن پیدائش1853ء بنتاہے۔جناب قاضی محمد یوسف صاحب مرحوم امیر جماعت احمدیہ صوبہ سرحدنے1902ء کے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر قادیان میں حضرت صاحبزادہ صاحب کو دیکھاتھا۔ وہ لکھتے ہیں:

’’حضرت شہیدمرحوم کا قد درمیانہ تھا۔ ریش مبارک بہت گھنی نہ تھی ۔ بال اکثرسیاہ تھے اور ٹھوڑی پرکچھ کچھ سفید تھے‘‘۔

(عاقبۃ المکذّبین حصہ اول صفحہ 40 سن اشاعت 1936ء)

کتب و مضامین :

عبد اللطیف شہید نمبرز :

عثمان غنی صاحب
تاریخ شہادت   4 نومبر 1963

 

نومبر 1963ء میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے شہر برہمن بڑیہ کے سالانہ جلسہ پر غیراحمدیوں نے حملہ کردیا اور شدید پتھراؤ کیا جس کے نتیجہ میں بہت سے احمدی شدید زخمی ہوگئے۔ ان میں دو دوست مکرم عثمان غنی صاحب اور مکرم عبد الرحیم صاحب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راہِ مولیٰ میں قربان ہوگئے۔ ان شہداء کے حالات بیان کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  ؒ نے فرمایا:۔

’’3نومبر1963ء کو احمدیہ جماعت برہمن بڑیہ کا سالانہ جلسہ بعد نماز مغرب لوک ناتھ ٹینک کے میدان میں مکرم سید سہیل صاحب سی ایس پی کی زیر صدارت شروع ہوا۔سید سہیل احمد صاحب سی ایس پی آج کل اسلام آباد میں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ اور ان کا سارا خاندان بہت مخلص ہے۔وہ اس وقت ڈھاکہ میں حکومت کے ڈپٹی سیکرٹری بھی تھے اور خدام الاحمدیہ میں اسسٹنٹ ریجنل قائد کے عہدہ پر فائز تھے۔یعنی بڑے عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود بھی انہوں نے خدمات دینیہ سے سر موانحراف نہیں کیا۔بڑی جرأت سے عہدے لیا کرتے تھے اور بڑی جرأت سے اور عمدگی سے ان کو نبھاتے تھے۔

جلسہ شروع ہوئے دس پندرہ منٹ گزرے تھے کہ ملاؤں نے ہلہ بول دیا اور جلسہ گا ہ پر شدید  پتھراؤکیا۔مخالفین نے جلسہ گاہ کی تاریں کاٹ دیں جس سے سارے علاقے میں اندھیرا چھا گیا۔ لوگ ادھر ادھر بکھر گئے۔محترم سید سہیل احمد صاحب اور بعض دوسرے احمدیوں نے کرسیاں سر پر رکھ کر اپنی حفاظت کی۔ مخالفین کے ہلہ بولنے کے بہت دیر بعد پولیس جب وقوعہ پر پہنچی تو وہ اس طوفانی بارش کے بعد نظر آئی جو خدا تعالیٰ نے اس موقع پر معجزانہ طور پر نازل فرمائی تھی اور جس سے خود دشمن ہی تتر بتر ہو چکا تھا۔ دشمن کے اس حملہ کے نتیجے میں بہت سے احمدی احباب زخمی ہوئے جنہیں رات کے وقت برہمن بڑیہ ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔ ان میں سے دو دوست مکرم عثمان غنی صاحب اور مکرم عبد الرحیم صاحب کی حالت بہت نازک تھی اور وہ شدید زخموں سے جانبر نہ ہو سکے اور اگلے روز 4نومبر1963ءکی صبح کو دونوں اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے اور شہادت کا رتبہ پایا۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔

شہید عثمان غنی صاحب شاہ طوریہ ضلع مانک گنج کے رہنے والے تھے اور اپنے خاندان میں پہلے احمدی تھے۔ نہایت مخلص، خاموش طبع،خدمت گزار اور نرم خو شخصیت کے حامل تھے احمدی ہونے کے بعد فوج میں بھرتی ہو کر کراچی چلے گئے تھے۔ریٹائر منٹ کے بعد موصوف سلسلہ کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے۔شہادت کے وقت آپ کی عمر 35 برس تھی اور آپ غیر شادی شدہ تھے۔ آپ کی تبلیغ سے آپ کے چھوٹے بھائی جناب ڈاکٹر اولاد حسین صاحب اور آپ کی ہمشیرہ احمدی ہوئیں۔

(تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 189-190)

عبدالرحیم صاحب
تاریخ شہادت   4 نومبر 1963

 

نومبر 1963ء میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے شہر برہمن بڑیہ کے سالانہ جلسہ پر غیراحمدیوں نے حملہ کردیا اور شدید پتھراؤ کیا جس کے نتیجہ میں بہت سے احمدی شدید زخمی ہوگئے۔ ان میں دو دوست مکرم عثمان غنی صاحب اور مکرم عبد الرحیم صاحب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راہِ مولیٰ میں قربان ہوگئے۔ ان شہداء کے حالات بیان کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  ؒ نے فرمایا:۔

’’3نومبر1963ء کو احمدیہ جماعت برہمن بڑیہ کا سالانہ جلسہ بعد نماز مغرب لوک ناتھ ٹینک کے میدان میں مکرم سید سہیل صاحب سی ایس پی کی زیر صدارت شروع ہوا۔

سید سہیل احمد صاحب سی ایس پی آج کل اسلام آباد میں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ اور ان کا سارا خاندان بہت مخلص ہے۔وہ اس وقت ڈھاکہ میں حکومت کے ڈپٹی سیکرٹری بھی تھے اور خدام الاحمدیہ میں اسسٹنٹ ریجنل قائد کے عہدہ پر فائز تھے۔یعنی بڑے عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود بھی انہوں نے خدمات دینیہ سے سر موانحراف نہیں کیا۔بڑی جرأت سے عہدے لیا کرتے تھے اور بڑی جرأت سے اور عمدگی سے ان کو نبھاتے تھے۔

جلسہ شروع ہوئے دس پندرہ منٹ گزرے تھے کہ ملاؤں نے ہلہ بول دیا اور جلسہ گا ہ پر شدید  پتھراؤکیا۔مخالفین نے جلسہ گاہ کی تاریں کاٹ دیں جس سے سارے علاقے میں اندھیرا چھا گیا۔ لوگ ادھر ادھر بکھر گئے۔محترم سید سہیل احمد صاحب اور بعض دوسرے احمدیوں نے کرسیاں سر پر رکھ کر اپنی حفاظت کی۔ مخالفین کے ہلہ بولنے کے بہت دیر بعد پولیس جب وقوعہ پر پہنچی تو وہ اس طوفانی بارش کے بعد نظر آئی جو خدا تعالیٰ نے اس موقع پر معجزانہ طور پر نازل فرمائی تھی اور جس سے خود دشمن ہی تتر بتر ہو چکا تھا۔ دشمن کے اس حملہ کے نتیجے میں بہت سے احمدی احباب زخمی ہوئے جنہیں رات کے وقت برہمن بڑیہ ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔ ان میں سے دو دوست مکرم عثمان غنی صاحب اور مکرم عبد الرحیم صاحب کی حالت بہت نازک تھی اور وہ شدید زخموں سے جانبر نہ ہو سکے اور اگلے روز 4نومبر1963ءکی صبح کو دونوں اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے اور شہادت کا رتبہ پایا۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔

شہید عبد الرحیم صاحب برہمن بڑیہ ضلع تارواں گاؤں کے رہنے والے تھے۔شہادت کے وقت ان کے دو بچے اور تین بچیاں تھیں جو سب سلسلہ سے اخلاص کا تعلق رکھتے ہیں۔ بڑے بیٹے مکرم مسلم صاحب سرکاری ملازم ہیں اور چھوٹے بیٹے مکرم رستم صاحب آج کل بیلجیئم میں مقیم ہیں۔‘‘ [1]

حوالہ جات:

[1] خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جون1999ء بمقام مسجد الفضل لندن

(تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 189-190 )

کیپٹن نذیر احمد صاحب
تاریخ شہادت   8 ستمبر 1965

آپ چک نمبر ۸۲ جنوبی ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔ مکرم ناصر احمد صاحب باجوہ سابق صدر محلہ دارالیمن شرقی ربوہ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔آپ ۸ستمبر ۱۹۶۵ء کو کھیم کرن کے محاذ پر شہید ہوئے۔ اور قصور میں امانتاً دفن کئے گئے۔ ۱۸فروری ۱۹۶۶ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے نماز جمعہ کے بعد ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ قطعہ شہداء میں سپرد خاک کر دیئے گئے۔

(الفضل ۲۰فروری ۱۹۶۶ء صفحہ ۸)
چوہدری محمد حسین صاحب باجوہ اسٹیشن ماسٹر سکھیکی ضلع گوجرانوالہ تحریر فرماتے ہیں:۔
’’میرے بھتیجے کیپٹن چوہدری نذیر احمد صاحب ۸ستمبر کو کھیم کرن کے محاذ پر وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئے شہادت کے رتبہ پر فائز ہوئے۔ سات ستمبر کو بھارتی افواج نے قصور پر تین اطراف سے سخت حملہ کیا تھا۔ جسے ہماری فوج کے شیر دل مجاہدوں نے نہ صرف پسپا کر دیا بلکہ کھیم کرن کو فتح بھی کر لیا۔ انہی بہادروں میں عزیز کیپٹن نذیر احمد صاحب بھی تھے۔ جو ۸ستمبر کو زخمی ہوئے اور اسی روز شہادت کا جام نوش کیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ کھیم کرن کے فاتح کی حیثیت سے عزیز نذیر احمد کانام ہمیشہ زندہ جاوید رہے گا۔
عزیز نذیر احمد کے دادا اور راقم الحروف کے والد چوہدری نتھوخاں صاحب بہت مخلص احمدی (صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) تھے۔ آپ جب احمدی ہوئے تو شروع شروع میں آپ کی بہت مخالفت کی گئی لیکن آپ نے ہر تکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ جلدی ہی آپ کے حسن اخلاق اور پاکبازی کی وجہ سے گائوں کے تمام لوگ آپ کے گرویدہ ہو گئے اور آج تک اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اعلیٰ اخلاق میں احمدی سب سے بڑھ کر ہیں۔ آپ کی اولاد چار بیٹوں اور دو بیٹیوں پر مشتمل ہے۔ نذیر احمد آپ کے سب سے بڑے بیٹے چوہدری امام الدین صاحب کے فرزند تھے۔ نذیر احمد سے پہلے بھائی کے تین بیٹے بچپن میں فوت ہو گئے جس کی وجہ سے ہماری بھاوج بہت غمگین رہتیں۔ انہی دنوں میں انہوں نے کسی کے بتانے پر حضرت خلیفہ اول کا نسخہ حبّ اٹھراء استعمال کیا جس کے بعد ان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔
عزیزم نذیراحمدہمارے آبائی گائوں چک ۸۲ جنوبی ضلع سرگودھا میں ۱۹۳۲ء میں پیدا ہوئے۔ شروع ہی سے خوش شکل اور صحت مند تھے۔ جب چھوٹے ہی تھے تو ان کی والدہ انہیں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں لے کر گئیں۔ حضور انور نے ان کے سر پر دست ِمبارک پھیرا اور دعا فرمائی۔ بچپن سے ہی آپ بے حد ذہین ، خوش خُلق اور شریف تھے۔ خاندان کے ہر فرد کے ساتھ انہیں پیار اور ہمدردی تھی میری بیوی جو کہ محترم بھائی محمود احمد صاحب ودود میڈیکل سروس سرگودھا کی صاحبزادی ہیں۔ ان کے ساتھ انہیں خصوصیت سے انس اور خلوص تھا اس کا اظہار وہ اکثر کیا کرتے تھے اور اپنے ہر کام میں ان سے مشورہ لیتے تھے اب جبکہ یہ خیال آتا ہے کہ ہماری ہر تکلیف پر بے قرار ہو جانے والا وجود آج ہم میں نہیں ہے تو دل کو ٹھیس سی لگتی ہے مگر پھر بھی یہ بات ہمارے زخمی دلوں پر مرہم لگاتی ہے کہ وہ ملک و قوم کی حفاظت کر تے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔ اس لئے ان کا رتبہ اعلیٰ اور بلند ہے۔
جب وہ آخری مرتبہ اپنی والدہ صاحبہ سے مل کر جانے والے تھے تو والدہ نے فکر کا اظہار کیا۔ اس پر انہوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں آپ کے پاس بیمار ہو کر وفات پا جائوں تو آپ کیا کر سکیں گے کیا اس سے بہتر یہ بات نہیں کہ میں ملک کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائوں۔
نذیر احمد صاحب نے ۱۹۵۲ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اور ۱۹۵۳ء میں انہیں فوج میں کمیشن ملا۔ ۱۹۵۹ء میں ان کی شادی ان کے حقیقی چچا برادرم چوہدری حاتم علی صاحب ڈویژنل اکائونٹنٹ انہار کی بیٹی سے ہوئی۔ اب ان کے دو بیٹے ہیں جن کی عمریں علی الترتیب ۵ سال اور دس ماہ ہیں‘‘۔

(الفضل ۲۲فروری ۱۹۶۶ء صفحہ ۴)
روزنامہ ’’مشرق‘‘ نے ۲دسمبر ۱۹۶۵ء کو اپنے نامہ نگار رضا جعفری کے قلم سے بیگم نذیر شہید کا ایک انٹرویو بھی شائع کیا۔ اخبار نے انٹرویو کے ساتھ شہید نذیر اور ان کے صاحبزادوں نوید نذیر اور ہمایوں نذیر کی تصویر بھی زیب قرطاس کی۔
روزنامہ امروز ۲ستمبر ۱۹۶۶ء رقمطراز ہے:۔
’’کیپٹن نذیر احمد صاحب شہید چک ۸۲جنوبی ضلع سرگودھا میں ۱۹۳۲ء میں پیدا ہوئے۔ بی۔اے کرنے کے بعد ۱۹۵۲ء میں بچپن کی خواہش کی تکمیل کے لئے پاک فوج میں کمیشن لیا۔ آپ نے بریگیڈئیر شامی شہید کے ساتھ بطور سٹاف کیپٹن کام کیا رن کچھ کے معرکہ میں آپ کے ذمہ ایک اہم ڈیوٹی تھی جس کو بڑی تن دہی اور بہادری سے پورا کیا جب ہندوستان نے پاکستان کی سرحدوں پر حملہ کر دیا تو ان کی توپ خانہ رجمنٹ کو قصور کے دفاع کے لئے بھیجا گیا۔
دشمن نے بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کی ایک آہنی دیوار کھڑی کر دی تھی لیکن ان جاںنثاروں کے قدموں کو روکا نہیں جا سکتا تھا۔ وہ گولوں کی بارش سے فولادی دیواروں کو پاش پاش کرتے دشمن کے پرخچے اڑاتے اور اسے کیفر کردار تک پہنچاتے موت سے کھیلتے بڑھتے چلے گئے۔ ۸ستمبر کو دشمن کو اپنے علاقے سے نکال کر کھیم کرن فتح کر لیا۔ اس روز وہ دشمن سے برسرپیکار تھے اور اپنے جوانوں کو اسلحہ سے لیس کر رہے تھے اور شاباش کی بلند آواز سے اپنے جوانوں کی ہمت بڑھا رہے تھے کہ اچانک دشمن کے طیارے نے گولیاں برسانی شروع کر دیں ایک گولی آپ کے سینے میں پیوست ہو گئی۔ اور وہ شہداء کی صف میں شامل ہو گئے۔ شاید اس محاذ پر ان کی منزل کھیم کرن تھی۔ اس کے بعد اس نے اپنی اصل منزل کی طرف رختِ سفر باندھ لیا۔
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
شہادت سے چند روز قبل خط میں انہوں نے اپنے والد محترم کو لکھا کہ مجھے فخر ہے کہ میں فرض تندہی سے پورا کر رہا ہوں آپ کسی قسم کا فکر نہ کریں موت کا ایک دن معین ہے۔ اگر وہ مجھے آنی ہے تو وہ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے بھی آ جائے گی۔ فکر نہ کریں۔ ہاں اگر میں مقررہ تاریخوں پر نہ بھی آسکوں تو بہن کی رخصتی ضرور کر دیں۔
اس کے بعد پھر ان کی شہادت کی تار موصول ہوئی جس پر ان کے ماں باپ کا تاثر یہ تھا کہ اگر لخت جگر کی قربانی سے قوم کی کروڑوں مائوں، بہنوں اور وطن کی عزت بچ گئی ہے تو یہ ہمارے لئے باعث اطمینان و صد افتخار ہے۔ خدا اس کے درجات بلند کرے۔
کیپٹن نذیر شہید کی بیوہ کو رجمنٹ کے کمانڈر نے یہ خط لکھا کہ آپ کے بہادر شوہر نے بے مثال شجاعت اور اعلیٰ احساس فرض کا ثبوت پیش کرتے ہوئے شاندار قربانی پیش کی ہے ہمیں اس پر فخر ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کے لئے صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
ان کے دو بہت ہی پیارے لڑکے نوید نذیر اور ہمایوں نذیر ہیں جن کی عمر بالترتیب چھ سال اور ڈیڑھ سال ہے۔ نوید نذیر کے الفاظ ہیں کہ ’’میں ڈیڈی کی طرح بہادر کیپٹن بنوں گا‘‘۔

(بحوالہ الفضل ۱۱ستمبر ۱۹۶۶ء صفحہ۵)

’’خلیفہ منیر الدین احمد ایک معزز و معروف خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ان کے والدحضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب( صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) لاہور کے میو ہسپتال میں ایک عرصہ تک سرجن انچارج رہے۔ (حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب انجمن حمایت اسلام لاہور کے بانی خلیفہ حمید الدین کے بیٹے تھے۔) آپ ۸ستمبر ۱۹۲۵ء کو قادیان میں پیدا ہوئے ۔(بمطابق الفضل ۱۵ستمبر ۱۹۲۵ء صفحہ۱) ان کی خوش بختی ہے کہ اس موقع پر حضرت مصلح موعود نے ان کے کان میں اذان کہی۔آپ حضرت مصلح موعود کے برادر نسبتی تھے۔
زمانہ طالب علمی ہی سے انہیں ائیر فورس میں شامل ہو کر خدمت قوم و وطن کا شوق تھا۔ اسی شوق کے تحت تعلیم الاسلام کالج سے ’’ایف اے‘‘ پاس کرنے کے بعد انہوں نے ۱۹۴۹ء کے آخر میں فلائنگ کلب لاہور میں داخلہ لے لیا۔ اس وقت اس کلب میں تربیت حاصل کرنے والوں کی تعداد اٹھارہ تھی۔ امتحان ہوا۔ تو صرف چھ نوجوان کامیاب ہوئے۔ خلیفہ منیر الدین ان سب میں اول آئے تھے۔
۱۹۵۱ء میں وہ ائیر فورس کے لئے منتخب ہوئے اور کراچی اور رسالپور میں کچھ عرصہ بطور فلائٹ لیفٹیننٹ خوش اسلوبی سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ ۱۹۶۳ء میں ترقی دے کر انہیں سکواڈرن لیڈر بناد یا گیا۔ اور اُس وقت سے تا دمِ آخر و ہ سرگودھا میں سکواڈرن لیڈر ہی کی حیثیت سے ائیر فورس کی خدمت بجا لاتے رہے۔ فرائضِ منصبی کی ادائیگی میں مستعدی اور باقاعدگی ان کا طُرّئہ امتیازتھا۔ ان کے دل کو تو خلوص و محبت کا روشن دیا جانیے۔
جنگ کے ایام میں گھڑی دو گھڑی کے لئے گھر آتے۔ تو انہیں یہی احساس مضطرب رکھتا کہ کہیں ڈیوٹی پر پہنچنے میں تاخیر نہ ہو جائے۔
سکواڈرن لیڈر خلیفہ منیر الدین احمد شہید (ستارہ جرأت) جانباز قوم کا ایک نڈر جیالا سپوت تھا۔ ایک ایسا دلیر ہواباز جس کی نگاہوں میں عقاب کی لپک اور سینے میں شیر کا دل تھا۔
پاک فضائیہ کا یہ جیالا جو ۱۱ستمبر ۱۹۶۵ء کو دشمن کی ہوائی طاقت کے ایک قریبی مرکز کو بالکل تہس نہس کرتے ہوئے موت سے ہنستا کھیلتا جامِ شہادت پی گیا۔ اس وقت اس کی عمر ۳۸ سال تھی۔
اس واقعہ کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ جن دنوں دشمن کے بزدل ہواباز سرگودھا کے ہوائی ٹھکانے پر بمباری کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ خلیفہ منیر الدین کے سپرد پلاننگ کی ڈیوٹی تھی۔ دشمن کے ہوائی حملوں کو روکنے کے لئے امرتسر کے ریڈار اسٹیشن کو مسمار کرنا ضروری تھا۔ اس سلسلہ میں کئی کوششیں کی گئیں مگر ان میں سے کوئی بھی کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکی۔ دشمن کے طیارے روزانہ سرگودھا کے آسمان پر منڈلاتے اور اِدھر اُدھر بے نشانہ بم گرا کر بھاگ جاتے۔ یہ دیکھ کر خلیفہ منیر الدین کے دل میں دشمن کے ہوش ٹھکانے لگانے کا جذبہ موجزن ہوا اور انہوں نے بڑے پُرجوش انداز میں کہا۔
’’اب مَیں جائوں گا اور دشمن کے ریڈار کو تباہ کر کے ہی آئوں گا۔‘‘
اور پھر وہ سچ مچ اپنے ساتھ تین اور شاہینوں کو لے کر آواز کے دوش پر پرواز کر گئے۔ آن کی آن میں امرتسر پہنچ کر جب وہ ریڈار پر لپکے۔ تو منیر الدین احمد ہی ان کی (بطور ڈپٹی لیڈر) قیادت کر رہے تھے۔ ان کے ہمراہ جانے والے ایک ہواباز نے بتایا کہ پہلے غوطے میں ریڈار ان کی زد میں نہیں آیا۔ اس پر خلیفہ منیر الدین نے گرج کر اپنے ساتھیوں سے کہا
’’میں نے ریڈار کو تاڑ لیا ہے۔ اب میں دوبارہ جائوں گا اور اس کا قلع قمع کر کے ہی آئوں گا‘‘۔
اور اب کے جو پاکستان کا یہ دلیر شاہین تنہا اس ریڈار پر بے مثال برق رفتاری سے جھپٹا تو دیکھتے ہی دیکھتے دشمن کا بے حد محفوظ اور مخفی ریڈار آگ کے ہولناک شعلوں کی لپیٹ میں تھا۔

(رسالہ ’’لاہور‘‘ لاہور ۸ستمبر ۱۹۸۴ء صفحہ ۵)

’’لاہور‘‘ کے مقالہ نگار صلاح الدین خاں رقمطراز ہیں:۔
’’(خلیفہ منیر الدین شہید)اصول و قواعد کے معاملہ میں بڑے رکھ رکھائو سے کام لیتے تھے۔ مخلص اور ہمدرد دوست ہونے کے باوجود دفتری معاملات میں کبھی لچک نہ آنے دیتے ۔ بے حد ملنسار اور ڈیوٹی کے معاملہ میں بے حد سنجیدہ تھے۔ لیکن اس کے باوجود طبیعت مزاحِ لطیف سے بے گانہ نہ تھی۔ گو اس میں بھی ذاتی وقار کو مجروح کرنے والے رخ سے ہمیشہ مجتنب رہے۔
خلیفہ منیر الدین ایک اچھے ہواباز ہی نہیں ہاکی اور گالفؔ کے بھی بہترین کھلاڑی تھے اور کھیل کے میدان میں تو ان کی لپک اُچک دیکھنے کی ہوتی تھی۔ گالفؔکے تو وہ اتنے رسیا تھے کہ اس میں ناغہ کو اصل ڈیوٹی میں ناغہ سمجھتے تھے۔
خلیفہ منیر الدین احمد نے اپنے پیچھے ایک بیوہ اور ایک تین سالہ پیاری سی بچی زاہدہ اپنے رب کی پناہ میں چھوڑیں۔
ننھی زاہدہ جو ایک عرصہ تک ٹیلیفون اٹھا کر بڑی بے قراری سے پوچھتی رہی… ابو! آپ کب آئیں گے۔ جلدی آ جائیے نا‘‘۔
مگر اس معصوم کو کون بتائے کہ زندگی کی سرحدوں کو پھلانگ کر خدا تعالیٰ کی گود میں چلے جانے والے لَوٹ کر کبھی نہیں آیا کرتے۔البتہ ان کی جاں سپاریوں کے نقوش ننھی زاہدہ کے دل کی طرح تاریخ کے دل پر ابدالآباد تک مرتسم و تابندہ رہیں گے‘‘۔

(لاہور ۸ستمبر ۱۹۸۴ء صفحہ ۵)
٭ آپ کے حالات تحریر کرتے ہوئے مکرم سردار رحمت اللہ صاحب محلہ دارالرحمت ربوہ لکھتے ہیں:۔
’’ستارئہ جرأت سکواڈرن لیڈر خلیفہ منیر الدین احمد صاحب شہید ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم سول سرجن جو کہ اولین صحابہ کرام میں سے تھے اور حضرت مصلح موعود کے خسرتھے، کے چشم و چراغ تھے اور خلیفہ صلاح الدین احمد مرحوم کے سب سے چھوٹے بھائی تھے۔ گھر میں سب سے چھوٹے ہونے اور خوبصورت اور نہایت اچھی عادات کی وجہ سے اپنے پرائے سبھی ان سے بہت محبت کیا کرتے تھے۔ ان کے بہنوئی مرزا گل محمد صاحب مرحوم رئیس قادیان کی اس وقت کوئی اولاد نہ تھی انہوں نے ان کو اپنا بیٹا بنا لیا اور نہایت ناز و نعمت سے آخیر دم تک ان کی پرورش کی۔ ان کی والدہ محترمہ جو کہ ہماری پھوپھی تھیںقادیان میں نہایت قابل احترام بزرگ خواتین میں سے تھیں۔ بہت عقلمند منتظم اور لجنہ اماء اللہ کی سرگرم رکن تھیں۔
خلیفہ منیرالدین احمد مرحوم میں بچپن سے ہی شرافت، ہمدردی، ادب، حب الوطنی، دلیری اور خدمت کا خاص جذبہ پایا جاتا تھا۔ سیر و سیاحت اور شکار کا بڑا شوق تھا یہی شوق بڑے ہو کر انہیں ۱۹۴۹ء میں ائیر فورس میں لے گیا۔ نشانہ بازی میں ہمیشہ ممتاز رہتے تھے۔ ایک مرتبہ میں نے انہیں باتوں باتوں میں کہا کہ منیر احمد ائیر فورس میں کیا کرتے ہوگے۔ وہاں تو بڑے بڑے بہادر انسان ہوں گے۔ کہنے لگے بھائی جان! اگر کبھی موقعہ آیا تو آپ مجھے انشاء اللہ سب سے آگے پائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کر دکھلایا۔ میری ان سے آخری ملاقات ۹ستمبر ۱۹۶۵ء یعنی ان کی شہادت سے صرف دو دن پہلے ان کی کوٹھی نمبر ۳ ، ائیر فورس سرگودھا میں ہوئی ۔قریباً ایک بجے دن کا وقت تھا جب کہ میں ان کی کوٹھی پر پہنچا۔ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔
حسب معمول نہایت ادب ا ور محبت سے ملے۔ کہنے لگے کہ بھائی جان کیا آپ ربوہ سے آ رہے ہیں۔ گھر تو خیریت ہے نا۔ بچوں اور بھاوجہ کا کیا حال ہے۔ آپا جان خیریت سے ہیں۔ مجھے بھاوجہ صاحبہ (ان کی بیگم) نے بتایا کہ یہ آج دو دن کے بعد ابھی گھر آئے ہیں۔
کہنے لگے کہ آجکل جنگ کے دن ہیں ہماری دن رات ڈیوٹی رہتی ہے۔ میں ابھی صرف تھوڑی دیر کے لئے گھر آیا ہوں اور ابھی پھر جا رہا ہوں۔ وہ جلد جلد باتیں کر رہے تھے اور میں محسوس کر رہا تھا کہ آج انہیں ڈیوٹی پر جانے کی بہت جلدی ہے۔
میں نے دریافت کیا کہ سنائیے آج کل جنگ کا کیا حال ہے۔پاکستان کی کیسی پوزیشن ہے۔ بڑے جذبہ اور جوش سے کہنے لگے۔ خداتعالیٰ کے فضل سے ہم بہت کچھ کر رہے ہیں۔ بس آپ لوگوں کی دلی دعائیں ہمیں درکار ہیں۔ مزید گفتگو سے اجتناب کرتے ہوئے مجھ سے ہاتھ ملایا اور چلے گئے۔ میں ان کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ خداجانے میرے دل کو اس وقت کیا ہو رہا تھا۔ میرا دل چاہتا تھا کہ میں دوڑ کر انہیں گلے لگالوں۔ یہ ۹ستمبر کی بات ہے اس سے دوسرے دن یعنی ۱۰ستمبر کو انہوں نے دشمن کے علاقہ میں جا کر سخت لڑائی کے دوران دشمن کا ایک طیارہ مار گرایا۔ مرحوم بہترین نشانچی شمار ہوتے تھے۔ تیسرے دن ۱۱ستمبر کو وہ پھر حملہ کرنے کے لئے گئے مجھے ان کے دو ساتھیوں نے بتایا کہ وہ ہم سے یہ کہہ کر گئے تھے۔ اچھا خدا حافظ آج میں انشاء اللہ دشمن کے اڈہ کو تباہ کر کے آئوں گا اور اپنی جان کی کوئی پرواہ نہ کروں گا۔ یہ اس جانباز بہادر اور مجاہد وطن کے آخری الفاظ تھے۔ اس مرد مجاہد نے جو کچھ کہا تھا بالکل وہی کر کے دکھا دیا۔ اس دلیر اور بہادر نوجوان نے دشمن کی آگ برساتی ہوئی توپوں کے درمیان اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پے در پے سخت حملے کئے یہاں تک کہ دشمن کے اڈہ کو تہس نہس کر دیا اور خود بھی وہیں شہید ہو گیا۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔
ہزار ہزار رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں شہید کی روح پر۔ اس سے قبل انہوں نے دشمن سے آٹھ مقابلوں میں حصہ لیا اور نہایت دلیری اور جرأت کا نمونہ دکھلایا۔‘‘( الفضل ۴مارچ ۱۹۶۶ء صفحہ ۵)
’’تیسرا ہواباز تو میں ہوں جناب!
سکوارڈن لیڈر منیر الدین احمد شہید کسی نہ کسی طرح ہر حملے میں شامل ہو جاتے تھے‘‘

ذیل کا مضمون روزنامہ مشرق ۶ستمبر ۱۹۶۶ء میں مندرجہ بالا عناوین کے ساتھ شائع ہوا:۔
’’جنگ چھڑے چھ روز گزر چکے تھے اور میدان جنگ کے ہنگاموں سے بہت دور فضائیہ کے ایک اڈے پر اترنے اور چڑھنے والے لڑاکا بمباروں کی گرج سے ظاہر ہوتا تھا کہ پرسکون مقام پر سرگرمی حالات کی نزاکت کی علامت ہے۔
دوپہر ہو چلی تھی۔ اڈے کے آپریشن روم میں ونگ کمانڈر محمد انور شمیم اس روز کی انتہائی اہم اور خطرناک مہم کے لئے ہوابازوں کو ہدایت دینے والے تھے۔ اس مہم کا نشانہ امرتسر کا ریڈار سٹیشن تھا۔
شمیم نے اس مشن کے لئے تین ہواباز منتخب کئے تھے۔ انہوں نے پکارا تو ان میں سے صرف دو آئے۔ تیسرے کے متعلق انہوں نے ونگ آپریشن آفیسرسکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد صاحب سے دریافت کیا انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ’’تیسرا تو میں ہوں جناب‘‘۔
’’لیکن میں نے توآپ کانام اس مہم میں نہیں رکھا تھا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میں نے فلائنگ آفیسر مسعود کو منتخب کیا تھا‘‘۔
’’یہ ٹھیک ہے سر! لیکن مسعود تو پہلے ہی ایک مہم پر گیا ہوا ہے‘‘ منیر نے جواب دیا۔ اور شمیم اب کچھ نہیں کر سکتے تھے لیکن یہ پہلا موقع نہ تھا۔ اس ریڈار سٹیشن پر پہلے جتنے حملے ہوئے تھے ان میں بھی سکواڈرن لیڈر منیر ضرور شامل ہوئے تھے۔
منیر کو اس دنیا میں یا تو اپنے بال بچوں سے الفت تھی یا پرواز سے، جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک وہ آٹھ مرتبہ زمینی فرائض دوسرے ساتھیوں کے سپرد کر کے فضائی حملوں میں شریک ہو چکے تھے۔ اس مرتبہ پھر وہ تیار ہو گئے تھے اور ونگ کمانڈر شمیم بولے ’’اچھا بھئی! تم ہی سہی‘‘۔ اسکے بعد انہوں نے ہدایات جاری کیں۔
تقریباً نصف گھنٹے بعد پاک فضائیہ کے چار سیبر دشمن کی تباہی کا سامان بازوئوں میں دبائے پرشکوہ انداز میں اڈے سے اڑے اور نشانے کی طرف روانہ ہو گئے۔ دس منٹ بعد وہ دشمن کے علاقے پر اڑ رہے تھے۔
وہ کم بلندی پر امرتسر کی طرف جا رہے تھے کہ اچانک دشمن کی توپوں کے دہانے کھل گئے۔ پہلے تو اِکّا دُکّا گولہ آیا لیکن رفتہ رفتہ تانتابندھ گیا۔ ہلکی بھاری ہر قسم کی طیارہ شکن توپیں آگ اُگل رہی تھیں۔ ہمارے طیاروں کے چاروں طرف گولے پھٹ رہے تھے لیکن آگ کے اس کھیت میں وہ گویا ہل چلاتے ہوئے منزل کی جانب بڑھتے رہے۔
منیر اس دستے کے ڈپٹی لیڈر تھے۔ انہوں نے نشانے پر جھپٹنے کی تیاری مکمل کی۔ دوسرے طیارے اوپر اٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگے ادھر دشمن کے سارے توپچیوں نے اپنا رخ منیر کی طرف کر دیا تھا۔ دھماکوں کے ارتعاش سے ان کا طیارہ ڈول رہا تھا لیکن وہ پورے انہماک کے ساتھ نشانے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ریڈار سٹیشن کے قریب پہنچ کر ایک گولہ منیر کے سیبرکو لگا۔ انہوں نے جلدی سے ونگ کمانڈر شمیم کو پکارا ’’مجھے گولہ لگ گیا ہے‘‘ اور پھر ان کا ریڈیو خاموش ہو گیا۔ شمیم نے جو اس مہم کی قیادت کر رہے تھے دوبارہ ان سے رابطہ پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ فضا میں چاروں طرف دیکھا لیکن منیر کا کہیں نشان نہ تھا۔ ایک عظیم ہواباز شہید ہو چکا تھا۔
یہ ۳۶ سالہ جیالا ہواباز قادیان ضلع گورداسپور میں پیدا ہوا تھا اس کی ہر دلعزیز اور ہنس مکھ شخصیت ساری فضائیہ میں مشہور تھی۔ منیر ہر وقت لطیفہ گوئی کرتے تھے۔ ماہر نشانچی تھے اور تھوڑا تھوڑا مسکراتے تھے۔ان کے لئے زندگی پرواز سے عبارت تھی چنانچہ انہوں نے کبھی ترقی کی خواہش نہ کی۔ کیونکہ اس طرح ان کی ڈیوٹی زمین پر لگ جاتی۔
انہوں نے اس جنگ میں پہلا مشن چھمب میں پورا کیا۔ جہاں ۴ستمبر کو دشمن کے کئی ٹینک تباہ کئے اور اس کے بعد وہ ۱۱ستمبر کو اپنی شہادت کے روز تک روزانہ فضائی حملوں میں شریک ہوتے رہے۔ ابتداء میں انہیں یہ حسرت رہی کہ فضاء میں دشمن سے روبرو مقابلہ نہیں ہوا۔ یہ حسرت ۱۰ستمبر کو پوری ہوئی جب انہوں نے فیروزپور سے ۲۰میل جنوب مشرق میں بھارت کے ایک ناٹ کو مار گرایا۔
شہادت کے بعدسکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد کو ستارئہ جرأت کا اعزاز دیا‘‘۔(الفضل ۷ستمبر ۱۹۶۶ء صفحہ ۵)
٭ جناب خالد محمود صاحب نے اپنی کتاب ’’رن کچھ سے چونڈہ تک‘‘ کے صفحہ ۱۹۳ تا ۱۹۶ میں شہید پاکستان خلیفہ منیر الدین کا تذکرہ درج ذیل الفاظ میں کیا ہے:۔
’’۱۰ستمبر کوسکواڈرن لیڈر منیر الدین نے کھیم کرن سیکٹر میں دشمن کا ایک ناٹ طیارہ مار گرایا۔ اسی دن امرتسر میں دشمن کے طاقتور ریڈار کو تباہ کرنے کے لئے ۱۲ سیبر طیاروں اور ۲ سٹار فائٹرز کا ایک مشن بھیجا گیا۔ یہ ریڈار سٹیشن شہری آبادی کے بیچوں بیچ واقع تھا۔ اور کمال ہوشیاری کے ساتھ چھپایا گیا تھا۔ اس کی حفاظت کے لئے بھی زبردست انتظامات کئے گئے تھے۔ ان سب رکاوٹوں کے باوجود پاکستانی ہواباز اس ریڈار سٹیشن کو خاموش کر آئے۔ اسی دن سیالکوٹ سیکٹر میں زمینی فوج کو مدد دی گئی لیکن صرف ۵ٹینک اور ۱۰ گاڑیاں تباہ کی جا سکیں۔ البتہ گدرو سیکٹر میں دشمن کی ۱۵ گاڑیاں اور ۴ ریلوے ویگن تباہ کئے گئے۔…‘‘
مصنف کتاب نے آگے چل کر صفحہ ۲۱۴ پر شہید کی تصویر دیتے ہوئے لکھا:۔
’’ہنس مکھ سکواڈرن لیڈر منیر کی جان ہوابازی میں تھی۔ انہوں نے سب سے پہلے ۴ستمبر کو چھمب کے محاذ پر حصہ لیا۔ دشمن کی کئی گاڑیاں اور ٹینک تباہ کئے۔ ۱۰ستمبر کو فیروزپور کے ۲۰میل جنوب مشرق میں دشمن کے ایک ناٹ طیارے کو مار گرایا۔ بھارتی فضائیہ نے امرتسر میں ایک طاقتور ریڈارسٹیشن نصب کر رکھا تھا۔ اسے تباہ کرنا بہت ضروری تھا اسے چند روزپہلے زبردست نقصان پہنچایا گیا تھا لیکن دشمن نے اسے پھر ٹھیک کر لیا تھا۔ ۱۱ستمبر کو ونگ کمانڈر شمیم کی قیادت میں تین طیارے امرتسر بھیجے گئے تھے۔ ان میں منیر بھی شامل تھے۔ وہ اس سے پہلے تمام حملوں میں بھی موجود رہے تھے لیکن اس دن انہوں نے جان پر کھیل کر یہ ٹنٹا(جھگڑا،فساد) ہمیشہ کے لئے ختم کر دینے کا عزم کیا ہوا تھا۔ انہوں نے اسی مشن میں شہادت دی لیکن دشمن کا یہ ریڈارسٹیشن ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا گیا تھا۔ منیر کی پرواز کا مشن پورا ہو گیا تھا‘‘۔

(رن کچھ سے چونڈہ تک صفحہ ۲۱۴)
٭ اس سلسلہ میں سترہ روزہ ’جنگ ستمبر‘ پر اخبارات میں چھپنے والے ایک مضمون میں زاہد یعقوب عامر جنگ کا ایک نقشہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔
’’امرتسر کا ریڈار پاک فضائیہ کے اڑنے والے طیاروں کے لئے ایک اہم مسئلہ تھا۔ جس کو ختم کرنے کے لئے ونگ کمانڈر انور شمیم نے سرگودھا ائیر بیس سے ہوابازوں کے ایک گروپ کو حملہ کے لئے منتخب کیا۔ اس حملہ میں سکوارڈن لیڈر منیر احمد نے رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کیا۔ پاک فضائیہ کے دستے نے دشمن کے اندر اہم ریڈار کو تباہ کر دیا۔ مگر اس حملہ میںسکواڈرن لیڈر منیر احمد دشمن کی زمینی توپوں کا نشانہ بن گئے اور شہادت کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہوئے‘‘۔

(روزنامہ جنگ لاہور ۶ستمبر ۲۰۰۳ء)
٭ پروفیسر (ر) منور شمیم خالد صاحب روزنامہ جنگ کے مندرجہ بالا مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:۔
’’جنگ اخبار کا مضمون پڑھا تو آج سے دو عشرے قبل لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک واقعہ کی یاد تازہ ہو گئی جس کے چشم دید راوی سینئیر ایڈووکیٹ چوہدری غلام مجتبیٰ ہیں جو ایوان عدل کے اندر انسانی بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے عدلیہ کے محاذ پر تادمِ واپسیں سرگرم عمل رہے۔ انہوں نے راقم الحروف کو بتایا کہ بار کے اجلاسِ عام میں سینکڑوں وکلاء کو پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ائیر مارشل (ر) محمد اصغر خان صاحب نے خطاب کیا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ چلا۔ کسی وکیل نے نہ جانے کس مقصد اور کس قسم کا جواب ’حاصل‘ کرنے کے لئے مہمان خصوصی سے سوال کیا کہ کیا پاکستان کے احمدی /قادیانی ملک و قوم کے وفادار ہو سکتے ہیں؟ اس طرح کے سوال کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ جس قسم کا سلوک احمدیوں سے ہوتا رہا ہے، اُس سلوک کے ہوتے ہوئے فوج یا فضائیہ میں خدمات سرانجام دینے والے احمدیوں سے وفاداری یا جان نثاری کی توقع کی جا سکتی ہے؟ یہ سوال سن کر جناب اصغر خان صاحب نے جنگ ستمبر ۱۹۶۵ء کا ایک حقیقی واقعہ/ ذاتی تجربہ بیان کر کے اس نہایت ہی چبھنے والے سوال کا جواب دیا۔ ائیر مارشل (ر) اصغر خان نے بتایا کہ جنگ کے دوران دشمن کی فضائی برتری نے ہمارا ریڈار سسٹم منجمد (جام) کر دیا تھا تو اس نازک صورتحال سے نمٹنے کا صرف ایک ہی طریق تھا کہ جس بھارتی ہوائی اڈہ امرتسر سے دشمن کے جہاز اڑ کر پاکستان پر حملہ آور ہو رہے ہیں اُس کو تباہ کر دیا جائے۔ اس واضح اور معین مقصد کے لئے، جناب اصغر خان نے بتایا کہ پاک فضائیہ کے ہوابازوں کو ایک جگہ طلب (اکٹھا) کیا گیا اور جنگ کی نازک صورتحال سے آگاہ کر کے سب پائلٹوں سے کہا گیا کہ اس قومی دفاعی مقصد کے حصول کے لئے جان کی بازی لگا کر دشمن کا ہوائی اڈہ تباہ کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا ہواباز ازخود، رضاکارانہ طور پر اس ناگزیر مشن کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔ جناب اصغر خان نے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس عام میں اراکین کو یہ بتایا کہ سب سے پہلے جس پائلٹ نے اپنے آپ کو رضاکارنہ طو رپر پیش کیا وہ پائلٹ احمدی/ قادیانی تھا۔ جی ہاں! یہ وہی ۳۶ سالہ اسکوارڈن لیڈر خلیفہ منیر الدین احمد تھے جن کا ذکر صاحب مضمون نے اخبار جنگ میں کیا اور جن کو شہادت کا رتبہ پانے پر ’’ستارہ جرأت‘‘ عطا کیا گیا۔‘‘

(ماہنامہ خالد جنوری ۲۰۰۴ء صفحہ۱۷)
٭ جناب زاہد ملک صاحب سینئر صحافی ایڈیٹر ’’حرمت‘‘ نے امریکہ میں جناب ایم ایم احمد صاحب سابق مشیر صدر پاکستان ونائب صدر ورلڈ بنک کا انٹرویو کیا۔ اس میں مکرم ایم ایم اے صاحب نے ۱۹۶۵ء کی جنگ کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر پاکستان جنرل محمد ایوب کی ایک فیصلہ کن رائے مکرم منیر الدین احمد صاحب کے بارے میں بیان فرمائی جو یہ ہے:۔
’’اگر کوئی چیخ چیخ کر سو دفعہ کہے کہ یہ جو احمدی ہیں یہ ملک کے خلاف ہیں تو میں اس پر ایک سیکنڈ کے لئے بھی یقین نہیں کروں گا۔ کیونکہ ۱۹۶۵ء کی جنگ کے دوران میں نے ایک بہت ہی خطرناک مشن پر بھیجنے کے لئے دس آدمیوں کو بلایا اور کہا کہ جس مشن پر آپ کو بھیجا جا رہا ہے وہ اتنا خطرناک ہے کہ اس میں زندہ بچ کر واپس آنے کا امکان صرف ۱۰ فیصد ہے جبکہ ۹۰ فیصد امکان یہی ہے کہ وہ واپس نہیں آئیں گے تو پہلا آدمی جس نے اثبات میں فوراً ہاتھ اٹھایا وہ احمدی تھا۔ میں نے پوچھا اس کا نام؟ تو کہا! اس کا نام پائلٹ منیب تھا‘‘۔
(منیب غلطی سے درج ہو گیا ہے یہ منیر ہے یعنی سکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد)

( ہفت روزہ حرمت ۲۷دسمبر ۹۶ تا ۱۰۲۔ جنوری ۱۹۹۷ء)
٭ محترم محمد اسلم لودھی صاحب نے اپنی محققانہ تصنیف پاک فضائیہ تاریخ کے آئینہ میں اس بطل پاکستان کی تصویر دے کر لکھا:۔

’’سکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد شہید (ستارہ جرأت)
۱۹۶۵ء کی جنگ شروع ہوئے چھ دن گزر چکے تھے۔ زمین، فضا اور سمندر میں جنگ پوری طرح زوروں پر تھی۔ دشمن کے ہوائی جہازوں کے غول کے غول حملہ آور ہونے کیلئے آتے اور ہمارے فضائی مستعد نگہبانوں کی بہتر نگہبانی کی بدولت اپنے مشن میں ناکام ہو کر واپس لوٹ جاتے۔
۱۱ستمبر کو سرگودھا بیس کے ایک آپریشن روم میں امرتسر ریڈار سٹیشن کو تباہ کرنے کی حکمت عملی زیر بحث تھی۔ ونگ کمانڈر انور شمیم اپنے ہوابازوں کو اس خطرناک مہم کیلئے بریفنگ دے رہے تھے۔ دراصل امرتسر کا یہ حساس ریڈار مضبوط دفاعی حصار میں تھا اردگرد حفاظت کیلئے بھاری طیارہ شکن توپیں نصب تھیں۔ جن سے بچنا کسی بھی حملہ آور جہاز کیلئے مشکل تھا۔
ونگ کمانڈر انور شمیم نے سکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد کو تین مزید پائلٹ اس مشن میں شمولیت کیلئے بلوانے کیلئے بھیجا۔ چند منٹ بعد دو پائلٹ آگئے۔ ونگ کمانڈر انور شمیم نے منیر الدین احمد سے مخاطب ہو کر تیسرے پائلٹ کے بارے میں پوچھا منیر الدین نے اپنی طرف اشارہ کرکے کہا کہ سر تیسرا پائلٹ میں حاضر ہوں۔ چونکہ منیر الدین احمد کئی خطرناک مشنوں پر پہلے ہی اپنی بہادری کے جوہردکھا چکے تھے۔ اس لئے ونگ کمانڈر انور شمیم نے انہیں رکنے کیلئے کہا لیکن آپ اس خطرناک مشن پر روانگی کیلئے ذہنی طور پر تیار ہو چکے تھے۔ اس لئے ونگ کمانڈر انور شمیم بھی آپ کو فضائی معرکے میں شریک کر نے پر آمادہ ہو گئے۔
بریفنگ کے کچھ ہی دیر بعد چار سیبر طیارے سرگودھا بیس سے امرتسر پر حملہ آور ہونے کیلئے اڑے۔ امرتسر پہنچنے میں انہیں صرف دس منٹ لگے ہوں گے۔ چاروں سیبر جونہی امرتسر کی فضا میں پہنچے تو شہر کی حفاظت کیلئے لگی ہوئی طیارہ شکن گنوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ فضا میں ہر طرف آگ ہی آگ دکھائی دیتی تھی۔ سکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد دشمن کی زبردست فائرنگ سے مرعوب ہونے کی بجائے ریڈار پر حملہ کرنے کیلئے نشانہ لے چکے تھے۔ جونہی آپ کا طیارہ ریڈار کے روبرو آیا تو آپ نے بمباری کر کے ریڈار سٹیشن کے پرخچے اڑا دیئے لیکن جب آپ جہاز کو بلندی کی طرف لے جارہے تھے بھاری طیارہ شکن توپ کا گولہ آپ کے جہاز کو لگا۔ آپ اپنے لیڈر کو صرف یہی اطلاع دے سکے کہ سر مجھے گولہ لگ چکا ہے اور جہاز آگ کے تین ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ اس طرح آپ نے اپنی آنکھوں سے اپنی کامیابی دیکھتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
اس سے پہلے بھی آپ ۶ستمبر کو چھمب جوڑیاں کے محاذ پر بھارت کے کئی جنگی طیارے تباہ کر چکے تھے اور بھارتی ٹینکوں اور توپوں کو اپنا شکار بنا چکے تھے۔ آپ ۶ستمبر ۱۹۲۷ء کو بھارت کے شہر امرتسر (قادیان ضلع گورداسپور۔ناقل) میں پیدا ہوئے۔ مڈل تک تعلیم امرتسر شہر (اصل قادیان) میں ہی حاصل کی۔ ۱۹۴۴ء (قیام ربوہ ۱۹۴۸ء ) میں آپ کا خاندان ربوہ ضلع جھنگ میں آ کر آباد ہو گیا۔ آپ کے والد ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین پیشے کے اعتبار سے قابل احترام تھے اور دور و نزدیک کے لوگ شفا کی تلاش میں ان کے در دولت پر حاضری دیتے۔
منیر الدین احمد نے میٹرک کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیا۔ ۲۲دسمبر ۱۹۵۱ء کو باقاعدہ کمیشن لیا۔ آپ کی شادی ۲۲؍اکتوبر ۱۹۵۸ء کو خانقاہ ڈوگراں میں شاہدہ بیگم سے ہوئی۔ آپ کے آنگن میں ایک ہی پھول کھلا جو بیٹی زاہدہ منیر کے نام سے تھا۔
پاک بھارت جنگ کے دوران آپ نے آٹھ انتہائی اہم معرکوں میں شرکت کی اور دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ امرتسر کے ہائی پاور ریڈار کی تباہی کی ذمہ داری جب آپ کو سونپی گئی تو آپ نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا مشن مکمل کیا لیکن مشن کی کامیابی کے ساتھ ہی آپ کو شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل ہوا۔ جرأت اور بے مثال بہادری کے عوض آپ کو ’’ستارہ جرأت‘‘ سے نوازا گیا۔
آپ برج کے اعلیٰ کھلاڑی تھے۔ اعلیٰ ہوابازی اور بہترین نشانہ بازی کی بدولت آپ کو پاک فضائیہ میں بزرگ کا درجہ حاصل تھا۔ جن کیڈٹوں نے ان کی شاگردی میں کام کیا وہ آج بھی ان کانام بڑے فخر سے لیتے ہیں‘‘۔(’’پاک فضائیہ تاریخ کے آئینہ میں‘‘ صفحہ ۲۴۴ تا ۲۴۶۔ ناشر ’’علم و عرفان‘‘ پبلشرز مال روڈ لاہور اشاعت اپریل ۲۰۰۱ء)
اسی طرح مکرم سکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد صاحب شہید ’’ستارہ جرأت‘‘ کی بے مثال اورعظیم جرأت و بہادری پر کتاب ’’ہمارے غازی ہمارے شہید‘‘ میں زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

(ہمارے غازی ہمارے شہید۔ ناشر ادارہ میری لائبریری سلسلہ نمبر ۱۲۳ لاہور)

میجر منیر احمد صاحب
تاریخ شہادت   20 ستمبر 1965

آپ مکرم خواجہ عبد القیوم صاحب آف جمیل لاج محلہ دارالرحمت وسطی ربوہ کے فرزند تھے۔ آپ نے محاذ جنگ پر نماز پڑھتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں اپنی جان کی قربانی پیش کی۔ روزنامہ مشرق (لاہور) نے اپنی ۵نومبر ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں پاکستان کی جنگی تاریخ کے اس اہم واقعہ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا:۔
’’میجر منیر احمد محاذ پر نماز پڑھتے ہوئے شہید ہو گئے انہوں نے پروردگار کی بارگاہ میں اپنی جان کی قربانی پیش کی ۔ کاش میں اس مقدس جنگ میں شہادت کا رتبہ حاصل کر سکوں‘‘۔ یہ الفاظ میجر منیر احمد (انجینئر کور) نے شہادت سے چند گھنٹے قبل اپنے ایک ساتھی میجر سے گفتگو کرتے ہوئے کہے۔ میجر منیر احمد کو کیا معلوم کہ چند ساعتوں کے بعد ہی بارگاہ رب العزت میں ان کی یہ دعا شرف قبولیت حاصل کر لے گی۔ اور انہیں مادر وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہونے کی سعادت حاصل ہو جائے گی۔
میجر منیر احمد لاہور کے محاذ پر مسلسل دو دن اور دو راتیں دشمن کا مقابلہ کرتے رہے۔ ۲۱ستمبر کو دشمن کی طرف سے گولہ باری تھمی تو انہیں ہدایت ملی کہ وہ پچھلے مورچوں میں جا کر آرام کر لیں، میجر منیر احمد بادل نخواستہ اپنے مورچے سے نکلے اور مورچے کے قریب ہی نماز عشاء کی ادائیگی میں مصروف ہو گئے۔ ابھی وہ نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ دشمن کی طرف سے گولہ باری کا سلسلہ شروع ہو گیا اور میجر منیر احمد دشمن کا گولہ لگنے سے شہید ہو گئے۔
میجر منیر احمد کی شہادت کی اطلاع بذریعہ ٹیلیفون دی گئی تو اس وقت ان کے والد خواجہ عبدالقیوم گھر پر موجود نہیں تھے ان کی ضعیف العمر والدہ نے اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر سنتے ہی بارگاہ ایزدی میں ہاتھ اٹھا دئے اور کہا کہ میرے مولا! تو نے میرے لختِ جگر کی شہادت قبول کرلی اور اسے اس شرف سے نوازا کہ وہ دس کروڑ مسلمانوں کے ملک کا دفاع کر سکے اور اسی نیک مقصد میں جان کی بازی لگا دی۔
میجر منیر احمد صاحب نے رن کچھ کے محاذ پر بھی دشمن کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ اور یہاں بھی دشمن کو ذلت آمیز شکست دی اور اب یہ قوم کا جیالا سپوت اپنے ساتھیوں کے ہمراہ لاہور کے محاذ پر دشمن کے خلاف نبرد آزما تھا۔
میجر منیر احمد ۱۹۲۷ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۴۳ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد فوج میں بھرتی ہو گئے۔ ۱۹۴۶ء میں جنگ کے اختتام پر انہیں جمعدار کے عہدہ سے سبکدوش کر دیا گیا۔ اس کے بعد منیر احمد شہید پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد پاکستان آرمی میں شامل ہو گئے اور کمیشن حاصل کیا۔
خواجہ منیر احمد شہید کے بڑے بھائی خواجہ جمیل دوسری جنگ عظیم میں شہید ہوئے اور چھوٹے بھائی کیپٹن محمد طیب سیالکوٹ کے محاذ پر دشمن سے برسر پیکار ہیں۔
خواجہ منیر احمد شہید کے پسماندگان میں تین بیٹے اور ایک بیوی شامل ہیں۔
میجر منیر احمد شہیدکی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے شہید شوہر کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ کشمیر کی آزادی، مادر وطن کی حفاظت اور اسلام کی سربلندی کے لئے جام شہادت نوش کریں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گی اور اپنے بچوں کو بھی فوج میں شامل کرا دیں گی تاکہ وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک اور قوم کی حفاظت و خدمت کر سکیں‘‘۔

(روزنامہ مشرق لاہور ۵نومبر ۱۹۶۵ء بحوالہ الفضل ربوہ ۷نومبر ۱۹۶۵ء)
محترمہ حسن آرا منیر صاحبہ بیگم میجر منیر احمد صاحب شہید تحریر فرماتی ہیں کہ میرے شوہر محترم میجر منیر احمد صاحب شہید جنوری ۱۹۲۷ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۵۰ء میں فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ ۱۹۵۹ء میں میجر کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ ۲۰ستمبر ۱۹۶۵ء کو وطنِ عزیز کی عزت و ناموس کی خاطر جان کی بازی لگا کر اپنے مالکِ حقیقی کے حضور سرخرو ہو کر جا پہنچے اور شہادت کا بلند مرتبہ حاصل کیا اور ربوہ کی مقدس سرزمین میں خاص ’’قطعہ شہیداں‘‘ میںدفن ہونے کی سعادت حاصل کی۔
آپ مزید لکھتی ہیں کہ شہید کی زندگی اطاعت و خدمتِ والدین کا ایک جیتا جاگتا نمونہ تھی۔ اور خدمتِ والدین کو اپنی زندگی کا اہم فریضہ سمجھتے تھے اور (بنی اسرائیل:۲۴) کی عملی تفسیر تھے۔کوئی اپنی مرضی یاخیالات کے خواہ کتنے ہی خلاف کیوں نہ ہو، والدین کی خواہش اور رضا کو مقدم رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک حد درجہ اطاعت و خدمت گزار بیٹے کی جدائی بوڑھے والدین پر بہت شاق گزری ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ امر باعثِ مسرت ہے کہ والدین کے دل سے نکلی ہوئی دعائیں ان کے درجات کو ہمیشہ بلند کرتی رہیں گی۔
۱۹۵۵ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خاص توجہ، دعا اور منشاء سے میرا رشتہ شہید مرحوم و مغفور سے طے پایا اور ۱۹۵۶ء میں رخصتانہ ہوا۔ میں اس نو سالہ رفاقت کی زندگی پر جب نگاہ دوڑاتی ہوں تو مجھے کوئی ایسا موقع یا ایسا لمحہ نظر نہیں آتا جس کے متعلق میں کہہ سکوں کہ شہید کی طرف سے مجھے کسی قسم کی ذہنی یا جذباتی تکلیف پہنچی ہو۔ کبھی غصہ کا اظہار نہ کیا۔ کبھی ماتھے پر بل نہ آیا۔ ہنستے ہوئے گھر سے نکلے اور ہنستے ہوئے داخل ہوئے۔ زندگی میں بہت دفعہ پریشانی کے لمحات اور دَور آئے لیکن اپنی پریشانیوں کو خود پر حاوی نہ ہونے دیا۔ اپنی مشکلات کا تذکرہ کبھی گھر میں نہ کیا تاکہ گھر کاماحول مکدّر نہ ہو۔ بیوی بچوں پر اثر نہ ہو۔ کئی مرتبہ اس بات پر میں نے اظہارِ ناراضگی کیا کہ اپنی پریشانی یا تکلیف کا تذکرہ گھر میں کیا کریں۔ ہمیشہ یہی کہا کرتے کہ میں کہتا ہوں تمہیں کیوں پریشان کروں۔ طبیعت میں شگفتگی بہت تھی۔ بعض اوقات میں نے کسی بات پر ناراضگی کا اظہار کر نا چاہا تو فوراً لاَحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھ کر نظروں سے اوجھل ہو جاتے تاکہ بات وہیں ختم ہو جائے۔غرضیکہ ہر وقت یہی کوشش ہوتی کہ گھر کا ماحول نہایت خوشگوار ہو۔ میں خداتعالیٰ سے اکثر دعا مانگا کرتی تھی۔ شادی سے پہلے بھی اور شادی کے بعد بھی کہ ’’ہمارا گھر ہو مثلِ باغِ جنت‘‘ سو شہید کے بابرکت وجود کی وجہ سے فی الحقیقت ہماری گھریلو زندگی مثلِ باغِ جنت تھی۔
بچوں سے والہانہ محبت کرتے تھے اور بچے بھی مجھ سے زیادہ اپنے ’’ابی جان‘‘ کے ساتھ لگائو رکھتے تھے لیکن ساتھ ہی ساتھ بچوں کی تربیت کا بہت خیال رکھتے تھے اور اس مقصد کے لئے چھوٹے چھوٹے انعام مقرر کر دیتے تاکہ اچھے کام کرنے کا جذبہ اور عادت بچوں میں راسخ ہو جائے۔ اس بات کی بہت خواہش اور کوشش تھی کہ بچوں میں اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت پیدا ہو اور اس بارے میں سختی اور سرزنش سے بھی گریز نہ کرتے تھے۔ شہادت سے کچھ ماہ قبل شہید نے اپنی عادت بنا لی تھی کہ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد دونوں بچوں کی (جن کی عمریں ۸ اور ۶ سال ہیں) چارپائیوں کے قریب جاتے اور سوئے ہوئے بچوں کے کانوں میں آہستہ آہستہ تلاوتِ قرآن کریم کرتے۔ بچے مسکراتے ہوئے جاگ جاتے۔ پھر انہیں پیار کرتے اور کہتے اٹھو بیٹا نماز پڑھ لو۔ اپنے ماتحت عملہ اور گھریلو ملازموں سے نہایت نرمی اور محبت کا سلوک کرتے تھے۔ اسی طرح بچوں کو بھی تلقین کرتے رہتے تھے کہ غریب لوگوں کے ساتھ نرمی سے اور آہستہ آواز سے بولنا چاہیئے۔
غریب نواز بہت تھے۔ طبیعت میں حد درجہ انکسار ی تھی۔ باوجود اپنی سرکاری مصروفیات کے ایک مرتبہ بہت سے احمدی طالب علموں کو جو کہ صاحبِ حیثیت نہ تھے گھر پر کئی ماہ تک شارٹ ہینڈ سکھاتے رہے تاکہ انہیں اچھی ملازمت مل جائے۔ گھر پر ایسے نادار لوگوں کا تانتا لگا رہتا جو کہ نوکریوں کی تلاش میں سرگرداں ہوتے۔ اکثر کو دوڑ دھوپ کر کے ان کے حسبِ لیاقت ملازمت دلوا دیتے اور اس امر کے لئے جہاں جہاں بھی جانا پڑتا جاتے۔ اور بالفرض کسی کے لئے اگر ملازمت مہیا نہ کر سکتے تو بہت کُڑھتے اور کئی دفعہ گھر میں ذکر کرتے کہ دیکھو غریب مارا مارا پھرتا ہے۔ نوکری نہیں ملتی۔ اور مجھے کہتے کہ جب بھی ایسے لوگ آئیں ان کو چائے پانی ضرور پوچھ لیا کرو۔ بعض اوقات ایسا ہوتا کہ صبح سے شام تک دفتری کام کر رہے ہیں۔ گھر پر آئے ہیں تو پیچھے پیچھے ایسے لوگ جو روزگار کے متلاشی ہوتے آ جاتے۔ گھنٹوں کھڑے ہو کر ان کی مشکلات کا حال سنتے۔ کئی دفعہ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس نوکریاں ہوتی ہیں؟ کہتے میرے پاس نوکریاں کہاں ہوتی ہیں بس اِدھر اُدھر کہہ سن کر کوشش کرتا رہتا ہوں کسی کو مل جاتی ہے کسی کو نہیں بھی مل سکتی۔
بعض دفعہ ایسا بھی موقع آجاتا کہ کسی نجی ملازم کی شکایت کرنی پڑ جاتی کہ اسے تنبیہہ کریں زور سے نام لے کر آواز دیتے، میں سمجھتی کہ اب سرزنش کریں گے۔ لیکن جب وہ شخص سامنے آ جاتا تو نہایت نرمی سے کہتے ’’دیکھو جس طرح بیگم صاحبہ کہیں اسی طرح کر لیا کرو‘‘ اور بس بات ختم ہو جاتی۔ ہمارے بنگلہ کے پچھواڑے ملازموں کے کوارٹرز میں دو میاں بیوی رہتے تھے جو ہروقت آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے۔ ایک مرتبہ اس کی بیوی شکایت لے کر شہید مرحوم کے پاس آئی۔ کہنے لگے اچھا میں اسے ڈانٹوں گا۔ اس کے خاوند کو بلایا اسے سمجھایا کہ عورتوں کے ساتھ لڑنا جھگڑنا ٹھیک نہیں وغیرہ وغیرہ۔ گھر میں اچھا کھانا پکا ہوا تھا اسے پلیٹ بھر کر دیا اور کہا جائو دونوں میاں بیوی مل کر کھائو۔
گھر میں اگر ملاقات کے لئے نہایت درجہ معمولی آدمی یا دفتر کا چپڑاسی بھی آجاتا تو ساتھ ہی کرسی منگوا کر بٹھا لیتے اور فوراً چائے کی پیالی اس کے لئے منگوا لیتے۔ غرضیکہ حد درجہ غریب نواز اور غریب الطبع تھے۔
بزرگوں کی خدمت اور ان سے دعائیں کروانے اور دعائیں لینے کا غیر معمولی شوق تھا۔ بزرگوں کی خدمت میں مسلسل اور مستقل نذرانے بھیجتے رہتے تاکہ وہ انہیں دعائوں میں ہر وقت یاد رکھیں اور خود بھی درجنوں خطوط دعا کے لئے لکھتے اور مجھ سے بھی لکھواتے رہتے۔ چنانچہ سلسلہ کے بہت سے بزرگوں کے ساتھ انہیں خاص تعلق تھا جن میں سے حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری اور محترمہ بھابھی زینب صاحبہ وفات پا چکے ہیں۔ محترمہ بھابھی زینب صاحبہ نے تو انہیں بیٹا بنایا ہوا تھا اور وہ بھی ان کی عزت اور خدمت بیٹوں کی طرح کرتے تھے اور بھابھی صاحبہ بھی انہیں دن رات دعائوں میں یاد رکھتی تھیں۔ سرگودھا اور سیالکوٹ میں جب ملازمت کے سلسلہ میں مقیم تھے تو انہیں ربوہ سے اپنے گھر خود جا کر لے آتے اور پھر دن رات ان کی خدمت کرتے اور دعائیں کرواتے۔ شہادت سے کچھ عرصہ قبل جبکہ کوئٹہ میں مقیم تھے حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری سے تعلقات محبت بڑھائے اور ان کی بھی دعائیں لیں۔ کوئٹہ کی مسجد میں نماز مغرب ادا کرنے جاتے۔ میں پوچھتی آپ بہت دیر سے گھر آئے ہیں کہتے بس نماز پڑھ کر حضرت مولوی صاحب کے گھٹنے کے پاس بیٹھ جاتا ہوں۔ اللہ میاں کہتا ہے (التوبہ:۱۱۹) صادقوں کی صحبت اختیار کرو۔ سو میں بھی اسی لئے گھٹنا پکڑ کر بیٹھ جاتا ہوں کہ شاید میرا شمار بھی صادقوں میں ہو جائے۔ اس کے علاوہ حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری سے بھی خط وکتابت رہتی تھی۔ آج بھی حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری کا سلوک میرے ساتھ بیٹیوں جیسا ہے اور انہوں نے میرے اس غم کو اپنا غم سمجھا ہے اور مجھے اپنے قیمتی مشوروں اور دعائوں سے نوازتے ہیں۔ الحمد للہ۔ خود بھی بہت دعا کرتے تھے اور خداتعالیٰ پر توکل اور دعائوں پر اعتماد بہت تھا۔’’رن کچھ‘‘ کے محاذ سے واپسی پر مجھ سے اکثر ذکر کیا کرتے تھے کہ میں وہاں ساری ساری رات دعائیں کرتا تھا اور مجھے خداتعالیٰ کے فضل سے تمہارے لئے اور بچوں کے لئے بھی بہت دعا کی توفیق ملی ہے۔ مجھے سردرد کی تکلیف لمبے عرصے سے ہے۔ مجھے کہا کرتے تھے کہ میںنے اس قدر دعا تمہارے اس مرض کی دوری کے لئے کی ہے کہ یہ اب انشاء اللہ بغیر دوا کے رفع ہو جائے گی۔ اسی طرح چھوٹا بچہ پیٹ کی خرابی سے بہت بیمار رہتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ کہا کہ اسے باقاعدہ ہسپتال میں داخل کروا کے اب اس کا علاج کرائوں گی۔ کہنے لگے ابھی ٹھہر جائو مجھے کچھ عرصہ باقاعدگی اور زور سے دعا کر لینے دو۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس قدر دعائوں میں شغف اور اعتماد تھا۔ سو خداتعالیٰ کے فضل سے بغیر ہسپتال داخل کرائے بچہ ٹھیک ہو گیا۔ سچے خواب بھی بہت دیکھتے تھے اور اپنے خواب اکثر مجھے سناتے رہتے تھے جو کہ اپنے وقت پر پورے بھی ہو جاتے۔
عبادت گذار تھے۔ نماز تہجد ایک لمبے عرصے سے باقاعدگی کے ساتھ پڑھتے تھے۔ نماز باجماعت کا اس قدر شوق تھا کہ کوئٹہ چھائونی سے ۳ میل دور مسجد احمدیہ میں نماز مغرب ادا کرنے باقاعدگی سے جاتے۔ گرم سرد ہوائیں ان کے راستہ میں حائل نہ ہوتیں اور جاتے بھی سائیکل پر تھے۔ عشاء کی نماز پڑھ کر ۶ میل کا راستہ سائیکل پر طے کر کے آتے۔ بعض اوقات مجھے کہتے سب دوست کہتے ہیں کہ اتنی دور سے نماز باجماعت پڑھنے آتا ہے۔ بڑا مخلص ہے اللہ بہتر جانتا ہے میں کیسا ہوں اور کیسا نہیں۔ یہ ان کی انکساری تھی۔ قرآن کریم کی تلاوت سے عشق تھا۔ اور بہت خواہش رکھتے تھے کہ تمام قرآن کریم کسی سلسلہ کے عالم سے باترجمہ پڑھیں اس مقصد کے لئے دو ماہ کی رخصت بھی ایک دفعہ لی اور محترمہ استانی مریم بیگم صاحبہ اہلیہ حافظ روشن علی صاحب سے قرآن کریم باترجمہ پڑھنا شروع کیا آدھا ہی پڑھا تھا کہ چھٹی سرکاری کام کی وجہ سے منسوخ ہو گئی جس کا انہیں بہت افسوس ہوا اور اکثر کہتے کہ کاش ایسا موقع ملے کہ کبھی رمضان شریف ربوہ میں گذرے وہاں روزے رکھوں اور قرآن کریم باترجمہ پڑھوں۔ گھر میں دن میں کئی مرتبہ تلاوت کرتے۔ کھانے کے میز پر بھی صبح قرآن کریم لے بیٹھتے تاکہ جب تک چائے نہیں آتی تلاوت کرتا رہوں۔ باہر جانا ہوتا اور ابھی ۵/۱۰ منٹ باقی ہوتے تو قرآن کریم نکال لیتے تاکہ وہ وقت بھی تلاوت میں صرف ہو۔
تبلیغ احمدیت کا شوق انتہا تک پہنچا ہوا تھا۔ بوجہ سرکاری ملازم ہونے کے تبلیغ احمدیت نہ کر سکتے تھے لیکن سلسلہ کی تمام کتب گھر میں منگوا کر رکھی ہوئی تھیں اور سلسلہ کا کوئی رسالہ ایسا نہ تھا جو ہمارے گھر نہ آتا ہو۔ سلسلہ کی کتب کثرت سے دوستوں کو پڑھنے کو دیتے بعض د فعہ میں کہتی کہ کچھ عرصہ کے بعد کتاب واپس لے لیا کریں وگرنہ گم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ کہتے چلو کوئی بات نہیں کسی کے گھر میں پڑی رہے گی کبھی تو اسے توفیق ملے گی کہ اس پر نظر ڈالے ہم ربوہ سے اور منگوا لیں گے۔ مجھ سے کئی دفعہ اظہارکیا کہ میرا دل چاہتا ہے جب میں ریٹائرڈ ہو جائوں اور اللہ میاں مجھے روپیہ دے تو میں سب سے پہلے ایک بہت بڑی لائبریری سلسلہ کی کتب کی بنائوں اور پھر ذاتی تنخواہ سے ایک ایسا مبلغ وہاں رکھوں جو کہ ہر وقت سلسلہ کی تبلیغ کرے۔ اور ان کا تمام خرچ خود اٹھائوں اور لوگ دن رات لائبریری میں آ کر سلسلہ کی کتب پڑھیں اور ہمارے مبلغ سے تبادلۂ خیالات کریں۔
صدقہ و خیرات بھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر کرتے تھے۔ ہر مشکل پیش آنے پر بجائے اِدھر اُدھر دوڑ دھوپ کرنے کے دعا اور صدقہ خیرات پر زور دیتے۔ اگر کوئی منذر خواب دیکھ لیتے تو اسی وقت بکرا منگوا کر صدقہ دے دیتے۔ بعض اوقات دو دو تین تین بکرے اکٹھے منگوا کر گوشت غرباء میں تقسیم کروا دیتے اور بہت خوشی محسوس کرتے اور مستحقین کے نام یاد کر کر کے بتاتے کہ فلاں جگہ ضرور بھجوانا۔ اپنی تنخواہ کا خاصہ معقول حصہ صدقہ و خیرات، چندوں، بزرگوں کی خدمت میں نذرانوں اور سلسلہ کے رسائل اور کتب کی خریداری میں صَرف کرتے۔خود سادہ اور تکلّف سے مبرّا زندگی بسر کرتے اور اس طریق سے جو بچت ہوتی اسے خداتعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے خرچ کرتے۔ اگر کسی کو ادھار یا قرض دیتے تو باوجود اس کے کہ خود روپے کی ضرورت ہوتی کبھی واپس نہ مانگتے ۔اگر کوئی قرض لینے والا غریب آدمی ہوتا تو مجھے کہتے کہ اسے قرض کی واپسی پر اصرار نہ کرنا جب بھی ہو گا دے جائے گا اور اگر نہ بھی دے گا تو کوئی حرج نہیں۔
اپنے محکمانہ فرائض کی ادائیگی میں نہایت درجہ فرض شناس اور محنتی افسر تھے۔ کبھی اس بات کا لحاظ نہ رکھتے تھے کہ کتنا وقت میں نے دفتر میں صَرف کیا ہے بلکہ یہ دیکھتے تھے کہ جو کام میرے ذمہ ہے وہ مکمل ہوا ہے یا نہیں۔ خواہ صبح سے شام تک دفتر میں بیٹھا رہنا پڑتا ایسے موقعوں پر کھانے کی بھی پرواہ نہ کرتے بلکہ کھانا بھول ہی جاتے۔ اور جب فارغ ہو کر گھر آتے تو کبھی مجھے یہ محسوس نہ ہوتا کہ وہ مسلسل بارہ گھنٹے فائلوں پر جھکے رہنے کے بعد گھر لوٹے ہیں۔ چہرہ پر وہی تازگی ،وہی شگفتگی، وہی مسکراہٹ۔ ایسے لگتا جیسے سیر سے واپس آ رہے ہوں۔ تینوں بچے دائیں بائیں سے گھیر لیتے کوئی شانوں پر جا چڑھتا۔ کبھی نہ جھڑکتے ہمیشہ پیار سے سمجھاتے اور کہتے بیٹا ٹھہر جائو وردی اتار لوں۔ نماز پڑھ لوں۔ پھر آپ سے کھیلوں گا۔
وہ دلکش مسکراہٹ، شگفتہ باتیں، دلنشیں عادتیں اور دلفریب چہرہ ہر وقت آنکھوں کے سامنے گھومتا ہے۔ دل خلش محسوس کرتا ہے لیکن پھر سوچتی ہوں کہ ہر ایک کو جلد یا بدیر یہی راہ اختیار کرنا ہے۔ مبارک ہیں وہ جو جئے تو خدا کی رضا کے حصول میں کوشاں رہے اور مرے تو شہید کی موت۔ یعنی مرکر بھی زندہ رہے۔ جنت کا پھول تھے۔ خدا تعالیٰ نے جنت کے گلدستے میں لگانے کو چن لیا لیکن ایسے گوہر نایاب کو کھودینے کے بعد کونسی آنکھ ہے جو پُرنم نہ ہو۔ ۹ سالہ رفاقت کی زندگی میں نیکیاں ہی نیکیاں یادگار چھوڑ گئے۔ دل خداتعالیٰ کی رضا پر راضی ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ صدا بھی نکلتی ہے۔

حیف! در چشم زدن صحبتِ یار آخر شُد

روئے گُل سیر نہ دیدیم و بہار آخر شُد

(الفضل ۵جنوری ۱۹۶۶ء صفحہ ۶۔۷)

میجر قاضی بشیر احمد صاحب
تاریخ شہادت   20 ستمبر 1965

دفاع وطن میں جو احمدی مجاہد کام آئے ان میں میجر قاضی بشیر احمد صاحب شہید بھی تھے۔ جناب نصیر احمد صاحب شاد راولپنڈی آپ کے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ عزیزم میجر قاضی بشیر احمد صاحب شہید ۲۰ستمبر ۱۹۲۶ء کو حضرت قاضی محمد یوسف صاحب سابق امیر جماعتہائے احمدیہ سرحد کے ہاں بمقام ہوتی مردان میں پیدا ہوئے۔ میٹرک سے قبل تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں تعلیم پائی۔ عرصہ زیر تعلیم بورڈنگ ہائوس قادیان میں مقیم رہے۔ ۱۹۴۶ء میں پنجاب یونیورسٹی سے میٹرک پاس کیا۔ ۱۶جون ۱۹۵۰ء کو او۔ ٹی۔ ایس کوہاٹ سے کمیشن حاصل کیا اور فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ پوسٹ ہوئے۔اس کے بعد مختلف عہدوں پر مختلف مقامات پر کام کرتے رہے کچھ عرصہ سٹاف میں بھی کام کیا اور کچھ عرصہ سکائوٹس میں بھی۔ جہاں بھی سروس کی بڑے مقبول ہوئے اور ہر دلعزیز رہے۔ طبیعت میں خدمت خلق اور حسن سلوک کا جذبہ نمایاں تھا۔ دراصل یہ قادیان ہی کی تعلیم اور تربیت کا اثر تھا۔ ۳۱؍اگست ۶۵ء کی شب کو محاذ جنگ پر بطور کمپنی کمانڈر روانہ ہوئے۔ ۵ رات دن متواتر دشمن کے ساتھ بڑی جانفشانی کے ساتھ لڑتے رہے اور بالآخر ۵ستمبر ۱۹۶۵ء کو دن کے گیارہ بجے دشمن کی پوزیشن پر بڑھتے ہوئے ایک توپ کے گولہ کے پھٹنے کی وجہ سے شہید ہو گئے۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔
مرحوم بڑے نڈر اور دلیر تھے۔ عزیز مرحوم ہمیشہ سب سے اگلے دستے کے ساتھ ہی رہا کرتے تھے اور کئی دفعہ تنہا بلاخوف و خطر آگے نکل جاتے تھے اور مناسب دیکھ بھال کرنے کے بعد کمپنی کو آگے لے آتے تھے۔ انہیں ہمیشہ اپنے جوانوں کی بہت فکر رہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شہادت پر نہ صرف ان کی کمپنی کا ہر جوان بلکہ یونٹ کا ہر افسر اور جوان اور اس کے علاوہ آرمرڈ کور اور توپخانے کی وہ یونٹس جو ان کے ساتھ اس محاذ پر لڑتی رہیں بڑی ہی غمزدہ ہوئیں اور یونٹس کے کمانڈنگ آفیسرز جب بھی قاضی بشیر کانام لیتے ہیں تو بڑے ہی فخر سے ان کا ذکر کرتے ہیں اور ان کی شہادت کی وجہ سے ایک ایسا خلا محسوس کرتے ہیں جو پُر نہ ہو سکا۔ مرحوم کی جرأت اور بے مثال دلیری کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ محاذ جنگ کے ایک مقام پر ان کی کمپنی دشمن کی کئی گنا تعداد فوج سے گھِر گئی۔ شہید مرحوم خود اس جگہ پہنچ گئے جہاں حملے کا خطرہ بہت زیادہ تھا اور کمپنی کے جوانوں کو حکم دیا کہ تم ایک ایک کر کے پہاڑی کے پیچھے نالے سے پرے جمع ہوتے جائو۔ میرا وہیں انتظار کرنا میں پہنچ جائوں گا۔ کمپنی کے جوان اپنے محبوب کمانڈر کو اس طرح سے تنہا نہ چھوڑنا چاہتے تھے مگر انہیں تعمیل کرنا پڑی۔ بشیر مرحوم جمع کردہ گرنیڈوں کو دشمن پر برابر پھینکتے رہے۔ یہاں تک کہ ساری کمپنی اور وہ خود بسلامت پیچھے پہنچ گئے اور پھر وہاں سے انہوں نے بائیں عقب سے دشمن پر پُرجوش حملہ کر کے اسے مار بھگایا۔
جس روز بشیر کی شہادت ہوئی ایک مقام پر ہمارے ٹینک آگے بڑھنے سے کچھ رک گئے۔ کیونکہ راستہ ہر طرف سے محدود ہی نظر آتا تھا۔ ایسے پُرخطرمقام پر میجر بشیر نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ چنانچہ وہ گئے اور کچھ دیر کے بعد کامیابی کے ساتھ واپس آئے اور ایڈوانس کی قیادت کرنے لگے۔ تھوڑی دور گئے تھے کہ اچانک دشمن کی توپوں نے گولے برسانے شروع کر دیئے ایک گولہ ان کے پاس پھٹا جس کا ایک ٹکڑا ان کی پسلیوں کے نیچے دائیں جانب لگا اور ایک چھوٹا ٹکڑا دائیں طرف چہرے پر لگا۔ عزیز وہیں فوراً شہید ہو گئے۔ اور اپنے پیچھے ایک نہ مٹنے والی یاد چھوڑ گئے۔ عزیز کی نعش کو اگلے روز مردان پہنچایا گیا جہاں انہیں ان کے والد بزرگوار کے پہلو میں دفنا دیا گیا۔
عزیزم نے اپنی یادگار ایک بیوہ (عزیزہ مجیدہ بیگم صاحبہ بنت مکرمی خواص خاں صاحب) اور تین چھوٹے کمسن بچے زاہدہ، مبشر اور ثمینہ عمر پونے چھ سال، چار سال اور دو سال چھوڑے ہیں۔
عزیز بڑے ہی ملنسار تھے۔ ان کا حلقۂ احباب بڑا ہی وسیع تھا۔ یہ سب لوگ جہاں اس بات پر بہت غمزدہ ہیں کہ ان کا ایک نہایت عزیز اور خلیق دوست ہمیشہ کے لئے ان سے رخصت ہو گیا وہاں انہیں اس بات کا بھی بڑا فخر ہے کہ وہ اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت کے ارفع درجے کو پا گیا۔
عزیزم مرحوم کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے بڑی ہی عقیدت تھی اور ہر جلسہ پر ہمیشہ ہی کوشش کرتے کہ انہیں حفاظت خاص کی ڈیوٹی مل جائے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ دیر تک اپنے محبوب آقا کے پاس رہ سکیں۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سرحد کی جماعت کا بڑا ہی خیال رکھتے تھے اور اس طرح یہاں والے بھی حضرت صاحبزادہ صاحب کا خاص احترام کیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب اور عزیز قاضی بشیر مرحوم بھی ہمیشہ حضرت صاحبزادہ صاحب کو بڑے ہی تپاک اور گرمجوشی سے ملتے۔ حضرت صاحبزادہ صاحب کی وفات کے چند روز قبل قاضی بشیر مرحوم آپ سے مری میں ملنے گئے۔ اور باوجود بیماری اور ممانعت ملاقات حضرت صاحبزادہ صاحب نے بشیر کو اپنے پاس بلوا لیا او ران کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے سینے پر رکھ کر بڑی دیر تک دعا کرتے رہے۔ اس واقعہ کا اثر قاضی بشیر مرحوم پر بہت تھا اور اسے وہ بڑے فخر سے یاد کیا کرتے تھے۔ جب بشیر محاذ جنگ پر جانے لگے تو میری اہلیہ نے انہیں بطور تبرک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قمیص کا ایک ٹکڑا دیا۔ اسے پا کر وہ بڑے ہی خوش ہوئے جیسے دنیا جہاں کی نعمت مل گئی۔ اور پھر اسے اپنے ساتھ ہی رکھا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جان کی قربانی دے کر اللہ کو پیارے ہوئے۔

(الفضل ۲جنوری ۱۹۶۶ء صفحہ ۶)

رستم خان صاحب آف جلوزئی
تاریخ شہادت   11 فروری 1966

۱۱ فروری ۱۹۶۶ء کو ایک نہایت تکلیف دہ واقعہ پیش آیا کہ ایک نہایت مخلص اور باوفا احمدی مکرم رستم خان صاحب آف جلوزئی کو شہید کر دیا گیا۔آپ خلافت ثالثہ کے پہلے شہید تھے۔
مکرم رستم خان صاحب پشاور کے قریب ایک گاؤں جلوزئی کے رہنے والے تھے۔ خود احمدی ہوئے تھے اور اپنے گاؤں بلکہ آس پاس کے کئی گاؤں میں اکیلے احمدی تھے۔ احمدی ہونے پر سارا گاؤں ان کا مخالف ہو گیا اور انہیں گھر سے نکال دیا گیا، جائیداد سے عاق کیا گیا۔ ان پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالا گیا کہ قادیانیت سے توبہ کر لو ان کے بچوں میں پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ چچا وغیرہ چاہتے تھے کہ ان کی نسل کو ہی ختم کر دیا جائے۔ بیٹیوں کو گاؤں لے جا کر بیچنے کی سازش کی گئی۔ بیٹے کرنل عبدالحمید حال راولپنڈی کو بارہا جان سے مارنے کی کوشش کی گئی۔ شہید اپنی سروس کے سلسلہ میں زیادہ تر باہر رہتے تھے۔ گاؤں کی مسجد کے مولوی نے فتویٰ دیا کہ جو کوئی رستم خان کی نسل کو ختم کرے گا وہ جنتی ہو گا۔ ان کی بیگم کو ایک دو دفعہ کسی مرگ پر گاؤں جانا ہوا تو کھانے پینے کے برتن الگ ہوتے تھے۔ سب اچھوتوں والا سلوک کرتے تھے۔ کھانے میں زہر ملانے کی بھی سازش کی گئی جو کہ ناکام ہوئی۔
۹فروری ۱۹۶۶ء کو شہید کے والد کی وفات ہوگئی تو ان کی لاش لے کر بچے گاؤں گئے۔ گاؤں پہنچتے ہی تمام گاؤں میں مولوی نے اعلان کیا کہ ’’لوگو! خوش ہو جاؤ، آج رستم خان قادیانی آیا ہے۔ اس کو قتل کر دو اور اس کی اولاد کو علاقہ غیر میں بیچ دو یا پھر گاؤں میں بیاہ دو۔ اس کا ایک بیٹا ہے اس کو مارڈالو اور اب جو بھی ثواب کمانا چاہتا ہے، بہادر بنے اور سامنے آئے کیونکہ جنت کمانے کا ذریعہ سامنے آیا ہے‘‘۔
رات کو رستم شہید کے والد کی تدفین سے پہلے جب یہ اعلان ہوا تو انہوں نے اپنی بیگم کو بلا کر کہا کہ تم کسی طرح سے اپنے بھائیوں عبدالسلام اور عبدالقدوس کو اطلاع کرو کہ وہ تعزیت کے بہانے گاؤں آئیں اور بچوں کو ساتھ لے جائیں کیونکہ حالات ٹھیک نہیں ہیں اور مجھے بیٹیوں کا خطرہ ہے۔
دوسری طرف بیٹا عبدالحمید جو اُن دنوں کیڈٹ کالج حسن ابدال میں پڑھتا تھا اور اٹھارہ سال کا تھا، دادا کی وفات پر گاؤں آرہا تھا۔ جونہی وہ گاؤں پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ ایک شخص منہ پر ڈھاٹا باندھے گاؤں کے باہر جہاں ویگن رکتی ہے ایک جگہ چھپ کر بیٹھا ہوا تھا۔ عبدالحمید نے اس کو دیکھ لیا اور پیچھے سے جا کر پکڑ لیا۔ دیکھا تو وہ اس کا چچا تھا۔ اس نے کہا چچا آپ۔ چچا گھبرا کر بولا کہ ہاں میں تمہاری حفاظت کے لئے بیٹھا ہوں کیونکہ لوگ تمہیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے جب یہ واقعہ اپنی امی کو سنایا تو وہ اور بھی پریشان ہو گئیں اور انہیں اور دوسرے بچوں کو ماموں کے آنے پر وہاں سے نکلوا دیا۔
دوسرے روز ۱۱فروری ۱۹۶۶ء کو رستم خان شہید صبح کی نماز کے لئے وضو کرنے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے کہ فائر کی آواز آئی۔ ان کی بیگم یہ آواز سن کر باہر کی طرف بھاگیں۔ پیچھے سے رستم شہید کے بھائیوں نے پکڑ لیا لیکن وہ چونکہ پہلے سے چوکنّا تھیں اس لئے ان کو دھکا دے کر باہر نکل گئیں۔ باہر جا کردیکھا تو دشمن اپنا کام کر چکے تھے اور ان کے خاوند راہ مولیٰ میں شہید ہو چکے تھے۔ اب وہ بچوں کو ڈھونڈنے لگے لیکن بچے تو وہاں سے پہلے ہی نکل چکے تھے۔ ان کی بیگم کو اللہ تعالیٰ نے صبر کی قوت دی۔ گائوں کے مولوی نے آ کر کہا کہ کس پر رپورٹ درج کرو گی۔ انہوں نے کہا یہ معاملہ خدا کے سپرد ہے۔ تم سب لوگ راستے سے ہٹ جائو۔ میں اپنے خاوند کی لاش کو پشاور لے کر جاؤں گی اور وہاں ہماری جماعت کے لوگ دفن کریں گے۔ ایک بیوہ عورت کی دلجوئی کی بجائے تمام گاؤں والے ان پر دباؤ ڈالنے لگے کہ اس کو یہیں دفنا دو اور بچوں کو ہمارے سپرد کر دو تاکہ ہم انہیں پھر مسلمان بنا لیں۔
اس وقت ان کی بیگم نے نعش کے سامنے ایک تقریر کی کہ
’’آج تو میں اپنے خاوند کی لاش کو یہاں سے لے جا کر رہوں گی۔ یاد رکھنا کہ جس سچائی کو رستم خان نے پایا تھا میں اور میری اولاد اس سے مڑنے والے نہیں۔ انشاء اللہ رستم خان کی نسل پھیلے گی‘‘۔
تمام لوگوں نے کہا کہ یہ عورت پاگل ہو گئی ہے۔ بجائے بین کرنے کے بڑی بڑی باتیں کرتی ہے۔ اگلے دن ان کی بیگم شہید کی لاش لے کر پشاور آئیں اور وہاں تدفین ہوئی۔
دشمنوں کا انجام: ایک سال کے اندر اندر ان کے ایک بھائی جس نے ان کے بیٹے حمید کو بھی مارنے کی کوشش کی تھی اس کا جواں سال اکلوتا بیٹا کنوئیں میں ڈوب کر مر گیا۔ دوسرے چچا کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ تیسرے چچا کو ناگہانی موت آ گئی۔ کچھ پتا نہیں چلا کہ کیوں مرا اور ایک چچا کا سارا گھر اچانک بارشوں سے گر گیا اور اس کے دو بچے موقع پر ہی مر گئے۔
رستم خان شہید کے پسماندگان: بیوہ کے علاوہ ایک بیٹااور پانچ بیٹیاں چھوڑیں۔ بیٹا کرنل عبدالحمید خٹک راولپنڈی میں رہتے ہیں۔ بڑی بیٹی شمیم اختر صاحبہ کرنل نذیر احمد صاحب کی اہلیہ ہیں اور امریکہ میں قیام پذیر ہیں۔ دوسری بیٹی رقیہ بیگم صاحبزادہ جمیل لطیف صاحب کی اہلیہ ہیں۔ تیسری بیٹی یاسمین ڈاکٹر قاضی مسعود احمد صاحب امریکہ کی اہلیہ ہیں۔ چوتھی بیٹی نگہت ریحانہ بھی امریکہ میں ہیں اور ناصرا حمد صاحب کی اہلیہ ہیں۔ پانچویں بیٹی ناہید سلطانہ صاحبہ کرنل اویس طارق صاحب کی اہلیہ ہیں اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔

 

چوہدری محمد ابراہیم آ ف محلہ دارالفضل قادیان و سابق صدر حلقہ راجگڑھ لاہور کے نہایت لائق  فرزند تھے۔ آپ 2 جون 1966ء کو ایک فضائی حادثہ میں شہید ہو گئے۔مرحوم پابند نماز،تہجّد گذار اور جماعت کے ساتھ انتہائی درجہ محبت و اخلاص رکھنے والے نوجوان تھے۔مرحوم پاکستان فضائیہ کے مشّاق ہوا باز تھے۔ آپ نے جنگِ ستمبر 1965ء کے موقع پر پاکستان کا کامیابی سے دفاع کیا اور جرأت و بہادری کے کارہائے نمایاں سر انجام دئیے۔[1]

حوالہ جات:

[1] الفضل14،12 جون1966ء

(تاریخ احمدیت جلد 23 صفحہ 679-680 )

 

وفات:  16اگست 1966ء

آپ انشاء اللہ خاں صاحب آف لاہور کے صاحبزادے تھے۔ایک فضائی حادثے میں آپ کی شہادت ہوئی۔ 1961ء میں آپ کو فضائی فوج میں کمیشن ملا تھا۔ اپنی غیر معمولی لیاقت اور حسنِ کارکردگی کی وجہ سے اپنے افسروں اور ماتحتوں میں بہت مقبول اور ہر دلعزیز تھے۔مورخہ 19اگست کو ان کا جنازہ ربوہ لایا گیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے نماز فجر کے بعد آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ بعد ازاں قطعہ شہداء میں آپ کی تدفین ہوئی۔ [1]مکرم حیدر الدین ٹیپو (مالک ٹربو پلاسٹک کمپنی) ان کے چھوٹے بھائی ہیں۔

حوالہ جات:

[1]  الفضل ربوہ 24اگست 1966ء صفحہ8

(تاریخ احمدیت جلد 23 صفحہ 691 )

مکرم مولوی عبدالحق نور صاحب
تاریخ شہادت   21 دسمبر 1966

آپ مورخہ ۲۱ دسمبر ۱۹۶۶ء کو کرو نڈی ضلع خیر پور میں شہید کر دئیے گئے۔ آپ قادیان کے قریب ایک گائوں ’’بھٹیاں گوت‘‘ کے رہنے والے تھے۔ آپ کے والد مکرم الٰہی بخش صاحب ایک معروف زمیندار تھے اور ہندو، سکھ اور مسلمان سب آپ سے اپنے معاملات کے فیصلے کرواتے تھے۔ آپ نے چار سال تک بطو رہیڈ ماسٹر ملازمت کر کے ملازمت کو خیر باد کہہ دیا۔ لمبی سوچ بچار اور دعائوں کے بعد ۱۹۳۴ء کے جلسہ سالانہ پر بیعت کی۔ بیعت کرنے کے فوراً بعد ہی آپ کی مخالفت شروع ہو گئی۔ آپ نے مخالف مولوی کو دعوت مباہلہ دی جس کی تحریر لکھی گئی جس میں آپ نے تحریر کیا
’’اگر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سچے ہیں تو سب سے پہلے مخالف مولوی کا بیٹا مرے گا اور اس کے بعد وہ خود بھی مر جائے گا‘‘۔
چنانچہ مولوی محمد اسماعیل جس کے ساتھ آپ نے مباہلہ کیا تھا مر گیا۔ یہ اطلاع آپ کے بھائی نے دی۔ آپ نے جوش میں آ کر کہا کہ تحریر مباہلہ میں تو تھا اس کا بیٹا پہلے فوت ہو گا۔ جا کر پتہ کرو کہ اس کا بیٹا فوت ہوا کہ نہیں۔ چنانچہ پتہ کرنے سے معلوم ہوا کہ پہلے مولوی مذکور کا بیٹا فوت ہوا تھا اور پھر وہ مرا۔ اس واقعہ کو دیکھ کر آپ کے بھائی نے بھی بیعت کر لی۔
زمیندارہ کا وسیع تجربہ ہونے کی وجہ سے آپ کو تقسیم ہند کے بعد محمود آباد، ناصر آباد اور دوسری اسٹیٹس میں کام کی نگرانی پر مقرر کیا گیا ۱۹۴۲ء میں آپ کرونڈی منتقل ہو گئے اور زمینوں کے ٹھیکے وغیرہ لینے شروع کئے۔ آپ بہترین داعی الی اللہ تھے۔ آپ کی تبلیغ سے آپ کے رشتہ داروں میں سے پچاس کے قریب احمدی ہوئے۔ کرونڈی جماعت کی داغ بیل آپ نے ہی ڈالی۔ شہادت کے وقت تک کرونڈی جماعت کے صدر رہے۔
واقعہ شہادت: دسمبر ۱۹۶۶ء کی بات ہے کہ بعض متعصب اور شرپسند عناصر نے آپ کے خلاف سکیم تیار کی اور آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا چنانچہ انہوں نے کرائے کے وہ قاتل اس غرض کے لئے بھیجے۔ جو آپ کے پاس اس انداز سے آئے گویا وہ بیعت کرنا چاہتے تھے۔ آپ حسب معمول ان کو تبلیغ کرتے ہوئے شام کے وقت اپنے گھر لے آئے۔ ان کی خاطر مدارت کی، نمازیں باجماعت ادا کیں پھر فجر کی نماز پر آپ نے خود پانی گرم کر کے ان کو وضو کروایا اور انہیں نماز پڑھائی اور نماز کے بعد انہیں باہر اپنے باغ میں لے آئے۔ وہاں کچھ دیر چارپائیوں پر بیٹھے رہے اور ان کو تبلیغ کی۔ پھر ان کو لے کر باغ کی سیر کروانے چلے گئے۔
آپ کے پوتے مقصود احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے چچا یعقوب صاحب نے ان سے کہا کہ پتہ تو کرو، کافی دیر ہو گئی ہے، آئے نہیں۔ وہ کہتے ہیں میں جب باغ میں گیا تو میں نے دیکھا ہمارا وہ مہمان جو مولوی عبدالحق صاحب کے ساتھ باغ میں گیا تھا بھاگ رہاہے۔ مجھے شک پڑا تو میں نے اپنے چچا کو بھی آواز دی کہ ادھر آئیں۔ پھر ہم باغ میں اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔ دادا جان کو دیکھا تو وہ شہید کر دیئے گئے تھے۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ شہید مرحوم موصی تھے۔ ایک سال تک کرونڈی میں امانتاً دفن رہے پھر ربوہ میں بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔

 

آپ مکرم مولوی مسیح الدین صاحب ساکن کوٹھہ ضلع مردان کے بڑے صاحبزادے اور مکرم خان شمس الدین خان صاحب کے بھتیجے تھے۔ آپ کے والد صاحب 1910ء میں جبکہ آپ فیروزپور میں تھے مکرم مولوی فرزند علی خاں صاحب کے ذریعہ احمدی ہوئے تھے۔

آپ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں 15 دسمبر کو لاپتہ ہوگئے۔ خیال کیا گیا کہ اُن کو قید کر لیا گیا ہے لیکن آپ کا نام قیدیوں کی فہرست میں بھی شامل نہ تھا۔ تلاش بسیار کے باوجود جب آپ کا کچھ پتہ نہ چل سکا تو  آپ کی شہادت کا سرکاری طور پر اعلان کر دیا گیا۔ [1]

حوالہ جات:

[1] احمدیت کا نفوذ صوبہ خیبر پختونخواہ میں ،صفحہ279۔ ریکارڈ شعبہ تاریخ احمدیت

(تاریخ  احمدیت جلد 27 صفحہ211)

کیپٹن سرتاج علی امتیاز زبیری صاحب
تاریخ شہادت   اپریل 1971

آپ محمود اختر زبیری صاحب شہید کے بڑے بھائی اور احتیاج علی زبیری صاحب آف راولپنڈی کے صاحبزادے تھے۔ آپ نے ۱۹۶۵ء کی جنگ لڑی اور غازی بن کر واپس لوٹے۔ ۶۸۔۱۹۶۷ ء میں آپ کی تعیناتی کیڈٹ کالج چٹا گانگ مشرقی پاکستان میں ہوئی۔ مارچ اپریل ۱۹۷۱ء میں مکتی باہنی نے کیڈٹ کالج پر حملہ کیا تو آپ نے قریبی آرمی کیمپ میں جانے کی کوشش کی۔ اس دوران لاپتہ ہوگئے۔ جب ایک عرصہ گذر جانے تک بھی آپ کا کچھ پتہ نہ چلا تو سرکاری طور پر آپ کی شہادت کا اعلان کر دیا گیا۔

چوہدری محمد اکرم صاحب
تاریخ شہادت   26 نومبر 1971

 

شہادت:   26 نومبر 1971ء

آپ مکرم چوہدری عبد العزیز صاحب صدر جماعت احمدیہ چک 245 E.B ضلع ساہیوال کے صاحبزادے تھے۔ آپ نے دفاع وطن میں دلیرانہ خدمات سرانجام دیتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر 26 سال تھی۔ اسی سال 21 فروری 1971ء کو آپ کی شادی ہوئی تھی۔ آپ بہت دیندار اور خوش اخلاق نوجوان تھے۔[1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 25 دسمبر 1971ء صفحہ 5

(تاریخ  احمدیت جلد 27 صفحہ100)

کیپٹن مجیب فقر اللہ صاحب،ستارہ جرأت
تاریخ شہادت   4 دسمبر 1971

تاریخ شہادت: ۴ دسمبر۱۹۷۱ء
مجیب فقر اللہ صاحب ۱۸نومبر ۱۹۴۶ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ بچپن سے ہی قومی خدمت کا جذبہ دل میں موجزن تھا۔ ۱۹مئی ۱۹۶۵ء کو کاکول میں ٹریننگ کے لئے داخل ہوئے اور ۱۹نومبر ۱۹۶۵ء کو ٹریننگ مکمل کر کے کھاریاں چھائونی میں تعینات ہوئے۔ والد کی وفات کے بعد والدہ اور بھائی بہنوں کو والد کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔
آپ کی والدہ صاحبہ محترمہ ممتاز فقر اللہ صاحبہ لاہور رقمطراز ہیں:۔
’’۲۰مئی ۱۹۷۱ء کو اس کا نکاح کیا اس نے کہا کہ امی ملک کے حالات بہت خراب ہو رہے ہیں آپ ابھی نکاح نہ کریں۔ میں نے کہا بیٹے میری خواہش ہے تیری خوشی دیکھوں۔ کوئی بات نہیں۔ غازی بن کے آئو گے تو شادی کریں گے۔ ہنس کر جواب دیا۔ امی شہید کو چھوڑ دیا ہے اگر میں شہید ہو گیا تو پھر؟ میں نے کہا یہ سب خدا کو معلوم ہے اس طرح تو دنیا میں کوئی کام نہ ہوں۔ واقعی ملک کے حالات دن بدن خراب سے خراب تر ہو تے گئے۔ پھر ایک دن میراچاند بھی پورا لیس ہو کر اپنے مورچہ میں چلا گیا۔ میں نے لکھا کہ بیٹے ملک پر سخت وقت آن پڑا ہے۔ دودھ کی لاج رکھنا۔ آپ کے بعد مجیب تو پیدا ہوتے رہیں گے آج اس گھر میں کل اُس گھر میں مگر میرے لال ملک ایک دفعہ جا کر پھر واپس نہیںآتے۔ میری دعا ہے میرے تمام مجیب اور تمام چراغ (داماد) جس جس محاذ پر ہیں سب کے سب غازی اور فاتح ہو کر آئیں۔ مکار دشمن پر ضرب کاری لگے کہ دوبارہ اٹھ نہ سکے۔ خط ملتے ہی فون پر کہا امی جان ایسا ہی ہو گا۔ یہ بزدل دشمن بھی کیا یاد رکھے گا کہ مجیب خاں آیا ہے۔ امی دعا کریں شہادت نصیب ہو۔ خداتعالیٰ قید سے نجات دے۔ سو میرے مہربان خدا نے میرے بیٹے کی یہ خواہش بھی پوری کر دی۔ دشمن کو کاری ضرب لگائی کہ اس نے اقرار کیا کہ اس نے ہمارا بہت نقصان کیا ہے۔ دشمن کی تین توپیں اپنے ہاتھ سے ٹھنڈی کیں۔ خود اپنے آپ کو پیش کیا اور یہ پوسٹ بھی خود پسند کی کہ میں اسے فتح کروں گا۔…
۱۹نومبر ۱۹۷۱ء کو( اپنی ڈائری میں) لکھا ہے کہ آج کے دن میں نے قسم لی تھی اور مجھے کمیشن ملا تھا یہ قسم مجھے اُسی طرح یاد ہے جیسے میں ابھی لے رہا ہوں انشاء اللہ جس وقت میرے ملک اور مذہب کو میری ضرورت پڑی میں ہر قربانی کیلئے تیار رہوں گا۔ خواہ مجھے جان دینی پڑے۔ سو پورے پندرہ دن بعد یہ تمام وعدے پورے کر کے ہمیشہ کیلئے زندہ ہو گیا۔ … جرنیل ٹکا خاں نے ستارئہ جرأت ملنے پر مبارک میں لکھا:۔
’’میں اس کی ماں کو سلام کرتا ہوں جس نے یہ بیٹا جنا۔ پوری قوم کو اس ماں پر فخر ہے جب تک پاک آرمی ہے اس وقت تک مجیب زندہ ہے‘‘۔
۶جون ۱۹۷۲ء پورے چھ ماہ بعد انڈیا نے میرے شہید کی باڈی دی تھی۔ کرنل سکھ تھا۔ اس نے بہت تعریف کی کہ یہ اپنی قوم کا سرمایہ تھا۔ بہت بہادر اور نڈر افسر تھا۔ بیشک اس نے ہمارا بہت نقصان کیا ہے مگر اپنے ملک کیلئے اس نے بہت کچھ کیا اس کی جیب میں اس کی ماں کا ایک خط رکھا تھا وہ ہم نے اپنے جی۔ ایچ۔ کیو میں جمع کروا دیا۔ جب ہم بہادروں کی کہانی دیتے ہیں ان کی ماں بہن کے خط بھی ساتھ دیتے ہیں۔ ایسے بہادر خواہ دشمن کے ہوں یا اپنے۔ ہم حالات ضرور لکھیں گے۔ جس قوم کی ایسی مائیں ہوں ان کے بیٹے کبھی شکست نہیں کھاتے میرا اس کی ماں کو سلام دینا۔ ساتھ قرآن شریف دیا جو انہوں نے ساتھ بکس میں بند کر دیا۔… مجیب کاباپ بڑا مرد مومن تھا۔ احمدیت کا شیدائی تھا۔ الفضل اس کی جان تھا۔ مسیح موعودعلیہ السلام کی کتب سے اس کو عشق تھا۔ وہ نڈر احمدی تھا۔ سپریم کورٹ میں ہر ایک کو تبلیغ کرتا۔ اس کی وفات پر ایک عیسائی جج کارنیلیس (سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آف پاکستان۔ناقل) نے لکھا۔ ’’میں نے اپنی زندگی میں ایسا پکا مسلمان نہیں دیکھا‘‘۔(ماہنامہ مصباح ربوہ دسمبر ۱۹۷۳ء جنوری ۱۹۷۴ء صفحہ ۶۸ تا ۷۰)
اسی طرح شہید کے ماموں محترم میجر (ر) محمود احمد صاحب افسر حفاظت لندن اس معرکہ آرائی اور شہادت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:۔
’’وہ ایک نہایت نڈر، جوشیلا اور خوبصورت دل اور خوش مزاج افسر تھا۔ وہ ایک ہر دلعزیز یونٹ افسر تھا۔ ہر کام محنت اور خوش اسلوبی سے کرتا تھا۔
۱۹۷۱ء کے سال اس کی پوسٹنگ بلوچستان ملیشیا میں Ist Masud Bn میں ہوئی جو کہ اس وقت چمن بارڈر کے اوپر لگی ہوئی تھی۔ دسمبر ۱۹۷۱ء میں اس کی بٹالین کو چھمب جوڑیاں سیکٹر میں جنگ میں حصہ لینے کیلئے بھیج دیا گیا۔ اس کی بٹالین کو مندرپوسٹ اور ایک اور دوسری پوسٹ قبضہ کرنے کا حکم ملا۔ چونکہ مندر پوسٹ ایک انتہائی مضبوط مورچہ تھا اور تقریباً ۸۰ ڈگری اونچائی پر واقع تھا اس کا دفاع انتہائی مضبوط تھا اور پہاڑی پر واقع ہونے کی وجہ سے اس کو کسی طرف سے بھی پہنچنا بے حد مشکل تھا۔ اِس کے کرنل نے مندر پوسٹ دوسرے افسر کو الاٹ کر دی کہ وہ حملہ کرے گا مگر کیپٹن مجیب شہید نے کہا کہ سر اس پر حملہ میں کروں گا۔ کرنل نے وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ سر ۱۹۶۵ء کی جنگ میں کوئی پاکستانی فوجی اس پوسٹ کو فتح نہیں کر سکا مگر میں مجیب خان اس دفعہ اس پوسٹ کو Capture کروں گا۔ چنانچہ مجیب شہید کے اصرار پر کرنل صاحب نے اپنا فیصلہ بدل دیا اور مندر پوسٹ پر حملے کی ذمہ داری کیپٹن مجیب شہید نے حاصل کر لی۔
چنانچہ رات کے پچھلے پہر مجیب شہید نے مندر پوسٹ کی طرف چڑھائی شروع کر دی۔ اوپر سے شدید فائرنگ ہوئی تو ان کو پتھروں کے پیچھے پناہ لینی پڑی۔ اس وقت سب سے آگے کیپٹن مجیب شہید تھا اور اس کے پیچھے اس کا صوبیدار تھا۔ مجیب شہید نے پوچھا کہ باقی جوان کہاں ہیں تو صوبیدار صاحب نے جواب دیا کہ شدید فائرنگ کی وجہ سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ کیپٹن مجیب شہید نے نعرہ لگایا کہ جوانو! آگے بڑھو۔ مگر فائرنگ کی شدت سے اوپر چڑھنا بے حد مشکل ہو گیا۔ صوبیدار صاحب نے کہا کہ سر شدید فائرنگ کی وجہ سے اوپر چڑھنا مشکل ہے لہٰذا واپس اتر جاتے ہیں مگر کیپٹن شہید نے صوبیدار صاحب کو کالر سے پکڑا اور کہا کہ اس وقت میرا خون اُبل رہا ہے میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ تم میرے ساتھ اوپر چڑھو۔ باقی بھی ہمارے پیچھے آ ہی جائیں گے۔ چنانچہ صوبیدار کے بقول کیپٹن شہید نے اس کو گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ اوپر کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔ صوبیدار صاحب کا بیان ہے کہ نجانے مجیب شہید میں کتنی طاقت تھی کہ وہ نہ صرف خود اوپر کی طرف بھاگ کر چڑھ رہا تھا بلکہ مجھے بھی ساتھ ساتھ کھینچ ر ہا تھا۔ چنانچہ یہ دونوں بھاگتے ہوئے اوپر پہنچ گئے اور شدید فائرنگ کے بعد دست بہ دست لڑائی سے مندرپوسٹ کے چند مورچے خالی کروا لئے۔ اس دوران باقی جوان بھی اوپر پہنچ گئے اور باقی پوسٹوں کو بھی قبضہ میں کر لیا۔ کیپٹن مجیب شہید نے کرنل صاحب کو فتح کی کامیابی کی خوشخبری دی اور ساتھ ہی کہا کہ مزید اسلحہ بھیج دیں تاکہ جوابی حملہ کی صورت میں ہم پوسٹ کا دفاع کر سکیں۔ فوری طور پر جوابی حملہ آیا جو کہ انہوں نے پسپا کر دیا اور پھر دوبارہ اپنی پوزیشن ٹھیک کرنے لگے ساتھ ہی نیچے پیغام دیا کہ اسلحہ فوری بھیجیں ورنہ یہاں ٹھہرنا مشکل ہو جائے گا۔ ابھی تک اندھیرا تھا چنانچہ کیپٹن مجیب صاحب نے اپنی پوزیشن میں مزید تبدیلیاں کیں۔ انہیں اپنے ایک حوالدار کی تلاش تھی جو کہ انہیں ابھی تک نہیں ملا تھا … اس کو تلاش کرتے ہوئے ایک جگہ پہنچے تو وہاں ایک مورچے میں دشمن چھپے بیٹھے تھے۔ جونہی کیپٹن مجیب اس مورچے کے پاس پہنچے تو انہوں نے دوبارہ حوالدار کو پکارا کہ اتنے میں دشمن نے مشین گن سے برسٹ مارا جو کہ سیدھا ان کے سینے پر لگا اور وہ وہیں گر گئے۔ صوبیدار صاحب نے جب یہ صورتحال دیکھی کہ کیپٹن صاحب شہید ہو گئے ہیں اور دشمن کی طرف سے جوابی حملہ شروع ہو چکا ہے اور ان کے پاس اب اسلحہ بھی نہیں رہا تو اس نے واپسی کا حکم سنا دیا اور یوں وہ مندر پوسٹ پھر ایک دفعہ دشمن کے قبضہ میں چلی گئی۔ اس کے بعد فوج نے ۲۔۳ بار دوبارہ حملہ کر کے مندر پوسٹ پر قبضہ کرنا چاہا مگر وہ پوسٹ دوبارہ قبضہ میں نہیں آئی۔
دشمنوں نے کیپٹن مجیب شہید کو بہترین خراج تحسین پیش کیا اور اس کی وہیں پر تدفین کر دی۔ ان کے اس اعتراف پر کہ یہ ایک انتہائی بہادر افسر تھا اُس کو پاکستان آرمی نے ستارہ جرأت سے نوازا۔ اس کی میت چھ ماہ کے بعد انڈین آرمی نے پاکستان آرمی کے حوالے کی۔ کیپٹن مجیب فقراللہ کی تدفین فوجی اعزاز کے ساتھ قبرستان میانی صاحب لاہور میں ہوئی‘‘۔ (غیر مطبوعہ تحریر شعبہ تاریخ احمدیت۔ خط بنام مؤرخ احمدیت موصولہ ۲دسمبر ۲۰۱۱ء)

لیفٹیننٹ محمود اختر صاحب زبیری
تاریخ شہادت   5 دسمبر 1971

تاریخ شہادت:۵دسمبر۱۹۷۱ء
آپ احتیاج علی زبیری صاحب آف راولپنڈی کے صاحبزادے تھے۔جنگ میں چھمب کے میدان میں انہوں نے آناً فاناً دشمن کے آٹھ ٹینک تباہ کر دیے۔ اس کے بعد دشمن کے علاقہ میں سب سے پہلے اپنا ٹینک داخل کیا تو انہوں نے اس ٹینک کو تباہ کر دیا جس سے آپ شہید ہوگئے۔ ۳۰دسمبر کو احباب جماعت نے شہید کی نماز جنازہ ادا کی اورپنڈی ملٹری قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

(روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی ۳۱ دسمبر ۱۹۷۱ء ۔ الفضل ۱۱جنوری ۱۹۷۲ء صفحہ۶)

 

تاریخ شہادت:  4،5 دسمبر 1971ء

ممتاز انور شہید پاک بحریہ کے تباہ کن جہاز خیبر کے چیف انجینئر تھے۔ ایک بار جب بدر جہا ز سمندری طوفان کی لپیٹ میں آ گیا تو لیفٹیننٹ انور نے خود انجن روم کا انتظام سنبھال لیا اور مسلسل تین دن رات ڈیوٹی پر موجود رہے اور جہاز کو بچانے میں کامیاب ہو گئے۔ پھر 1971ء کی جنگ میں آپ کا جہاز دشمن کے میزائلوں کی زد میں آ گیا لیکن آپ آخری سانس تک ڈیوٹی پر موجود رہے اور اپنی جان بچانے کی بجائے اپنے ساتھیوں کی جان بچاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اپنے فرائض کو بہادرانہ رنگ میں سرانجام دینے کے اعتراف میں آپ کو ستارہ جرأت دیا گیا۔

مارچ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں بغاوت شروع ہو چکی تھی۔ آپ چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے۔ وطن کی سرحدوں نے دفاع کے لئے پکارا تو آپ اپنی رخصت ختم کر کے ڈیوٹی پر حاضر ہو گئے۔ آپ کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ’’گھر سے رخصت ہوتے وقت …مجھے یاد دلایا کہ میں ایک سپاہی کی بیوی ہوں۔ ان پر مجھ سے زیادہ حق مادروطن کا ہے… وہ کہنے لگے آج وقت آگیا ہے۔ میری ماں میری دھرتی اور میرے فرض نے مجھے پکارا ہے اور میں اس پکار پر لبیک کہنے جا رہا ہوں۔ سمندری سرحدیں میری منتظر ہیں۔ وہ مجھے بلا رہی ہیں کہ دشمن نے سمندر کے سینہ پر اپنا تسلط جمانے کی ناکام کوششیں شروع کر دی ہیں۔ جب تک میں زندہ ہوں دشمن کا ہر ڈر سینہ پر سہوں گا۔ ‘‘[1]

حوالہ جات:

[1] روزنامہ امروز 23 دسمبر 1971ء بحوالہ الفضل 5ستمبر 1990ء صفحہ 5

(تاریخ  احمدیت جلد 27 صفحہ104)

عبدالسلام صاحب
تاریخ شہادت   7 دسمبر 1971

تاریخ شہادت: ۷دسمبر۱۹۷۱ء (روزنامہ امروز ۲۳ دسمبر ۱۹۷۱ء بحوالہ الفضل ۵ ستمبر ۱۹۹۰ء صفحہ ۵ )
آپ ۱۹۴۲ء میں چار کوٹ مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ماسٹر محمد حسین صاحب تھا۔ ۱۹۴۷ء میں ہجرت کر کے مانسر کیمپ آگئے۔ وہاں سے کچھ عرصہ کے لئے آپ کی فیملی سندھ چلی گئی۔ اس کے بعد آپ کے والد اپنے بچوں کو لے کر بھمبھر آگئےاور وہاں ملوٹ گاؤں میں بطور معلم ملازمت اختیار کر لی۔ عبدالسلام صاحب نے کھوئی رٹہ ضلع کوٹلی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد آپ نے فوج میں ملازمت اختیار کر لی۔
۱۹۷۱ء کی جنگ میں آپ چھمب سیکٹر کے اگلے مورچوں پر بطور سپاہی سگنل کور میں ڈیوٹی دے رہے تھے کہ دشمن کی طرف سے ایک گولہ آکر لگا جس میں پانچ ساتھیوں سمیت آ پ بھی شہید ہوگئے۔ مکرم نعیم الدین بھٹی صاحب کارکن دفتر صدر انجمن احمدیہ ربوہ آپ کے داماد ہیں۔

1 2 3 11