skip to Main Content

بیعت:۱۸۸۹ء

وفات:۲۳/فروری۱۹۲۸ء

تعارف

حضرت عبدالمجید رضی اﷲ عنہ کابل کے مشہور درّانی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپؓ کا خاندان ہجرت کر کے لدھیانہ آگیا اور شاہی پناہ گزین کی حیثیت سے آپ کے خاندان کو کئی پشتوں تک گورنمنٹ سے پنشن ملتی رہی۔

آپ گورنمنٹ ہائی سکول لدھیانہ سے رسمی تعلیم حاصل کرکے دینی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ لدھیانوی کی صحبت کو اختیار کیا۔ ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں ملازمت اختیار کی۔

حضرت اقدسؑ سے تعلق

حضرت مسیح موعودؑ کی پہلی بار زیارت صوفی احمد جان ؓکے ذریعہ لدھیانہ شہر کے محلہ صوفیاں میں نصیب ہوئی۔ ان دنوں کتاب براہین احمدیہ چھپ رہی تھی اور اس کی کاپیاں حضرت اقدس ؑ کی خدمت مبارک میں آتی تھیں۔ حضرت اقدس ؑکے چند روزہ قیام کے دوران شہزادہ صاحب آپ کے پاس صوفی احمد جان صاحب ؓ ؓکے ساتھ آتے تھے۔

بیعت

حضرت صوفی احمد جانؓ حج کے لئے تشریف لے گئے تو شہزادہ صاحب بھی ساتھ تھے۔ حج سے واپس آکر موصوف نے، صوفی احمد جانؓ کے ارشاد و وصیت کے مطابق حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کر لی۔ آپ کے چہرہ سے رُشد و سعادت کے آثار نمایاں تھے۔ ایک عام آدمی بھی انہیں دیکھ کر سمجھتا تھا کہ یہ کوئی ولی اﷲ ہے۔

؏ عشق الٰہی وسّے منہ تے ولیاں ایہہ نشانی

حضرت اقدسؑ کی کتب میں ذکر

ازالہ اوہام ، آسمانی فیصلہ، آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ کے شرکاء اور مخلصین میں آپ کا ذکر حضرت اقدسؑ نے فرمایا ہے۔

دینی خدمات

جماعت احمدیہ لدھیانہ نے آپ کو امام الصلوٰۃ مقرر کیا۔ آپ خطیب بھی تھے اور درس قرآن بھی دیا کرتے تھے۔ قرآن شریف کے ساتھ آپ کو عشق تھا۔ اس سوز اور خوش الحانی سے قرآن کریم پڑھتے تھے کہ ایک سنگدل سے سنگدل انسان بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا تھا۔ آپ کو ایک خاص شرف اور سعادت یہ بھی حاصل ہے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوئی کہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعودؑ آپ کی امامت میں نماز پڑھتے رہے۔ آپ قلم برداشتہ مضامین لکھا کرتے تھے اور سلسلہ احمدیہ کی اشاعت کے لئے اشتہارات بھی لکھتے تھے اس کے علاوہ آپ نے ایک کتاب ’’انوار احمدی‘‘ کے نام سے ۱۹۰۱ء میں لکھی ایک اور رسالہ ’’عاقبۃالمکذبین‘‘اور ’’سورۃ الاخلاص‘‘ کی تفسیر بھی لکھی۔

جب آپ کی اہلیہ صاحبہ فوت ہوگئیں اور آپ ملازمت سے الگ ہو گئے تو لدھیانہ کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کرقادیان دارالامان میں سکونت اختیار کر لی۔ حضرت حکیم الامت کا کتب خانہ اور حضرت مولانا مفتی محمد صادقؓ کی ذاتی لائبریری سلسلہ کی طرف منتقل ہو چکے تھے۔ ان کی درستی اور ترتیب کا کام آپ کے سپرد ہوا۔

تائید الہٰی

حضرت شہزادہ صاحب پر ایک معاند سلسلہ احمدیہ مولوی عبدالعزیز لدھیانوی نے فوجداری مقدمہ کیا مگر   خدا تعالیٰ نے مدعی کے دل میں ایسا رعب ڈال دیا کہ اس نے مقدمہ چھوڑنے کے سوا چارہ نہ دیکھا۔ حضرت اقدس ؑ کے سامنے اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو آپ کی کرامت ظاہر ہوئی تو شہزادہ صاحب نے عرض کی کہ حضورؑ یہ تمام ذلت اور ناکامیابی کے دکھ کی مار ہے جو فریق مخالف کو ہوئی جو صرف حضورؑ کی دعا سے ہوئی۔

ایران میں داعی الی اﷲ کی حیثیت سے

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے ایران میں دعوت الی اﷲ کے لئے آپ کو منتخب فرمایا۔ آپ ۱۲؍جولائی ۱۹۲۴ء کو اپنے خرچ پر ایران کے لئے روانہ ہوئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ایک رؤیا دیکھا کہ شہزادہ صاحب خانقاہ درویش میں حضرت مسیح موعودؑ کے فارسی اشعار پڑھ کر سنا رہے ہیں اور تمام درویش اشعار سن کر وجد کی حالت میں جھوم رہے ہیں۔ تہران پہنچنے پر آپ نے خانقاہ درویش کا پتہ لگایا۔ دیکھا کہ وہاں بہت سے درویش بیٹھے ہیں۔ سلام مسنون کے بعد آپ نے حضرت اقدسؑ کے اشعار پڑھنے شروع کر دئیے۔ درویشیہ اشعار سن کر جھومنے لگے۔ جب اشعار ختم ہوئے تو دعوت الی اﷲ کی اور ’’دعوت الامیر‘‘کے پچاس نسخے جو آپ کے پاس تھے تقسیم کر دئیے۔ آپ نہایت تنگدستی میں فریضہ تبلیغ سرانجام دیتے رہے۔

وفات

آپ فروری۱۹۲۸ء کو تہران میں ہی فوت ہو گئے اور شہر کے جنوبی طرف چھوٹے سے قبرستان میں دفن کئے گئے۔ ۱۹۵۳ء تک آپ کا مزار مبارک موجود تھا مگر اس کے بعد قبرستان ہموار کر کے عمارتیں تعمیر کر دی گئیں۔ آپ کی وصیت نمبر ۱۸۲۰ہے۔آپکا کتبہ یاد گار بہشتی مقبرہ قادیان میں ہے۔

ماخذ

(۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد نمبر۳حصہ دوم(۲) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد نمبر۶ (۳) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر۵ (۴) مضمون’’حضرت شہزادہ عبدالمجید لدھیانوی‘‘ از ماہنامہ انصار اﷲمئی و جون ۲۰۰۰ء (۵) تاریخ احمدیت جلدہشتم۔

(“تین سو تیرہ اصحابِ صدق و صفا” صفحہ93،94،مؤلفین نصر اللہ خان ناصرصاحب و عاصم جمالی صاحب۔ طبع دوم2012ء)

 

 

ولادت: 26/25 دسمبر 1898ء (پیدائشی احمدی)

زیارت: 1907ء (رجسٹر روایات جلد5صفحہ8۔الفضل26فروری1961ء صفحہ5)

وفات: 4جنوری 1961ء(الفضل6جنوری1961ء صفحہ5)۔

معروف بزرگ صحابی حضرت میاں فضل محمد صاحب آف ہرسیاں ضلع گورداسپور کے فرزندِ اکبر۔ سلسلہ کے مشہور مناظر و عالم اور تحریک جدید کی پانچہزاری فوج کے مجاہد۔

آپ ابھی بچے ہی تھے کہ آپ کے والد صاحب نے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کر کے خدمتِ دین کے لئے وقف کر دیا۔ آپ تحریر فرماتے ہیں :

’’مجھے خوب یاد ہے کہ میری والدہ محترمہ نے بچپن ہی سے اپنے بچوں کو دینی تعلیم دینی شروع کر دی تھی اور خدا کی توحید اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے متعلق بھی ہم کو بہت کچھ سکھاتی رہتی تھیں …. میرے والدین کو (اللہ تعالیٰ ان پر بڑے بڑے فضل نازل فرمائے) جہاں اپنے بچوں کی اصلاح کا بہت شوق تھا وہاں وہ خود بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت سے بہت فائد ہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے اور بار بار قادیان آتے رہتے تھے۔ ان دنوں چونکہ میں ہی اپنے والدین کے گھر بڑا لڑکا تھا اس لئے مجھے بھی ساتھ لے آیا کرتے تھے اور اس طرح مجھے بھی خدا کے پیارے اور مقدس مامور حضرت مسیح موعود کی زیارت کا موقعہ مل گیا۔ ‘‘(رجسٹر روایات جلد5صفحہ9-8)

گھر کے ماحول میں ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور 1924ء میں مولانا ابو العطاء صاحب ‘ مولانا محمد عبد اللہ صاحب مالا باری ‘ مولانا تاج دین صاحب لائلپوری جیسے جیّد علماء کے ساتھ مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور پھر قریباً دو سال تک حضرت حافظ روشن علی صاحب کی مبلغین کلاس میں تبلیغی ٹریننگ حاصل کرتے رہے۔ مئی 1926ء سے جبکہ ابھی آپ کلاس میں تھے آپ کے قلم سے اخبار ’’فاروق‘‘ (قادیان)میں تبلیغی مضامین چھپنے شروع ہوئے۔ اس سال کے ماہ ستمبر و اکتوبر میں آپ نے مولوی قمر الدین صاحب و مولوی علی محمد صاحب اجمیری کے ساتھ شکر گڑھ کا تبلیغی دورہ کیا۔ یکم مئی 1927ء سے آپ بحیثیت مبلغِ سلسلہ خدمتِ دین میں سرگرمِ عمل ہو گئے۔ ابتداء میں آپکو مرکز کی طرف سے فتح گڑھ اور کتھو والی میں مباحثہ کے لئے بھجوایا گیا(رپورٹ مجلس مشاورت1927ء صفحہ51)۔ 1928ء میں آپ کے ذریعہ ضلع لائل پور کے ایک ہی گاؤں میں متعدد نفوس داخلِ احمدیت ہو ئے۔( رپورٹ مجلس مشاورت1928ء صفحہ194)

1931-32ءمیں آپ کو راولپنڈی ‘ کیملپور‘ جہلم اور میانوالی کے اضلاع کا انچارج مبلغ بنا دیا گیا۔ اس وسیع حلقہ میں آپ نے بارہ مناظرے کئے اور اپنی تقریروں کے ذریعہ احمدیت کی آواز دور دور تک پہنچادی۔ اور خدا کے فضل سے کئی سعید روحوں کو قبولِ حق کی توفیق ملی۔

(رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمدیہ قادیان32-1931ء صفحہ19)

1934-35ء میں آپ کو ڈیرہ غازی خان ‘ ملتان ‘ مظفر گڑھ اور میانوالی کے اضلاع میں دعوت الی اللہ کا فریضہ سونپا گیا۔( رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ قادیان35-1934ء صفحہ18) جسے آپ نے خوش اسلوبی سے سر انجام دیا۔ ان اضلاع میں آپ کے سات کامیاب مناظرے ہوئے۔36-1935ء میں آپ نے ہندوستان کے مختلف اضلاع کا دورہ کر کے احمدیت کا پیغام پہنچایا اور مناظرے بھی کئے۔

(رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ قادیان36-1935ء صفحہ8-6)

1936-37ء میں آپ پنجاب کے ضلع شاہپور میں متعین کئے گئے۔( رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ قادیان37-1936ء صفحہ4)

1937-38ء میں آپ کا تقرر بہار و اڑیسہ میں کیا گیا جہاں آپ کئی سال تک نہایت محنت اور جانفشانی سے تبلیغی خدمات بجا لاتے رہے۔ آپ نے پورے علاقہ کے وسیع پیمانے پر دورے کئے ‘ سینکڑوں لیکچر دئے اور متعدد مباحثوں میں احمدیت کی دھاک بٹھا دی اور بہت سے لوگ احمدی ہوئے۔(ملاحظہ ہو رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ قادیان از 38-1937ء تا40-1941ء)

وسط 1938ء کا واقعہ ہے کہ مولانا محمد سلیم صاحب مجاہد فلسطین اور آپ مرکزی ہدایت کے تحت احمدیہ کٹک کانفرنس میں شامل ہوئے اور واپسی پر بعض مخلص احمدیوں کے ساتھ کیرنگ تشریف لے گئے۔ کیرنگ کے قریب ایک گاؤں میں ایک ہندو سے پانصد سالہ پرانی قلمی کتاب ’’مالیکا‘‘ نام دستیاب ہوئی جو اُڑیہ زبان میں بھوج پتر پر لکھی ہوئی تھی۔ ایک دوست نے اس کا اردو ترجمہ کرنا شروع کیا تو یہ معلوم کر کے سب دنگ رہ گئے کہ اس کتاب میں یہ عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ نِہہ کلنک اوتار مغل ہو گا اور اڑیسہ کے شمال مغرب میں ہو گا (نقشہ کے مطابق قادیان کی مبارک بستی کٹک کے عین شمال مغرب میں واقع ہے)۔ علاوہ ازیں لکھا تھا کہ نِہہ کلنک اوتار کے شاگردان خاص میں سے دو بھائی اڑیسہ پہنچیں گے جن کو خاص طور پر وہاں بھجوایا جائے گا ’’مالیکا‘‘ میں ان بزرگوں کے اس سفر کی تفصیلات کے بارے میں صدیوں قبل کئی اور علامات بھی بتائی گئی تھیں جو حیرت انگیز رنگ میں پوری ہوئیں۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو مولانا محمد سلیم صاحب مجاہد بلادعربیہ کا مضمون مطبوعہ اخبار الحکم (قادیان))

بہار و اڑیسہ میں حق و صداقت کی کامیاب منادی کے بعد آپ کو مرکزِ احمدیت میں بلایا لیا گیا جہاں آپ تقسیم ہند تک قادیان اور دوسرے بیرونی مقامات میں فریضہ تبلیغ بجا لاتے رہے اور مناظروں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

قیام پاکستان کے بعد آپ پہلے سرگودھا میں دعوت و ارشاد کا کام کرتے رہے پھر 1948ء میں مبلغ لاہور مقرر کئے گئے اور ایک لمبا عرصہ جو کم و بیش چھ سال تک ممتد تھا اشاعت حق میں کمال جانفروشی کے ساتھ منہمک رہے۔ اس دوران میں آپ نے بہت سے جلسوں سے خطاب کیا۔ ساڑھے بائیس ہزار ٹریکٹ شائع کئے۔ درس قرآن دیا۔ قرآن کلاسز جاری کیں۔ 1953ء کے فسادات لاہور میں بلوائیوں نے دہلی دروازہ کی مسجد اور آپ کی قیام گاہ کا محاصرہ کر لیا تھا۔ اس موقعہ پر آپ نے کمال بہادری اور جوانمردی کا ثبوت دیا۔ کچھ عرصہ آپ تحقیقاتی عدالت کے لئے مواد جمع کرنے میں وقف رہے۔ (خلاصہ رپورٹ ہائے سالانہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان از49-1948ء تا54-1953ء)

1955-56ء میں آپ مقامی اصلاح و ارشاد کے زیر انتظام سرگودھا ‘ جھنگ اور لائل پور (فیصل آباد)میں اہم تبلیغی خدمات بجا لاتے رہے۔ (رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان 57-1956ء صفحہ97)

1956-57ء میں آپ کا تقرر مرکزی مہمان خانہ میں ہوا۔ جس کے دوران بیرونجات میں بھی آپ نے 16لیکچر دئے اور 62نفوس آپ کے ذریعہ حلقہ بگوشِ احمدیت ہوئے۔

15اپریل 1959ء کو آپ ریٹائر ہوئے مگر آپ کے جوشِ خدمت اور دینی جذبہ اور ولولہ میں کوئی کمی نہیں آئی اور آپ تحریک جدید میں کام کرنے لگے۔ زندگی کے آخری دور میں آپ کو زعیم اعلیٰ ربوہ کی اہم ذمہ داری سپرد کی گئی جسے آپ نے پوری فرض شناسی سے نباہا۔ الغرض آپ کی پوری زندگی تبلیغی جہاد میں بسر ہوئی۔ ع

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

مولانا عبد الغفور صاحب فاضل جلسہ سالانہ کے ممتاز مقررین میں سے تھے۔ جلسہ سالانہ کے مقدس سٹیج سے آپ کی پہلی تقریر 1930ء میں ’’اجرائے نبوت از روئے قرآن ‘‘ کے موضوع پر ہوئی اور آخری تقریر جلسہ سالانہ 1951ء پر ہوئی جس کا عنوان تھا ’’ صداقت حضرت مسیح موعود ؑ قرآن و حدیث کی رو سے ‘‘۔

آپ کی تقریر نہایت سادہ مگر بہت مؤثر اور معلومات افروز ہوتی تھی۔ بنیادی مسائل کا باریک نظری سے مطالعہ کرنے اور نئے انداز اور نئے استدلال کے ساتھ پیش کرنے کا انہیں خا ص ملکہ حاصل تھا۔ آپ خلافت ثانیہ کے ان ابتدائی مبلغین میں سے تھے جنہیں چو مکھی لڑائی لڑنی پڑی۔ اس معرکہ آزمائی میں آپ نے کبھی اپنے آرام کا خیال نہیں رکھا اور نہ کسی چیز کو حائل ہونے دیا۔ مشکلات کے وقت آپ ایمان کی مضبوط چٹان ثابت ہوئے اور ہر نازک موقعہ پر اللہ تعالیٰ کی غیبی امداد آپ کے شاملِ حال رہی۔ اکثر بسلسلہ تبلیغ گھر سے باہر رہے۔ گھر میں آ کر ویسا ہی دینی جوش اپنی اولاد میں دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے۔ خدمت دین کو ہر چیز پر مقدم رکھا۔ برّصغیر کی احمدی جماعتوں کی تعلیم و تربیت میں حصہ لینے کے آپ کو خاص مواقع میسر آئے۔

قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ’’حنیفا‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ آپ اس کا مطلب یہ بھی بیان فرمایا کرتے تھے کہ احکام خدا وندی کی بجا آوری میں حضرت ابراہیم علیہ السلام عام لوگوں کی طرح ادھر اُدھر نہیں دیکھتے تھے کہ کوئی اور بھی ساتھ دیتا ہے یا نہیں بلکہ سیدھے اس کام میں تَندہی سے لگ جاتے تھے۔ یہی طریقِ عمل پوری عمر حضرت مولوی صاحب کے پیش نظر رہا۔ ایک کامیاب اور پُر جوش مبلغ اور مقبول مقرر ہونے کے باوجود بے نفس اور بے ریا طبیعت کے مالک تھے۔ قرآن مجید سے آپ کو گہرا شغف تھا اور درس قرآن مجید آپ کی روح کی غذا تھی۔ ساری عمر تہجد پڑھی اور حد درجہ تضرع کے ساتھ سجدہ گاہ ہمیشہ آنسوؤں سے تر رہی۔ فرمایا کرتے تھے جوانی میں ہمت تھی۔ عبادت کا بہت موقع ملتا تھا۔ اکثر ساری ساری رات عبادت میں گزرتی اور ایسا محسوس ہوتا جیسے فی الواقع اللہ تعالیٰ سے باتیں ہو رہی ہیں۔ ان دنوں کو بڑی حسرت سے یاد کرتے۔ آپ عبادات میں ہمیشہ مستعد رہے۔ وفات سے تھوڑی دیر پہلے ظہر اور عصر کی نمازیں لیٹے لیٹے جمع کر کے پڑھیں اور سر خرو ہو کر اپنے مولائے حقیقی کے حضور میں حاضر ہو گئے۔ (الفضل26فروری1961ء صفحہ5)

خالد احمدیت حضرت مولانا ابو العطاء صاحب نے آپ کی وفات پر حسب ذیل نوٹ سپرد قلم فرمایا :

’’ آپ کی طبیعت میں شروع ہی سے خدمت دین کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ زمانہ طالب علمی میں بھی آپ نیکی اور خدا ترسی کے لئے مشہور تھے۔ آپ مدرسہ احمدیہ کی پانچویں چھٹی جماعت میں پڑھتے تھے کہ جماعت کی طرف سے تحریک ہوئی کہ نوجوانوں کو میدان جنگ میں جا کر خدمات بجا لانی چاہئیں۔ آپ نے بھی اپنے آپ کو پیش کر دیا اور منتخب ہو گئے۔ چار سال کے بعد واپس آ کر پھر تکمیل تعلیم کے لئے مدرسہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔ غالباً وہ چھٹی جماعت میں ہمارے ساتھ شامل ہوئے۔ ان دنوں مدرسہ احمدیہ کی آٹھویں جماعت مولوی فاضل کلاس ہوتی تھی۔ اس جماعت میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا جاتا تھا۔ ہم سات طلباء نے 1924ء میں مولوی فاضل کا امتحان دیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم سب کامیاب ہو گئے تھے۔ محترم مولوی عبدالغفورصاحب بھی ان کامیاب طلباء میں سے تھے۔ ہمارے کلاس فیلو طلباء میں سے اکثر دوسرے کاموں پر لگ گئے۔ لیکن خاکسار اور مولوی عبد الغفور صاحب ‘ حضرت حافظ روشن علی صاحب کے پاس مبلغین کلاس میں تکمیل تعلیم اور تبلیغی ٹریننگ حاصل کرنے کے لئے داخل ہو گئے۔ اس کلاس میں بعض ہم سے پہلے کے طلباء بھی شامل تھے۔ آخر یکم مئی 1927ء کو محترم مولوی قمر الدین صاحب ‘ محترم مولوی عبد الغفور صاحب اور خاکسار فارغ التحصیل ہو کر باقاعدہ طور پر واقفِ زندگی مبلغین سلسلہ میں شامل ہوئے۔ ہمارے مولوی فاضل کے ساتھیوں میں سے محترم مولوی محمد عبد اللہ صاحب مالاباری بھارت میں جاں فشانی سے قابل رشک خدمات سلسلہ بجا لا رہے ہیں۔ محترم مولوی تاج الدین صاحب لائل پوری ربوہ میں دار القضاء کے ناظم ہیں ‘ محترم مولوی عزیز بخش صاحب کئی سال سے وفات پا گئے ہیں۔۔۔۔ محترم مولانا عبد الغفور صاحب اور خاکسار اب پاکستان میں خدمات دینیہ پر مامور ہیں۔ مولانا مرحوم دو سال پیشتر قواعد صدر انجمن احمدیہ کے ماتحت ریٹائر ہو چکے تھے مگر وہ ولولہ اور جوش جو ابتداء سے آپ کو اپنے نیک باپ سے ورثہ میں ملاتھا اور جسے بہترین اساتذہ نے جلا بخشا تھا آپ کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا۔ چنانچہ آپ نے تحریک جدید میں کام شروع کر دیا۔ ربوہ کی مجالس انصار اللہ میں آپ زعیم اعلیٰ تھے اور جہاں موقعہ ملتا آپ شوق سے تقریر وغیرہ کے لئے تشریف لے جاتے۔ ابھی نومبر کے آخری عشرہ میں ہم چک نمبر 46شمالی سرگودھا گئے تھے۔ مولوی صاحب موصوف نے وہاں ایک پُر جوش تقریر فرمائی تھی۔ میں نے طالب علمی اور خدماتِ سلسلہ کے طویل عرصہ میں اخویم محترم مولانا ابو البشارت صاحب کو نہایت متقی اور سلسلہ کا غیور سپاہی پایا ہے۔ آپ نے تقریر اور مباحثہ کے میدان میں بھی نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں۔ تقسیم ملک سے پہلے اڑیسہ اور شکر گڑھ کے علاقہ میں عرصہ دراز تک متعین رہے اور ہندوستان اور پھر پاکستان کے اکثر علاقوں کا تبلیغی دورہ کیا اور ملک کے طول و عرض میں اسلام و احمدیت کی صداقت کا اعلان فرماتے رہے۔ آپ کی طبیعت تکلف اور ریا کاری سے بہت دور تھی۔ سفر میں ساتھیوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ اگرکبھی کوئی غلط فہمی پیدا ہوتی تو فوراً اس کی اصلاح ہو جاتی تھی۔ ایک جفا کش اور نڈر خادم سلسلہ تھے۔ 1953ء کے فسادات میں آپ لاہور میں متعین تھے۔ آپ نے اس موقعہ پر بھی نہایت دلیری سے کام کیا۔ آپ کی خاص خاص تقریریں بہت گہرے معارف اور عشق نبوی صلی اللہ علیہ و سلم پر مشتمل ہوتی تھیں اور بہت پسند کی جاتی تھیں۔ محترم مولوی صاحب کی وفات سے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ ہم اپنے ایک مخلص ساتھی سے محروم ہو گئے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔‘‘ (الفضل8جنوری1961ء صفحہ3)

تالیفات:

عروج احمدیت ، شانِ محمد ، خدائی بشارت ، صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، احرار کے کارہائے نمایاں ، اسمہ احمد ، آسمانی مصلح کی ضرورت ، عام مسلمان مولانا مودودی کی نظر میں ، حدیث لا نبی بعدی میں الجھنے والے علماء کے سامنے راہِ نجات (پمفلٹ)، اقلیت قرار داد و ہینڈبل۔

اولاد:

بیٹے:        محترم بشارت احمد صاحب ، محترم سعادت احمد صاحب ، محترم ہدایت احمد صاحب ، محترم عبد السمیع صاحب (سب امریکہ میں مقیم ہیں)

بیٹیاں:       محترمہ رحمت بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر عبد اللہ صاحب مرحوم کراچی

محترمہ نصرت بیگم صاحبہ اہلیہ مولانا امام الدین صاحب مرحوم مجاہد انڈونیشیا

محترمہ امۃ الہادی صاحبہ اہلیہ رشید الدین صاحب مرحوم کراچی

محترمہ امۃ الرشید ممتاز صاحبہ اہلیہ عطاء اللہ صاحب بنگوی مرحوم کراچی

محترمہ امۃ السمیع شہناز صاحبہ اہلیہ نصیر احمد صاحب مرحوم اسلام آباد

محترمہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم ابرار احمد صاحب کراچی

محترمہ کشور احسان صاحبہ اہلیہ احسان الٰہی صاحب امریکہ۔( مرسلہ جناب محترم بشارت احمدصاحب امریکہ)

(تاریخ احمدیت جلد 21 صفحہ 297 تا 302)

مولوی ممتاز احمد صاحب
وفات   مارچ 1962

 

وفات: مارچ 1962۔ بعمر66سال

تحریک خلافت اور اس کے بعد مسلم لیگ کے بڑے سرگرم کارکن تھے۔ قبول احمدیت کے بعد سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف ہوگئے۔ آپ ایک نڈر مبلغ تھے اور سلسلہ کی خاطر تنگی کی قطعاً پروا نہ کرتے تھے۔ قرآن شریف کا بنگلہ ترجمہ آپ کے سپرد تھا جس کا بہت سا حصہ آپ مکمل کرچکے تھے کہ واپسی کا بلاوا آگیا۔[1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 23 مارچ 1962ء صفحہ 6

(تاریخ احمدیت جلد 21 صفحہ599 )

 

ولادت: 23ستمبر1915ء۔

وفات:  ستمبر1962ء

آپ اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے پہلی بار فروری 1936ء میں جاوا تشریف لے گئے اور 1940ء میں واپس قادیان آئے۔ 1941ء میں آپ دوبارہ جاوا بھجوائے گئے اور سولہ سال تک اہم دینی خدمات بجالانے کے بعد1957ء میں ربوہ پہنچے 1958ء میں تیسری بار آپ اسی ملک میں تشریف لے گئے اور تبلیغی جہاد کے دوران وفات پائی اور یہیں دفن کئے گئے۔ آپ نے قرآن مجید کے جاوی ترجمہ میں مدد دی اور حضرت مسیح موعودؒ اور حضرت مصلح موعود کی بہت سی کتابوں کا ترجمہ انڈونیشین زبان میں کیا۔[1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 25 ستمبر 1962ء صفحہ 1۔ریکارڈ تحریک جدید ربوہ

(تاریخ احمدیت جلد 21 صفحہ 599)

 

6ستمبر 1910ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ قبول احمدیت سے لے کر آخر وقت تک سلسلہ احمدیہ کی دینی و علمی خدمات بجا لاتے رہے۔ صاحب کشوف و رؤیا تھے۔ صوبہ سرحد اور سرگودھا میں مبلغ و مربی رہے۔ اور عرصہ تک مدرسہ احمدیہ اور جامعہ نصرت میں پڑھاتے رہے۔ نظام سلسلہ کی پابندی اور اطاعت میں اپنی مثال آپ تھے۔  11؍اگست 1963ء کو وفات پائی۔[1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 25؍اگست 1963ء ، 17، 21 مئی 1964ء

(تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 319)

مولوی غلام نبی صاحب
وفات   16 ستمبر 1963

 

آپ بہاولپور میں وقف جدید کے آنریری مبلغ تھے۔ 16ستمبر 1963ء کو بغرض تبلیغ سائیکل پر سمہ سٹہ جا رہے تھے کہ بس کے حادثہ میں شہید ہو گئے۔[1]

حوالہ جات:

[1]  الفضل 26ستمبر 1963ء صفحہ 5

(تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 320)

 

وفات: 18نومبر1966ء

شروع 1925ء میں حضرت میاں محمد مراد صاحب آف پنڈی بھٹیاں کی تحریک اور تبلیغ سے ہندومت چھوڑ کر احمدیت قبول کی اور حضرت مصلح موعود کے دستِ مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ آپ اپنی بیعت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔

’’اللہ اللہ! وہ نظارہ بھی کیا عجیب تھا ۔حضور نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔آپ بیعت کے الفاظ ارشاد فرماتے اور میں ان الفاظ کو دہراتا جاتا تھا۔گناہوں سے توبہ کرنے کا احساس دل میں تھا۔سردی کے موسم میں جسم پسینہ سے شرابور ہورہا تھا تو روح کسی عالمِ بالا میں پرواز کررہی تھی۔ایک نئی زمین ہے جس پر میں قدم رکھ رہا ہوں اورایک نیا آسمان ہے جو میرے لیے سایہ فگن ہے۔غرضیکہ ایک عجیب کیفیت تھی جو مجھ پر طاری تھی اور ایک ایسا سماں تھا جس کو میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا‘‘

1931ء میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔1934ء میں لائل پور میں تین چار ماہ تک حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی سے براہ راست فیض تلمذپایا۔تبلیغی میدان میں عملی تربیت حاصل کی۔ازاں بعد عرصہ تک کراچی مشن کے انچارج رہے اور پھر لائلپور(فیصل آباد)، شیخوپورہ، سرگودھا اور لاہور میں شاندار تبلیغی خدمات سر انجام دیں ۔آپ دورِ حاضر کے کامیاب مناظر تھے۔ صحابہ حضرت مسیح موعود کی روایات جمع کرنے اور تذکرہ کی تالیف میں آپ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ ربوہ میں نشرو اشاعت کے انچارج کی حیثیت سے نہایت بیش قیمت ٹریکٹ شائع کئے۔

تصانیف:

سیرت سیّد الانبیاء۔(خلاصہ سیرت خاتم النبیین ؐ مؤلفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب)

مسیح بلاد شرقیہ میں(تقریر جلسہ سالانہ)

حیاتِ طیبہ(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام)۔حیاتِ نور۔حیاتِ بشیر۔ لاہور تاریخ احمدیت

آپ کی وفات پر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث نے امیر مقامی مولانا ابو العطاء صاحب کو ہدایت بھجوائی کہ بہشتی مقبرہ میں موصی مربیان کا الگ قطعہ بنا کر اس میں ان کی تدفین ہو چنانچہ اس کی تعمیل ہوئی اور موصی مربیان کے قطعہ خاص کا آغاز آپ کے مزار مبارک سے ہوا۔[1]

خالدِ احمدیت مولانا ابو العطاء صاحب نے رسالہ ’’الفرقان‘‘ دسمبر 1966ء میں تحریر فرمایا کہ:۔

’’شیخ عبدالقادر صاحب کے اسلام لانے کے بعد سے ان کی وفات تک میرے اور ان کے دینی اور ذاتی تعلقات نہایت گہرے رہے ہیں۔ان کی دوستی لوجہ اللہ تھی اورنہایت قابلِ قدر۔ہمارے اکثر امور باہمی مشورے سے طے ہوتے تھے اور ہمیشہ ہم ایک دوسرے کے لئے دعائیں کرتے تھے۔ جوانی  گزار کر بڑھاپے کو پہنچے مگر یہی محسوس ہوتا تھا کہ ہماری محبت شباب پر ہے۔عزیزم شیخ صاحب کی طبیعت میں حلم اور بردباری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ میں نے کئی دفعہ انہیں کہا تھا کہ میں تو یہ نظارہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ کسی سے لڑ رہے ہوں مگر مجھے آخری دن تک ایسا دیکھنے کا موقعہ نہ ملا ۔ شیخ صاحب موصوف معاملات میں بہت صاف تھے اور لوگوں سے بھی یہی توقع رکھتے تھے کہ وہ ایسے ہی ہوں۔ لین دین کا باقاعدہ حساب رکھتے تھے۔ان کے تمام کاروبار تقویٰ اللہ پر مبنی تھے۔

خدمتِ دین کو سعادت اورنعمت سمجھتے تھے اور پوری محنت سے سلسلہ کا کام کرتے تھے۔انہیں جس جگہ بھی اور جس کام پر بھی متعین کیا گیا انہوں نے پورے خلوص سے اپنے فرائض کو انجام دیا۔ ارحم الراحمین خدا انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔آمین

شیخ عبدالقادرصاحب سلسلہ احمدیہ کے ہمہ وقت خادم تھے اور انہوں نے سچی خدمت بجا لانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں تقریر کے علاوہ تحریر کابھی عمدہ ملکہ عطا فرمایا تھا۔انہوں نے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک مفید مجموعہ مرتب کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ   السلام کے سوانح پر ایک مبسوط کتاب لکھی حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے حالات پر جامع تالیف شائع کی۔حضرت قمرالانبیاء مرزا بشیر احمد صاحب کے متعلق ایک کتاب مدوّن کی۔ابھی آخری دنوں لاہور کی تاریخ احمدیت پر ایک مستند کتاب شائع کی ۔شیخ صاحب کو کام کی دھن تھی۔جب کہا جاتا کہ آپ کو اتنی جلدی کیا ہے تو کہتے جو کام ہو جائے وہی بہتر ہے۔

شیخ عبدالقادر عالم با عمل تھے۔صاحبِ رؤیا تھے۔اپنی وفات کے متعلق بھی انہوں نے تازہ رؤیا دیکھی تھی جسے لاہور میں کئی احباب کو سنا چکے تھے جو حرف بحرف پوری ہو گئی۔میرے ساتھ قلبی انس کا نتیجہ تھا کہ وہ اپنی کئی خوابوں میں اپنے آپ کو میرے ساتھ دیکھتے تھے۔میرے ساتھ اس طرح پیش آتے تھے جس طرح مخلص شاگرد پیش آتے ہیں اور کہا بھی کرتے تھے کہ میں آپ کا شاگرد ہوں۔ بہت ہی خوبیوں کے مالک تھے،ایسے مخلص بھائی اور وفادار عزیز دوست بہت ہی کم ملتے ہیں۔ ان کی وفات ایک جماعتی صدمہ ہے۔مشرق اور مغرب کی تمام احمدی جماعتیں ان کی یاد میں افسردہ اور دعاگو ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ عزیز بھائی شیخ عبدالقادر کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطافرمائے اور ان کے درجات ہمیشہ بلند فرماتا رہے۔ آمین‘‘

مکرم شیخ عبد الماجد صاحب ’’اقبال اور احمدیت‘‘ وغیرہ کتب کے مصنف آپ کے بیٹے تھے۔

حوالہ جات:

[1] مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تابعینِ اصحابِ احمد جلد اوّل صفحہ27 تا صفحہ 79 ،حیاتِ طیّبہ طبع اوّل صفحہ 487تا صفحہ 493، الفضل 22،20 نومبر،23 دسمبر1966ء

(تاریخ احمدیت جلد 23 صفحہ 693 تا 695 )

 

ولادت :   قریباً ۱۸۸۷ء

تحریری بیعت: ۱۹۰۲ء

زیارت و دستی بیعت: اگست ۱۹۰۳ء(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد ۱۰ صفحہ ۳۶۲، مرتّبہ مولانا شیخ عبدالقادر صاحب ترتیب ۱۲جون تا ۱۲؍اگست ۱۹۳۹ء)

و فات: ۷جنوری ۱۹۶۸ء(الفضل ۱۷جنوری ۱۹۶۸ء صفحہ ۶)

 

آپ کے والد کا نام عبد الکریم تھا جو کہ  آپ کی صغر سنی میں ہی وفات پا گئے تھے۔ حضرت حکیم صاحب اپنے قبولِ احمدیت کے  واقعات تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔

’’میں موضع کھیرانوالی متصل کپور تھلہ کا رہنے والا ہوں۔ میرے استاد صاحب جو قریب کے گاؤں کے تھے وہ کھیرانوالہ کے سکول میں مدرس تھے۔ میں ان کے پاس ابتدائی جماعتوں میں پڑھا کرتا تھا اور وہ عموماً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہتے تھے۔ میں ان کے پاس بیٹھ کر حضرت صاحب کی کچھ کچھ باتیں سنتا رہتا تھا۔ انہی دنوں میں انہوں نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سچے ہیں۔ ان کی بیعت کر لینی چاہیئے۔ آپ نے بیعت کا خط لکھ دیا۔ ان کا نام مولوی عبداللہ صاحب تھا۔ اور اس خط میں ایک دوسرے صاحب جن کا نام میاں مہتاب الدین تھا اور پہلے وہ اہل حدیث تھے، ان کانام اور میرا نام بھی لکھ دیا۔ میرے استاد نے مجھے فرمایا کہ احوال الآخرۃ میں جو یہ شعر ہے ’’بولن لگّا اَڑ کے بولے، پٹّاں تے ہتھ مارے‘‘ یاد کر لیں اور جب قادیان چلیں گے تو آپ اسی بات کو دیکھتے رہیں۔ فرصت کے وقت ہم جب تینوں قادیان آئے تو میں راستہ میں اس مصرعہ کو بار بار یاد کرتا رہا۔ قادیان میں دس یا پندرہ دن ہم رہے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نماز عصر کے بعد تشریف رکھتے تو میں آپ کے چہرہ اور آپ کے جسم کی طرف اچھی طرح دیکھتا رہتا اور مندرجہ بالا مصرعہ میرے دماغ میں ہوتا۔ میں بڑے غور سے دیکھتا کہ حضور جب بولتے تو خفیف سی بولنے میں روک معلوم ہوتی۔ سرسری طور پر کوئی اس روک کو محسوس نہ کرتا اور جب بولتے تو ساتھ ہی آپ کا دایاں ہاتھ جو ران پر ہوتا تھا وہ خفیف سی حرکت کرتا تھا۔

(۲) میری بیوی کے دادا صاحب منشی عبدالرحمن صاحب کپور تھلوی نے احتکار(ناجائز ذخیرہ اندوزی کرنا۔اجناس کاذخیرہ کرنا) کے مسئلہ کے متعلق حضور سے دریافت کیا۔ حضور نے جواب میں خط لکھا جو میرے پاس کافی عرصہ تک محفوظ رہا مگر اب گم ہو گیا ہے۔ حضور نے تحریر فرمایا تھا کہ احتکار ناجائز ہے۔ غالباً اس کے آگے احتکار والی حدیث بھی درج فرمائی تھی۔

(۳) میر ے استاد مولوی عبداللہ صاحب نے فرمایا کہ اس دفعہ آپ تو قادیان نہیں گئے۔ میں گیا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد کے اوپر کے حصہ میں تشریف رکھتے تھے اور آپ کے پاس چند مجلّدات حقیقۃ الوحی پڑی تھیں۔ میں نے السلام علیکم کہہ کر مصافحہ کیا تو حضور نے میری طرف دیکھا۔ السلام علیکم کا جواب دیا اور فرمایا کہ مولو ی صاحب آپ بڑی دیر کے بعد آئے ہیں۔ میں اپنے دل میں بہت شرمندہ ہوا اس بات پر کہ میں تو یہی خیال کرتا تھا کہ حضرت صاحب مجھے پہچانتے نہیں۔ اس کے بعد حضور نے ایک جلد حقیقۃ الوحی کی اپنے ہاتھ مبارک سے مجھے دی اور فرمایا کہ یہ آپ کے لئے تحفہ ہے۔ اس کو خوب پڑھو۔ ابتداء سے لے کر آخر تک پڑھو اور اس کے بعض مطالب مخالفوں کو سنائو۔

(۴) جب حضرت صاحب کا لیکچر لاہور میلارام کے منڈوہ میں ہوا ہے اس وقت میں پولیس سواروں میں ملازم تھا اور میری ڈیوٹی بھی اس موقعہ پر لگی ہوئی تھی۔ جب حضرت صاحب لیکچر سے فارغ ہو کر واپس آ رہے تھے اور آپ بند گاڑی میں سوا رتھے۔ اس وقت میں نے سڑک کے کنارے پر ایک مولوی دیکھا جس کے سرکے بال بہت لمبے تھے اور داڑھی بھی لمبی تھی۔ ننگے سر تھا۔ جب حضرت صاحب کی گاڑی وہاں سے گذری تو وہ عورتوں کی طرح پیٹ رہا تھا اور اپنے سر کے بال نوچ رہا تھا اور کہتا تھا ’’ہائے ہائے مرزا‘‘۔جس سڑک پر سے حضرت صاحب نے گذرنا تھا اس پر پولیس کا بڑا مضبوط پہرہ تھا‘‘۔(رجسٹر روایات صحابہ جلد ۱۰ صفحہ ۳۶۲ تا ۳۶۴)

آپ کے نواسہ امین الدین صاحب طاہر کا بیان ہے:۔

’’قادیان کے سفر کے بعد آپ لمبا عرصہ قادیان نہ جا سکے۔ اسی اثنا میں پولیس میں ملازمت اختیار کر لی۔ جب ملازمت کو تھوڑا عرصہ گذرا آپ کو لاہور میں متعین کر دیا گیا۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاہور ۱۹۰۸ء میں وفات ہوئی تو اس وقت آپ بھی لاہور تھے اور روزانہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ جب آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کا علم ہوا تو آپ نے افسرِ اعلیٰ سے رخصت طلب کی تو اس نے رخصت دینے سے انکار کر دیا۔ جب جنازہ قادیان روانہ ہوا تو دوبارہ آپ نے افسرِ اعلیٰ سے رخصت طلب کی اور کہا میرے آقا فوت ہو گئے ہیں، میں ضرور قادیان جاؤں گا۔ مگر افسر نہ مانا۔ اس پر آپ نے اسی وقت ملازمت سے استعفیٰ دیدیا اور فرمایا کہ مجھے ایسی نوکری کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد آپ قادیان چلے گئے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے ہاتھ پر بیعت کی۔ پھر دوبارہ لاہور کا رخ کیا اور شاہدرہ میں طبّیہ کالج میں داخلہ لے لیا۔ کچھ عرصہ یہاں پر تعلیم حاصل کرتے رہے۔ پھر قادیان میں مستقل رہائش اختیار کر لی اور دینی علوم سے فیضیاب ہوتے رہے اور طب کا کچھ علم حضرت حاجی الحرمین خلیفۃ المسیح الاولؓ سے بھی حاصل کیا۔ ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی وفات کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمدصاحبؓ کے انتخابِ خلافت میں حصہ لیا اور بیعت کی۔ آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی  کے ایماء پر پہلا تبلیغی سفر لائلپور(موجودہ نام فیصل آباد) کا کیا۔ یہاں پر کافی عرصہ قیام کیا۔ آپ نے چنیوٹ کے علاوہ دوسرے علاقوں میں بھی تبلیغی فرائض انجام دیئے۔ پھر آپ کو دھرم کوٹ بگّہ اور زیرہ میں تبلیغی فرائض انجام دینے کا موقع ملا۔ اس کے بعد آپ کو مستقل طور پر آنریری مبلّغ بنا کر کشمیر بھیج دیا گیا۔وہاں پر چودہ سال کا طویل عرصہ کام کیا۔ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے متعلق ایک کتاب ’المسیح الموعود والامام المہدی المسعود علیہ السلام‘ نامی تحریر فرمائی یہ کتاب ۱۹۳۲ء میں تحریر کی اور چار ہزار کی تعداد میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد قادیان تشریف لے آئے۔ وہاں پر حکمت کی دکان رہی۔ ۱۹۴۷ء کے لرزہ خیز انقلاب کے بعد قادیان سے ہجرت کر کے بیگم کوٹ شاہدرہ میں رہائش اختیار کر لی‘‘۔(الفضل ۶دسمبر ۱۹۶۸ء صفحہ ۵)  یہاں آپ جماعت کے صدر منتخب ہوئے۔

آپ کے بیٹے مکرم ضیاء الدین حمید صاحب نے اپنی کتاب ’’سعادتیں، یادوں کے آئینہ میں‘‘ میں آپ کے متعلق بعض دیگر تفصیلات اور ایمان افروز واقعات بھی تحریر فرمائے ہیں۔

تصانیف :

۱۔ المسیح الموعود والامام المہدی المسعود حصہ اول(تاریخ اشاعت ۱۷ربیع الاول ۱۳۴۱ھ مطابق ۲دسمبر ۱۹۲۲ء مطبع وزیر ہند پریس امرتسر۔ ناشر سیکرٹری انجمن احمدیہ موضع ناسنور ڈاکخانہ شوپیاں کشمیر)۔

۲۔سرمہ چشم بے نمازاں۔  ۳۔مباحثہ امرتسر ۱۸۹۳ء۔ (رسالہ ’’و اذالصّحف نشرت‘‘ صفحہ ۴۵ مرتبہ میاں عبدالعظیم صاحب درویش پروپرائٹر احمدیہ بک ڈپو قادیان)

اولاد:

(۱) صوبیدار ریٹائرڈ صلاح الدین صاحب مرحوم سابق صدر محلہ دارالصدر جنوبی ربوہ

(۲) خدیجہ بیگم صاحبہ مرحومہ اہلیہ چوہدری رحمت علی صاحب ٹھیکیدار مرحوم

(۳) ضیاء الدین حمید صاحب

(۴) حمیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ محمد اسحاق صاحب انور مرحوم برادرِ اصغر مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر(ماخوذ از مکتوب صوبیدار ریٹائرڈ صلاح الدین صاحب مورخہ ۲۱؍اکتوبر ۱۹۹۱ء)

(تاریخ احمدیت جلد 24 صفحہ 649 تا 652)

 

وفات :13 مارچ 1968ء

 آپ باوجود نابینا ہونے کے بلند پایہ عالمِ دین تھے۔ قرآن مجید اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بہت عبور حاصل تھا۔ حضور علیہ السلام کا عربی اور اردو منظوم کلام بکثرت یاد تھا جنہیں اپنے وعظوں اور درسوں میں نہایت بلند آہنگی کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ آپ کا شمار خوش الحان واعظوں میں ہوتا تھا۔ تقسیم ہند سے پہلے حیدر آباد دکّن میں رمضان المبارک میں نمازِ تراویح کے دوران قرآن کریم سنانے کے کئی مواقع آپ کو میسر آئے۔جماعت کے خلاف اعتراضات کا جواب دینے میں یدِطولیٰ حاصل تھا۔ خندہ پیشانی اور علمی کمالات کے باعث آپ کے تعلقات کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ خالدِ احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب نے آپ کی وفات پر لکھا:۔ ’’محترم حافظ محمد رمضان صاحب  اپنے ظرف کے مطابق حضرت حافظ روشن علی صاحب کے قدم پر چلے ہیں۔ اور انہوں نے کافی حد تک اس رنگ کو اپنا لیا تھا جس سے طبیعت میں خوشی ہوتی تھی۔ ان کی قرأت ِ قرآن ِ پاک کو سننے کے لئے خاص اہتمام سے دوست حاضر ہوتے تھے…حافظ صاحب مرحوم عالم باعمل تھے۔ بہت دعا گو تھے۔ سلسلہ کے لئے بہت غیرت مند تھے۔ کلمۂ حق کہنے میں بڑی جرأت رکھتے تھے۔ طبیعت میں بڑی ظرافت تھی۔ موقعہ کے مناسب بہت سے لطائف بھی سنایا کرتے تھے۔

حافظہ غیر معمولی تھا۔اور قوتِ لمس بھی بلا کی تھی۔ ہاتھ ٹٹول کر بتا دیتے کہ کون ہے۔ کتاب مفتاح القرآن (شائع کردہ کتاب گھر قادیان) کی تدوین میں آپ نے بھی حصہ لیا تھا۔ آپ کے زمانہ طالبعلمی میں مدرسہ احمدیہ کے طلباء نے بزمِ احمدکے نام سے ایک انجمن کی بنیاد رکھی جس کے پریذیڈنٹ حافظ بشیر احمد صاحب جالندھری اور مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر اور سیکرٹری مولوی محمد اسماعیل صاحب ذبیح تھے۔ حافظ صاحب اس انجمن کے روح رواں تھے۔[1]

بیناؤں کا نابینا راہبر:

اخبار ’’نوائے وقت‘‘ 20 فروری 1968ء میں حافظ محمد رمضان صاحب مرحوم کی نسبت حسب ذیل نوٹ شائع ہوا:۔

’’ہمارے وطن عزیز میں کثرت سے معذور افراد پائے جاتے ہیں۔ بہت ہی کم معذور ہوں گے جنہیں مختلف حرفے سکھا کر اس قابل بنادیا گیا ہو کہ وہ باعزت روزی کما سکتے ہوں اپنے دیش میں اکثر جب معذوروں کو بھیک کے لئے ہاتھ پھیلاتے دیکھتی ہوں تو مجھے اپنے گائوں کا ایک واقعہ یاد آجاتا ہے واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک روز جب لوگ اپنے گاؤں کی مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے تو یکدم کیا دیکھتے ہیں کہ تیز آندھی چلنے لگی ہے اور آندھی بھی ایسی کہ آج تک زندگی میں مَیں نے ایسی آندھی نہیں دیکھی اس وقت آناً فاناً مکمل اندھیرا ہو گیا اور اتنا سخت اندھیرا تھا کہ بلاشبہ اپنی انگلی بھی نظر نہیں آتی تھی اس وقت بس نمازی بہت گھبرائے اور فکر مند ہوئے کہ اب گھر کیسے پہنچیں گے اتنے میں ایک نابینا حافظ قرآن محمد رمضان نامی کھڑے ہو گئے اور لوگوں سے کہا کہ سب میرے پیچھے کھڑے ہو کر لائن بنا لیں اور پشت سے ایک دوسرے کو پکڑ لیں میں سب کی رہنمائی کروں گا اور بس اپنا اپنا نام بولتے جائیں میں سب کو ان کے گھروں تک پہنچا دوں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا حافظ صاحب لائن کے آگے گاڑی کے انجن کی طرح چل پڑے اور سب لوگ حافظ صاحب کے پیچھے ایک دوسرے کو  پکڑے ہوئے چلتے رہے جس کا گھر آ جاتا حافظ صاحب دروازہ پر دستک دیتے اور اس سے کہتے کہ بھئی لو! اپنے گھر میں داخل ہو جاؤ اس طرح حافظ صاحب نے تیس کے قریب آدمیوں کو ان کے گھروں میں پہنچا دیا اور ایک جگہ بھی غلطی نہ کی حافظ صاحب کی یہ خوبی دیکھ کر اب بھی مجھے خیال آتا ہے اللہ تعالیٰ نے انسان میں بہت سی طاقتیں ودیعت کی ہیں انسان ایک طاقت کے ضائع ہونے پر دوسری طاقتوں سے کام لے سکتا ہے۔‘‘

حوالہ جات:

[1] الفضل 15 تا 19 و 28 مارچ و 16 ؍اپریل 1968ء

(تاریخ احمدیت جلد 24 صفحہ 707 تا 709)

وفات :  10 مئی 1968ء

حضرت سید ولایت حسین شاہ صاحب مرحوم انسپکٹر وصایا آف شاہ مسکین کے لختِ جگر تھے۔ 1944ء میں حضرت مصلح موعود کی تحریک پر لبیک کہتے ہوئے اپنی زندگی خدمتِ سلسلہ کے لئے وقف کی اور تادمِ واپسیں سرگرمِ عمل رہے۔ [1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 14 مئی 1968ء صفحہ 8

(تاریخ احمدیت جلد 24 صفحہ 711)

 

وفات : 2 ستمبر 1968ء

سلسلہ احمدیہ کے دیرینہ خادم اور نامور مناظر تھے جو پندرہ سال کی عمر میں ہندودھرم ترک کر کے مشرف بہ اسلام ہوئے۔ پہلا نام یوگندر پال تھا۔ حضرت مصلح موعود نے محمد عمر نام رکھا۔ قبولِ احمدیت کے بعد قادیان میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ 1922ء سے 1930ء تک عربی اور دینی علوم  کی تحصیل مکمل کی۔ اور جامعہ احمدیہ قادیان سے مولوی فاضل کی ڈگری حاصل کی۔ مولوی نذیر احمد صاحب مبشر، شیخ مبارک احمد صاحب، مولوی عبدالواحد صاحب، مولوی عبدالرحمن صاحب انور اور مولوی چراغ الدین صاحب کے کلاس فیلو تھے۔ 1931ء سے اخیر دم تک مربی سلسلہ احمدیہ کی حیثیت سے گرانقدر خدمات بجا لاتے رہے۔ متحدہ ہندوستان میں ہندو اور اچھوت اقوام تک نہایت کامیابی سے پیغام حق پہنچایا۔ اور آریہ سماج اور سناتن دھرم ودوانوں سے کامیاب مناظرے کئے۔ بہت سے مناظرات میں آپ کو مولانا ابوالعطاء صاحب سے رفاقت کا شرف بھی حاصل ہوا۔ [1]

مہاشہ محمد عمر صاحب اپنے خود نویس سوانح (جیون یاترا) میں تحریر فرماتے ہیں:۔

’’میراجنم آج سے تقریباً چھپن برس پہلے ضلع گورداسپور تحصیل شکر گڑھ کے ایک گاؤں دودھو چک میں ہوا۔ میرے پتا جی کا نام پنڈت دھنی رام کروا دادا جی کانام پنڈت جگت رام تھا۔ میرے پتا جی جیوتش کا کام کرتے تھے اور اسی وجہ سے ان کا اثر دور دراز علاقوں تک تھا مجھے انہوں نے آٹھ سال کی عمر میں گورومل کانگڑی ہریرورر میں داخل کرایا۔ وہاں پر سنسکرت کے سوا اور کوئی زبان نہیں پڑھائی جاتی تھی۔ میں نے بھی وہاں آٹھویں کلاس تک پڑھا۔ جولائی 1922ء تک میں گوروکل کے ودّیارتھی، اپنے گوروگل گروجی کے ساتھ پہاڑ کی یاترا کیلئے چلے اور بٹالہ میں آریہ سماج کے جلسہ میں شمولیت کے لئے اترے۔بٹالہ کا جلسہ ختم ہونے پر ہم گوروکل کے ودّیارتھی اپنے گروپنڈت بودھ دیوجی کے ساتھ قادیان سالانہ جلسہ پر آئے۔قادیان میں قیام کے دوران ہم اپنے گروجی کے ساتھ حضرت امام جماعت احمدیہ سے ملاقات کیلئے مسجد میں گئے۔ اور ان سے مختلف مسائل پر گفتگو ہوتی رہی۔ دوسرے دن پھر آپ سے مسجد میں ہی ملے۔ دوران ملاقات میں حضرت امام جماعت احمدیہ نے فرمایا کہ میں ایک آسان بات پیش کرتا ہوں اور وہ یہ کہ آپ ہمیں اپنے طالب علم دیں جن کے اخراجات پڑھائی اور رہائش اور کھانے وغیرہ کا میں ذمہ دار ہوں گا۔ لیکن ہمارے استاد جی نے اس کو منظور نہیں کیا۔ میرے اور دوسرے دوست نے ارادہ کیا کہ ہم اس شرط پر عربی پڑھیں گے۔ چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد صرف میں ہی اس شرط پر عربی پڑھنے کے لئے قادیان آیا۔ اور آ کرحضرت امام جماعت احمدیہ سے عرض کیا کہ آپ نے ہمارے ایک وفد سے بعض شرائط پر عربی پڑھانے کے لئے کہا۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں مجھے یاد ہے۔ پھر میں نے عرض کیا کہ میں عربی پڑھنے کے لئے آیا ہوں۔ آپ میری پڑھائی کا انتظام فرماویں۔ چنانچہ آپ نے میرے لئے کھانے کا علیحدہ انتظام کیا  جس کو ایک ہندو پکاتا تھا۔ اور عربی کی پڑھائی کے لئے بھی میرا انتظام کر دیا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنا فضل و کرم کیا کہ اس نے مجھے اسلام میں داخل ہونے کی توفیق دی۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔

اسلام میں داخل ہونے کے بعد مجھے سب سے پہلے ملکانہ یو۔پی میں تحریک شدھی کی روک تھام کیلئے جانا پڑا۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے اسلام کی صداقت میں بے شمار معجزات اور نشانات دکھائے۔ چنانچہ ایک دن کا واقعہ ہے کہ ہمارا ایک وفد فرخ آباد سے نگریا جواہر جا رہا تھا کیونکہ ہمیں معلوم ہوا تھا کہ یہ گاؤں مرتد ہورہا ہے وہاں پر جا کر معلوم ہوا کہ وہاں کے تمام مسلمان مرتد ہو گئے ہیں اور گاؤں والوں نے ہم سے کہا کہ آپ لوگ یہاں سے نکل جائیں ورنہ آپ کو جبراً نکال دیا جائے گا۔ چنانچہ ہم وہاں سے رات کے گیارہ بجے کے قریب نکلے۔ راستہ دریائے گنگا کے کنارے کنارے تھا۔ ایک مقام پر جب ہم آئے تو وہاں راستہ نہایت ہی خطرناک تھا۔ رات اندھیری تھی جس کی وجہ سے راستہ کی تلاش میں کافی دِقّت ہوئی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ چوہدری وزیر محمد صاحب آگے آگے جا کر کھڑے ہو کر آواز دیتے تھے کہ آجاؤراستہ ٹھیک ہے تو ہم سب آگے چل دیتے تھے۔ ایک مقام پر جب ہم آئے تو وہ راستہ نہایت خطرناک تھا۔ کیونکہ وہاں پر ایک نالہ گنگا میں آ کر گرتا تھا جس کی وجہ سے خطرہ تھا کہ کہیں ہم میں سے کوئی دریا میں نہ گر جائے۔ اسی اثنا میں دریائے گنگا سے ایک چراغ نمودار ہوا جو کہ بڑھتے بڑھتے اونچے منارے کے برابر ہو گیا۔ اور وہ بالکل ہمارے قریب آ گیا جس کی وجہ سے ہم نے وہ خطرناک راستہ آسانی کے ساتھ طے کر لیا۔ میں چونکہ نیا نیا مسلمان ہوا تھا اس لئے میں ڈر گیا کہ شاید کوئی بھوت چڑیل نہ ہو میں ڈر کر میاں محمد یامین صاحب مرحوم کتب فروش کے ساتھ چمٹ گیا۔ میری گھبراہٹ کو دیکھ کر آپ نے کہا ’’میاں فکر نہ کرو یہ خدائی آگ ہے جو کہ تمہاری راہنمائی کے لئے خداتعالیٰ نے بھیجی ہے‘‘۔ یہ پہلا نشان تھا کہ جو اللہ تعالیٰ نے مجھے صداقتِ اسلام کا دکھایا۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بے شمار انعامات کئے جن کا ذکر کرنا بڑا وقت چاہتا ہے مسلمان ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ اس کے فضل و کرم سے میں نے مولوی فاضل کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیا۔ اور اس کے بعد حضرت خلیفۃالمسیح الثانی  نے تبلیغ اسلام کے لئے میرا وقف منظور فرمایا۔ اور اس وقت سے لے کر اب تک میں حتی المقدور اشاعتِ اسلام کے لئے کوشش کر رہاہوں۔ میری زندگی کے بہت سے واقعات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی طور پر مخالفین کے ساتھ گفتگو میں میری مدد فرمائی۔‘‘  [2]

تصانیف:

(1) ہندو دھرم میں کثرتِ ازدواج۔ (2) بھرم نوارن (ہندی) ۔ (3) ورتمان یُگ کا اوتار (ہندی)۔(4) زمانہ کا مصلح (اردو)۔ (5) تبلیغی ٹریکٹ نمبر ۱ (زمانہ کو مصلح کی ضرورت ہے)۔ (6) شری کرشن اوتار۔ (7) ست سندیش (ہندی)۔ (8) بھگوان کرشن کا اوتار(ٹریکٹ نمبر6 اور نمبر 8 کا مضمون ایک ہی ہے صرف عنوانوں میں فرق ہے)(9) بھگوان کرشن کا اوتار۔ (10) ورتمان یُگ کا اوتار(اردو)۔ (11) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عقیدہ ویدوں کے بارہ میں۔

حوالہ جات:

[1] الفضل 5 ستمبر 1968ء صفحہ 1۔ رسالہ الفرقان ستمبر 1968ء صفحہ 32

[2] برہان ہدایت ،صفحہ 355 تا 357 مرتبہ عبد الرحمن مبشر صاحب

(تاریخ احمدیت جلد 24 صفحہ 731 تا 734)

 

وفات: 9 ستمبر 1968ء

آپ حضرت مولوی شیخ محی الدین صاحب (صحابی حضرت مسیح موعودعلیہ السلام) کے فرزند اور علاقہ مالا بار میں احمدیت کے نڈر سپاہی تھے،جن کی للکار کے سامنے کوئی مخالف مقابل پر آنے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ حضرت مولوی صاحب 1967ء میں قادیان سے فارغ التحصیل ہو کر مالا بار میں بطور مبلّغ متعین ہوئے جبکہ پینگاڈی اور کینانور دو شہروں میں گنتی کے چند احمدی تھے۔ مولانا صاحب کی چالیس سالہ انتھک اور شبانہ روز تبلیغی مساعی کے نتیجہ میں ملک میں 21 مخلص اور سلسلہ کی فدائی جماعتیں قائم ہو گئیں۔ اور آپ کی پُرکشش اور مقناطیسی شخصیت نے احمدیت کے ہزاروں فدائی پیدا کر دیئے۔ علاقہ کیرالہ کے علاوہ آپ صوبہ مدراس اور سیلون میں بھی نہایت کامیابی سے تبلیغی فرائض سرانجام دیتے رہے۔ آپ مالایار عالم دین مولانا مولوی بی عبداللہ صاحب ایچ اے (73 سا ل کی عمر میں) آج اپنے وطن پینگاڈی میں وفات پا گئے۔ مرحوم کئی زبانوں کے ماہر، مصنّف اور مناظر تھے۔ اسلامی فلسفہ کے علاوہ ہندی ،ملیا لم اور تامّل زبانوں کے مایہ ناز مقرر تھے۔ ان زبانوں میں آپ نے بلند پایہ لٹریچر شائع کیا۔ جس میں آپ کی ضخیم کتاب ’’النبوت فی الاسلام‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ متعدد کتابوں اور پمفلٹوں کے علاوہ ماہنامہ ’’ستیا دوتن‘‘ میں آپ کے قلم سے بہت سے معرکۃ الآرا مضامین نکلے۔ علاقہ مالابار میں چوٹی کے مناظر تسلیم کئے جاتے تھے۔ آواز میں ایسا سوز و گداز تھا کہ لوگ آپ کی زبانِ مبارک سے تلاوت قرآن کریم سن کر وجد میں آ جاتے تھے۔ آپ کی وفات کی خبر آل انڈیا ریڈیو نے نشر کی اور مالابار کے تمام مشہور اخبارات نے بھی نمایاں رنگ میں اسے شائع کیا۔  مالابار کے کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ ماترو بھومی نے اپنی 10 ستمبر 1968ء کی اشاعت میں آپ کی تصویر کے ساتھ حسب ذیل خبر شائع کی:۔

’’کالیکٹ 9 ستمبر جنوبی ہند کے رئیس التبلیغ اور مشہوسکھ، عیسائی، بدھ، بہائی فلسفوں پر بھی آپ کو عبور حاصل تھا۔ مرحوم نے دین اسلام کے علاوہ وید، بائبل، سری کرشن، سری بدھ کے بارے میں بھی متعدد کتب و مضامین تالیف فرمائے۔ پچھلے 45 سال سے آپ جنوبی ہند کے مشنری انچارج تھے۔ سیلون میں بھی بطور مبلغ آپ خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں مولوی فاضل کی ڈگری کے علاوہ احمدی مرکز قادیان (پنجاب) سے مبلّغین کاکورس مکمل کرنے کے بعد اپنی زندگی وقف کر کے وطن واپس آئے۔ اور دینی خدمات میں منہمک ہو گئے۔ مالایالم کے علاوہ عربی، انگریزی ، اردو، فارسی اور تامّل زبانوں میں بھی آپ کو اچھا ملکہ حاصل تھا۔ آپ کا شمار جنوبی ہندوستان کے مشہور علماء میں ہوتا تھا۔ 1930ء سے 1945ء تک کیرالہ، مدراس اور سیلون میں منعقدہ مناظرات میں جماعت احمدیہ کی طرف سے آپ نمائندہ تھے۔ ہندوستان و سیلون میں متعدد ہونے والے دیگر مذاہب کے جلسوں میں بھی آپ اکثر اوقات مدعو ہوتے تھے۔ مدینہ ہسپتال کے سرجن اور اب لندن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹر محمد عبداللہ محترم مولوی صاحب کے داماد اور پینگاڈی کے ایڈووکیٹ مکرم بی عبدالرحیم صاحب آپ کے برادر اصغر ہیں‘‘۔[1]

مولانا ابو العطاء صاحب نے ’’مجاہد احمدیت حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب مالاباری کا ذکر خیر‘‘ کے عنوان سے تحریر کرتے ہوئے فرمایا کہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرا کہ اتنے دور دراز علاقے کا ایک بچہ تعلیم دین سیکھنے کے لئے قادیان میں آیا تھا۔ اسے اپنے وطن پینگاڈی مالابار میں ’’بی عبداللہ‘‘ کہتے تھے قادیان میں وہ عبداللہ مالاباری کے نام سے مشہور ہوا۔ نہایت ہونہار اور محنتی نوجوان تھا۔ قادیان کے مقدس علمی ماحول نے اس نوجوان کو خاص رنگ سے رنگین کردیا۔ مسافت کے دور ہونے کے باعث مدرسہ کی ہر سال کی تعطیلات میں گھر جانے کا موقعہ نہ ہوتا تھا کئی سال کے بعد اپنے وطن جاتے تھے ورنہ تعطیلات بھی مطالعہ اور تحصیل معلومات میں ہی قادیان میں بسر ہوتی تھیں۔ انہیں مطالعہ کا غیرمعمولی شوق تھا۔

ہم نے 1924ء میں مولوی فاضل کا امتحان دیا۔ ہم سات طالب علم تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم ساتوں ہی کامیاب ہو گئے اور میرے نمبر یونیورسٹی میں کامیاب ہونے والوں میں سے سب سے زیادہ تھے۔مولوی صاحب جماعت میں نہایت ہوشیار اور ذہین طالب علم تھے۔ مولوی صاحب موصوف کی طبیعت ابتداء سے ہی ایسی سلجھی ہوئی تھی کہ کسی سے لڑائی جھگڑا کی کبھی نوبت نہ آتی تھی بلکہ آپ بعض طلبہ کے باہمی تنازعات کا نہایت خوش اسلوبی سے سمجھوتہ کرا دیا کرتے تھے۔ طبیعت نہایت محققانہ تھی بات کی تہ تک جاتے تھے اور سطحی و سرسری معلومات پر قانع نہ ہوتے تھے۔ مولوی فاضل کے بعد کچھ عرصہ ہمارے ساتھ حضرت حافظ روشن علی صاحب کے پاس بھی تعلیم پاتے رہے۔ ان دنوں مبلغین کلاس کے لئے ہمہ وقت اور جملہ مضامین کے حضرت حافظ صاحب ہی استاد ہوتے تھے۔ آپ کی طرزِ تعلیم نہایت دلربا اور دلنشین تھی اور طلبہ کو نہایت بے تکلفی سے آپ پڑھاتے تھے۔ مولانا محمد عبداللہ صاحب مالاباری نے بھی اس آخری کلاس سے کافی استفادہ فرمایا۔

ان دنوں مدرسہ احمدیہ کے اساتذہ بھی اپنی نظیر آپ تھے۔ حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب، حضرت قاضی امیر حسین صاحب، حضرت مولانا محمد اسمٰعیل صاحب اور حضرت میر محمد اسحٰق صاحب ان میں نمایاں تر تھے۔ ان جملہ اساتذہ کی تدریسی کاوشوں سے اخویم مولانا محمد عبداللہ صاحب مالاباری نے بہت فائدہ اٹھایا تھا اور وہ علوم کی دولت سے مالا مال ہو کر اپنے وطن کو واپس ہوئے۔

عالم تو دنیا میں بہت ہیں مگر مرحوم مولانا ایک بلند پایہ روحانی عالم تھے۔ تقویٰ سے زندگی بسر کرنے والے عالم تھے۔ تعلیمی میدان میں مسابقت اور مقابلہ بھی ہوتا تھا۔ کھیل کے میدان میں بھی مقابلے ہوتے تھے۔ مولوی صاحب موصوف ہاکی کے اچھے کھلاڑی تھے مگر اس سارے عرصہ میں ہر پہلو سے موصوف ایک تقویٰ شعار احمدی عالم تھا۔ دین سے ان کو شغف تھا اور تحقیق اور ریسرچ ان کی غذا تھی۔ انہوں نے تحصیل علم کے بعد پوری زندگی خدمت دین میں صرف کی ہے۔ مالابار میں عربی زبان کا خاصہ رواج ہے اس لئے مخالفین کے مقابلہ کے لئے مرحوم کو بھی خاص تیاری کرنی پڑتی تھی۔ گھنٹوں تقریر کر سکتے تھے۔ دشمنانِ حق کے مقابلہ میں پورے جوش او رکامل قوتِ ایمانی کے ساتھ ڈٹ جاتے تھے۔ تحریر کا بھی خوب ملکہ تھا۔ انہیں اس وقت تک چین نہ پڑتا تھا جب تک دشمن کے تحریری حملہ کا مسکت جواب تحریر سے نہ دے لیتے تھے۔انہیں نادر اور علمی کتابوں کے حصول کا بہت شوق تھا۔ مالی تنگی کے باوجود اس شوق کو پورا کرتے تھے۔ ملیالم میں ایک رسالہ ایڈٹ کرتے تھے۔ پورا تبلیغی کام کرتے تھے۔ اپنے علاقہ کی تمام جماعتوں کی تربیت کا پورا اہتمام فرماتے تھے۔ مالابار میں اردو کم سمجھی جاتی ہے اس لئے گویا مولانا ہی اس علاقہ کے احمدیوں کے لئے مشعل راہ اور واسطہ تھے۔

ایک عظیم اور قابل تقلید خوبی مولانا مرحوم میں یہ تھی کہ وہ بالکل بے نفس تھے۔ انہیں ایسے لوگوں سے طبعی طو رپر نفرت ہوتی تھی جن میں ریاء یا تکلف نظر آتا ہو۔ ان کی زندگی بالکل درویشی کی زندگی تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں دیکھ کر خدا یاد آ جاتاہے۔ ان کے اپنے علاقہ کے لوگوں پر ان کا خاص روحانی اثر تھا۔[2]

حوالہ جات:

[1] بدر 19،12 ستمبر 1968ء۔ الفضل 22 ؍اکتوبر 1968ء صفحہ 5

[2] الفضل 28 ستمبر 1968ء صفحہ 4،3

(تاریخ احمدیت جلد 24 صفحہ 734 تا 736)

وفات: 2 ؍اکتوبر 1968ء

آپ مشرقی پاکستان کی سرزمین میں شجرِ احمدیت کے ایک شیریں پھل تھے۔ آپ نے صرف بارہ سال کی عمر میں برما میں حضرت مصلح موعود کی بیعت کی سعادت حاصل کی۔ آپ کو قبول احمدیت کے بعد اپنے رشتہ داروں اور گرد و پیش کے لوگوں سے شدید مخالفت سے دوچار ہونا پڑا یہاں تک کہ  آپ پر چاقوسے قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا مگر آپ کے پائے ثبات میں ذرا لغزش نہ آئی۔ برما سے آپ کلکتہ آ گئے اور ملازمت اختیار کر کے پورے زور و شور سے احمدیت کا پیغام پہنچانا شروع کیا جلد ہی بعض تعلیم یافتہ افراد سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔ جس پر مخالفین نے آپ کو نہایت بیدردی سے مارا پیٹا اور آپ کو مردہ سمجھ کر بھاگ گئے۔ آپ کچھ دن ہسپتال میں رہے اور صحت یاب ہو کر پہلے سے بڑھ کر جوش و خروش کے ساتھ تبلیغ میں مشغول ہو گئے اور اپنے آبائی گؤوں احمد پور ضلع نواکھالی میں رہنے لگے۔ یہاں بھی مخالفین نے عوام کو آپ کے خلاف سخت مشتعل کر دیا اور ایک روز سب مل کر رات کی تاریکی میں آپ کے گھر پر حملہ آور ہو گئے۔ اس وقت کچھ احمدی معزز مہمان بھی موجود تھے۔ ان ظالموں نے ان مہمانوں کو بھی مارا پیٹا اور آپ کو بھی سخت اذیت پہنچائی لیکن اسی دوران ایک کٹر مخالف جو مخالفت میں پیش پیش تھا گھر کے سامنے ہی ایک گڑھے میں جا گرا۔ ان لوگوں نے سمجھا یہ بھی کوئی احمدی ہے جو اچھی طرح قابو آ گیا ہے۔ سب نے اس کو بری طرح مارنا شروع کر دیا اور وہ چلّاتا ہی رہ گیا کہ میں تو فلاں ہوں لیکن جب انہوں نے لالٹین کی روشنی میں اپنے ساتھی کو نیم مردہ حالت میں دیکھا تو کفِ افسوس ملتے رہ گئے اور سخت شرمندہ ہوئے۔

مولوی صاحب کو ان کی زندگی کے آخری دو مہینوں میں نظارت اصلاح و ارشاد کی طرف سے مشرقی پاکستان کی احمدی جماعتوں میں رشتہ و ناطہ جیسے اہم کام پر لگایا گیا۔ اس نہایت اہم ذمہ داری کی بجاآوری کے لئے سردھڑ کی گویا بازی لگا دی اور عہد کیا کہ اس معاملہ کو سلجھانے کے لئے مجھے میرے خون کا آخری قطرہ بھی قربان کرنا پڑے تو میں اس کے لئے تیار ہوں۔ انہوں نے جو کچھ کہا اسے عملی طور پر پورا کر دکھایا اور وہ رشتہ و ناطہ کی کوششوں کے دوران اچانک بیمار ہو گئے اور ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال میں صرف دو روز زیر علاج رہنے کے بعد اپنے مولائے حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام فرمایا کہ شیخ عبدالحمید صاحب نے نعش کو بذریعہ ہوائی جہاز ربوہ پہنچانے کے اخراجات کا بار اٹھایا۔ اور چوہدری شریف احمد صاحب ڈھلوں ان کی نعش کو ربوہ لائے اور اگرچہ حصہ جائیداد کے تعلق میں ان کے ذمے ایک خاصی رقم بقایا تھی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ازراہ شفقت اس مخلص خادم سلسلہ اور مجاہد کا سارابقایا خود ادا کر کے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اور مرحوم کو بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ مربیان میں دفن کیا گیا۔ [1]

حوالہ جات:

[1] الفضل 21 نومبر 1968ء صفحہ 12،4 جنوری 1969ء صفحہ 5

(تاریخ احمدیت جلد 24 صفحہ 737-738)

 

وفات: 5 ؍اکتوبر 1968ء

آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی مولوی سید اکرام الدین صاحب کے منجھلے بیٹے تھے۔ بہت دیندار اور متورّع تھے۔آپ ایک عرصہ تک صدر انجمن احمدیہ کی ملازمت میں رہے اور کرڑاچی، پنکال، کیندراپاڑا، بھدرک، رانچی، بسنہ وغیرہ کے مقامات پر مبلغ و معلم کی حیثیت سے خدمات بجا لاتے رہے۔[1]

حوالہ جات:

[1] بدر 31 ؍اکتوبر 1968ء صفحہ 7

(تاریخ احمدیت جلد 24 صفحہ 738)